نام نہاد اعلیٰ اقدار


کچھہ لوگوں کو اب تک یہ غلط فہمی ہے کے ہم پاکستانی اخلاقی طور پر غیر مسلموں سے کہیں بہتر ہیں، میری تو سمجھہ یہ بات نہیں آتی کہ ہم اخلاقی طور پر ان سے کیسے بہتر ہیں، جو کام وہ سر عام کرتے ہیں وہ ہی سب کام ہمارے معاشرے میں چوری چھپے ہوتے ہیں اور کئی مسلم ممالک میں تو سر عام ہی ہوتے ہیں، دبئی مصر لبنان وغیرہ کی مثال سب کے سامنے ہے۔

ایک غلط فہمی اور ہے کہ ہم نے اخلاقیات کو محض شراب نوشی اور عریانیت سے وابسطہ کردیا ہے، ارے بھائی قانون پر عمل کرنا بھی اخلاقیات کے زمرے میں ہی آتا ہے، کسی بھی قوم کی اخلاقی حالت جاننے کے لئیے تو اتنا ہی کافی ہے کے اس کے ٹریفک سگنلز پر کھڑے ہوکر مشاہدہ کرلو اندازہ ہو جائے گا کے اس قوم کی اخلاقی پستی کی کیا حالت ہے، ان کے ہاں ہر خاص و عام قانون کا احترام کرتا ہے جبکہ ہمارے ہاں کوئی ایک بھی ایسا پاکستانی نہیں جو کسی نا کسی صورت ہر روز قانون شکنی نہ کر رہا ہو، غریب سے لے کر امیر تک ہر شخص نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق قانون کو رنڈی بنا کے رکھا ہوا ہے، جسکی جتنی حیثیت ہے وہ اتنی ہی قانون شکنی کرتا ہے جسکی حیثیت دس روپے کی ہے وہ دس روپے دے کر قانون کے ساتھہ زنا کر رہا ہے اور جسکی حیثیت دس لاکھہ کی ہے وہ دس لاکھہ دے کر قانون کے ساتھہ زنا کر رہا ہے۔

رہی بات شراب اور زنا کاری کی تو وہ تو مسلم ممالک میں بھی ہوتے ہیں، کہیں کھلے اور کہیں ڈھکے چھپے، شراب تو سعودیہ عرب میں بھی با آسانی دستیاب ہے۔ وہ لوگ زنا شخصی آذادی کے نام پر کررہے ہیں تو ہم کونسے کم ہیں ان سے، ونی اور کاری ہمارے ہاں کیا جاتا ہے، انتقام لینے کے لئیے عورتوں کے سر عام برہنہ کر کے ہمارے ہاں پھرایا جاتا ہے، پانچ پانچ سال کی معصوم بچیوں کے ساتھہ ہمارے ہاں زنا کاری کی جاتی ہے، انسان تو انسان جانوروں اور ہیجڑوں تک کو نہیں چھوڑتے ہم عنیقہ ناز نے اپنی آخری تحریر میں اس طرف اشارہ کیا ہے یہ بلکل صحیح بات ہے یہ سب ہمارے معاشرے میں ہی ہوریا ہے.

میں کسی قوم کسی صوبے کا نام نہیں لینا چاہتا کہ یہ سب ہر قوم اور ہر صوبے کے لوگ کر رہے ہیں میں نے اپنی آنکھوں سے بغل بچے کے لئیے ایک دوسرے کو دست گریبان یہاں تک کے فائرنگ ہوتے دیکھی ہے، بڑے تباک سے بڑے فخر کے ساتھہ لڑکے کو بغل میں بٹھا کے علاقے میں گھوما جاتا ہے یہاں تک کے ایک وڈیرا دوسرے وڈیرے کو تحفے میں لڑکا دیتا ہے یہ سب کہیں اور نہیں ہمارے معاشرے میں ہی ہورہا ہے یہ ہم عظیم مسلمان عظیم پاکستانی ہی کر رہے ہیں۔

الحاج فلاں فلاں فلاں بڑے بڑے ناموں کی تختیاں گھر کے باہر لگائی ہوتی ہیں اور گھر میں بچلی چوری کی استعمال ہوری ہوتی ہے، گوشت انہیں پوری طرح سے اسلامی طریقے کے مطابق حلال کیئے ہوئے جانور کا چاہئیے ہوتا ہے مگر جس پیسے سے وہ حلال گوشت خرید رہے ہیں کبھی اس طرف نہیں سوچتے کے یہ پیسے بھی حلال ہیں یا نہیں، بس جانور ذبح ہوتے وقت اللہ ہواکبر کہنا لازمی ہے باقی سب اللہ معاف کردے گا.

بڑے بڑے حاجیوں کی دکانوں پر لکھا ہوتا ہے خریدا ہوا مال واپس یا تبدیل نہیں کیا جائے گا جبکہ یہ عین غیر اسلامی فعل ہے مگر اس پر کسی کا دھیان نہیں جاتا، جھوٹ، چوری، دھوکہ، دغا، رشوت، سود، ملاوٹ، حرام کاری، کم تولنا، نقض چھپا کے بیچنا، وطن فروشی کرنا، اسلام فروشی کرنا، ملک سے غداری کرنا، ایسی کونسی برائی ہے جو پاکستان میں پریکٹس نہیں ہورہی، پھر بھی یہ امتیاز کے ہم سب سے بہتر ہیں ہم اعلیٰ اقدار کے حامل ہیں، ہوسکتا ہے کچھہ لوگوں کے نزدیک یہ سب کچھہ ہی اسلامی اقدار ہوں مگر حقیقت اس سے کہیں مختلف ہے۔

شراب، ٹھرا، ادھا پوا، بمباٹ، یہ سب کون پی رہا ہے؟ یہ کون لوگ ہیں جو زہریلی شراب پی کر آئے دن مرے پڑے ہوتے ہیں؟۔ اخلاقیات کا بے کار کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ہی کر رہے ہیں یہ سب۔ وہ پھر بھی ہم سے بہتر ہیں کے جو کر رہے ہیں سر عام کر رہے ہیں دنیا سے چھپ کر نہیں کر رہے، ہم تو منافق ہیں کے کام سارے وہ ہی کر رہے ہیں مگر چھپ کر اور دنیا کے آگے پارسہ بنتے ہیں۔

نہ صرف عوام بلکے مسلم ممالک کے حکمران تک ایک نمبر کے عیاش ہیں، یہ سولہ سترہ سال کی معصوم لڑکیاں عرب ممالک سے شیخ کیا انہیں حچ کروانے کے لئیے خرید کے لے کر جاتے ہیں ؟ کونسا ایسا عرب حکمران ہے جسکے حرم میں سو دو سو بیویوں نہیں ہیں۔ نکاح نامے کو زنا کا سرٹیفکٹ بنا کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے، پھر بھی یہ بہیودہ پروپیگنڈا کے ہم سب سے عظیم ہیں ہم جنت کے حقدار ہیں، کسے جنت میں جانا ہے اور کسے جہنم میں یہ اللہ کا کام ہے اللہ پر ہی چھوڑ دو بھائی، اور دوسروں کی اخلاقیات پر انگلیاں اٹھانے سے پہلے اپنے گریبانوں میں جھانک لو کے ہم مسلمان کیا کر رہے ہیں

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

15 Responses to نام نہاد اعلیٰ اقدار

  1. عمران اقبال نے کہا:

    میں آپ کے تحریر سے سو فیصد متفق ہوں۔۔۔

    لیکن جناب یہ بات بھی یاد رکھیے کہ اچھا مسلمان حسن ظن رکھتا ہے۔۔۔ چونکہ اس کی اپنی کوشش ہوتی ہے کہ وہ سنتِ رسول اور احکاماتِ الہیٰ کی پابندی کرے تو وہ سادگی میں دوسرے مسلمانوں سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ وہ بھی ایسا ہی کرتے ہوں گے۔۔۔ کہ مومن کی تو کوشش یہی ہوتی ہے کہ نیکیوں کی دوڑ میں سب سے آگے وہ خود ہو۔۔۔ اسی لیے دوسروں کی نیکیوں پر نگاہ رکھے اپنی نیکیوں کو مزید سے مزید تر کی دوڑ میں لگائے رکھتے ہیں۔۔۔

    اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں۔۔۔ چلیں کہہ لیتے ہیں کہ امتِ اسلامیہ کے اچھوں اور بروں کو برابر پچاس فیصد تقسیم کر لیں۔۔۔ آپ نے پچاس فیصد بروں کی تو بہترین مثالیں پیش کی ہیں۔۔۔ اب ایک تحریر باقی پچاس فیصد اچھے مومنین پر بھی لکھ دیجیے تاکہ اچھوں کے دل نا دکھیں۔۔۔

    اچھوں کے بارے میں لکھنے کا مقصد دنیاوی حوصلہ افزائی ہے۔۔۔ اجر دینے والی ذات تو اللہ کی ہے لیکن کہیں نا کہیں انسان اپنی نیکیوں اور اچھائیوں کے لیے اپنے بھائیوں سے تھپکی چاہتا ہے۔۔۔ امید ہے آپ بات سمجھ چکے ہوں گے۔۔۔

    والسلام۔۔۔ عمران اقبال

    • fikrepakistan نے کہا:

      عمران بھائی تبصرے کا بہت بہت شکریہ، میرے نزدیک یہ اللہ کی آپ پر بہت بڑی مہربانی ہے کے آپ معاملات کو جذباتیت سے نکل کر دیکھتے ہیں۔ کام تو آپ نے بہت مشکل دیا ہے کوشش کروں گا آپکی خواہش پوری کر سکوں۔ اور ہاں جس دن پاکستان میں نیکی اور بدی کی تعداد پچاس پچاس پر آگئی تو میرا ایمان ہے کے اس روز تو پاکستان دنیا کے ٹاپ ٹین ممالک میں لازمی شمار کیا جائے گا۔

  2. Ghulam Murtaza Ali غلام مرتضیٰ علی نے کہا:

    آپ کی باتیں بالکل درست ہیں۔ ہم اخلاقیات کے کئی پہلووں میں کافرانِ مغرب سے بہت پیچھے ہیں۔ اس میں ہمارے طویل دورِ غلامی کے اثرات کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔ ہمیں ان اثرات سے نجات حاصل کر کے مغربی معاشروں میں جاری اچھی اقدار کو اپنے ہاں رائج کرنا چاہیے۔ (جو در اصل یورپی نشاۃ ثانیہ کے دوران اسلام ہی سے اخذ کی گئی تھیں۔ رہی سہی کمی سوشلسٹ سوویت یونین کے غلبے کے خوف سے پوری ہوئی۔ ورنہ ستر اسی سال قبل وہاں بھی بہت سے بنیادی حقوق اور سوشل سیکورٹی وغیرہ کا کوئی تصور نہ تھا۔) لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے کہ ان کے ہاں بھی انصاف، سچ، رواداری، دیانت داری، آزادی، حق گوئی وغیرہ جیسی اچھی اقدار کے عمل دخل کی ایک خاص حد ہے۔ مثال کے طور پرآپ کتنے ہی بڑے تاریخ دان کیوں نہ ہوں۔ اپنی بے لاگ تحقیق کے نتیجے میں نام نہاد ہالو کاسٹ کے وجود کی نفی نہیں کرسکتے۔ دو چار برس قبل ایک معروف یورپی تاریخ دان نے اس بارے میں ٹھوس تحقیق کے نتائج شائع کیے تو یہودیوں کی پٹھو تمام یورپی حکومتیں اس کے درپے ہو گئیٰں اور نہ صرف اسے سزا دی گئی بلکہ اس کی زندگی اور مستقبل تک تباہ و برباد کر دیا گیا۔
    نیوز آف دی ورلڈ کے حالیہ سکینڈل نے آزادی اظہار اور شخصی آزادی اور پرائیویسی کے حقوق کی قلعی ایک بار پھر کھول دی ہے۔ ابو غریب اور گوانتا نامو بے وغیرہ بھی انہی روشن خیال معاشروں کے شاہ کار ہیں۔ عراق کی جنگ کی تو بنیاد ہی جھوٹے الزامات پر رکھی گئی جن کا اعتراف بعد میں کولن پاول اور بعض امریکی میڈیا نے بھی کیا۔
    اب تو امریکا اور یورپ میں بھی بہت سے دانش ور اپنے سیاسی ، اقتصادی اور معاشرتی نظاموں کی بنیادی خامیوں پر برملا تنقید کررہے ہیں۔
    اس میں کچھ شک نہیں کہ مغربی معاشروں میں مقامی سطح پر پرچون لیول پر کچھ اچھی اقدار کا عمل دخل ہے لیکن بڑے پیمانے پر خود اپنے ہی شہریوں اور غیر ملکوں کے لیے ہول سیل ظلم اور نا انصافی کی ہمہ وقت لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔
    اگر ہم دنیا میں کچھ اچھا کر کے دکھانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی اصل یعنی قرآن و سنت کی جانب لوٹنا ہوگا۔ اسی صورت میں ہم نہ صرف اپنے دیرینہ دکھوںسے نجات پاسکیں گے بلکہ مغرب کی بے شمار خرابیوں سے بھی بچ سکیں گے۔ ہمارے عظیم قومی قائدین بشمول حکیم الامت علامہ اقبال اور قائد اعظم اس مسئلے کی حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے اسی لیے انھوں نے ہمیں مغرب کی اندھا دھند تقلید سے منع فرمایا اور اپنے دین کی عطاکردہ روشنی میں اپنا راستہ تلاش کرنے کی ہدایت کی۔ کلام اقبال تو اندھی تقلید مغرب کی مخالفت سے لبریز ہے۔ مثلا
    یہ علم، یہ حکمت ، یہ تدبر ، یہ حکومت
    پیتے ہیں لُہو، دیتے ہیں تعلیمِ مساوات
    مزید حوالے درج کرنے سے گریز کرتے ہوئے آپ کی توجہ قائد اعظم کی آخری پبلک تقریر کے طرف دلاوں کا جو انھوں نے سخت بُخار کی حالت میں یکم جولائی 1948 کو سٹیٹ بنک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں کی تھی۔ اس تقریر میں انھوں نے ہمیں خبردار کیا تھا کہ مغرب کے غیر منصفانہ اقتصادی نظام کا نتیجہ دو عالمی جنگوں کی صورت میں نکلا ہے۔ قائد اعظم نے سٹیٹ بنک والوں کو ہدایت کی کہ وہ پاکستان کے اقتصادی نظام کی اسلامی بنیادوں پر تشکیل کے لیے تحقیق کریں۔
    ہمارے بعض اخباری کالم نگاروں (اور کچھ بلاگروں کی بھی) کی عام روش ہے کہ وہ مسلمانوں کی توہین و تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔ کیا اپ نہیں سمجھتے یہ امر حضور سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کی سنت مطہرہ اور طریقہ تبلیغ کے خلاف ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم وسلم مدینہ کے اسلامی معاشرے میں موجود بہت سے پکے منافقوں اور ریاستی باغیوں سے بخوبی واقف تھے لیکن مکمل اختیارات ہونے کے باوجود آپ نے شاید ہی کبھی ان سے تعرض کیا ہو۔ یہاں تک کہ رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کے مومن بیٹے نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت چاہی لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم نے اسے ایسا کرنے سے منع کیا اور غالبا یہ فرمایا کہ ایسا کرنے سے دوسرے لوگ کہیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم اپنے ہی لوگوں کو قتل کرواتے ہیں۔ (او کما قال رسول اللہ)۔ اب اپ ہی بتائیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہِ وسلم کے اسوہ حسنہ کی روشنی میں ہمارے تنقیدی اور اصلاحی کوششوں کا رُخ ، روِش اور طریقہ کار کیا ہونا چاہیے۔
    ایک عام گناہگار کلمہ گو کی عظمت کے حوالے سے ایک بات ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ محمد علی جوہر ہماری ملی سیاسی تحریک کے ایک عظیم قائد ہو گزرے ہیں۔ ان کے قیادت میں شروع ہونے والی تحریک خلافت کے دوران میں تمام سیاسی جماعتیں پس منظر میں چلی گئی تھیں۔ کئی برس تک صرف انھی کی تحریک کا ڈنکا بجتا رہا۔ دوسری طرف گاندھی جی ہندووں کے سیاسی لیڈر ہی نہیں بلکہ عظیم روحانی پیشوا "مہاتما” تھے۔ وہ تحریک عدم تعاون میں مولانا کے ساتھ تھے۔ ایک دفعہ کسی نے مولانا جوہر سے گاندھی جی کے بارے میں اُن کی رائے پوچھی تو انھوں نے بڑے اچھے الفاظ میں ان کا ذکر کیا اور سیاست میں انھی اپنا رہنما بھی قرار دیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ایک چھٹا ہوا بدمعاش مسلمان بھی اپنے ایمان کی بدولت ان کے نزدیک گاندھی سے بدرجہا بہتر ہے۔
    آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      غلام علی مرتضیٰ صاحب، تفصیلی تجزئیے کا بہت بہت شکریہ میرے نزیک آپکا شمار بھی ان لوگوں میں ہے جنکے تجزئیے سے مجھے بہت کچھہ سیکھنے کو ملتا ہے۔ ممکن ہے آپ جہاں سے دیکھہ رہے ہیں وہاں سے یہ سب ایسا ہی ہو جیسا آپ نے فرمایا۔ ہر شخص کا اپنا زاویہ نظر ہوتا ہے۔ آپ نے مغرب کی جس تنگ نظری کا ذکر کیا ہے ان میں زیادہ تر کا تعلق مسلمان اور کفار کے درمیان ازل سے چلی آرہی دشمنی کا سے ہے، اسلئیے میں اکژ کہتا ہوں کے محبت میں جنگ ہوتی ہے لیکن جنگ میں محبت نہیں ہوتی۔ دنیا میں جنگ کے کوئی اصول نہیں ہوتے مگر واحد مذہب اسلام ہے جو جنگ تک کے اصول وضع کرتا ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم ہے کے، جنگ کے دوران بچوں کو عورتوں کو نہیں مارو کے معزورں کو نہیں مارو گے، کھیت میں کام کرتے لوگوں کو نقصان نہیں پہنچاو گے، درختوں اور جانوروں کے نقصان نہیں پہنچاو گے۔ یہ الگ بات ہے کے آج کے پاکستانی مسلمان جہادی یہ ہی سب کچھہ الٹا مسلمانوں کے ساتھہ ہی کر رہے ہیں۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کے یہ اصول کفار نے نہیں اپنائے انہوں نے اسلام سے بہت کچھہ لیا لیکن صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئیے، معاملہ یہ ہے کے آج مغرب اور امریکہ دنیا بھر میں جو بھی بدمعاشی مچا رہے ہیں میں اسے اسطرح دیکھتا ہوں کے وہ اپنی ازلی دشمنی نباہ رہے ہیں تو وہ اپنی قوم اور اپنے وطن کے لئیے ٹھیک کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کے ہم اسکے جواب میں کیا کر رہے ہیں؟ وہ ہمارے ہی لوگ خرید کر ہم پر ہی خود کش حملے کروا رہے ہیں، کبھی ایسا کیوں نہیں ہوا کے کسی مسلم ملک نے کسی اسرائیلی یہودی کو خرید کر اسرائیل پر ہی خود کش حملہ کروایا ہو؟ ظاہر ہے سادہ سا جواب ہے کے وہ لوگ اپنے وطن سے غداری نہیں کرتے وہ لوگ بکتے نہیں ہیں، پیسے کے لئیے بکنے کا کام ہم لوگوں نے سنبھالہ ہوا ہے۔ اگر وہ اپنی دشمنی نبھانے کے لئیے علم ٹیکنالوجی میں آگے جارہے ہیں تو یہ کام ہم کیوں نہیں کر رہے؟۔ اسلئیے انہیں برا بھلا کہنے سے کہیں بہتر ہے کے ہم خود کو جہالت سے نکال کر علم کی روشنی کو اپنائیں وہ علم جو کے کبھی ہماری میراث تھی، جسکے لئیے حضور پاک نے فرمایا کے علم مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے جہاں سے ملے لو۔ جس دن ہم انکے برابر آجائیں گے اس دن یہ سارے گلے شکوئے خود بہ خود ہی دم توڑ جائیں گے، پھر کسی کی ہمت نہیں ہوگی مسلم ممالک کو گھنٹا بنانے کی کے جو آیا بجا کے چلا گیا۔ آپ نے جو محمد علی جوہر مرحوم کی مثال دی ہے مجھے اس سے بلکل بھی اختلاف نہیں ہے لیکن معاملہ کچھہ یوں ہے کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی فرمان موجود ہیں،ان فرمانوں کا مفہوم کچھہ اسطرح سے ہے کہ جو ایسا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے جو ویسا کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو خود پیٹ پھر کر کھائے اور اسکا پڑوسی بھوکا سو جائے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ جسکا پڑوسی اسکے شر سے محفوظ نہیں وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو کم تولے وہ ہم میں سے نہیں ہے، جو جھوٹ بولے دغا دے وہ ہم میں سے نہیں ہے، ایسے اور بہت فرمان ہیں جو آپ مجھہ سے یقیناَ بہتر طور پر جانتے ہونگے۔ یہ بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان ہے کے، مومن اپنے عصر سے ہم آہنگ ہوتا ہے، تو آپ خود تجزیہ کر لیجئیے کے آج کا مومن موجودہ عصر سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ جدید علوم دنیا کو دینا تو بہت دور کی بات ہے ہمیں تو جدید علوم کے نام تک نہیں پتہ آج۔ اب یہ فیصلہ آپ پر چھوڑا کے موجودہ پاکستانیوں کی کارستانیوں کو دیکھتے ہوئے محمد علی جوہر صاحب کی بات مانی جائے یا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمانوں کو مانا جائے۔ نیت نہ آپکی غلط ہے نا میری، میرا ماننا بس اتنا سا ہے کے مسلمان آخر کب تک سلطنت عثمانیہ کو روتے رہیں گے پلوں کے نیچے سے بہت پانی بہہ چکا ہے وہ ہمارا ماضی تھا ہم کبھی طاقتور تھے ہمارا کبھی علم سے رشتہ تھا، اس وقت ہم دنیا کو لیڈ کر رہے تھے، جب سے ہم نے علم سے رشتہ توڑا اور جہالت کو اپنایا اس وقت سے ہماری یہ حالت ہے اور اس وقت تک رہے گی جب تک دوبارہ علم کی طرف نہیں لوٹیں گے۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ہم اپنے شاندار ماضی سے نہیں نکلیں گے، آج کے زمینی حقائق کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کریں گے، اپنی شکست قبول نہیں کریں گے۔ ہمیں ماننا ہوگا کے ہم اب وہ مسلمان نہیں رہے جو ہمارے اسلاف تھے،جب ہم اپنی خامیوں کو مانیں گے ہی نہیں تو کریکشن کیسے کریں گے؟ جب میں یہ ماننے کو ہی تیار نہیں کے مجھے کوئی مرض ہے تو میں ڈاکڑ کے پاس کیوں جاوں گا؟۔ بحرحال میرا مقصد زمینی حقائق سے آگاہی ہوتا ہے اگر اس حقیقت سے اس ننگے سچ سے کسی کو تکلیف پہنچتی ہے تو میں معزرت خواہ ہوں۔

  3. عمران بھائی نے بہت خوبسورت بات کی ہے اور ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
    اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔ آمین

  4. hamid mehmood نے کہا:

    السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
    بھای صاحب نے بالکل سچ کہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ جہالت ہے ۔ چاہے وہ جہالت دین کے معاملے میں ہو یا دنیا کے معاملے میں ۔ یہ معاشرہ اس وقت نہیں سدھر سکتا جب تک کہ علم کی روشنی ہر کسی کے سینے کو منور نہیں کردیتی۔ آج ہمارے ملک پاکستان میں رہنے والوں کی اکثریت جاھل ہیں ۔ اور کچھ ہمارے معاشرے میں پڑھے لکھے جاھل بھی ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں جھالت سے محفوظ فرماۓ آمین۔

  5. Rai Muhammad Azlan نے کہا:

    sharmindagi… yeh woh ahsas ya insani jazba hyjo main is tehreer ko prhnyk bad shidat se mehsoos kar rha hoon.

  6. کاشف نصیر نے کہا:

    کوئی شک نہیں کہ مسلمانان عالم روبہ زوال ہیں اور قرآن اور سنت سے معنوی و عملی دوری نے اخلاقیات، تہذیب، رواداری، برداشت اور علم سے عاری ایک روکھا اور بے رحم معاشرہ ترتیب دے دیا ہے جو کفریہ معاشرہ سے کسی طور بھی کم ناقص نہیں ہوتا. ایک کافر معاشرہ میں زندگی گزارنے سے زیادہ مشکل ایک منافق معاشرہ میں زندگی گزارنا ہوتا ہے اور ہم بلاشبہ ایک منافق معاشرہ کا حصہ ہیں.

    • fikrepakistan نے کہا:

      بہت خوبصورت بات کی ہے آپ نے کاشف بھائی کے کفر کے معاشرے میں رہنا آسان ہے منافقت کے معاشرے میں رہنا بہت مشکل ہے۔ نوازش ہے آپکی کے آپ نے بات کے مغز کو میرٹ پر سمجھا۔

  7. سفیر نے کہا:

    واہ بھائی صاحب… خوب لکھتے ہیں۔۔۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s