مرد قلندر کہاں ہے تو؟


رمضان شریف کی عبادات کے دوران ایسے کئی مناظر دیکھنے کو ملے اور خود مجھہ پر وہ ایسے کئی لمحات گزرے جب چاہ کر بھی بارگاہ الہی میں اپنے آنسو ضبط نہ کر سکا، میں نے سنا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اگر رونا نہ آئے تو رونے جیسا منہ ہی بنا لو تاکے اللہ تم پر رحم کرے، تقریباَ ہر دوسرے شخص کی کیفیت کچھہ ایسی ہی پائی، اللہ کا شکر ہے کے لوگوں کے دلوں میں اب بھی رمضان شریف کا احترام باقی ہے اور لوگوں کی اکثریت رمضان شریف کے روزے بھی رکھتی ہے اور کثرت سے عبادات کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے۔
لیکن مجھہ سمیت لوگوں کی یہ کیفیت صرف اور صرف نماز پڑھنے کے دوران کی حد تک ہی کیوں ہوتی ہےِ؟ وہ پھل فروش جو ابھی دو منٹ پہلے تک اللہ کی بارگاہ میں رو رو کر اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہا تھا وہ مسجد سے قدم باہر رکھتے ہی اپنا وہ رونا اور گڑگڑانا کیوں بھول جاتا ہےِِ؟ جو پھل پچاس روپے کلو باآسانی کسی بڑی مارکیٹ میں دستیاب ہے وہی پھل یہ پھل فروش سو روپے کلو بڑی ڈھٹائی کے ساتھہ بیچ رہا ہوتا ہے اس وقت اسکا خوف خدا کہاں چلا جاتا ہے؟۔ اور یہ کیسا خوف خدا ہے جو اگلی ہی نماز میں پھر سے لوٹ آتا ہے لیکن صرف مسجد کی حد تک۔ پھل فروش کی تو میں نے صرف مثال دی ہے یہ ہی روش ہم سب کی ہے بڑے سے بڑا افسر ہو یا کوئی معمولی چھابڑی لگانے والا ہو، علامہ اقبال کی روح سے معزرت کے ساتھہ۔
ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز
ہر کوئی درندہ بنا ہر کوئی درندہ نواز۔
پاکستان میں صرف ایک ہی چیز ترقی کر رہی ہے اور وہ ہے مہنگائی، کسی کو اپنی حکومت کی فکر پڑی ہے کسی کو بھتوں کی فکر ہے کسی کو نئے صوبوں کی فکر ہے کسی کو آنے والے الیکشن میں کامیابی کی فکر پڑی ہے کسی کو اپنے اپنے مسلک اپنے اپنے فرقوں کے تحفظ کی فکر پڑی ہے ہر کوئی مفکر ہے مگر صرف اور صرف اپنے مفاد کے لئیے، اس مہنگائی میں غریب نے کیسے روزے رکھے کہاں سے سحری کی کہاں سے افطاری کا بندوبست کیا پھر کہاں سے اپنے بچوں کے لئیے عید کے کپڑے خریدے، خریدے بھی یا نہیں، کسی نے نہیں سوچا اس طرف۔
ہماری ویلفئیر سوسائٹی کو بہت ہی محدود فنڈ ملتا ہے دوست احباب سے جو ہمیں مستحقین تک پہنچانا ہوتا ہے، اس بار فنڈ اتنا ملا کے محض پانچ سو لوگوں تک ہی ہم عید کی خوشیاں پہنچانے میں کامیاب ہوسکے، وہ بھی اللہ بھلا کرے ہمارے ان ممبرز کا جو معاش کی تلاش میں دیار غیر میں جا کر آباد ہوگئے ہیں زمین سے محبت کا رشتہ انہیں اپنی ویلفئیر سوسائٹی سے جوڑے رکھتا ہے اور وہ لوگ دیار غیر سے معقول رقم بھیج دیتے ہیں جس سے ہم ایسے مستحقین کو عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ستائیس رمضان تک ہم لوگوں تک یہ امانت پہنچا دیتے ہیں، اس بار بہت زیادہ ابتر حالت تھی لوگوں کی عید کا چاند نظر آنے کے بعد بھی رات ایک بجے تک لوگوں کا تانتا بندہ ہوا تھا ویلفئیر سوسائٹی پر جو کسی نہ کسی طرح سے امداد کے طالب تھے، اللہ کا بہت احسان ہے کے اس نے کسی کو خالی ہاتھہ نہیں لوٹایا ہماری سوسائٹی سے مگر میں یہ سوچتا ہوں کہ کیا یہ مستقل حل ہے؟
ایسے کتنے ہی لوگ ہونگے جو اپنے بچوں کو عید کے دن بھی نئے کپڑے نہ دے سکے ہونگے جنکا دسترخوان عید کے دن بھی دال اور چٹنی سے ہی سجا ہوگا، ایک بیوہ خاتون آئیں کہنے لگیں کاشف بھائی آپ لوگوں نے مجھے چھے سال پہلے سلائی مشین لے کر دی تھی میں پچھلے چھے سال سے اس مشین سے سلائی کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پال رہی ہوں اب وہ مشین خراب ہوچکی ہے میری بیٹی اعتکاف میں بیٹھی ہے اور کہتی ہے کے امی کاشف بھائی سے کہنا آپکی چھوٹی بہن اعتکاف میں بیٹھی آپ کے لئیے دعا کر رہی ہے آپ اپنی چھوٹی بہن کے لئیے نئی سلائی مشین لازمی بھیج دینا تاکے ہمارے گھر کا گزر اوقات چلتا رہے، میری آنکھیں نم ہوگئیں اور مارے شرمندگی کے زمین میں گڑھنے کو دل چاہا کیوں کے فنڈ بہت محدود تھا جو کچھہ ممکن تھا وہ تو دیا مگر سلائی مشین کے لئیے فوری طور پر فنڈ موجود نہ تھا، میں نے ان خاتون سے عید کے بعد مشین دینے کا وعدہ کیا اور ممکنا امداد کے ساتھہ انہیں رخصت کیا، اللہ یہ وعدہ بھی پورا کروا دیں گے انشاءاللہ۔
لیکن یہ مسلے کا حل نہیں ہے میرا دل اس دن مطمعین ہوگا جس روز ہم امداد دینے کے لئیے بیٹھے ہونگے اور کوئی امداد لینے والا موجود نہ ہوگا۔ مجھے اپنی زندگی میں تو یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی نا معلوم کب وہ وقت آئے گا جب ہم بھی وہ وقت دیکھیں گے کے جیسا عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہہ کے دور میں ہوتا تھا کے بیت المال بھرا ہوتا تھا اور کوئی زکات خیرات لینے والا ڈھونڈنے سے بھی نہ ملتا تھا۔
اللہ معاف کرے جو حالت لوگوں کی ہوچکی ہے مجھے تو ایسا لگتا ہے کے اگر ایسے ہی حالات رہے اور کسی نے ان حالات کی تبدیلی کے لئیے ٹھوس عملی اقدامات نہ کئیے تو خاکم بہ دہن آنے والے وقتوں میں منظر کچھہ ایسا ہوگا کے اگر کسی کے گھر موت ہوگی تو اہل خانہ مٹھائیاں بانٹا کریں گے دوست احباب مبارک باد دینے آیا کریں گے کہ چلو ایک کھانے والا تو کم ہوا ایک لیبلٹی تو کم ہوئی، اور جس کے گھر بچے کی پیدائیش ہوا کرئے گی تو لوگ اسکے گھر تعزیت کے لئیے جایا کریں گے کف افسوس ملا جایا کرے گا دعائیں کی جایا کریں گی کہ اللہ آپکو صبر عطاء کریں کہ آپکی زمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے آپکی روٹی کے دعوےداروں میں ایک اور دعوے دار کا اضافہ ہوگیا ہے۔ اللہ کم از کم مجھے تو اس دنیا سے اٹھا لے ایسا وقت آنے سے پہلے، یا پھر کوئی ایسا مرد قلندر پیدا کردے ہمارے درمیان جو اس ملک اور قوم کے تقدیر بدل دے، آمین۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

4 Responses to مرد قلندر کہاں ہے تو؟

  1. Syed Asif Jalal نے کہا:

    محترم مضمون پڑھا، ماشااللہ رمضان المبارک کے حوالے سے بہت خوب لکھا، ہمارے معاشرے کا ایک نقص جس میں معاشرے کے کثیر افراد شامل ہے یہ کہ دولت حاصل کرنے کی اندھی حوس ہے جس نے ہمارا سماجی ڈھانچے کو تباہ کر دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے معاشرتی نظام کو استحکام عطا فرمائے۔ آمین

  2. fikrepakistan نے کہا:

    سید آصف جمال صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، تحریر کی پسندیدگی کے لئیے بہت بہت شکریہ۔

  3. Ansoo نے کہا:

    Bohut acha likhtay hain aap muhraram.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s