نفرت کی آگ اور اسکے اثرات


ہلاکو خان جو کے انتہائی سخت دل مشہور تھا میں نے اس کے بارے میں کہیں پڑھا تھا کہ ایک روز کسی نے ہلاکو خان سے پوچھا کے آپکو زندگی میں کبھی کسی پر رحم آیا؟ ہلاکو خان نے کہا ہاں ایک بار آیا تھا، ایسا ہوا کے میں ایک دریا کے کنارے کے پاس سے گزر رہا تھا تو میرے کانوں میں ایک عورت کے چیخنے چلانے کی آواز آئی میں نے رک کر دیکھا تو ایک عورت چلا رہی تھی کے میرا بچہ دریا میں ڈوب رہا ہے اسے بچا لو، اس عورت کی ممتا پر مجھے رحم آگیا میں دریا کنارے کے قریب گیا تو دیکھا کے بچہ کنارے کے ساتھہ ہی بہتا ہوا جارہا ہے مجھے رحم آگیا اور میں نے نیزا نکالا اور اس بچے کے سینے میں پیوست کردیا اور اس ہی حالت میں بچے کو باہر نکال کر اس کی ماں کے حوالے کردیا۔

تو یہ تو تھا ہلاکو خان کا رحم، آج اخبار میں خبر پڑھی کے سانگھڑ کے علاقے سنجورو میں امداد کی تقسیم کے دوران بھگ دڑ مچ گئی سانگھڑ کے علاقے سنجورو کے ایم پی اے رانا عبدالستار کے گارڈذ نے متاثرین سیلاب پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور بچوں سمیت آٹھہ افراد زخمی ہوگئے، یہ خبر پڑھتے ہی مجھے ہلاکو خانکی رحم دلی یاد آگئی۔

پچھلے سال جب سیلاب آیا تو میں اپنی ویلفئیر سوسائٹی کی جانب سے تمام ممبران کے ساتھہ چار ٹرک سامان لے کر بدین گیا تھا امداد کی تقسیم کے دوران ہمیں بھی ایسے کچھہ واقعات کا سامنا کرنا بڑا تھا لیکن ہم نے تحامل سے اس مسلے سے نمٹا پولیس نے متاثرین کو منتشر کرنے کے لئیے ہوائی فائرنگ کی تھی جسکی ہم نے مخالف کی، مقامی لوگوں کی مدد سے ہم نے اس لوگوں کو سمجھایا کے ہم آپکے لئیے ہی لائے ہیں یہ سامان آپ لوگ تحامل سے اپنے اپنے کیمپ میں جائیں ہمارے والنٹئیر خود آپ کے خیمے تک آپکو سامان پہنچا کے جائیں گے اور اللہ کے شکر سے ایسا ہی ہوا اور بغیر کسی ناخوشگوار واقع کے ہم امداد تقسیم کر کے بخیروعافیت واپس کراچی پہنچے۔

جس ملک میں انعام و اکرام دینے کے لئیے کوئی پیمانے کوئی اصول کوئی ضابطے نہ ہوں وہاں خیرات اور امداد دینے کے بھلا کیا پیمانے کیا اصول ہونگے؟ ان حکمرانوں کے لئیے یہ عوام جانور ہیں کیڑے مکوڑے ہیں جیسے لوگ دور سے کھڑے ہوکر مچھلیوں کے لئیے پانی میں چارہ ڈالتے ہیں ایسے ہی یہ لوگ دور دور سے امداد کے پیکٹ پھینک پھینک کر اچھال اچھال کر دیتے ہیں کہ کہیں یہ کیڑے مکوڑے ہمارے قریب نہ آجائیں اور انکے بدن پہ لگی غلاظت ہماری ظاہری پاکیزگی کو داغدار نہ کردے۔

ایک اور المیے کی طرف نشاندہی کرتا چلوں پاکستان کے کسی بھی علاقے میں جب بھی کوئی بڑی آفت آتی ہے تو ہماری ویلفئیر سوسائٹی کے ممبرز اس آفت سے متاثرہ لوگوں کی مدد کے لئیے فوراٰ اپنا حصہ ڈالنے کے لئیے جمع ہوجاتے ہیں، لیکن انتہائی افسوس کے ساتھہ عرض کرنا پڑ رہا ہے کے اس لسانیت کی آگ نے اتنی نفرت پھیلائی کے اس بار کوئی امداد دینے کے لئیے تیار ہی نہیں ہورہا، ہم نے لوگوں سے رابطہ کیا تو ایک ہی جواب ملا کے وہ لوگ ہمیں بھوکا ننگا کہہ رہے ہیں ہمارے اجداد کو گالیاں دے رہے ہیں کراچی میں ہمارے شناختی کارڈ دیکھہ دیکھہ کر ہمارے گلے کاٹے جارہے ہیں ہمیں ہی مارا جارہا ہے اور ہمیں ہی دہشتگرد بھی قرار دیا جارہا ہے ہمیں مارنے کے لئیے لاکھوں کی تعداد میں اسلحہ لائسنس دیئے جارہے ہیں غیر مقامی افراد کو ہزاروں کی تعداد میں پولیس میں بھرتی کیا جارہا ہے تاکے وہ ہم پر گولی چلاتے ہوئے زرا نہ ہچکچائییں اور تم لوگ ہم سے ان لوگوں کے لئیے امداد طلب کرنے آئے ہو، ایسے کئی صاحب ثروت لوگ تھے جنہوں نے یہ سب کہہ کر امداد دینے سے معزرت کرلی، گو کے میں امداد نہ دینے کے لئیے ایک فیصد بھی متفق نہیں ایسے لوگوں کی ایسی سوچ سے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کے جو کچھہ ان لوگوں نے کہا ہے وہ غلط نہیں ہے۔

میرے لئیے یہ بہت ہی افسوس اور قلق کا مقام ہے کے آج ہمیں کہاں لے آئے یہ سیاستدان، آج ہم اپنے مسلمان بھائی کی مدد کرنے کے لئیے تیار نہیں ہیں، جس نے اپنی سیاست چمکانے کے لئیے جو بھونکنا تھا وہ تو بھونک کر چلا گیا جو نفرت کا بیج وہ بو گیا ہےاس جاہل انسان کو خود اندازہ نہیں ہوگا کے اب اسکے اثرات کتنے عشروں تک لوگوں کے ذہن میں رہیں گے، میری دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو ان تمام غلیظ سیاستدانوں سے جلد سے جلد نجات دلوائیں جو ہمارے اندر نفرت کی آگ لگا رہے ہیں اور بھائی کو بھائی سے جدا کر رہے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

4 Responses to نفرت کی آگ اور اسکے اثرات

  1. آپکی کوششیں قابل قدر ہیں.ایک محب وطن شہری ہونے کے لحاظ سے اپنی ذمّہ داریوں کا احساس ایک خوش کن خبر ہے مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے ہر حصّہ میں ایسے لوگ بڑی تعداد میں موجود ہیں جو نفرتوں پر یقین نہیں رکھتے ہیں اور موجودہ سیاست اور سیاسی سیٹ اپ سے بیزار ہیں. اگر آپ سوشل ورک کے ساتھ متبادل سیاسی نظام اور متبادل قیادت کے خیال کو بھی فروغ دیں تو میرا خیال ہے اس وقت اس سے بڑی خدمت کوئی اور نہ ہوگی ….

    • fikrepakistan نے کہا:

      جواد بھائی تبصرے کا بہت شکریہ، آپکی بات بلکل بجہ ہے کہ یہ جتنی بھی سیاسی جماعتیں ہیں ان سبکو ایک سے زیادہ بار آزمایا جاچکا ہے ان میں سے کسی سے بھی خیر کی توقع رکھنا انتہائی فضول ہے، معاملہ یہ ہے کے جب کبھی بھی یہ سیاسی جماعتیں کمزور پڑتی ہیں تو یہ سب مل کر لسانیت کی آگ بھڑکا دیتے ہیں اور ایک عام انسان نہ چاہتے ہوئے بھی مجبوراٰ اپنی اپنی قوم کو سپورٹ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے یہ ان سیاسی جماعتوں کا ہتھیار ہے جسے ایک عام آدمی نہیں سمجھہ پاتا اور وہ جذبات کی رو میں بہہ جاتا ہے، یہ تو طے ہے کے متبادل قیادت ہی کچھہ نا کچھہ بہتری پیدا کرسکتی ہے مگر متبادل قیادت آئی گی کہاں سے اور کیسے آئے گی جب تک ہم اپنی اپنی قومیت اپنے اپنے مسلک اپنے اپنے فرقے کے بند خولوں سے نہیں نکلیں گے تب تک تو متبادل قیادت میسر نہیں آسکتی، آج لسانیت کی حالت یہ ہوچکی ہے آج ہم قوم پرستی میں اتنا آگے جاچکے ہیں کے اگر قائد اعظم بھی واپس آکر پاکستان میں الیکشن لڑیں تو وہ بھی ایک کونسلر کی سیٹ نہیں جیت سکتے۔

  2. یہ واقعہ نپیولین سے نہیں بلکہ ہلاکو خان سے منسوب ہے ۔
    آفت میں خیر کے کام کے متعلق اتنا ہی عرض کر سکتا ہوں کہ ہر شہری کا اپنا اپنا پاکستان ہے ۔ ہر شہری اپنے پاکستان کی حفاظت کا ذمہ دار ہے ۔ آپ اپنے پاکستان کی خدمت میں جتے رہیے اور لوگوں کی زیادہ پرواہ نہ کریں ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد ریاض شاہد صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، ممکن ہے یہ واقع ہلاکو خان سے ہی منسوب ہو، میں نے نپولین سے متعلق ہی پڑھا تھا، باقی میں اتتا ہی کہوں گا کے پاکستان ہم سب کا ہے اس میں بسنے والے کسی بھی زبان سے کسی بھی علاقے کسی بھی قوم سے تعلق رکھتے ہوں ہم سب مسلمان بھائی ہیں اسلئیے سیاستدانوں کے بہکاوے میں آنے کے بجائے ہمیں ایک دوسرے کے ہاتھہ مظبوط کرنے چاہیے اگر کسی پنچابی بھائی کو تکلیف ہو تو مجھے بھی وہ تکلیف اتنی ہی شدت سے محسوس ہونی چاہئیے اگر کسی سندھی کسی مہاجر کسی بلوچی کسی پٹھان بھائی کو کوئی درد ہو تو وہ درد سب کو یکساں شدت کے ساتھہ محسوس کرنا چاہئیے جب تک ہم اس قومیت کے چکر سے نہیں نکلیں گے اس وقت تک ہم ایک قوم نہیں بن سکتے اور ہمارے ایک قوم نہ بننے کا فائدہ صرف اور صرف سیاستدانوں کو ہو رہا ہے ایک عام آدمی کو اس سوچ سے صرف اور صرف نقصان ہورہا ہے پھر بھی پتہ نہیں کیوں یہ معمولی سی بات ہماری سمجھہ میں نہیں آتی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s