سوالنامہ-ٹو


پوچھا : کیا پاکستانی کنفیوژ قوم ہے؟
فرمایا : کسی کو فخر ہے کے اسکے اجداد کا تعلق انڈیا سے ہے، کسی کو فخر ہے اسکے اجداد کا تعلق عرب سے ہے، کسی کو افغانستانی اور کسی کو ایرانی ہونے پہ فخر ہے، زندگی کی تمام سہولیات کو سمیٹنے کے لئیے رہنا یورپ امریکہ اور کینڈا میں چاہتے ہیں، مرنے کے بعد دفن مکہ مدینہ میں ہونا چاہتے ہیں تم ہی بتاو ان سب کی ترجیحات میں پاکستان کہاں ہےِ؟۔

پوچھا : اپنے بچپن سے مولوی حضرات سے ایک حدیث سنتا آیا ہوں، علماء کا اختلاف باعث رحمت ہوتا ہے، کچھہ لوگ اسے اسطرح بھی بیان کرتے ہیں، امت کا اختلاف باعث رحمت ہوتا ہے، اسکی کیا حقیقت ہے؟
فرمایا : اس سے زیادہ گھٹیا بات کوئی ہو ہی نہیں سکتی، اسطرح کی احادیث یہ فرقہ بندی کے موجد گھڑتے ہیں تاکہ فرقوں کے نام پر انکے کاروبار کو دین سے ثابت کیا جاسکے، یہ بلکل من گھڑت اور موضوع حدیث ہے، اسکا تو مطلب یہ ہوا کے اگر علماء یا امت کا اختلاف اللہ کے نزدیک باعث رحمت ہے تو پھر علماء یا امت کا اتفاق باعث زحمت ہوگا؟۔

پوچھا : غریب اور امیر کی نیکیاں یکساں ہوتی ہیں؟
فرمایا : غریب کی نیکیاں امیر کے گناہ ہوتے ہیں، اچھا وہ کیسے؟ اگر ایک غریب آدمی کسی ضرورت مند کو سو روپے دیتا ہے اور امیر آدمی بھی اس ضرورت مند کو سو روپے ہی دیتا ہے تو یہ انصاف نہیں ہوا، یہ غریب کی نیکی اور امیر کے لئیے گناہ کے مترادف ہے۔

پوچھا : وہ کون لوگ ہونگے جو جنت میں بھی اداس رہیں گے؟
فرمایا : جنت کے کئی درجات ہیں جو نچلے درجے میں ہونگے وہ یہ سوچ کر اداس رہیں گے کے کاش اور زیادہ نیکیاں کی ہوتئیں تو جنت کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے پر فائز ہوتا۔

پوچھا : قاضی حسین احمد کی شخصیت میں کوئی پوزیٹو عنصر بھی ہے؟۔
فرمایا : انکی پوری شخصیت میں ایک ہی چیز پوزیٹو ہے اور وہ ہے انکا بلڈ گروپ، او پوزیٹو۔

پوچھا : الطاف حسین اور زرداری کی محبت کا رشتہ اس نہچ پہ پہنچ گیا کیا کہ چوٹ ایک کو لگے تو تکلیف دوسرے کو ہوتی ہے؟۔
فرمایا : سیاست میں محبت نہیں ہوتی، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کے دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔

پوچھا : پوچھا سب سے زیادہ گرمی عرب میں پڑتی ہے جبکہ یورپ میں تو تقریباً سارا سال ہی موسم سرد رہتا ہے پھر یہ ائیرکنڈیشنڈ ایجاد کرنے کا خیال عرب کے لوگوں کو کیوں نہیں آیا یہ خیال یورپ والوں کو ہی کیوں آیا؟۔
فرمایا : اسکے جواب سے بہت سارے لوگوں کو مرچیں لگ جائیں گی اسلئیے بغیر کہے ہی سمجھہ جاو۔

پوچھا : عمران خان کے لاہور کے جلسے کے بعد عمران خان اور نواز شریف کے گراف کو کیسے دیکھتے ہیںِ؟۔
فرمایا : دونوں ہی اپنے کیرئیر کے عروج پر ہیں دونوں کو ہی دیکھنے والے کی پگڑی زمین پر گر جائے گی فرق صرف اتنا ہے کہ عمران خان کو دیکھنے والے کی پگڑی پیچھے گرے گی اور نواز شریف کو دیکھنے والے کی آگے۔

Advertisements
This entry was posted in کچھ ہلکا پھلکا۔۔. Bookmark the permalink.

2 Responses to سوالنامہ-ٹو

  1. Ali Hasaan نے کہا:

    بہت عمدہ۔ آخری دو تو لاجواب ہیں

  2. Abdullah نے کہا:

    ’اشتہاری ملزمان وزیرستان میں روپوش ہیں‘
    آخری وقت اشاعت: بدھ 9 نومبر 2011 ,‭ 15:48 GMT
    رپورٹ کے مطابق ان افراد کے کالعدم تنظیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے
    پاکستانی خفیہ اداروں کی جانب سے وزارتِ داخلہ کو بھیجی جانے والی رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقوں میں ہلاک ہونے والوں کی اکثریت جرائم پیشہ افراد پر مشتمل ہے۔

    یہ افراد ملک کے مختلف علاقوں میں قتل، اغواء برائے تاوان اور مسلح ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔
    وارداتوں کے بعد جرائم پیشہ عناصر قبائلی علاقوں میں روپوش ہوگئے جہاں وہ کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان سمیت دیگر تنظیمیوں میں شامل ہوئے جو انہیں قتل، اغواء برائے تاوان اور دیگر سنگین وارداتوں میں استعمال کر رہے ہیں۔

    گزشتہ دو ماہ کی کارروائیوں کے دوران ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد تین سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

    قتل، اغواء اور مسلح ڈکیتی جیسی سنگین وارداتوں میں ملوث ان ملزمان کو پولیس گرفتار نہیں کرسکی جس کے بعد متعلقہ عدالتوں نے انہیں ’اشتہاری‘ قرار دیا ہے۔

    وزارتِ داخلہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ ان اشتہاری ملزمان کی زیادہ تر تعداد پاکستان کے قبائلی علاقے وزیرستان میں روپوش ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹس میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ کالعدم تنظمیوں کے خلاف فوجی کارروائی کی وجہ سے ان تنظیموں کے پاس فنڈز کی کمی ہوگئی ہے جسے پورا کرنے کے لیے ان اشتہاری ملزمان کو اغواء برائے تاوان کی وارداتوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں پناہ لینے والے اشتہاری ملزمان میں اکثریت کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے جن کی تعداد تین ہزار سے زائد ہے۔ جبکہ صوبہ سندھ میں ایسے اشتہاریوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی زیادہ ہے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کی عدالتوں میں اشتہاری قرار دیے جانے والے ملزمان کی تعداد چار سو سے زائد ہے جو خفیہ اداروں کی رپورٹس کے مطابق قبائلی علاقوں میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔

    خفیہ اداروں کی جانب سے بھیجی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان اشہتاری ملزمان میں سے کچھ شدت پسندوں کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں میں ہلاک بھی ہوچکے ہیں جن میں زُرزمین، عطا اللہ، سعید عباسی، شمیم جٹ، ظفیر احمد، انصر محمود اور ہدایت خان شامل ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق یہ افراد پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں قتل اور بینک ڈکیتی کے مقدمات میں اشتہاری قرار دیے گئے تھے تاہم اس رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان افراد کو عدالتوں نے کب اشتہاری قرار دیا تھا۔

    خفیہ اداروں کی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ان افراد کے کالعدم تنظیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلقات تھے۔

    ان رپورٹس میں پولیس کی جانب سے ان افراد کی گرفتاری میں حائل رکاوٹوں کے علاوہ پولیس کی بے بسی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کی سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ بیت اللہ محسود سمیت دیگر سات افراد کو اشتہاری قرار دیا گیا تھا تاہم پنجاب پولیس کی جانب سے صرف ایک اہلکار نے پشاور جا کر قبائلی علاقوں کے سیکریٹریٹ میں عدالتی وارنٹ جمع کروائے جنہیں اس علاقے میں آویزاں نہیں کیا گیا جہاں بیت اللہ محسود یا دیگر ملزمان رہائش پذیر تھے۔

    اس ضمن میں پولیس کا موقف ہے کہ تین پولیس انسپکٹرز کو ان عدالتی احکامات کی تعمیل کے لیے وزیرستان بھجوایا گیا تھا جو متعلقہ علاقے میں اشتہار لگا کر آئے تھے۔

    بے نظیر بھٹو قتل مقدمے میں اشتہاری قرار دیے جانے والے سات ملزمان میں سے بیت اللہ محسود سمیت پانچ افراد ڈرون حملوں اور فوجی کارروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ خفیہ اداوروں کی اطلاعات کے مطابق دو ملزمان ابھی زندہ ہیں جن میں اکرام اللہ اور فیض محمد شامل ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s