مفاد کی جنگ


سارے چور ایک بار پھر اپنے اپنے مفاد کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں، فوج ایک بار پھر پس پردہ رہ کر اپنا گھناونا کھیل کھیل رہی ہے، عدلیہ معاف کیجئیے گا آذاد عدلیہ جسے چار سال سے سب کچھہ اچھا اچھا نظر آرہا تھا اب اچانک فوج کے ایماء پر وہ خواب خرگوش سے جاگ گئی ہے، فوج اب سامنے آکر وار کرنے کی پوزیشن میں نہیں رہی تو اس نے عدلیہ کا کاندھا استعمال کرنا شروع کردیا ہے اب جو کام گزشتہ سالوں میں فوج خود کرتی رہی ہے اب وہ ہی کام وہ عدلیہ کے زریع کروا رہی ہے، ذرداری صاحب جانتے ہیں جانا تو پڑے گا مگر وہ بھی سیاسی شہید بنے بغیر جانے پر راضی نظر نہیں آرہے۔
جس ملک میں بھوک ننگ بے روزگاری خودکشیاں ہو رہی ہوں بجلی نہیں گیس نہیں پینے کا صاف پانی تک مسلہ بنا ہوا ہو اور اس جیسے کتنے ہی بھیانک حقائق ننگا ناچ ناچ رہے ہیں ایسے حالات میں بھی کسی کی توجہ عوام کے مسائل پر نہیں ہے، فکر ہے تو سب کو اپنے اپنے اقتدار کی اپنے اپنے اختیار کی، آنے والے وقتوں میں لوٹا ماری کرنےکے لئیے کس کو  کتنا حصہ ملنا ہے کس کو کتنے اختیارات ملنے ہیں ہر صآحب اختیار صرف اپنے مفاد کی سوچ رہا ہے قوم کی نہ پہلے کسی کو فکر تھی نا آج ہے۔
کسی کو فکر کے پی پی پی سینٹ میں اکثریت نہ لے پائے، کسی کو فکر کے ایم ایم اے بحال ہوجائے تاکے پھر سے اس بے وقوف قوم کو کتاب کو قرآن بتا کر مذہنی جذبات بھڑکا کر اگلے پانچ سالوں کے لئیے مذہب کے نام پر لوٹا ماری کرنے کے لئیے اقتدار اور اختیار مل سکے۔ فوج کو فکر کے ہماری اجارہ داری نہ ختم ہوجائے، کسی کو فکر کے بلدیاتی نظام بحال ہوجائے، کسی کو فکر کے عمران خان کو لانا ہے نظام وہی رہنا ہے صرف چہرے بدلیں گے۔ عدلیہ کو فکر کے بڑے بڑے خواب دکھائے تھے قوم    کو دودھہ و شہد کی نہریں بہانے کے وعدے کئے تھے قوم سے چار سال تو بے وقوف  بنا لیا اب کچھہ کر کے بھی دکھانا پڑے گا ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں گے فوج بھی خوش ہوجائے گی  کے فوج کا کام آسان ہوجائے گا اور قوم بھی مزید بےوقوف بن جائے گی آذاد عدلیہ زندہ باد آذاد عدلیہ زندہ باد کے نعرے لگنے والے ہیں۔
نواز شریف صاحب کو فکر ہے کے یہ حکومت ایسے گرے کے اگلے سیٹ اپ میں فوج کا کوئی کردار نہ ہو، عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے نواز شریف کی۔ قوم اگلے الیکشن کے لئیے تیار ہے پھر ان ہی لوگوں کو ووٹ ملنے ہیں تبدیلی محض اتنی ہوئی ہے کے ان پرانے لٹیروں میں ایک نئے چہرے کا اضافہ ہوگیا ہے اب اسے بھی حصہ ملے گا۔ اور اگر فرشتے اسے اقتدار میں لے بھی آئے تو وہ صرف اتنا ہی کرے گا جتنا کرنے کی اسے فرشتے اجازت دیں گے نہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ۔ پاکستان کی تاریخ ہے ہی کے جو لاتا ہے وہ واپس بھیجنا بھی جانتا ہے امید ہے عمران خان صاحب تاریخ کے اس سبق کو یاد رکھیں گے۔
تبدیلی اس ملک میں صرف اس دن ہی آئے گی جس دن سیاستدانوں کی طرح فوجی جرنیلوں کا بھی ایسے ہی احتساب ہوگا جیسے ذرداری صاحب کا کیا جارہا ہے، جیسے حامد کاظمی صاحب کو پابند سلاسل کیا گیا ہے ایسے ہی فوجی جرنیلز کو بھی داخل زنداں کرنا ہوگا، یہ جس دن ہوجائے گا اس دن نیچے والے خود بہ خود اپنا قبلہ درست کرلیں گے۔ مگر یہ کبھی ہوگا نہیں اس ملک میں اسلئیے سب کے حلوے مانڈے ایسے ہی چلتے رہیں گے، جو مثبت تبدیلی کی امید رکھتے ہیں انہیں چاہئیے اپنی شہریت بدل کر کسی کفار ملک کی راہ لیں کیوں کے یہاں تو قاضی حسین احمد اور مولانہ فضل الرحمان کا خود ساختہ اسلام ہی چلنا ہے جس میں کتاب کو قرآن بتا کر لوگوں کے مذہبی جذبات بھڑکا کر لوٹا ماری کرنا جائز جانا جاتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

9 Responses to مفاد کی جنگ

  1. حضور مشہور محاوہ ہے "اپنی بلا طويلے کے سر”۔ گستاخی معاف آپ بھی اسی رنگ ميں رنگے گئے ہيں ۔ سياستدان بُرے ۔ فوج بُری ۔ عدليہ بُری ۔ انتخابات ميں پھر يہی آ جائيں گے تو نتيجہ کيا نکلا ؟
    يہاں تو اپنے آپ کو مسلمان کہنے والے نعوذ باللہ من ذالک اپنے خالق کے بنائے نظام کو بھی ناقابلِ عمل قرار ديتے ہيں ۔
    پرانی بات ہے مرحوم ڈاکٹر غلام مرتضٰے ملک صاحب کو ميری موجودگی ميں ايک شخص نے کہا "ڈاکٹر صاحب ہماری درستگی کيلئے کچھ کيجئے”۔ اُنہوں نے اپنے جسم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جواب ديا "ميں اس پانچ فٹ کے بُت کو درست کرنے کی کوشش ميں لگا ہوں ۔ اس سے فرصت ملے تو کسی اور کو درست کرنے کی کوشش کروں”۔
    ہمارے ہاں ہر کوئی دوسرے کے کيڑے نکالنے پر تُلا ہے ۔ اُسے دوسرے کی آنکھ ميں تِنکا نظر آتا ہے اپنی آنکھ کا شہتير نظر نہيں آتا ۔
    قبلہ جب تک اپنے آپ کو عوام کہنے والے سارے يا کم از کم اکثريت حقِ رائے دہی ذاتيات سے بالاتر ہو کر قوم و ملک کی اجتماعی بہتری کيلئے استعمال نہيں کريں گے کچھ بدلنے کا نہيں بلکہ حالات مزيد خراب ہوں گے

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار صاحب آپکی بڑی مہربانی ہوگی کے یہ جتنے اداروں اور لوگوں کے بارے میں میں نے بات کی ہے اور جو آپکو ناگوار بھی گزری ہے، تو آپ ان میں سے کسی ایک کے حق میں کوئی دلیل بھی لے آئیں کے ان میں سے فلاں درست ہے اور اسکے بارے میں میں نے غلط کہا ہے۔ مسلہ یہ ہے کے یہاں پوری قوم نے ہی ان سب میں سے ایک ایک کو اپنا خدا بنایا ہوا ہے اور اسے پوجتے ہیں، اسکی شان میں گستاخی انہیں اللہ کی شان میں گستاخی کے مترادف لگتی ہے آپ بھی ان ہی لوگوں میں شامل ہیں ان دنوں آپ نے عدلیہ کو خدا بنایا ہوا ہے تو آپ اپنے اس خدا کے حق میں ہی کوئی دلیل لے آئیں بڑی مہربانی ہوگی آپکی۔

      • بلاشُبہ ہر آدمی اپنے دماغ سے سوچتا ہے اور دوسرے کی بات کو اپنی سوچ کے مطابق سمجھتا ہے ليکن کسی کے متعلق رائے دينے سے قبل اگر آپ وہی عمل کر ليا کريں جس کا آپ نے مجھے مشورہ ديا ہے تو آپ کو باعمل سمجھا جائے گا ۔ اور آپ کو يہ کہاں سے معلوم ہوا کہ ميں عدليہ کو خدا بنانے والوں ميں شامل ہوں ؟ ميرا اللہ تو صرف وہ وحدہُ لا شريک ہے جو اس کائنات کا خالق اور مالک ہے اور جس کا فرمان ٹل نہيں سکتا
        سورت 13 الرعد ۔ آیت 11 ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ
        ترجمہ ۔ اللہ اس کو جو کسی قوم کو حاصل ہے نہیں بدلتا جب تک وہ اپنی حالت کو نہ بدلے
        دوسرے کو بُرا کہنا ايک آسان کام ہے ۔ بات جب ہے کہ آدمی پہلے خود برائی سے بچے پھر دوسروں کے متعلق سوچے

      • fikrepakistan نے کہا:

        محترم اپنا پہلہ تجزیہ دوبارہ پڑھہ لیجئیے اس میں آپ نے ہی مجھے ان ہی لوگوں میں رنگا ہوا شمار کیا ہے، جبکہ میں بہت واضع الفاظوں میں کہہ چکا ہوں کے میں ان میں سے کسی پر بھی یقین نہیں رکھتا ان میں سے کوئی بھی اس لائق نہیں کے انکے پیچھے چلا جائے۔ عدلیہ سے متعلق آپکی رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے مختلف بلاگز پر اپنے کئے ہوئے تبصروں کو ری وزٹ کرلیں۔

  2. Md-Noor نے کہا:

    محترم اپنی معلومات میں اضافہ کیلئے پوچھ رہا ہوں کہ ” کتاب کو قُرآن بتاکر” سے آپکی کیا مُراد ہے ۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔آپکا بُہت شُکریہ۔۔۔۔۔۔ (ایم ۔ ڈی )۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جو الیکشن ایم ایم اے نے لڑا تھا اس میں انکا انتخابی نشان کتاب تھا، اور اپنے جلسوں میں ان مردودوں نے اس انتخابی نشان کو قرآن بتایا کے یہ کتاب قرآن ہے آپ اسے ووٹ دیں۔ یہ انکا طریقہ واردات ہے کہ یہ لوگ معصوم لوگوں کے مذہبی جذبات سے کھیلتے ہیں انہیں بھڑکا کر اپنی دکانیں چمکاتے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کے لوگوں کے ووٹ کے ساتھہ انہوں نے کتنا گھناونا سلوک کیا اور پانچ سال تک صوبے سرحد کی حکومت کے مزے لوٹتے رہے۔ اسلام کے نام پہ شریعت کے نام پر بے وقوف بنایا قوم کو اور پاکستان میں تو کیا سرحد تک میں کوئی تبدیلی نا لاسکے۔ پانچ سال سرحد میں دہشت گردوں کو پالتے رہے جو آج پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

  3. Hasan نے کہا:

    ju kaam 111 brigade karta tha ub 11 judges kiya karain gai…yeah military coup hai judicial judgement kay roop main

  4. Hasan نے کہا:

    Shaikh Rasheed views about the Iftikhar Chaudhry

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s