انقلاب اورینٹڈ سے غلامی اورینٹڈ تک۔


مہذب دنیا میں ہر شخص اپنا کام اپنے ہاتھہ سے ہی کرتا ہے، دفتروں میں بھی افسران اور مالکان اپنے ذاتی کام اپنے ہی ہاتھوں سے سرانجام دیتے ہیں۔ وہاں عمومی طور پر لوگ ایک دوسرے کو نام سے پکارتے ہیں برابری کی سطح پر معاملات کئے جاتے ہیں، عزت احترام منصب کے بنیاد پر نہیں کردار کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ اسکے برعکس ہم لوگ زبان سے تو کہتے ہیں لااللہ الہ اللہ مگر قدم قدم پر ہمارے اللہ ہیں، سر جی، صاحب جی، حضور والہ، قبلہ، یہ کیا سوچ ہے؟۔
المیہ یہ کے اس غلامی پسند سوچ کو ہم ادب و احترام کا نام دے دیتے ہیں، کوئی افسر یا مالک اپنے روم سے باہر نکلے تو پی اون پر لازم ہے کو وہ اسے کھڑے ہو کر سلام کرے جتنی بار افسر سامنے سے گزرے گا اسے اٹھک بیٹھک کرنا لازمی ہے ورنہ بیچارا اپنی نوکری سے جاتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کے ادب و احترام کردار کی بنیاد پر ہونے چاہئیے ( بنیادی خونی رشتوں کے لئیے تعلیمات الگ ہیں زیر بحث مضمون کے ساتھہ انہیں نہ ملایا جاے ) نہ کے منصب کی بنیاد پر۔
اسلام تو جانورں تک کے حقوق وضع کرتا ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک کا مفہوم ہے کے، جانورں پر انکی طاقت سے زیادہ بوجھہ مت ڈالو۔ اس ہی طرح غلاموں کے لئیے بھی فرمایا کے جو خود کھاو وہ ہی انہیں بھی کھلاو، جو خود پہنو وہ ہی انہیں بھی پہناو، انکے آرام کا خیال رکھو، جبکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ملازموں کے ساتھہ جانورں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے، نوئے پرسنٹ مالکان اپنے ملازموں کے ساتھہ اچھوتوں سے بھی بدتر سلوک روا رکھتے ہیں، سارا دن جانورں کے طرح مشقت لینے کے بعد جو مزدوری انہیں دی جاتی ہے اس مزدوری کے عوض مزدور کے گھر میں چولہہ جلا کے نہیں اسکی انہیں فکر نہیں ہوتی، انکے ملازم کے گھر میں بیمار ماں باپ کا علاج ہو پا رہا ہے یا نہیں یہ انکا درد سر ہی نہیں ہوتا، خود بالی کےشوز اور ورساچے کے سوٹ زیب تن کرتے ہیں کبھی انکے اندر یہ سوچ نہیں جاگتی کے انکے ملازم کے بچوں کے تن پر کپڑے بھی ہیں کے نہیں۔
سارا دن جانورں کے طرح مشقت لینے کے بعد جو تنخواہ وہ انہیں دیتے ہیں اس میں آج کی مہنگائی کے دور میں ٹھیک سے انسان پیٹ کا دوزخ نہیں بھر سکتا تو کپڑے اور علاج معالجہ تو بہت دور کی بات ہے، صبح سات بجے بس اسٹاپ پر دیکھہ لیں فیکڑیوں میں کام کرنے والی لڑکیوں کے ہجوم لگے ہوتے ہیں جو بیچاریاں جانے کس مجبوری میں اس زلت آمیز ماہوار کے عوض سارا دن کی مشقت کرتی ہیں، بارہ بارہ گھنٹے ان سے کام لیا جاتا ہے اور بدلے میں آج بھی محض پانچ ہزار ماہوار دیا جاتا ہے، یہ کیا معاشرہ ہے یہ کون لوگ ہیں کیوں رحم نہیں آتا انہیں کیوں ایسے وقت میں اسلام یاد نہیں آتا انہیں؟ اور کہاں مرے ہوئے ہیں وہ نام نہاد دین کے ٹھیکیدار انہیں یہ سب دیکھہ کر اسلامی تعلیمات یاد کیوں نہیں آتیں؟ عوام کی اس زلت آمیز ہتک پر انکی روحیں کیوں نہیں کانپتیں؟ کیا گناہ ثواب جنت دوزخ حور اس کے آگے اسلامی تعلیمات ختم ہوجاتی ہیں؟ یہ جو جیتے جی لوگ دوزخ جھیلنے پر مجبور ہیں اسکا جواب کون دیگا؟۔
کہنے کو حاجی بھی ہوتے ہیں عمرے بھی لا تعداد کیئے ہوئے ہوتے ہیں مگر عملی زندگی میں درندوں سے بھی بدتر ہوتے ہیں، دل کانپ جاتا ہے سن کر کے آج بھی پرائیوٹ اسکولوں میں محض دو تین ہزار کے عوض لڑکیوںکوٹیچر رکھا جاتا ہے، جتنی دو بچوں کی فیس ہوتی ہے اتنی ہی ٹیچر کی تنخواہ ہوتی ہے۔ پرئیویٹ کمپنیز میں جعلی یونینز بنائی جاتی ہیں کاغذوں میں مالک خود ہی اپنے کسی چمچے کو یونین لیڈر دکھا دیتا ہے ماہوار مٹنگز بھی دکھا دی جاتی ہیں ساری مراعتیں بھی شو کروائی جاتی ہیں مگر سب صرف کاغذوں میں عملی طور پر کچھہ نہیں دیا جاتا کاغذوں میں میڈیکل، پروویڈنٹ فنڈ، فلاں الاونس ڈھماکہ الاونس سب دکھایا جاتا ہے مگر دیا کچھہ نہیں جاتا۔ کروڑوں روپے کا ٹیکس چوری کیا جاتا ہے ڈمی کمپنیز بنا کر سارے اخراجات دکھائے جاتے ہیں یہ ساری درندگی ٹیکس بچانے کے لئیے کی جاتی ہے، کوئی ایک چارٹرڈ اکاونٹنٹ ٹائپ چمچہ رکھہ لیا جاتا ہے جو انہیں یہ سارے راستے دکھاتا رہتا ہے اسے یہ پیٹ بھر کر دیتے ہیں ساری مراعتیں اس ایک کے نام کر دی جاتی ہیں وہ ایک غاصب سب کا حق کھا کر انہیں سارے راستے دکھاتا رہتا ہے، سب کا حق لے کے بھی محروم دکھائی دیتا ہے۔ اتنا ظالم ہے کے مظلوم دکھائی دیتا ہے۔
اور اسٹاف کو معلوم ہوتا ہے یہ سب لیکن اپنے حق کے لئیے پھر بھی آواز نہیں اٹھاتے، وہ آواز اٹھا ہی نہیں سکتے کیوں کے پینسٹھہ سالوں میں بڑی محنت کے ساتھہ اس پوری قوم کوانقلاب اورینٹڈ سے غلامی اورینٹڈ بنایا گیا ہے، قوم کو غلامی پسند بنانے میں ہر صاحب اختیار کا ہاتھہ ہے چاہے وہ فوج ہو اسٹیبلشمنٹ ہو سیاستدان ہوں ملا مولوی ہو، سب کے سب شامل ہیں اس قوم کو بزدل اور غلامی پسند بنانے میں، ورنہ یہ وہ قوم تھی جو خلیفہ وقت پر انگلی اٹھا دیا کرتی تھی، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ نے لوگوں سے پوچھا میں اگر ٹھیک معمالات نہ کروں تو تم کیا کرو گے؟ لوگوں نے تلوار لہرا کر کہا اس سے آپکو سیدھا کر دیں گے۔
یہ تھا مسلمانوں کی سوچ کا معیار اور آج سوال کرنا گناہ سمجھا جاتا ہے بدتمیزی سمجھی جاتی ہے، اپنے حق کے لئیے بولنے والے کو باغی کہا جاتا ہے۔ سب خوش حال ہیں مولوی ملا خوش حال ہے، سرمایہ دار خوش حال ہے، فوج خوش حال ہے، سیاستدان خوش حال ہے، بدحال ہے تو وہ مزدور جو اس دھرتی کا سینہ چیر کے اس ملک کے لئیے وسائل نکالتا ہے ان سب درندوں کی عیاشی کا سامان پیدا کرتا ہے، المیہ یہ ہے کے یہ قوم خوش بھی اس ہی غلامی میں ہے مطمعین ہیں پورے خلوص کے ساتھہ غلامی کا حق ادا کرتے ہیں، اللہ فرماتا ہے ہم بھی اس قوم کی حالت نہیں بدلتے جسے خود اپنی حالت بدلنے کی فکر نہ ہو۔ نہ یہ قوم اپنے حق کو کبھی سمجھے گی اور نہ ہی کبھی اپنے حق کو لینے کے لئیے باہر آئیگی ایسی قوم کا صحیح مقام سیلانی اور ایدھی کا مفت دسترخوان ہی ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to انقلاب اورینٹڈ سے غلامی اورینٹڈ تک۔

  1. مکی نے کہا:

    جب بھی کرتے ہو میاں حد ہی کرتے ہو..

  2. یہ آخری والا فقرہ بہت فکر انگیز ہے جناب۔

  3. amnasurdu نے کہا:

    بہت خوب ۔۔۔۔تحریر میں سچ ہی سچ ہے خوشی ہوئی کہ اب بھی کچھ لوگ سب اچھا کی عینک لگائے بغیر دیکھتے ہیں۔۔۔۔۔ اور جہاں تک یس سر، یس میم کا سوال ہے تو امریکہ انگلینڈ میں آئے ہوئے تازہ تازہ پاکستانی اور انڈین اب بھی یہی کرتے ہیں اور ان کے فدویانہ لہجے اور انداز پر یہاں کے لوگ حیران ہی ہوتے رہ جاتے ہیں۔۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      آمنہ سردو بلاگ پر خوش آمدید، تحریر کے پسندیدگی کے لئیے بہت بہت شکریہ۔ اس قوم کو جھوٹے بہلاوں میں رہنا ہی پسند ہے، صدیوں سے یہ قوم اس ہی بہلاوے پر پالی گئی ہے، اب اسے سچ ہضم نہیں ہوتا۔

  4. وسیم رانا نے کہا:

    صرف ایک ہی بات کہ "کیا بات ہے” ۔

  5. Bilal Imtiaz Ahmed نے کہا:

    نام سے پکارنے سے خودساختہ بڑائی ختم ہوجاتی ہے، یہاں صرف اور صرف بادشاہ کو آپ کہاجاتا ہے باقی سب کو تم یا نام لیکر پکارا جاتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s