اظہار صاحب سے اظہار یکجہتی


محمد اظہار الحق صاحب کی تحریر، اسے مسجد کے دروازے پر جوتے مارے جائیں گے، پڑھی بہت ہی اچھی اور جامع تحریر تھی اس تحریر کو تھوڑا سا آگے بڑھانے کا دل چاہا۔ اظہار صاحب، آپ نے جن مولوی حضرات کا ذکر کیا ہے جنہیں ہر روز پانچ اور مہینے میں چار بار لوگوں سے مخاطب ہونے کا موقع ملتا ہے مگر انکا سارا زور ظواہر پر ہوتا ہے، مسلہ یہ ہے کے انکی تربیت ہی کچھہ اسطرح کی جاتی ہے کے انہیں لوگوں کو یہ ہی سب قصے کہانیاں سنا کے ٹرخانا ہوتا ہے، وہ بیچارے کیا کسی کو کچھہ بتائیں گے انہیں خود کچھہ نہیں پتا ہوتا، یہ تو بیچارے کبھی یہ تک نہیں بتانے کے صفائی نصف ایمان ہے، کیوں کے وہ خود جانتے ہیں کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر چوری کی جگہ پر قبضے کی جگہ پر بیٹھے ہوئے ہیں، وہ خود مسجد کے بیت الخلا میں ناک پر ہاتھہ رکھے بغیر نہیں جاسکتے تو وہ کس منہ سے لوگوں کے بتائیں گے کے صفائی نصف ایمان ہےِ؟۔
تمام لوگ اپنے اپنے علاقے کی مساجد کا جائزہ لیں انہیں خود اندازہ ہوجائے گا کے پاکستان میں ستر فیصد مساجد چوری اور قبضے کی زمین پر بنی ہوئی ہیں، اب چوری کی مسجد میں نماز ہوتی ہے یا نہیں ہوتی اسکا فیصلہ قاری خود کرلیں۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی مسجد ایسی ہو جسکا تعلق کسی فرقہ سے نہ ہو، یہ فرقہ بندی والے نئے نئے طریقوں سے زمینوں پر قبضے کرتے ہیں اور پھر وہاں اپنے فرقے کو بڑھانے کے لئیے بھیک کے پیسوں سے مسجد تعمیر کروا دیتے ہیں، ایک فرقہ دوسرے فرقے کی مسجدوں پر اسلحے کے زور پر قبضہ کرلیتا ہے۔
مسجد کی تعمیر اسطرح کی جاتی ہے کے اس میں دکانیں لازمی نکلیں تاکے کرائے کی مد میں اچھی خاصی رقم ماہوار بھی ملتی رہے، باقی ہر جمعے کی نماز میں ڈبے بھی پھرائے جاتے ہیں ان سے بھی اچھی خاصی کمائی ہوجائی ہے۔
آپ سب سے ایک سوال پوچھتا ہوں میں، اگر کسی شخص کے تین یا چار بچے ہیں تین بچے ذہین ہیں اور ایک بچہ زرا کند ذہن کا ہے اسے بات دیر سے سمجھہ آتی ہے پڑھائی میں بھی کمزور ہے باقی معاملات میں بھی وہ اپنے باقی بہن بھائیوں سے پیچھے ہے، تو فطری سی بات ہے کے والدین اپنے اس کمزور بچے پر زیادہ توجہ دیں گے کیوں کے باقی بچے اس سے بہتر ہیں وہ سب سے کمزور ہے اسلئیے وہ والدین کی زیادہ توجہ کا مستحق ہے، مگر یہاں معاملا ہی الٹا ہے، مولوی حضرات عالم حضرات مفتی حضرات یہ سب معاشرے کے باپ کی حیثیت رکھتے ہیں، ساری امت انکی بات غور سے سنتی ہے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش بھی کرتی ہے انکے منہ سے نکلی ہوئی بات کو لوگ اپنے ایمان کا حصہ بناتے ہیں اسلئیے انکی ذمہ داری سب سے زیادہ بنتی ہے۔
طریقہ کار کچھہ اسطرح سے ہوتا ہے کے جتنی بھی مساجد ہیں وہ کسی نا کسی فرقے کے زیر اثر ہیں ان مساجد کے اماموں کی ڈیوٹی فرقے کے ہیڈ آفس سے لگتی ہے، کہاں کس مولوی کو رکھنا ہے کہاں سے کس کو ہٹانا ہے اسکا فیصلہ فرقے کے مرکزی آفس سے کیا جاتا ہے، مگر زرا غور کریں معاشرے کا جو سب سے کمزور ترین طبقہ ہے یعنیٰ غریب آدمی، جتنی بھی غریب آبادیاں ہیں کچی آبادیاں ہیں ان میں چھانٹ کر جاہل ترین مولوی کو رکھا جاتا ہے جسے خود کچھہ نہیں پتہ ہوتا، وہ الٹے سیدھے قصے کہائیاں سنا کے اپنا وعظ مکمل کرتا ہے اونگتے اونگتے لوگ نماز کے لئیے کھڑے ہوجاتے ہیں دو چار رکعتیں پڑھیں اور اپنے اپنے گھر کی راہ لی چلو جی ہوگئی جنت پکی۔
اسکے برعکس جتنے بھی پوش ایریاز ہیں وہاں قابل ترین آدمی کو امامت پہ لگایا جاتا ہے، میں نے نہیں دیکھا کبھی کے مولانہ تقی عثمانی صاحب، منیب الرحمان صاحب یا کسی اور فرقے کے کسی پھنے خان نے کبھی کسی غریب غرباء علاقے کی مسجد میں مستقل امامت کی ہو، وہ بیعت المکرم مسجد میں ضرور نظر آتے ہیں امامت کرواتے ہوئے وعظ دیتے ہوئے، ارے بھائی بیعت المکرم مسجد میں تو زیادہ تر ویسے ہی پڑھے لکھے اور سمجھدار قسم کے لوگ آتے ہیں انہیں نسبتاَ کم ضرورت ہے تربیت کی، جبکہ اصل ضرورت تو ہے ہی غریب علاقے کے لوگوں کو جنہیں ٹھیک سے نماز تک پڑھنی نہیں آتی جو دنیاوی اور دینی دونوں طرح کی تعلیم سے محروم ہوتے ہیں مگر ایسے غریب علاقے کی مسجد میں چن کر جاہل ترین جو کے ابھی ٹرینگ کے مرحلے میں ہوتا ہے ایسے کم علم والے اخروٹ کو رکھا جاتا ہے تاکے اسکے جہالت کو کوئی پکڑ بھی نہ سکے۔
یہ کیسے والدین ہیں جو سب سے ذہین بچے پر ہی اپنی پوری توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں؟۔ اظہار صاحب نے اپنی تحریر میں لکھا کے یہ لوگ کبھی ڈھنگ کی کوئی بات نہیں بتاتے، پہلی بات تو یہ ہے کے ان بیچاروں کے خود کچھہ نہیں پتہ ہوتا، جو کچھہ انہیں درس نظامی میں پڑھایا جاتا ہے اس کے باہر انہیں ایک لفظ کی بھی معلومات نہیں ہوتیں، اور جو باتیں انہیں معلوم ہیں وہ بھی بتانے سے قاصر ہوتے ہیں یہ لوگ، اسکی وجہ یہ ہے کے یہ خود ان پیمانوں پر پورے نہیں اترتے تو کس منہ سے کسی دوسرے کو تلقین کریں گے؟۔
صفائی نصف ایمان ہے یہ لوگ اس بات کی تشہیر کیوں نہیں کرتے اسکی وجہ اوپر درج کردی گئی ہے کے وہ خود گندگی کے ڈھیر پر پیٹھے ہوتے ہیں مسجد کے دروازے کے سامنے گند کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں، جوتیاں تک سلیقے سے رکھنے کا کوئی انتظام نہیں کیا جاتا جماعت ختم ہوتے ہی جانورں کی طرح سے دروازے کی طرف بھاگتے ہیں لوگ، ایک دوسرے کی جوتیوں کو روندتے ہوئے نکلتے ہیں، کتنا بڑا المیہ ہے کے اب لوگ گھر کے کچرے میں پڑی ہوئی سب سے خراب چپل کو پہن کر مسجد جانے کو ترجیح دیتے ہیں نئی چپل اسلئیے نہیں پہن کے جاتے کے یا تو چوری ہوجائے گی یا پھر لوگوں کے پیروں تلے آکر خراب ہوجائے گی۔
یہ نہیں بتائیں گے کے کم تولنے والا جہنمی ہے، کیوں کے یہ خود قرانی احکامات میں ڈنڈی مارتے ہیں صرف اتنے کی ہی تشہیر کرتے ہیں جس سے عام آدمی جہنم سے ڈرتا رہے اور جلد سے جلد بس مرنے کی کوشش کرے، کبھی کسی بڑے سے بڑے مولوی مفتی عالم کے منہ سے نہیں سنا کے قرآن میں سینکڑوں آیات مبارکہ کا تعلق تسخیر کائینات سے ہے، غور و فکر کرنے سے ہے، اللہ کی اس کائینات کے اسرار و رموز جاننے سے ہے، زمین کے اوپر زمین کے اندر سمندر کی تہہ میں چھپی اللہ کی نشانیوں سے ہے ان سب میں چھپے قدرت کے خزانوں سے ہے، اللہ فرماتے ہیں ہم نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری جسکا علاج نہ اتارا ہو ڈھونڈو تلاش کرو، آج تک کسی بڑے سے بڑے طرم خان کے منہ سے یہ باتیں نہیں سنیں، یہ اسلئیے نہیں بتاتے کے انکی خود کوئی اوقات نہیں کے یہ سب کر سکیں اسکے لئیے پڑھنا پڑتا ہے ایمانداری سے محنت سے دیانداری سے مشقت کرنی پڑتی ہے، یہ سب سینکڑوں سال پرانے درس نظامی پڑھنے سے نہیں ملنے والا، سب پتہ ہے انہیں مگر تبدیلی چاہتے ہی نہیں یہ نا خود بدلنا چاہتے ہیں نہ ہی قوم کو بدلنا چاہتے ہیں قرآن کے یہ سارے احکامات انہوں نے کافروں کے لئیے رکھہ چھوڑے ہیں، انکی ساری گفتگو کا مرکز صرف جنت دوزخ ہوتی ہے، انکا اسلام جہنم سے شروع ہوکر جنت پہ ختم ہوجاتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

15 Responses to اظہار صاحب سے اظہار یکجہتی

  1. عمران اقبال نے کہا:

    بلکل درست تجزیہ ہے اظہار صاحب کا بھی اور آپ کا بھی۔۔۔

  2. لالا جی نے کہا:

    اچھا ہے۔۔۔۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ

    • fikrepakistan نے کہا:

      بنیاد پرست صاحب، پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے کے پاکستان میں آذاد مساجد کی تعداد اتنی ہی ہے جتنی تعداد پاکستان میں صحیح معنوں میں نیک لوگوں کی ہے، یہ جس مسجد کا ذکر آپ کر رہے ہیں اسکا شمار ایسی ہی مساجد میں آتا ہے، باقی ہر آدمی اپنے اپنے علاقے کی مساجد پر غور کر لے جواب اسے خود ہی مل جائے گا، یہاں گنتی کے مساجد کے علاوہ تمام ہی کسی نا کسی فرقے کے کے زیر اثر ہوتی ہیں، اور ان تمام مساجد میں امام کی ڈیوٹی فرقے کے مرکزی دفتر سے لگتی ہے، میرے علاقے میں جتنی بھی دیوبندی فرقے کی مساجد ہیں ان میں بنوری ٹاون مسجد سے تعیناتی ہوتی ہے۔
      ہمارے ایریا میں ایک نیوٹرل مسجد بھی ہے جسکی امامت پر بہت لاٹھی ڈنڈے چل چکے ہیں، بنوری ٹاون مسجد والے چاہتے تھے کے ہمارے امام کی تعیناتی ہو اور بریلوی فرقے کے لوگ چاہتے تھے کے ہمارے امام کی تعیناتی ہو، یہ کوئی نئی انہونی بات نہیں ہے پورے پاکستان کی مساجد کا یہ ہی حال کر کے رکھا ہوا ہے ان لوگوں نے۔ اسلئیے آپکی یہ بات کے امام کی تعیناتی محلے کے لوگوں کی مرضی سے ہوتی ہے انتہائی لغو ہے۔ مساجد پر قبضے عام ہیں یہاں آئے دن اس طرح کے فسادات ہوتے رہتے ہیں۔ اسلئیے یہ ذمہ داری بھی ان ہی فرقوں کے مرکزی دفاتر میں بیٹھے لوگوں کی بنتی ہے کے کوئی طریقے کا انسان منتخب کریں جسے دین کی مکمل معلومات ہوں وہ منبر پہ بیٹھہ کر سوائے اپنے فرقے کی تشہیر کے کوئی کام کی بات بھی کرلے۔
      اور اپنی تصحیع کرلیں کے عالم صرف اسے ہی نہیں کہتے جسے صرف دین کی معلومات ہوں، عالم کوئی بھی ہوسکتا ہے جسے بھی جس بھی علوم پر عبور حاصل ہے وہ عالم ہے، اگر کوئی ماہر معاشیات ہے اور اسے اپنی فیلڈ پر مکمل عبور حاصل ہے تو وہ بھی عالم ہے، اگر کسی کو سائنس پر عبور حاصل ہے تو وہ بھی عالم ہے، ہمارے ہاں اس لفظ عالم کو صرف دین کی تعلیمات پر عبور رکھنے والوں جوڑ دیا گیا ہے جو کہ بلکل غلط ہے۔
      پھر آپ نے فرمایا کے عالماء کا کام تو صرف صحیح اور غلط بتا دینا ہے آگے لوگ جانیں اور انکا کام، یہ بھی بلکل غلط بات کی ہے آپ نے، ایسے سینکڑوں امام حضرات گزرے ہیں جنہوں نے جابر حکمران کے آگے نعرہ حق بلند کیا اور امت کو نجات دلائی ان سے، حضرت امام حسین کی مثال لے لیں، امام تیمیہ کی مثال لے لیں، کتنی مثالیں دوں؟ اور آپکو کیا لگتا ہے کے کیا قیامت کے روز بھی یہ اللہ کے آگے یہ ہی کہہ کر بچ جائیں گے کہ ہم نے بتا دیا تھا لوگوں نے عمل ہی نہیں کیا، ہمارے پاس اختیارات ہی نہیں تھے، واہ صاحب واہ، پچاس پچاس لاکھہ لوگ راےونڈ میں جمع کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے پاس اختیارات نہیں ہیں، ایک سال یہ اجتماع زرا راےونڈ کے بجائے اسلام آباد میں کریں اور دیں ڈیڈ لائن حکمرانوں کو کے اگر تین دن کے اندر اندر بنیادی معاملات نہیں سدھارے گئے تو ہم اعوانوں میں گھس جائیں گے ان لوگوں کو لے کر۔ مگر آپ نے بھی بلکل درست فرمایا ہے کے انبیاء کے وہ وارث یہ لوگ نہیں ہیں، اسلئے یہ کیوں کریں گے ایسا، یہ تو اللہ سے کہہ دیں گے کے ہم کیا کرتے ہمارے پاس اختیار تھوڑی تھا۔
      پھر آپ فرماتے ہیں کے درس نظامی میں قرآن و حدیث پڑھایا جاتا ہے کیمسڑی یا فزکس نہیں، تو میرے بھائی یہ جو سینکڑوں آیات مبارکہ کا جو میں ذکر کر رہا ہوں یہ کیا کسی فزکس یا کیمسڑی کی بک میں آیا ہے انکا ذکر؟ انکا ذکر بھی تو قرآن میں ہی آیا ہے نہ تو جب یہ ہے یہ قرآن کا حصہ تو قرآن کے اس حکم کی تعلیم کون دیگا؟ ان آیات مبارکہ کو قرآن کا حصہ کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ قرآن کی ان آیات کو فزکس اور کیمسڑی والوں پر کیوں چھوڑ دیا گیا ہے؟۔ یا تو آپ ہی ان لوگوں کی طرف سے لوگوں کو بتا دیجئے کے علماء حضرات ان آیات مبارکہ کو قرآن کا حصہ ہی نہیں سمجھتے اسلئیے نا اس پر بات ہوتی ہے اور نہ ہی اسکی تعلیم دی جاتی ہے۔ اور آخر میں آپ نے خوب فرمایا کے گرمیوں میں دوپہر میں اور جاڑوں میں صبح کے ٹائم وقت پر اذان دے دی جاتی ہے۔ ارے بھائی فری میں کر رہے ہیں یہ سب کیا ؟ پیسے لیتے ہیں نماز پڑھانے کے جو کے غیر اسلامی عمل ہے، پیسے بھی لیں اور اپنا کام بھی وقت پر نا کریں بہت خوب جناب بہت خوب۔

      • فرخ صدیقی نے کہا:

        جناب والا ۔۔۔۔ سلام مسنون !!!

        عالم صرف دین کا علم جاننے والے کو ہی کہتے ہیں ، کیوں کہ میرے نبی ﷺ نے ایسا ھی کہا ہے ۔۔۔۔۔ اور ھم ان کی ہی بات مانیں گے نام نہاد دانشوروں کی بات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ۔۔۔
        باقی جتنے لوگ ہیں جیسے معاشیات میں عبور رکھنے والے والے ماہر فن ہوتے ہیں ، عالم نہیں ۔۔۔

        اتنی تصحیح کر لیجیے۔۔۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        فرخ صدیقی صاحب، وعلیکم السلام، یہ عمومی تاثر محض اسلئیے ہے کے ہمیں بچپن سے بتایا ایسا ہی گیا ہے، یہ اسلئیے کہہ رہے ہیں آپ کے آپکو بتایا ہی یہ گیا ہے کے علم صرف دین کا ہوتا ہے دنیا کا تو ہنر ہوتا ہے، اللہ قرآن میں اپنے اللہ ہونے کی دلیل دے رہے ہیں تو بہتر ہے کے آپ بھی اپنی بات کی کوئی دلیل لے آئیں، اچھا ہے میری بھی تصحیح ہوجائے گی اور باقی لوگوں کے علم میں بھی اضافہ ہوگا۔ علم صرف علم ہوتا ہے دینی یا دنیاوی نہیں، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کہیں نہیں فرمایا کے علم صرف دین کا ہوتا ہے، حدیث ہے کے علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نا جانا پڑے، جس وقت یہ حدیث کہی گئی اس وقت چین میں مسلمان نہیں تھے، تو کافروں سے کس چیز کا علم حاصل کرنے کا حکم دیا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے؟ سنی سنائی باتوں پر ایمان لانے سے بہتر ہے خود بھی تھوڑا مطالعہ کرلیا کریں، یہ سنی سنائی پر من و عن ایمان لانے کا ہی نتیجہ ہے کے آج مسلمان ان گنت فرقوں میں بٹ گئے ہیں۔ جبکہ فرقہ بندی کا اسلام سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ یہ لوگ دنیاوی تعلیم کو اسلئیے علم نہیں کہتے کیوں کے یہ جانتے ہیں کے یہ اسطرح کی تعلیمات میں صدیوں سے بہت بہت بہت پیچھے ہیں انکی اوقات ہی نہیں کے یہ اس طرف کوئی تیر مار سکیں یا دنیا کو کوئی نیا نصاب ہی دے سکیں۔ یہ وجہ ہے کے ان لوگوں نے علم کا ہی ستیا ناس نکال دیا اور اسے دینی اور دنیاوی کہہ کر اپنا دامن بچا لیا۔ اسلئیے بھائی تھوڑی سی تحقیق خود بھی کرلیا کریں غیر جانبدار ہوکر پھر آپ پہنچینگے درست نتیجے پر۔

  3. Abdullah نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی آپ حق بات کرتے رہیئے،
    جلد ہی ان مولوی نما جاہلوں کو پتہ لگنے والا ہے کہ کراچی کی اورپاکستان کی کتنی مسجدیں قبضہ کی گئی زمینوں پر بنائی گئی ہیں!!!
    اس وقت تک جواب جاہلاں خاموشی باشد!
    🙂

    • fikrepakistan نے کہا:

      عبداللہ بھائی میں جوتے کی نوک پہ رکھتا ہوں ایسے لوگوں کی گھٹیا ذہنیت کو، مجھے انکی ذہنی اوقات کا پتہ ہے یہ زنگیائی ہوئی پھپھوندی لگی ہوئی گھٹیا مائنڈ سیٹ قسم کی نسل ہے، ان میں اتنی تو جرت نہیں کے اپنے نام نہاد لیڈروں نام نہاد خود ساختہ انبیاء کے وارثوں کے گریبان پکڑ کر کہیں کے دنیا کہاں کی کہاں چلی گئی اور تم نے آج تک ہمیں فرقہ بندی میں ہی لگا کے رکھا ہوا ہے، یہ جتنے فرقہ بندی والے اس بلاگ پر شیر و شکر نظر آتے ہیں بلاگ سے باہر کی دنیا میں یہ ایک دوسرے کو کافر کہہ کر جان سے مار دینے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے بلکے خود کو جنت کا مستحق سمجھتے ہیں، ان جانورں کی سمجھہ میں اتنی سی بات نہیں آتی کے آخری خطبے کے بعد کسی فرقہ بندی کی گنجائش ہی نہیں رہ جاتی، واضع الفاظوں میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے دیکھو میرے بعد ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے لگ جانا، تفرقوں میں مت بٹ جانا فرقوں میں نہ بٹ جانا۔ اس حکم کے بعد کوئی جانور، حیوان، درندہ، گستاخ رسول ہی ہوگا جو فرقہ بندی کو جائز سمجھے گا، یہ اکسویں صدی ہے دنیا سورج کو شٹ اپ کال دی رہی ہے اور یہ جانور ابھی تک یہ ہی فیصلہ نہیں کر پائے کے درود پڑھنا ہے کے نہیں پڑھنا ہے، سلام پڑھنا ہے کے نہیں پڑھنا ہے، نماز ہاتھہ چھوڑ کے پڑھنی ہے یہ ہاتھہ باندھہ کے پڑھنی ہے، تین طلاقیں ایک ساتھہ دینے سے طلاق ہوتی ہے یا نہیں ہوتی ہے، ساری قوم کے مذہب کے نام پر ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کے رکھا ہوا ہے، یہ کبھی بھی ایک نہیں ہونگے کیوں کے ایک ہونے کی صورت میں انہیں اپنی اپنی دکانیں بند کرنی پڑیں گی، اربوں روپے سالانہ کا معاملا ہے یہ جو یہ لوگ مذہب کے نام پر معصوم لوگوں سے لوٹتے ہیں، کبھی کھالوں کے نام پر کبھی چندے کے نام پر کبھی زکوات کبھی فطرہ کبھی صدقہ، مسجدوں پر قبضے کئے جاتے ہیں ایک دوسرے کی جانیں لی جاتی ہیں فرقہ بندی کے نام پر، مساجد پر قبضے کرتے ہیں دکانیں کرائے پر چلاتے ہیں، لاکھوں روپے کی انکم ہوتی ہے انکی دین کو کاروبار بنا کے رکھا ہوا ہے ان سب نے۔ خود کو عالم کہلواتے ہیں، جدید علوم کے نام تک سے واقف نہیں ہیں اور بنتے عالم ہیں، انکے باپ داداوں نے سرسید احمد خان پر کفر کے فتوے لگائے کے اس بیچارے نے حق کی بات کہی کے مستقبل کی زبان ہے انگریزی پڑھہ لو، آج انکی اولادیں اپنا پیٹ کاٹ کر انگلش اسکولوں میں اپنی اولادوں کے پڑھوا رہی ہیں بے غیرت بے شرم لوگ ان سے اتنا بھی نہ ہوا کے سر سید کی روح سے ہی اجتمای طور پر اپنے اسلاف کی طرف سے معافی مانگ لیں۔ بے غیرت بے حیاء دین فروش کہیں کے۔

      • adnantahireng نے کہا:

        میں نے آپکے اکثر آرٹیکل پڑھے ہیں مجھے ان میں سواۓ مغربی انداز فکر کی تقلید کے سوا کچھ نظر نہیں آیا. وہی اسلام کے خلاف بغض و تعصب کی پرانی باتیں. وہی غربت ختم کرنے کے پرانے نعرے، وہی تنقید براۓ تنقید جسکا کوئی مقصد نہیں.

      • fikrepakistan نے کہا:

        عدنان صاحب، آپکے اور مجھہ سمیت پوری پاکستانی قوم کی زندگی میں مشرقی کیا ہے مجھے وہ ہی بتا دیں؟ سر سے پاوں تک مغرب کی بنائی ہوئی چیزوں سے آراستہ رہتے ہیں، روزی روٹی تک انکے بنائے ہوئے قائدے قانون کے تحت کماتے ہیں، یہ جس کمپیوٹر پر بیٹھہ کر آپ تقریر کررہے ہیں یہ بھی مغربی ہی ہے، مشرقی کوئی ایک چیز بتا دیں جس پر فخر کیا جاسکے؟۔ ہمارے پاس سوائے جاہل علماء اور جاہل پیروکاروں کے ہے ہی کیا؟ جو کوئی طریقے کا انسان نکلتا بھی ہے تو وہ بھی انکے بنائے ہوئے تعلیمی نظام سے ہی مسفید ہو کر کسی قابل بنتا ہے۔ آپ مجھے صرف کسی ایک ایسی ایجاد کا نام بتا دیں جو دور حاضر میں مشرقی ہو۔

  4. پنگ بیک: بنیاد پرست: مُلا ہی ہر برائی اور فتنہ کا ذمہ دار کیوں ؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s