قبرستان سے مریخ تک۔


وہ جنکے زندہ ترتیب میں نہ ہوں انکے مردہ کیسے ترتیب میں ہوسکتے ہیں؟ کسی بھی قوم کا زوال آشنہ ہونے کے بعد زوال کے اسباب تک پہنچ جانا پھر سے سرفرازی کی طرف پہلہ قدم ہوتا ہے، ہمارا المیہ یہ ہے کے صدیوں سے زوال پزیر ہونے کے بعد بھی ابھی تک زوال کے اسباب کا تعین ہی نہیں کر سکے، مذہبی طبقہ سیکولر لوگوں کو اس زوال کا زمہ دار ٹھراتا ہے تو سیکولر طبقہ مذہبی لوگوں کو۔
قصور کسی کا کم اور کسی کا زیادہ ہو سکتا ہے مگر یہ طے ہے کے زمہ دار دونوں ہی طبقے ہیں، دونوں ہی اپنے اپنے فرسودہ نظریات کی انتہاء پر کھڑے ہیں جسکا نا قابل تلافی نقصان ملک و قوم کو ہو رہا ہے اور اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہم درمیان کا وہ راستہ (میانہ روی) اختیار نہیں کریں گے جسکی تلقین اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں کی ہے۔
تحریر کی ابتداء میں ایک جملہ لکھا تھا کہ وہ جنکے زندہ ترتیب میں نہ ہوں انکے مردہ کیسے ترتیب میں ہوسکتے ہیں؟ میرے بہت ہی پیارے دوست اور اس بلاگ پر میری لکھی ہوئی تحریروں کے ناقد اور متعرض عادل بھائی کے فرشتہ صفت والد کا اللہ کی رضا سے انتقال ہوگیا ہے انکی تدفین کے لئیے جب یاسین آباد قبرستان پہنچا قبرستان کا حشر دیکھ کر مرنے سے نفرت سی ہونے لگی، کیا المیہ ہے قبرستان جاو تو مرنے سے نفرت ہوتی ہے شہروں اور شہریوں کا حال دیکھہ کر جینے سے نفرت ہوتی ہے۔
نہ قبریں سیدھی، نہ روشنی کا کوئی انتظام، نہ چلنے کی جگہ، نہ صفائی کا کوئی انتظام جگہ جگہ غلاضت کے ڈھیر،گاڑی اندر لے جانے کا تو خیر سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، قبرستان کے دروازے سے قبر تک پہنچنے کا مرحلہ ہی کم از کم پندرہ منٹ میں طے ہوا جسکی وجہ یہ رہی کے قبروں کے اوپر سے پھلانگتے ہوئے، جنازے کو بچاتے ہوئے کچے پکے راستے سے ہوتے ہوئے، قبروں کی بے حرمتی اور کانٹے دار جھاڑیوں سے اپنے کپڑوں کی حرمت کو بچاتے ہوئے، اور کہیں راستے کے پتھروں سے بچتے بچاتے تنگ و تاریک راستوں سے ہوتے ہوئے ہمیں اور مردے کو قبر تک پہنچنا نصیب ہوا۔

 ایک اور روح پرور منظر جو میں کبھی زندگی میں نہیں دیکھا تھا وہ بھی مجھےاس قبرستان میں دیکھنا نصیبب ہوا، کہتے ہیں گورکن اگر ہرمردے پررونا شروع کردے تو مردے کون دفنائے گا؟ یہاں تک تو بات سمجھہ میں آتی ہے، لیکن بےحسی کی یہ انتہاء دیکھہ کر تو جان ہی نکل گئی کہ وہ گورکن جو مردے کو قبر میں اتارنے میں مددگار تھا اور قبر کی زمہ داری اس پر تھی اسے کچھہ ہی دیر پہلے عارف ایوب نے قبرستان کے باہر پیشاب کرتے دیکھا تھا وہ بھی بغیر استنجہ کے، کیا لوگ ہیں ہم کے ایک ناپاک انسان ایک انتہائی پاکیزہ انسان کی لحد بنا رہا تھا۔

قبرستان کے دروازے سے قبر تک سارا مجمع بشمول جنازے کے جس کرب کی حالت میں قبر تک پہنچے تھے جنازہ اٹھائے اٹھائے لوگوں کے بازو شل ہوگئے تھے ہاتھہ بدلنے تک کی جگہ نہیں تھی.
یہ تو حال ہوگیا ہم مسلمان اور سنی مسلمانوں کے قبرستانوں کا، ذہن کرسچنز کے گورا قبرستان کی طرف گیا اسکی ترتیب اور خوبصورتی ذہن میں آئی تو خیال آیا اکثریت کی رائے یہ ہے کے لعنت بھیجو وہ کونسے مسلمان ہیں کہیں بھی دفن کردو جانا تو انہیں جہنم میں ہی ہے۔ ( زاتی طور پر میں اس خیال کا ہامی نہیں ہوں اس پر کسی کو اعتراض ہو تو بات کی جاسکتی ہے )۔
پھر ایک دوست نے ہمارے مسلمان بھائی شیعہ حضرات کے قبرستان وادئ حسین کی طرف توجہ دلائی جیسی تعریف میرے دوست عارف ایوب (ایوب اگر ع سے بھی لکھا جائے تو اتنا غلط نہ ہوگا ) نے کی تو مجھے یقین کی حد تک مبالغہ آرئی لگی، گھر آکر نیٹ کی مدد سے جب یو ٹیوب پر دیکھا تو اپنے یقین پر بہت افسوس ہوا، اس بات کی بے انتہا خوشی ہوئی کہ اس بے ہنگم معاشرے میں کوئی تو ہے جو نظام اور ترتیب کے معنیٰ ٹھیک طریقے سے جانتا ہے۔
تحریر کے آخر میں لنک دیا گیا ہے تمام سنی حضرات سے التماس ہے کے اس لنک کو ضرور دیکھیں اور اپنے اپنے مسلک اور فرقے کے رہنماوں کی توجہ اسطرف دلائیں کے جیسے مسجد اور مدرسوں پر قابض ہوئے ہیں (قابض اسلئیے کہا ہے کے مسجد کا نظم سنبھالنا ریاست کی زمہ داری ہے اور جمعہ پڑھانا بھی حکمرانوں کی زمہ داری ہے، حکمرانوں نے اس زمہ داری کو سمجھا نہیں اسلئیے انہیں اسپیس مل گیا لیکن یہ طے ہے کے زمہ داری یہ حکمرانوں کی ہی رہیگی ) ایسے ہی قبرستانوں پر بھی قابض ہو کر اسکا نظم و ظبط سنبھال لیں زندوں میں تو بہتری لا نہیں سکے ہوسکتا ہے مردوں کی حالت زار میں ہی کچھہ بہتری آجائے۔

 واپسی پر مجھے خیال آیا کے ہمارے حریف زندہ مریخ پر اتر گئے ہیں، اور ہم اپنے مردے تک آسانی سے لحد میں نہیں اتار پا رہے.

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to قبرستان سے مریخ تک۔

  1. ہمیں اتنی توفیق کہاں؟
    اقبال نے صحیح کہا تھا:
    دیکھ مسجد میں شکستِ رشتۂ تسبیحِ شیخ
    بت کدے میں برہمن کی پختہ زناری بھی دیکھ
    سازِ عشرت کی صدا مغرب کے ایوانوں میں سن
    اور ایراں میں ذرا ماتم کی تیاری بھی دیکھ

    جب مسجد سے مشائخ کا نام و نشان مٹ گیا اور جہاں کہیں رہ گیا وہ صرف نام کا ہی رہ گیا تو یہ ہی حال ہو گا۔ علم اٹھتا جا رہا ہے اور بہتری کے تمام امور علمائے حق کے زیرِ سایہ انجام پایا کرتے ہیں۔ آج ہم علماء اور علم سے اتنا دور ہو چکے ہیں کہ ہمیں عالم کے نام سے نفرت ہے۔ ہمیں تو بس یا ڈاکٹر بننا ہے یا انجینئر اور بس لوگوں کی جیبیں کاٹنی ہیں۔ ہر ایک چیز کا واحد حل تعلیم ہے مگر افسوس کے علاوہ کچھ پاس نہیں۔

  2. علی نے کہا:

    ساری بات تو آپ نے پہلے جملے میں کہہ دی باقی کچھ کہنے کی ضرورت نہ تھی۔
    وہ جنکے زندہ ترتیب میں نہ ہوں انکے مردہ کیسے ترتیب میں ہوسکتے ہیں؟

  3. اچھا لکھتے ہیں

    لکھتے رہا

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s