تقدیر اور حالات


تقدیر اور حالات دو بلکل الگ الگ چیزیں ہیں جب کہ لوگوں کی اکثریت حالات کو تقدیر سمجھہ کر قبول کرلیتی ہے اور اسے بدلنے کی سعی بھی نہیں کرتی، تقدیر کے سامنے بے شک انسان ایک حد تک مجبور ہوتا ہے لیکن حالات کی ابتری بدلی جاسکتی ہے، بدلی تو کسی حد تک تقدیر بھی جاسکتی ہے لیکن جہاں لوگوں کی اکثریت حالات کو بدلنے کے لئیے تیار نہ ہو وہاں تقدیر بدلنے کا کون سوچے گا؟۔

حضرت علی رضی اللہ عنہہ سے منسوب مشہور واقعہ ہے ایک شخص آپکی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا تقدیر اور اختیار کی تعریف کیا ہے؟ آپ نے فرمایا اپنی ایک ٹانگ اوپر اٹھاو اس شخص نے حکم کی تعمیل کی، آپ نے فرمایا اب اپنی دوسری ٹانگ بھی اوپر اٹھاو اس شخص نے کہا حضرت یہ کیسے ممکن ہے اسطرح تو میں گر جاونگا، آپ نے فرمایا یہ ہی تعریف ہے تقدیر اور اختیار کی۔ یعنیٰ ایک ٹانگ اٹھانا انسان کے اختیار میں ہوا اسکے بعد سے معاملہ تقدیر کے دائرے میں چلا جاتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کتنے لوگ ہیں جو ایک ٹانگ بھی اٹھانے کی زحمت کرتے ہیں؟ عام لوگ تو الگ پاکستان میں تو حکومت اور اسکے ارباب اختیار تک ایک ٹآنگ اٹھانے کی زحمت نہیں کرتے، پاکستان میں ایک ٹانگ اٹھانے کا کام صرف کتا ہی کرتا ہے، اور شاید لوگ یہ ہی سوچ کر ایک ٹانگ اٹھانے کی بھی زحمت نہیں کرتے کہ کتوں کی تقلید کون کرے، جبکہ حقیقت یہ ہی ہے کے پوری قوم ہی کتوں کی تقلید میں لگی ہوئی ہے۔ کسی دانہ نے کہا تھا کے پڑھا لکھا قابل انسان صورت حال کے حساب سے اپنا دماغ تبدیل کرتا ہے اور جینئیس انسان اپنے دماغ سے صورت حال ہی تبدیل کردیتا ہے۔

پاکستان میں کوئی واقع ہوجائے کوئی حادثہ ہوجائے کتنے ہی لوگ بدانتظامی کی بھینٹ چڑھہ جائیں لوگوں کی اکثریت اسے اللہ کا عذاب اور تقدیر کے لکھے سے تشبیہ دے دیتی ہے، اللہ اپنے بندوں سے ستر ماوں کے برابر محبت کرتے ہیں تین سو لوگ جل کر خاک ہوگئے اور وہ خاک بھی فائر بریگیڈ کے پانی میں بہہ گئی، کیا پورے پاکستان میں وہ تیس سو لوگ ہی اتنے بدکردار تھے کے انکے ساتھہ ہی اتنا بھیانک سلوک کیا اللہ نے باقی سب حلال کے پیسے سے حچ کئے ہوئے حاجی ہیں؟۔

یہ آگ لگنے کے واقعات، آئے دن کے بھیانک روڈ ایکسیڈنٹ، بہو کا جل کے مر جانا، (میری سمجھہ میں آج تک نہیں آیا یہ چولہہ پھٹنے سے صرف بہو ہی کیوں جل کہ مرتی ہے ساس یا نند کیوں نہیں؟۔) یہ سیلاب اور طوفان آنے سے زلزلے آنے سے لاکھوں لوگ ہلاک و بے گھر ہوجاتے ہیں، اور ہمارے پاکستان میں تو عمارتوں اور پلوں کو گرنے کے لئیے زلزلے کی بھی ضرورت نہیں پڑتی، بارش کی چار بوندیں پڑ جائیں تو انگنت لوگ کرنٹ لگنے سے مر جاتے ہیں، آج ہی کی خبر ہے کے ذہریلہ کھانا کھانے سے سو پولیس کے زیر تربیت اہلکار ہسپتال پہنچ گئے صبح پتہ چلے گا کے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے ہیں، آئے دن بسیں اور ویگنیں گہری کھائی میں گر جانے سے سینکڑوں لوگوں کی ہلاکت معمول کی بات ہے، ہمارے ہاں ایسے اور دس قسم کی نوئیت کے واقعات ہوتے ہیں جو آج کی دنیا میں کسی دوسرے ملک میں اس تواتر کے ساتھہ ہوتے دکھائی نہیں دیتے تو کوئی تو وجہ رہی ہوگی اسکی۔

فرق صرف اتنا ہی کے باقی دنیا کے لوگ اپنے حصے کی ایک ٹانگ بر وقت اٹھا لیتے ہیں، وہ ہر چیز کو تقدیر پر ڈال کر سوئے نہیں رہتے وہ تقدیر اور حالات کے درمیان فرق کو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں وہ جانتے ہیں کے برے حالات کو بدلنے کے لئیے کونسے اقدامات ضروری ہیں، یہ ہی وجہ ہے کہ آسمانی آفات ان پر بھی آتی ہیں لیکن انکے ہاں اتنے لوگ آسمانی آفات سے بھی نہیں مرتے یعنیٰ تقدیر کے لکھے سے بھی انکے ہاں اتنے لوگ نہیں مرتے جتنے لوگ ہمارے ہاں حالات کی خرابی یعنیٰ بدانتظامی، اور بدانتظامی بھی نہیں کیوں کے انتظام تو ہوتا ہی کوئی نہیں کیوں کے کسی ایک ادارے نے بھی اگر اپنی آدھی زمہ داری بھی نبھائی ہوتی اس فیکڑی میں، تو کم از کم تین سو افراد لقمہ اجل نہ بنتے۔

کاش کے ہمارے مذہبی رہنماء ہر واقع کو اللہ کا عذاب یا تقدیر کا لکھا گردانے کے بعد استخفار اور درود شریف کے ورد کی تلقین کرنے کے ساتھہ ساتھہ اسباب پر، اختیار پر، انتظام پر، بھی توجہ دینے کی تلقین کرتے، اور نہ صرف تلقین کرتے جیسے کسی حکومتی اقدام سے انکے کسی مفاد پر ضرب پڑتی ہے اور وہ سڑکوں پر آجاتے ہیں کاش کہ ان مذہبی رہنماء نے ایسے ہی کسی واقع کے بعد انتظام کی بہتری کے لئیے کوئی احتجاج کیا ہوتا۔

یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تو ہر روز ہونا چائیے کسی ایک دن ہی کیوں؟ یہ تو شکر ہے کہ یہ یوم عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھا تو ان جاہلوں نے اپنے ہی ملک میں اتنی بربادی پھیلائی ہے سوچئیے اگر اس دن کا نام یوم نفرت ٹیری جانز ہوتا تو کتنی تباہی پھیلانی تھی ان جاہلوں نے؟۔

پاکستان میں ضرورت ہے یوم مہنگائی کی، یوم غفلت کی، یوم غلاضت، یوم جہالت کی، یوم ملاوٹ کی، یوم کاروکاری کی، یوم بدکاری کی، یوم رشوت کی، یوم ٹریفک حادثات کی، یوم لالچ کی، یوم کم تولنے کی، یوم غربت کی، یوم چوری، یوم ڈاکا زنی، یوم اندھی تقلید کی، کبھی توفیق ہوئی کسی مذہبی یا سیاسی جماعت کو ان ننگے حقائق پر ریلی نکالنے یا احتجاج کرنے کی؟ اور انکے اندھے گونگے بہرے پیروکارں کو بھی کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ یہ اپنے اپنے آقاوں سے یہ سوال ہی کرلیں کے تم ہمیں ہر دوسرے روز کسی نہ کسی غیر اہم مسلے پر تو سڑکوں پر لے آتے ہو لیکن یہ جو واضع مسائل ہیں جنکی وجہ سے اٹھارہ کروڑ لوگ جیتے جی جہنم جھیلنے پر مجبور ہیں ان مسائل کے لئیے کب سڑکوں پر آئیں گے ہم؟۔

اس قوم کی حالت بدلنے کے لئیے اور کتنی فیکڑیوں میں آگ لگے گی اور کتنے لوگ ان فیکڑیوں میں جل کر مریں گے؟ تبدیلی کے لئیے اور کتنے سیلاب اور کتنے زلزلوں کے منتظر ہیں ہم؟ اور کتنی تباہی درکار ہے ہمیں تقدیر اور حالات کا فرق سمجھانے کے لئیے؟۔

کسی دانہ نے کہا تھا کے پڑھا لکھا قابل انسان صورت حال کے حساب سے اپنا دماغ تبدیل کرتا ہے اور جینئیس انسان اپنے دماغ سے صورت حال ہی تبدیل کردیتا ہے۔

 

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to تقدیر اور حالات

  1. Dr Jawwad Khan نے کہا:

    ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔۔۔۔۔
    آپ کی تحاریر پڑھ کر اب لطف آنے لگا ہے۔ آپ کی یہ مہارت ہے کہ معاملہ کوئی بھی ہو۔ کسی بھی قسم کا حادثہ ہو۔ آپ دینی جماعتوں پر کرم فرمائی ضرور فرماتے ہیں۔ سخت قسم کے شکوک و شبہات لاحق ہوگئے ہیں آپ کے اس رویہ پر۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      ارے حضرت داغ دیجئیے کوئی فتویٰ تالی اور گالی کی پروا میں نہیں کرتا۔

      • Dr Jawwad Khan نے کہا:

        قربان جائیں آپکے تحمل اور برداشت کے۔۔۔۔۔
        مگر مجھے تو لگتا تھا کہ آپ فتویٰ پروف ہیں۔۔۔۔
        چلیں آپ کہتے ہیں تو اپنی رائے دے دیتا ہوں۔
        آپ ایک ٹانگ اٹھاؤ قدم کے رائٹر ہیں۔۔۔۔۔ : )

      • fikrepakistan نے کہا:

        اللہ کا شکر ہے میں جھوٹے خوابوں کا سوداگر نہیں ہوں اور نہ ہی دین فروش ہوں۔ یہ کام آپ جیسے لوگ بہت خوش اسلوبی سے نبھا رہے ہیں، نبھاتے رہئیے۔

  2. بنیاد پرست نے کہا:

    زلزلوں، سیلابوں، ھنگاموں اورفیکٹریوں میں آگ لگنے سے ھونے والی اموات کی ذمہ داری مذہبی جماعتوں پر ڈالنے کی ناکام کوشش. ‎:-)‎‏ ‎:-P‎
    فکر تم خود ایک ٹانگ پر کھڑے ھو جاو، قوم کی جان چھوڑو.

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ نے تحریر کو بغیر تعصب کے پڑھہ ہوتا تو بات آپکی سمجھہ میں آتی نہ، پوری تحریر میں کہیں بھی میں نے قدرتی آفات کا زمہ دار مذہبی طبقے کو نہیں ٹھرایا، میں عرض کیا ہے کہ ایسے واقعات کو محض عذاب بتا کر توبہ طلہ میں لگا دیتے ہیں پوری قوم کو اور بد انتظامی اور اسباب کی فراہمی کی طرف نشاندہی نہیں کرتے۔ زرا آپ ہی مجھے بتا دیجئیے کہ کس مذہبی یا سیاسی جماعت یا گروہ نے آج تک غربت جہالت غلاضت اور بد انتظامی کے خلاف ریلی نکالی ہے یا احتجاج کیا ہے؟۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s