فرنود


میں تاریخ کو با اقتدار انسان دشمنوں کا سیاہ اعمال نامہ قرار دیتا ہوں۔

اب اگر دانش ہے تو مغرب کی ہے، اقدار ہیں تو مغرب کی ہیں، فنون ہیں تو مغرب کے ہیں، تہذیب ہے تو مغرب کی ہے، معیار ہیں تو مغرب کے ہیں اور فیصلہ ہے تو مغرب کا ہے، کیا ہم اس حقیقت سے انکار کرسکتے ہیں؟ کیا مشرق کا کوئی بڑے سے بڑا وکیل اور کوئی شدید جذباتی مشرق پرست اس حقیقت سے انکار کرسکتا ہے؟ افسوس صد افسوس کے نہیں۔

اچھائی اور برائی میں ایک عجیب معاملت ہوئی ہے اور وہ یہ کہ انہوں نے اپنے ناموں کا آپس میں تبادلہ کرلیا ہے۔ اب ہر چیز اپنی ضد نطر آتی ہے۔ علم، جہل پر ریجھہ گیا تھا اور جہل، علم کے خطاب پر بری طرح لوٹ پوٹ تھا۔ سو دونوں ہی نے ایثار سے کام لیا۔

فوج کے بارے میں شروع ہی سے میں نے وہ رائے رکھی ہے جو تاریخ کے سب سے شریف اور دانشمند لوگوں کی رائے رہی ہے یعنیٰ سب سے اچھا زمانہ وہ ہوگا جب فوج کا لفظ صرف لغط میں رہ جائے گا اور اسکا وجود وقت کے سیل میں بہہ جائے گا۔

تم شائد صرف میرا نام جانتے ہو، مجھے نہیں جانتے، میں نہ بھارت کا آدمی ہوں نا پاکستان کا۔ ایک زمانہ تھا جب میں ہندوستان کا آدمی تھا یعنیٰ برصغیر کا آدمی۔ اسکے بعد میں نے از خود ساری دنیا کی قومیت اختیار کی اور پھر میں کہیں کا نہیں رہا۔

علم اس دنیا میں نووارد ہے، رہی جہالت تو اسکو بلا شبہ طوالت سن اور قدامت کا قابل رشک امتیاز حاصل ہے۔ وہ اپنی قدیم جاگیر میں کسی دوسرے کا تصرف آسانی سے گوارا نہیں کرسکتی۔

ہمیں تو اب خود اپنے ہونے پر یقین نہیں آتا، کیا ہم واقعی ہیں؟ آپ ہونگے مگر میں تو شائد نہیں ہوں۔ جو اپنی سچی حالتوں کے ساتھہ نہیں پایا جاتا، وہ نہیں ہے، سو میں نہیں ہوں۔

سارے رشتے لفظ سے ہیں، لفظ کے ہیں اور لفظ میں ہیں، جو خیال بھی ہے تصور بھی اور معنیٰ بھی ہم اور تم اور وہ سب جو ہماری باتیں سن رہے ہیں لفظ میں سوچتے ہیں لفظ کی لذت میں جیتے ہیں اور لفظ کی اذیت میں مرتے ہیں۔ ہم لفظوں ہی میں ملتے اور لفظوں ہی میں بچھڑتے ہیں لفظ ہی اپناتے ہیں اور لفظ ہی گنواتے ہیں۔

ہمارے ہاں بیسویں صدی آئی ہی نہیں بلکے وقت ہمارے بال کھینچ کر، جھنجھوڑ کر ہمیں بیسویں صدی میں خوامخواہ لے جارہا تھا ورنہ ہم تو گیارہویں بارہویں صدی عیسویں کے لوگ تھے۔

دھات کے بدن اور گوشت پوست اور ہڈیوں کے قامت دوڑ رہے ہیں۔ چاہے ان میں سے کچھہ دوڑتے دکھائی نہ دیتے ہوں پر وہ سب دوڑ ہی تو رہے ہیں چاہے اپنے باہر دوڑ رہے ہوں یا اپنے اندر۔

تعمیر و ترقی کی باتیں اسی قوم کو زیب دیتی ہیں جو معاشی استحکام اور تعلیمی ترقی کے ایک خاص نقطے پر پہنچ چکی ہو۔ اس سے پہلے تعمیر و ترقی کے امکانات پر غور کرنا دماغی عیاشی اور ذہنی بدکاری کے علاوہ اور کچھہ نہیں۔

اگر اس دنیا میں کسی جنت کا وجود میں آنا ممکن نہیں ہے تو یہ کوئی منہ بسورنے کی بات نہیں، اگر اس دنیا میں شہد اور شیر کی نہریں نہیں بہہ سکتیں تو شفاف اور شیریں پانی کی نہریں تو بہہ سکتی ہیں۔ کیا جوہڑوں کا پانی پینے والوں کے لئیے شفاف اور شیریں پانی کی نہریں شہد اور شیر کی نہروں سے کچھہ کم ہیں؟۔

پچھتاوا بہکاوے کی دین ہے۔

علم کے سامنے ذلیل ہونا جہالت کا مقدر ہے

جو لوگ اپنے اور اپنی نوع کے دوسرے لوگوں کے لئیے خواب نہیں دیکھتے وہ نیم انسان ہوتے ہیں۔ خواب دیکھنا اپنے آپ میں اپنے آپ سے آگے ہوتا ہے۔ جو شخص یا معاشرہ خواب دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ اپنے آپ میں اپنے سے پیچھے ہوتا ہے یا کم از کم وہیں ہوتا ہے جہاں ہوتا ہے اور وہیں کا ہو رہتا ہے اور اللہ کو پیارا ہوجاتا ہے۔

اگر دیواریں زی روح ہوتیں تو وہ اپنے سینوں پر لکھے ہوئے ذہریلے نعروں کے اثر سے ہلاک ہوجاتیں۔

جس نے کہا میں کبھی اپنے بہکاوے میں نہیں آیا، اس نے اپنے آپ کو بڑا ہی برا بہکایا اور جس نے اپنے نزدیک اپنے بارے میں کوئی دھوکہ نہیں کھایا، اس نے بہت بھیانک دھوکہ کھایا۔

عقل کا غلط فیصلہ بھی جذبات کے صحیح فیصلے سے بہتر ہوتا ہے۔

ہمیں اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کے سوا اور کچھہ نہیں کر رہے؟۔

پاکستان کو مملکت خداداد کہا جاتا ہے، اگر سیاسی، لسانی، اور مذہبی جماعتوں کی دہشتگردی اور فتوے باز مولویوں کی بدمعاشی کے باوجود یہ مملکت قائم ہے تو یہ واقعی مملک خداداد ہے۔

ہم نے حکمت کو ہوس ناکی بنتے دیکھا اور دلیل کو دلالی، قیادت نے قزاقی کا پیشہ اختیار کیا اور قانون نے نقب زنی شعار کی۔

تمہارے خوش حافظہ معلموں اور تیز کلام مقرروں نے تم سے اسقدر جھوٹ بولا ہے کہ اگر تم جان لو تو یقیناَ تمہیں نطق و کلام سے نفرت ہوجائے، کبھی وہ باتیں بھی سننا چاہو جو گراں گزریں کیا معلوم کے راستی اس ہی لہجے کا رس ہو جو تمہں کڑوا لگتا ہے۔

تاریخ کے حساس انسانوں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ اداس رہ کر گزارا ہے۔ زندگی میں خوش رہنے کے لئیے بہت زیادہ ہمت بلکے بہت زیادہ بے حسی چاہئیے۔

Advertisements
This entry was posted in کاپی پیسٹ. Bookmark the permalink.

2 Responses to فرنود

  1. أبو فارس نے کہا:

    اس وقت سر میں شدید درد ہے اور میں یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ آپ کو کس کس پیراگراف پر خراجِ تحسین پیش کروں!؟

  2. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    حضور۔ یہ مضمون آپ نے کہاں سے نقل کیا ہے اور اسے نقل کرنے کا مقصد کیا ہے ؟
    کسی نے پاکستانی قوم کی حیثیت میں کہا تھا

    مجھے زمانے کی نظروں سے دیکھنے والو
    کبھی تو اپنی آنکھوں کے بند در کھولو

    محترم ۔ بلاشبہ ہمیں جو کچھ ہونا چاہیئے وہ نہیں ہیں مگر ماضی میں بھی اس قوم کے افراد نے سائنس کا اعلٰی معیار ثابت کیا ہے اور اب بھی ایسے لوگ بلکہ جوان موجود ہیں جو وسائل نہ ہوتے ہوئے بھی عجوبے دکھاتے ہیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s