مودودی صاحب کی جماعت اسلامی سے منور حسین کی جماعت اسلامی تک۔


یہ اقتباسات کسی دل جلے دیوبندی، بریلوی یا اہلحدیث صاحب نے مودودی صاحب کی مختلف کتابوں سے بمہ حوالاجات جمع کرنے کے بعد اپنی بہودہ زبان میں تشریح کی ہے، یہ تحریر من و عن اسلئیے پیسٹ کی جارہی ہے کے فرقہ بندی اور مسلک پرستی والوں کے دل میں مودودی صاحب کے لئیے کیا مقام ہے وہ لوگوں کے سامنے آ سکے اور ان اقتباسات سے یہ معلوم ہو سکے کے خود مودودی صاحب ان مسلک پرستی اور فرقہ بندی والوں کے لئیے کیا رائے رکھتے تھے، آج کی جماعت اسلامی اگر حوس اقتدار میں ان ہی مسلک پرستی اور فرقہ بندی والوں کی گود میں بیٹھہ کر انکے ہاتھہ مضبوط کر رہی ہے تو کیا یہ اپنے قائد کے نظریات سے غداری نہیں ہے؟ تو اگر آج لوگ اور خود مودودی صاحب کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ یہ مودودی صاحب کی بنائی ہوئی جماعت اسلامی نہیں ہے تو کیا غلط کہتے ہیں لوگ؟ اور میں اس وقت بہت ہی محظوظ ہوتا ہوں جب یہ فرقہ بندی والے اور جماتیئے اس بلاگ پر شیر و شکر ہو کر ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں سمجھہ نہیں آتی کے انکے اکابرین کی فکر پر ہنسو یا رووں.

مودودی عقائد ::

عقیدہ :نبی ہونے سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایک بڑا گناہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کردیا ۔(بحوالہ :رسائل و مسائل ص 31)

عقیدہ :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مودودی لکھتا ہے کہ صحرائے عرب کایہ ان پڑھ بادیہ نشین دور جدید کا بانی اور تمام دنیا کا لیڈر ہے ۔(بحوالہ :تفہیفات ص 210)

عقیدہ : ہر فرد کی نماز انفرادی حیثیت ہی سے خدا کے حضور پیش ہوتی ہے اور اگر وہ مقبول ہو نے کے قابل ہوتو بہر حال مقبول ہوکر رہتی ہے ۔خواہ امام کی نماز مقبول ہو یا نہ ہو۔

(بحوالہ :رسائل و مسائل ص282)

عقیدہ :خدا کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے ۔جس کی بناءپر اہل حدیث حنفی ،دیوبندی ،بریلوی ،سنی وغیرہ الگ الگ اُمتیں بن سکیں یہ اُمتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔(بحوالہ : خطبات ص 82)

عقیدہ :اور تو اور بسا اوقات پیغمبروں تک کو اس نفس شریر کی رہز نی کے خطرے پیش آئے ۔

(بحوالہ :تفہیمات ص 163)

عقیدہ :ابو نعیم اور احمد ہنسائی اورحاکم نے نقل کیا ہے کہ ید چالیس مرد جن کی قوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت کی گئی تھی ۔دنیاکے نہیں بلکہ جنّت کے مرد ہیں اور جنت کے ہر مرد کو دنیا کے سو مردوں کے برابر قوت حاصل ہوگی ۔یہ سب باتیں خوش عقیدگی پر مبنی ہیں اللہ کے نبی کی قوتِ باہ کا حساب لگانا مذاقِ سلیم پر بار ہے الخ ۔(بحوالہ :تفہیمات ص 234)

عقیدہ :قرآن مجید نجات کے لئے نہیں بلکہ ہدایت کے لئے کافی ہے ۔(بحوالہ:تفہیمات ص 321)

عقیدہ :میں نہ مسلک اہل حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کیساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت کا یا شافعیت کا پابند ہوں۔(رسائل و مسائل ص 235)

عقیدہ :23سالہ زمانہ اعلانِ نبوت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے فرائض میں خامیاں اور کوتائیاں سرز د ہوئیں ۔(قرآن کی چار بنیا دی اصطلا حیں )

عقیدہ :جولوگ حاجتیں طلب کرنے کے لئے خواجہ اجمیر یا مسعود سالار کی قبرپر یا ایسے دوسرے مقامات پر جاتے ہیں زنا اور قتل کا گناہ کم ہے ۔یہ گناہ اس سے بھی بڑا ہے ۔(تجدید و احیاءدین ص 62)

عقیدہ :اصولِ فقہ ،احکام فقہ ، اسلامی معاشیات ،اسلام کے اصول عمران اور حکمت قرآنیہ پر جدید کتابیں لکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ قدیم کتابیں اب درس و تدریس کےلئے کار آمد نہیں ہیں ۔

(بحوالہ :تفہیمات ص 213)

مودودی کی چند گستاخیاں اور بیباکیاں ::

خدا کی چال :ان سے کہو اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے ۔(تفہیم القرآن پارہ نمبر 11رکوع 8)

نبی اور شیطان:شیطان کی شرارتوں کا ایسا کامل سدّباب کہ اسے کس طرح گھس آنے کا موقع نہ ملے ۔ انبیاءعلیہم السلام بھی نہ کرسکے ۔تو ہم کیا چیزہیں کہ اس میں پوری طرح کامیاب ہونے کا دعوٰی کرسکیں ۔(ترجمان القرآن جون 1946 ءص 57)

ہر شخص خدا کا عہد ہے :مومن بھی اور کافر بھی ۔حتّٰی کہ جسطرح ایک نبی اس طرح شیطانِ رجیم بھی ۔

(ترجمان القرآن جلد 25عدد 1،2،3،4ص 65)

نبی اور معیار مومن :انبیاءبھی انسان ہوتے ہیں اورکوئی انسان بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت اس بلند ترین معیار کمال پررہے ۔ جو مومن کےلئے مقرّر کیا گیا ہے ۔بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ واشر ف انسان بھی تھوڑی دیر کے لئے اپنی بشر ی کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے ۔(ترجمان القرآن )

ایلچی :محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ایلچی ہیں۔جن کے ذریعہ سے خدانے اپنا قانون بھیجا ۔(بحوالہ :کلمہ طیّبہ کا معنی صفحہ نمبر 9)

منکرات پر خاموش :مکّہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے منکرات (برائیوں )کا ارتکاب ہوتا تھا۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اسلئے خاموش رہتے تھے ۔

(ترجمان القرآن 65 ءص 10)

محمد ی مسلک ہم اپنے مسلک اور نظام کو کسی خاص شخص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں مودودی تو در کنار ہم اس مسلک کومحمد ی کہنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔(رسائل و مسائل جلد 2ص437)

محترم حضرات !آپ نے مودودی کے عقائد پڑھے یہی عقائد ان کی جماعت اسلامی کے بھی ہیں مودودی کے بارے میں دیوبندی مولوی محمد یوسف لُد ھیا نوی اپنی کتاب ”اختلاف اُمّت اور صراطِ مستقیم“ میں لکھتا ہے کہ مودودی وہ آدمی ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حجّۃالا سلام امام غزالی علیہ الرحمہ تک تمام عظیم ہستیوں کے ذات میں نکتہ چینی کی ہے ۔

مودودی کی کتاب تفہیمات غلاظتوں سے بھری پڑی ہے ۔جس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے عقائد کیا تھے ۔

 

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ, کاپی پیسٹ. Bookmark the permalink.

3 Responses to مودودی صاحب کی جماعت اسلامی سے منور حسین کی جماعت اسلامی تک۔

  1. Asad Qureshi نے کہا:

    Brother , thank you for your update but remember that you have to go into your grave one day so don’t do backbiting and mischief , correct yourself first according to the Quraan and Sunnah and then spread the word of Allah .

  2. Sajid Khan Naqshbandi نے کہا:

    صحافتی بھتے پر پلنے والا امت اخباراپنی زبان کو لگام دے
    مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہ اللہ
    ہمارے ملک میں صحافت ایک منافع بخش کاروبار بن گیا ،ولوگوں کی عزتیں اچھالنا ،بلیک میلنگ ،جھوٹ ،بے بنیاد الزام تراشی ،بنا ثبوت رپورٹنگ ،غلط افواہیں اس کا روز کا معمول ہے ۔اس کالی صحافت کی دنیا میں صف اول میں آپ کو ’’امت ‘‘ اخبار نظر آئے گا ۔جو مخالفین کے ہاتھوں اپنا اخبار بکوانے کیلئے آئے دن کبھی مولانا فضل الرحمن صاحب مدظلہ العالی اور کبھی مفتی نعیم صاحب مدظلہ العالی کے خلا ف جھوٹی خبریں شائع کرتا رہتاہے اور ثبوت ایک بھی نہیں دیتا۔جس کی خبر اور کالم قصہ کہانیوں کا واحد ذریعہ ’’امت کے خاص ذرائع ‘‘ نامی ’’نامعلوم افراد‘‘ہوتے ہیں۔تازہ شمارے میں اپنی کالی صحافت کی روایت برقرار رکھتے ہوئے جنید جمشید اور اس کی آڑ میں ولی کامل مولانا طارق جمیل صاحب مدظلہ العالی پر تبرا کرکے اپنی سیاہ بختی کا ثبوت دیا ہے اور گڑھے مردے اکھاڑنے کی ناکام کوشش کی ہے۔امت کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ ام المومنین عائشہ صدیقہؓ کی توہین کے جھوٹے الزام کا ایسا منہ توڑ جواب یہ راقم دے چکا ہے کہ الزام لگانے والے اب تک منہ چھپائے پھر رہے ہیں اور اپنے گھر کا گندچاٹ رہے ہیں ۔امت اخبار کو مقدس شخصیات کی ناموس کا اتنا ہی خیال ہے کہ تو اپنے قائد سید ابو الاعلی مودودی کی گستاخیاں بھی چھاپے جو حضرت موسی علیہ السلام کو گناہ گار نبی اکرم ﷺ کوعرب کا ان پڑھ ،حضرت عثمان غنی و امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہما کو بدعتی کہتا تھامعاذ اللہ ۔ جس کے کفریہ عقائد پر ملک کے جید علماء کفر کے فتاوی دے چکے ہیں ۔امت اخبار میں اگر جرات ہے تو جنید جمشید اور مودودی کے حوالے سے جس فورم پر چاہے مجھ سے مناظرہ کرلے ۔اگر یہ نہیں ہوسکتا تو کیا امت انتظامیہ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ وہ اس حوالے سے میرے مضمون کو اپنے صفحات کی زینت بنانے کی یقین دہانی کرائے؟رمضان ٹرانسمیشن کی آڑ میں علمائے پر تبرا کرنے والا امت کیا بھول گیا کہ پچھلے سال گستاخ صحابہ عامر لیا قت حسین بریلوی نے جیو میں لائیو یہ کہا تھا کہ امت کے صحافی اور کالم نگار مجھے سے اپنی فیملی کے ساتھ پروگرام میں شرکت کیلئے ٹکٹ کی بھیک مانگتے رہے اور ٹکٹ نہ ملنے پر میرے خلا ف کالم لکھ دیا۔کراچی میں کس کو یہ معلوم نہیں کہ امت اپنے رنگین صفحہ پر کسی بھی ادارے یا شخصیت کی حمایت میں کالم چھاپنے پر پانچ ہزار سے پچیس ہزار تک کی رشوت وصول کرتا ہے اور نہ دینے پر دھمکیاں دیتاہے ۔میں آپ کو دعوت دیتا ہوں کہ پانچ ہزار روپے دے کر آپ امت اخبار میں کسی بھی جھوٹ کو چھاپ یا خبر کی اشاعت کو رکواسکتے ہیں ۔امت اخبار کا ایمان کراچی کی ٹریفک پولیس سے بھی سستا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s