آپ بھی بہت کچھہ کرسکتے ہیں۔


نیکی جنت کے حصول کے لئیے کی جائے تو حقیر ہے، نیکی اللہ کی رضا کے لئیے کی جائے تو عظیم ہے۔
ہمارا معاشرہ کیونکہ ثواب اورینٹڈ ہے یا بنا دیا گیا ہے کیونکہ ہم ہر چیز میں گناہ ثواب کی آمیزش کو عین ایمانی فریضہ سمجھتے ہیں، تو چلو اللہ کی رضا کے لئیے نہ صحیح جنت کے حصول کے لئیے ہی کچھہ ایسا کرلیا جائے جس میں نہ بہت زیادہ پیسہ خرچ ہو نہ بہت زیادہ اختیارات درکار ہوں اور نہ ہی بہت زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ہو۔ جو خواتین گھروں سے باہر نکل کر ایسی کوئی خدمت انجام دینے سے قاصر ہوں وہ گھروں میں رہتے ہوئے بھی کافی کچھہ کرسکتی ہے، اور جنکو اپنے گھر سے باہر جا کر کوئی خدمت انجام دینے کی اجازت ہو وہ تو خیر کافی کچھہ کرسکتی ہے، یہ ہی اصول لڑکوں کے لئیے بھی ہے، تو آئیے جائزہ لیتے ہیں کہ ایسے کون کون سے کام ہیں جو ہم بہت آسانی سے انسانیت کی خدمت کے لئیے سر انجام دے سکتے ہیں۔

پاکستان کی آبادی اٹھارہ کروڑ ہے اور آپکو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ ان اٹھارہ کروڑ میں سے محض ساڑھے تین کروڑ لوگ ہیں جو پاکستان کی معیشت میں کام کر کے اپنا حصہ ڈالتے ہیں، یعنی ساڑھے تین کروڑ لوگ اٹھارہ کروڑ لوگوں کی کفالت کر رہے ہیں، جسکی وجہ سے لاکھوں کی تعداد میں ایسے بچے ہیں جو معاشی تنگدستی کی وجہ سے تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ہمارے لاکھوں آئن اسٹائن سڑکوں پر کچرا چنتے ہوے ضائع ہوجاتے ہیں ہر گھرانہ اگر یہ طے کرلے کے ایسے ہی کسی ایک بچے کی تعلیم کا زمہ ہمارے سر ہے تو پاکستان سے جہالت تو شاید مکمل طور پہ پھر بھی ختم نہ ہو لیکن اتنا ضرور ہوگا کے وہ بچہ بھی معاشرے میں بہ عزت طور پر زندگی گزارنے لائق ہوجائے گا، اپنے علاقے سے ایک بچہ ایسا ڈھونڈیں اور اسے کام کے ساتھہ ساتھہ پڑھنے کی ترغیب دیں، اگر وہ اسکول نہیں جا سکتا تو اسے اپنی زندگی میں سے صرف ایک گھنٹا دے دیں تاکہ وہ کسی حد تک تعلیم کے زیور سے آشنا ہوسکے اگر آپ نے اسکی بنیاد مضبوط کردی اور اسکے اندر تعلیم کے حصول کی اہمیت جگا دی تو آگے وہ اپنا راستہ خود بنا لے گا آپکا کام اسے بنیاد فراہم کرنا ہوگا عمارت وہ انشاءاللہ خود تعمیر کرلے گا۔

آپ گورنمنٹ کے کسی بھی ہسپتال چلے جائیں آپ دیکھیں گے کہ آپکے کرنے کے لئیے اتنے کام ہیں کے اگر آپ پورا دن بھی وہاں گزار دیں تو آپکو لمحے بھر کی فرصت نہ ملے، ایمرجنسی میں مریض لایا جاتا ہے تو اسٹریچر کے حصول کا طریقہ ہی اتنا پیچیدہ ہے کے اسٹریچر آتے آتے مریض کی جان ہی نکل جاتی ہے، آپ اپنا شناختی کارڈ کاونٹر پر جمع کروا کے رکھیں اور جیسے ہی ایمرجنسی میں مریض آئے آپ اسٹریچر لے کر اسکے پاس پہنچ جائیں مریض کا یہ جو وقت آپ نے بچایا ہے یہ دراصل آپ نے اسکی آدھی جان بچائی ہے، صفائی ہمارا نصف ایمان ہے، تو ہمارا آدھا ایمان تو گورے ویسے ہی لے گئے ہم تو شروع ہی آدھے سے ہوتے ہیں، آپ ہسپتال کی صفائی کا کام اپنے زمہ لے سکتے ہیں، جگہ جگہ آپکو گند کے ڈھیر نظر آئیں گے جب آپ سب کے سامنے اس گند کے ڈھیر کی صفائی کریں گے پہلا فائدہ تو آپکو یہ ہوگا کے اپکے اندر سے انا نکل جائے گی، دوسرا فائدہ آپ ماحول کو صاف ستھرا کریں گے جو سب کے لئیے سود مند ثابت ہوگا، تیسرا فائدہ یہ ہوگا کے آپکی دیکھا دیکھی یقیناَ کچھہ اور لوگوں کا بھی ضمیر جاگے گا جو آپ کے ساتھہ اس کارِ خیر میں حصہ لینے کے لئیے آگے بڑھیں گے، چوتھا فائدہ یہ ہوگا کے جو لوگ گند پھیلا رہے ہونگے انہیں اپنے فعل پر شرمندگی ہوگی۔ اسکے علاوہ آپ مریضوں کی خدمت کا کام بھی سرانجام دے سکتے ہیں، دوائیاں بازار سے لا کر دے سکتے ہیں، کسی مریض کو خون کی ضرورت پڑ جائے تو فوری طور پر آپ اپنا خون عطیہ کر سکتے ہیں، ہسپتال میں پارکنگ کا نظام بہتر بنا سکتے ہیں، مریضوں کو چھوٹی چھوٹی چیزوں کے تحفے دے کر انکی حوصلہ افزائی کرسکتے ہیں غرض یہ کے جب آپ وہاں اس نیت سے جائیں گے تو آپ خود دیکھیں گے کے ایسے کتنے ہی کام ہیں جو آپ بہت آسانی سے سرانجام دے کر انسانیت کی خدمت کرسکتے ہیں۔

پکنک پوائنٹ پر جائیں آپکو جا بہ جا گندگی کے ڈھیر دکھائی دیں گے، ایک دن اپنے دوستوں کے ساتھہ کسی پکنگ پوائنٹ کی صفائی کا زمہ اٹھائیں، آپکی دیکھا دیکھی دوسرے لوگوں کو بھی ترغیب ملے گی اور گندگی پھیلانے سے پہلے ایک بار انکا ضمیر انہیں جھنجھوڑے گا ضرور۔

بوڑھے اور ضعیف لوگ جنہیں اکثر لوگ بے جان سی شہ سمجھہ کر کونے میں ڈال دیتے ہیں، لیکن آپ ایسا نہ کیجئیے کسی پارک میں کسی چائے کے ہوٹل پر یا آپ کے اپنے خاندان میں یا محلے میں آپکو کوئی نہ کوئی ایسا ضعیف انسان ضرور ملے گا جس سے کوئی بات کرنا گوارہ نہیں کرتا کسی کے پاس ٹائم ہی نہیں اسے ٹائم دینے کے لئیے آپ اسکے پاس بیٹھیں اسے احساس دلائیں کے وہ ہمارے لئیے قیمتی ہے وہ زندگی کے تمام رنگ دیکھہ کے بیٹھا ہے وہ ہر مرحلے سے گزر چکا ہے اسکے رہنمائی آپکے لئیے قیمتی اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے، اسکے دل کی بات سنیں، برسوں کی جو اسکے اندر بھڑاس ہے اسے باہر نکالنے کا موقع دیں، بہت ممکن ہے ایسا کرنے سے آپکو شدید کوفت ہو لیکن آپکی یہ کوفت کسی کے جینے کا سہارا بن سکتی ہے اسے جینے کا حوصلہ دیں کچھہ وقت اسکے ساتھہ گزاریں مجھے یقین ہے آپ اس شخص کے پاس سے کچھہ نہ کچھہ لے کر ہی اٹھیں گے، اور آپکو کچھہ نہ بھی ملا تو اسے تو یہ احساس مل ہی جائے گا کے میں ابھی بے کار نہیں ہوا کوئی ہے جو مجھے سننا چاہتا ہے کوئی ہے جو مجھے بھی اہمیت دیتا ہے کوئی ہے جو میری باتوں کو وزن دیتا ہے، یقین مانیں یہ احساس ہی بہت ہوگا اسکے جینے کے لئیے، اور اللہ آپکو اس پر اجر نہ دیں ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا، اللہ فرماتے ہیں کے وہ کسی کے رائی برابر عمل کے بھی ضائع نہیں کرتے۔ پوسٹ طویل ہوگئی ہے اسلئیے باقی باتیں اگلی پوسٹ پر رکھتے ہیں۔

 

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

4 Responses to آپ بھی بہت کچھہ کرسکتے ہیں۔

  1. آپکی واپسی پر دلی خوشی ہوئی۔۔۔

  2. السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

    جناب! آپ کا بہت اچھا ہے، پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن میں صفائی والی حدیث کے متعلق تھوڑی سی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ عموماً الطهور شطر الإيمان (صفائی نصف ایمان ہے) کو بہت مختصر معنوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ آپ نے بھی اس حدیث کو ظاہری صفائی تک کہ محدود کر دیا۔ امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب احیاء العلوم الدین میں لکھتے ہیں کہ اگر صفائی سے مراد صرف ظاہری صفائی ہی ہوتا تو اس کا درجہ نصف ایمان تک نہ ہوتا۔ امام غزالی نے بہت تفصیل سے بیان کیا کہ صفائی کے چار درجے ہیں اور صرف پہلا درجہ ظاہری صفائی کے تعلق رکھتا ہے۔ اب یہاں یہ بات تو لازم ہے کہ پہلا درجہ ہی دوسرے درجوں تک لے کر جائے گا لیکن اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ پہلا درجہ ہی آدھا ایمان ٹھہر سکتا ہے۔ صرف ظاہری صفائی کے نہ ہونے کی بنا پر یہ کہنا کہ آدھا ایمان موجود نہیں، ایک عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔

    دھیان رہے کہ میری مندرجہ بالا باتیں ظاہری صفائی کے خلاف نہیں لیکن یہ جملہ اس وجہ سے لکھ رہا ہوں کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کے بلاگ پر آنے والے کافی لوگ میری مندرجہ بالا سطور کو غلط سمجھ سکتے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      صاحبزادہ سید شاہ رخ کمال گیلانی صاحب، وعلیکم السلام، بلاگ پر خوش آمدید، آپ نے میری معلومات میں اضافہ کیا جس کے لئیے بہت بہت شکریہ۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s