کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل سنت ہے؟


دین کے ماخذ صرف دو چیزیں ہیں، قرآن اور سنت، تیسری کوئی چیز ایسی نہیں جو دین میں رائی برابر بھی اضافہ کرسکے، قرآن جس چیز کو حکم بنادے وہ لازمی دین ہے اس میں دو رائے ہو ہی نہیں سکتیں، دوسرا ماخذ سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے، جسے آپ صلی علیہ وسلم سنت قرار دے دیں وہ ہی سنت ہے، کم از کم سات اصول ایسے ہیں جن سے کسی بھی چیز کے سنت ہونے کو جانچا جاسکتا ہے۔

پہلا اصول: سنت صرف وہ ہی چیز ہو سکتی ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے دین ہو، قرآن اس معاملے میں واضع ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اسکا دین پہنچانے کے لئیے ہی مبعوث ہوئے تھے، انکے علم و عمل کا دائرہ یہ ہی تھا اسکے علاوہ اصلاً کسی چیز سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اپنی حیثیتِ نبوی کے ساتھہ وہ ابراہیم بن آزر بھی تھے، موسیٰ بن عمران اور عیسیٰ بن مریم بھی تھے، اور محمد بن عبداللہ بھی۔ لیکن اپنی اس حیثیت میں انہوں نے لوگوں سے کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا، انکے تمام مطالبات صرف اس حیثیت سے تھے کہ وہ اللہ کے نبی ہیں اور نبی کی حیثیت سے جو چیز انہیں دی گئی ہے وہ دین اور صرف دین ہے، جسے لوگوں تک پہنچانا ہی انکی اصل زمہ داری ہے۔

قرآن کی آیت کا ترجمہ ہے کہ، اس نے تمہارے لئیے وہ ہی دین مقرر کیا ہے جسکا حکم اس نے نوح کو دیا اور جسکی وحی (اے پیغمبر،اب) ہم نے تمہاری طرف کی ہے اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ کو فرمائی اس تاکید کے ساتھہ کہ (اپنی زندگی میں) اس دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ ( الشوری ٤٢:١٣

جانچہ معلوم یہ ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے تیر، تلوار اور اسطرح کے دوسرے اسلح استعمال کئیے ہیں، انٹوں پر سفر کیا ہے، مسجد بنوائی ہے تو اسکی چھت کھجور کے پتوں سے بنائی ہے، اپنے تمدن کے لحاظ سے بعض کھانے کھائے ہیں اور ان میں سے کسی کو پسند اور کسی کو نا پسند کیا ہے، ایک خاص وضع قطع کا لباس پہنا ہے جو عرب میں اس وقت پہنا جاتا تھا اور جسکے انتخاب میں آپکے شخصی ذوق کا بھی دخل تھا، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز سنت نہیں ہے اور نہ کوئی صاحبِ علم اسے سنت کہنے کے لئیے تیار ہوسکتا ہے۔

نبی صلی علیہ وسلم نے خود یہ بات اسطرح سے واضع فرمائی ہے: میں بھی ایک انسان ہی ہوں، جب میں تہمارے دین کے متعلق کوئی حکم دوں تو اسے لے لو اور جب میں اپنی رائے سے کچھہ کہوں تو میری حیثیت بھی اس سے زیادہ کچھہ نہیں کہ میں ایک انسان ہوں۔۔۔۔ میں نے اندازے سے ایک بات کہی تھی تم اسطرح کی باتوں پر مجھے جواب دہ نہ ٹھراو جو گمان اور رائے پر مبنی ہوں۔ ہاں میں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کچھہ کہوں تو اسے لے لو، اسلئیے کہ میں اللہ پر کبھی جھوٹ نہ باندھوں گا۔۔۔۔ تم اپنے دنیوی معاملات کو بہتر سمجھتے ہو۔ صحیح مسلم، ٦١٢٦، ٦١٢٧، ٦١٢٨

دوسرا اصول: دوسرا اصول یہ ہے کہ سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے، یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں، علم و عقیدہ، تاریخ، شانِ نزول اور اسطرح کی دوسری چیزوں کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے، لغتِ عربی میں سنت کے معنیٰ پٹے ہوئے راستے کہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قوموں کے ساتھہ جزاء اور سزا کا جو معاملہ کیا قرآ ن میں سے سنتھ اللہ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ سنت کا لفظ ہی اس سے ابا کرتا ہے کہ ایمانیات کی قسم کی کسی چیز پر اسکا اطلاق کیا جائے، لہذا علمی نوعیت کی کوئی بھی چیز سنت نہیں ہے، اسکا دائرہ کرنے کے کام ہیں، اس دائرے سے باہر کی چیزیں کسی طرح بھی اس میں شامل نہیں کی جاسکتیں۔

تیسرا اصول: عملی نوعیت کی وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہوسکتیں جنکی ابتداء پیغمبر کے بجائے قرآن سے ہوئی ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلوم ہے کہ آپ نے چوروں کے ہاتھہ کاٹے ہیں زانیوں کو کوڑے مارے ہیں، اوباشوں کو سنگسار کیا ہے، منکرینِ حق کے خلاف تلوار اٹھائی ہے، لیکن ان میں سے کسی بھی چیز کو سنت نہیں کہا جاتا، یہ قرآن کے احکام ہیں جو ابتداءَ اس ہی میں وارد ہوئے ہیں اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انکی تعمیل کی ہے، نماز، روزہ، حج، زکٰوت، اور قربانی کا حکم بھی اگرچہ جگہ جگہ قرآن میں آیا ہے اور ان میں اس نے بعض اصلاحات بھی کی ہیں، لیکن یہ بات خود قرآن ہی سے واضع ہوجاتی ہے کہ انکی ابتداء پیغمبرکی طرف سے دینِ ابراہیم کی تجدید کے بعد اسکی تصویب سے ہوئی ہے، اسلئیے یہ لازمً سنن ہیں جنہیں قرآن نے موکدہ کردیا ہے، کسی چیز کا حکم اگر اصلاً قرآن پر مبنی ہے اور بیغمبر نے اسکی وضاحت فرمائی ہے یا اس پر قدم بہ قدم عمل کیا ہے تو پیغمبر کے اس قول و فعل کو ہم سنت نہیں، بلکہ قرآن کی تفہیم و تبیین اور اسوہ حسنہ سے تعبیر کریں گے، سنت صرف ان ہی چیزوں کو کہا جائے گا جو اصلاً پیغمبر کے قول و فعل اور تقریر و تصویب پر مبنی ہیں اور انہیں قرآن کے کسی حکم پر عمل یا یا اسکی تفہیم قرار نہیں دیا جاسکتا۔

چوتھا اصول: سنت پر بطور تطوع عمل کرنے سے بھی وہ کوئی نئی سنت نہیں بن جاتی، ہم جانتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادِ خداوندی کے تحت شبِ و روز کی پانچ لازمی نمازوں کے ساتھہ نفل نمازیں بھی پڑھی ہیں، رمضان کے روزوں کے علاوہ نفلی روزے بھی رکھے ہیں، نفل قربانی بھی کی ہے، لیکن ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی حیثیت میں سنت نہیں ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے جس طریقے سے ان نوافل کا اہتمام کی ہے اسے ہم عبادات میں آپکا اسوہ حسنہ کہہ سکتے ہیں، مگر اپنی اولین حیثیت میں ایک مرتبہ سنن قرار پاجانے کے بعد بار بار سنن کی فہرست میں شامل نہیں کرسکتے۔

پانچواں اصول: وہ چیزیں جو محض بیانِ فطرت کے طور پر آئی ہیں وہ بھی سنت نہیں ہیں، الہ یہ کے انبیاء علہیم السلام نے ان میں سے کسی چیز کو اٹھا کر دین کا لازمی جز بنا دیا ہو، کچلی والے درندے، چنگال والے پرندے اور گدھے کا گوشت کھانے کی ممانیت سے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات اس ہی قبیل سے ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ انسان ہمیشہ سے جانتا ہے کہ نہ شیر اور چیتے اور ہاتھی کھانے کی چیز ہیں اور نہ گھوڑے اور گدھے دسترخوان کی لذت کے لئیے پیدا کئے گئے ہیں، اسطرح کی بعض دوسری چیزیں بھی بعض روایتوں میں بیان ہوئی ہیں، انہیں بھی اس ہی زیل میں سمجھنا چاہئیے، اور سنت سے الگ انسانی فطرت میں انکی اسی حیثیت پیش کرنا چاہئیے۔

چھٹا اصول: وہ چیزیں بھی سنت نہیں ہو سکتیں جو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی رہنمائی کے لئیے انہیں بتائی تو ہیں، لیکن اس رہنمائی نوعیت ہی پوری قطعیت کے ساتھہ واضع کردیتی ہے کہ انہیں سنت کے طور پر جاری کرنا آپکے پیشِ نظر ہی نہیں ہے، اسکی ایک مثال نماز میں قعدے کے ازکار ہیں، روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تشہد اور درود بھی سکھایا ہے اور اس موقع پر کرنے کے لئیے دعاوں کی تعلیم بھی دی ہے، لیکن یہ ہی روایتیں واضع کردیتی ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز نہ آپ نے بطور خود اس موقع کے لئیے مقرر کی ہے اور نہ سکھانے کے بعد لوگوں کے لئیے اسے پڑھنا لازمی قرار دیا ہے۔ یہ آپکے پسندیدہ ازکار ہیں اس سے بہتر کوئی چیز تصور نہیں کی جاسکتی، لیکن اس معاملے میں آپکا طرزِ عمل صاف بتاتا ہے کہ آپ لوگوں کو کسی بات کا پابند نہیں کرنا چاہتے، بلکے انہیں یہ اختیار دینا چاہتے ہیں کہ وہ آپکی سکھائی ہوئی یہ دعائیں بھی کرسکتے ہیں، اور انکی جگہ دعا و مناجات کے لیے کوئی اور طریقہ بھی اپنا سکتے ہیں، لہذا سنت صرف یہ ہی ہے کہ ہر نماز کی دوسری اور آخری رکعت پڑھنے والا دو زانوں ہوکر قعدے کے لئیے بیٹھے اسکے علاوہ کوئی چیز بھی اس موقع پر سنت کی حیثیت سے مقرر نہیں کی گئی۔

ساتواں اصول: جسطرح قرآن خبرِ واحد سے ثابت نہیں ہوتا، اس ہی طرح سنت بھی اس سے ثابت نہیں ہوتی۔ سنت کی حیثیت دین میں مستقل بالذات کی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پورے اہتمام، پوری حفاظت اور پوری قطعیت کے ساتھہ اسے انسانوں تک پہنچانے کے مکلف تھے، اخبارِ احد کی طرح اسے اسے لوگوں کے فیصلے پر نہیں چھوڑا جاسکتا تھا کہ وہ چاہئیں تو اسے آگے منتقل کریں اور نہ چاہیں تو نا کریں۔ لہذا قرآن ہی کی طرح سنت کا ماخذ بھی امت کا اجماع ہے اور وہ جسطرح صحابہ کے اجماع اور قولی تواتر سے امت کو ملا ہے، اس ہی طرح یہ انکے اجماع اور عملی تواتر سے ملی ہے، اس سے کمتر زریعے سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ اور آپکی تفہیم کی روایت تو بے شک قبول کی جاسکتی ہے لیکن قرآن و سنت کی طرح ثابت نہیں ہوسکتے۔ سنت کے تعین کے یہ سات رہنما اصول ہیں انہیں سامنے رکھہ کر اگر دین کی اس روایت پر تدبر کیا جائے جو رسول اللہ صلی علیہ وسلم سے قرآن کے علاوہ اس امت کو منتقل ہوئی ہے تو سنت بھی قرآن ہی کی طرح پوری قطعیت کے ساتھہ متعین ہوجاتی ہے۔

( کتاب میزان، مصنف، جاوید احمد غامدی)

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

7 Responses to کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر عمل سنت ہے؟

  1. آپکے صاحب مضمون اگر تو جاوید غامدی ہیں تو جاوید غامدی موصوف کے بارے پروفیسر مولانا محمد رفیق کی تصنیف ”جاوید غامدی اور انکارِ حدیث” بھی ملاحضہ فرمالیں ۔ تانکہ جاوید حامدی کے بارے بہتر معلومات مل سکیں

  2. آپکے صاحب مضمون جاوید غامدی موصوف کے بارے پروفیسر مولانا محمد رفیق کی تصنیف ”جاوید غامدی اور انکارِ حدیث” کتاب کا لنک ذیل ہے۔
    http://es.scribd.com/doc/26101975/Jawed-Ghamidi-or-Inkare-Hadith-URDU

  3. fikrepakistan نے کہا:

    سلام جاوید بھائی، بھائی جان ہر انسان کا اپنا نقطہ نظر ہوتا ہے اسکی اپنی تحقیق ہوتی ہے اپنی رائے ہوتی ہے، ہر کوئی ہر کسی کی رائے سے متفق ہو یہ ضروری نہیں ہے، غامدی صاحب کا استدلال یہ ہے حدیث سے متعلق کے حدیث کو قرآن سے پرکھنا چاہئیے نہ کہ قرآن کو حدیث سے پرکھا جائے، ہمارے ہاں یہ ہی ہوتا ہے کہ لوگ قرآن کو حدیث سے پرکھتے ہیں۔ قرآن کی حفاظت کا زمہ خود اللہ نے لے رکھا ہے اسلئیے قرآن سے زیادہ مستند تو کوئی بھی چیز نہیں ہوسکتی، رہی حدیث کی بات تو اگر حدیث قرآن سے ٹکرائے گی تو پھر لازم ہے کہ قرآن کو فوقیت دی جائے، آپ غامدی صاحب کی رائے سے متفق ہوں یہ بلکل بھی ضروری نہیں ہے، لیکن پڑھہ کر سمجھھ لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ہو سکتا ہے حق وہ ہی ہو جسے ہم درگزر کر رہے ہوں۔

    مجھے نہیں پتہ وہ کون لوگ ہیں جو غامدی صاحب کو منکرِ حدیث کہتے یا سمجھتے ہیں، منکرِ حدیث تو مسلمان ہی نہیں رہ سکتا، اور اگر آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ غامدی صاحب منکرِ حدیث ہیں تو ظاہر ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوئے، اور اگر وہ مسلمان نہیں ہیں تو مفتی نعیم سے لے کر ڈاکڑ اسرار صاحب تک تمام جید عالم حضرات کس حیثیت سے غامدی صاحب کے ساتھہ اسلام کے مختلف مسائل پر گفتگو کرتے رہے ہیں؟

    کتابیں تو نہ جانے کس کس کے خلاف اور کیا کیا لکھی جاتی ہیں، یہ تو ہمارا لائف اسٹائل، کس نے کس کے خلاف کتابیں نہیں لکھیں؟ کیا دیوبندیوں نے بریلویوں کے خلاف نہیں لکھیں؟ کیا بریلویوں نے دیوبندیوں کے خلاف نہیں لکھیں؟ کیا اہل حدیث حضرات نے ان دونوں کے خلاف نہیں لکھیں؟ کونسا فرقہ ایسا ہے جس نے دوسرے کے خلاف نہیں لکھا۔ اس لکھنے لکھانے کو چھوڑ کر اگر ہم اس بات پر غور کریں کے جو لکھا گیا ہے دلیل کے ساتھہ لکھا گیا ہے یا نہیں۔

    • Ajanbi Hope نے کہا:

      وعلیکم السلام۔ مجھے آپ کی بہت سی باتوں سے اتفاق ہے ۔ مگر جاوید غامدی کے بارے قطعی طور پہ اتفاق نہیں۔ یہ کسی فرقے کی لکھی کتاب نہیں۔ بلکہ اس کتاب میں جاوید غامدی کی تاویلات پر دلائل سے ۔ علمی اور اصولی بحث کی گئی ہے۔ بہتر ہوتا آپ ایک نظر مذکورہ کتاب دیکھ لیتے۔ ممکن ہے اس میں آپ کا ہی فائدہ ہو۔
      اور اگر مفتی نعیم صاحب اور ڈاکٹر اسرار الحق مرحوم نے کبھی جاوید غامدی سے کبھی مباحثہ کیا ہے تو اس عمل سے جاوید غامدی کی حقانیت ثابت نہیں ہوتی۔ مباحثے اور مناظرے تو بہت سے مسلم علماء نے ملعون مرزا غلام احمد قادیان سے بھی کئیے تھے ۔ تو کیا یسا ہونے سے مرزا غلام احمد قادیان کو نعوذ باللہ سچا مان لیا جائے؟۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        جاوید بھائی، غلام مرزا قادیانی سے مباحثے ہوئے ہی اسے اور اس کے پیروکاروں کو کافر ثابت کرنے کے لئیے تھے، آپ کی بات واضع نہیں ہو پا رہی، یا تو آپ کھل کر یہ کہہ دیں کے غامدی صاحب مسلمان نہیں ہیں کافر ہیں، اور پھر اسکی دلیل اور ریفرینسسز بھی دے دیں کے اب تک کتنے جید علماء حضرات نے غامدی صاحب پر کفر کے فتوے لگائے ہیں، امید ہے جید کا مطلب تو آپ سمجھتے ہی ہونگے، رہی بات غامدی صاحب کے منکرِ حدیث ہونے کی تو جو غامدی صاحب کی تمام کتابوں میں احادیث سے ہی ریفرنسسز دئیے گئے ہیں، مزکورہ تحریر میں بھی صحیح مسلم کی حدیث کا ریفرنس دیا گیا ہے، مجھے تو نہیں پتہ کے کیسے غامدی صاحب منکرِ حدیث ہیں۔

        یہ بات آپ بھی جانتے ہیں کہ کیسے ہمارے علماء حضرات ضعیف احادیث کو پورے ایمان اور یقین کے ساتھہ لکھہ بھی دیتے ہیں اور بیان بھی کردیتے ہیں، تو اگر غامدی صاحب نے کسی ایسی حدیث کی صحت پر اعتراض کیا بھی ہے تو اسے مثبت انداز سے لینا چاہئیے جائزہ لینا چائیے کہ کس حد تک درست بات ہے انکی۔ آپ غامدی صاحب کی بات کر رہے ہیں میں آپ کو امام ابنِ حزم کی تحقیق یہ کہتی ہے کہ میں نے ساری زندگی موسیقی کی روایات پر تحقیق کی اور آخر میں تتیجہ یہ نکالا کے ایک بھی حدیث ثابت نہیں ہے، یہ انکی اپنی تحیقیق ہے جو چائے ان سے اختلاف کرسکتا ہے، لیکن اس پر کفر کا فتویٰ لگا دینا یا انہیں اسلام سے خارج کر دینا کسی طور بھی جائز نہیں ہے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        جاوید بھائی، میں نے آپکے دیئے ہوئے لنک کو پڑھا ہے، معزرت کے ساتھہ کہنا پڑ رہا ہے کہ بہت زیادہ دروغ گوئی سے کام لیا گیا ہے، جن احدیث کا ذکر ان میں کیا گیا ہے کہ ان سب کا تعلق معاشرے کی اصلاح سے ہے اور انبیاء آتے ہی معاشرے کی اصلاح کرنے کے لئیے ہیں، لیکن اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے جو لفظ بھی نکلے گا وہ دین ہی ہوگا؟ یہ بھی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فرمان کا مفہوم ہے کہ جب گھوڑآ خریدنے جاو تو دیکھہ لیا کرو سیاہ مائل رنگت کا ہو ماتھے پہ سفیدی ہو۔ تو کیا یہ بات دین بن گئی؟ دین وہ بات بنے گی جسکی حضور پاک سختی سے تلقین فرمائیں گے اور اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں عذاب کی وعید سنائیں گے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو فلحال روکتے ہیں قرآن میں بھی اگر کسی بات کا ذکر آجائے تو وہ بات دین نہیں بن جاتی، قرآن بھی اسے دین بنائے گا تو وہ دین بنے گی، قرآن میں ہی ہے کہ گدھا سواری کے لئیے ہے، تو کیا یہ بات دین بن گئی؟ قرآن میں بہت سارے ماضی کے انبیاء کے قصے بھی ہیں تو کیا وہ سب بھی دین بن گئے؟ انکا قرآن میں ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں ان پر یقین کرنا ہے کہ یہ سچ ہیں، لیکن وہ دین نہیں ہیں، قرآن نے تبصرہ کیا ہے کہ شہد میں شفاء ہے، اب اگر شوگر کے مریض کو شہد کھلا دیا جائے تو کیا حال ہوگا اسکا؟ یہ کوئی قرآن کا حکم نہیں ہے یہ محض ایک تبصرہ ہے کہ شہد میں شفاء بھی ہے، اب ظاہر ہے اسے ہر انسان اپنی بیماری اور دیکھتے ہوئے ہی استعمال کرے گا۔ تو کہنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ تبصرے اور حکم میں فرق کو سمجھا جائے، انہوں نے داڑھی کی بھی بات کی ہے اپنی تحریر میں، دارھی نہ رکھنے والے کے لئیے کوئی ایک وعید سنا دیجئیے آپ مجھے، ہاں مونچھیں پست رکھنے کا حکم ہے اس ضمن میں حدیث بھی ملتی ہے کہ جو مونچھیں نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔ ہم میں سے نہیں کا مطلب وہ مسلمان ہی نہیں ہوا، یہ ہوگئی وعید، اب اس پر عمل کرنا لازمی ہوگیا کیونکہ یہ حکم دین کا حصہ بن گیا، لیکن کوئی ایک حدیث ایسی دکھا دیں مجھے جس میں یہ آیا ہو کہ جو داڑھی نہ رکھے وہ ہم میں سے نہیں۔ تنقید برائے تنقید سے کہیں بہتر ہے کہ تعصب کی نظر کے بجائے کہنے والے کی بات کو مثبت انداز سے لیا جائے اور اسکی طرف سے دی گئ دلیلوں کو غیرجانبدار ہوکر پرکھا جائے تو ہی ہم کسی مثبت نتیجے پر بہنچ سکتے ہیں، غلام احمد قادیانی سے جن لوگوں نے بھی مباحثہ کیا وہ اسے کافر قرار دینے کے لئیے کیا گیا تھا، جب کے میں آپکی خدمت میں ایسے کئی پروگرام پیش کرسکتا ہوں جس میں غامدی صاحب کے ساتھہ ابتسام الہی اور دیگر علماء حضرات بیٹھہ کر لوگوں کو دین سکھا رہے ہیں دین کے مختلف پہلووں کو اجاگر کیا جارہا ہے لوگوں کی رہنمائی کی جارہی ہے۔ اور آپ مجھے کوئی ایک ایسی ویڈیو کا لنک دے دیں جس میں کسی جید عالم نے غامدی صاحب کے ساتھہ بیٹھہ کر لوگوں سے یہ کہا ہو کے یہ شخص مسلمان نہیں ہے اسکی باتوں میں نہ آئیں، آج بھی دنیا نیوز سے ہر جمعرات کو غامدی صاحب کا پروگرام نشر ہوتا ہے، علم و حکمت کے نام سے، میں نے تو کسی عالم سے نہیں سنا نہ ہی کسی نے لکھا کہ یہ پروگرام بند کروایا جائے یہ شخص مسلمان ہی نہیں ہے تو کیسے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ لوگوں کو اسلام سکھا رہا ہے۔ یہاں معاملہ یہ ہے کہ عالم حضرات بھی منافقت کرتے ہیں، ٹی وی پر کچھہ کہتے ہیں، مسجدوں میں کچھہ کہتے ہیں، وعظوں میں کچھہ کہتے ہیں اور نجی محفلوں میں کچھہ اور ہی کہتے ہیں، جسکی وجہ سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ غامدی صاحب یا ان جیسے اور لوگ مسلمان نہیں ہیں۔ لیکن اگر کوئی جید عالم ایسا کہتا ہے تو کھل کر سامنے آئے ٹی وی پر بیٹھہ کر ساری قوم کے سامنے فتویٰ دے کے غامدی صاحب مسلمان نہیں ہیں یہ منکر حدیث ہیں اسلئیے دنیا نیوز سے انکا پروگرام انکا وہ پروگرام بند کروایا جائے جس میں وہ ایک مسلمان عالم دین کی حیثیت سے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں، اگر جید علماء یہ نہیں کرتے تو پھر انکی کہی ہر بات کو منافقت ہی سمجھا جائے گا۔

  4. کاشف حسن نے کہا:

    بھت زبردست

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s