کیا داڑھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ یا اسکا شریعت سے کوئی تعلق ہے؟


قرآنِِ مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو جو ہدایت دی ہے وہ دو زریعوں سے دی ہے، ایک ہماری فطرت جسکو ہماری عقل سمجھتی ہے اور اس سے احکام اخذ کرتی ہے، ہر انسان جو اس دنیا میں آنکھہ کھولتا ہے وہ اپنے آباواجداد کی اس میراث سے واقف ہوتا ہے، اس فطرت کی بہت سی باتیں بہت ہی واضع ہیں، اللہ ایک ہے وہ ہی اس کائنات کا بنانے والا ہے یہ اطلاع ہمکو سب سے پہلے قرآن نے آکر نہیں دی یہ انسان کی فطرت کے اندر اللہ نے شامل کر کے بھیجا ہے یہ اسکے وجدان کا حصہ ہے، اور اللہ نے قرآن میں ہی بتایا ہے کہ ہم نے انسان کو یہ شعور اسکے اندر رکھہ کر ہی اس دنیا میں بھیجا ہے۔

اس ہی طرح بہت سی چیزیں ایسی ہیں جنکا انسان کو استعمال نہیں کرنا چاہیے یہ چیز بھی ایک فطری دین کا تقاضہ ہیں، اس پر استدلال کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ جھوٹ ایک برائی ہے، انسان اپنی فطرت ہی کے لحاظ سے جھوٹ کو ایک برائی سمجھتا ہے، اس پر کوئی استدلال کرنے کی ضرورت نہیں ہے یا کوئی حکم سنانے کی ضرورت نہیں ہے کہ دیانتداری اختیار کرنی چاہئیے دیانتداری ایک اخلاقی اصول ہے جسکو انسان بہت اچھی طرح جانتا ہے سمجھتا ہے وہ اگر اس سے انحراف کرتا ہے تو وہ اپنی فطرت کو مسخ کر کے یہ انحراف کرتا ہے، اس ہی طرح اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو مرد اور عورت بنا کر الگ الگ پیدا کیا ہے، اب مردوں کو اپنے جسمانی اور تفسیاتی تقاضوں کے مطابق کچھہ چیزوں کو اپنانا ہوتا ہے رہن سہن کا طریقہ اختیار کرنا ہوتا ہے ایسے ہی عورتوں کو اختیار کرنا ہوتا ہے، اس میں بعض چیزیں ایسی ہیں جو اپنے اندر اشتباہ رکھتی ہیں لیکن بعض چیزیں بلکل واضع ہیں، تو اسطرح کی واضع چیزوں کو بھی انسان ایک میراث کے طور پر اختیار کئے ہوئے ہے اسکو معلوم ہے کہ مجھے اس معاملے میں کیا وضع قطع اپنانی چاہئیے کیا طریقے اختیار کرنے چاہئیں، اور عام طور پر انسان اپنی تاریخ میں اسکا لحاظ بھی رکھتا رہا ہے اس ہی طرح سے مرد و عورت کے تعلوقات ہیں کے معاملے میں فطرت کے راستے بھی ہیں اور اس سے انحراف کے راستے بھی ہیں، انسانی فطرت ہمیشہ سے یہ جانتی ہے کہ فطرت کے راستے کونسے ہیں اور انحراف کے راستے کونسے ہیں، یہ ایک دینِ فطرت ہے جسکو انسان لے کر آیا ہے۔

میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ جو دینِ فطرت ہے اس ہی کے اندر یہ چیز شامل ہے کہ مردوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنے چہروں کے اوپر داڑھی مونچھہ دی ہے تو وہ اسے رکھتے ہیں اور ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے، عورتوں کو اللہ تعالیٰ نے یہ چیز نہیں دی تو اگر عام طور پر کسی عورت کے ایسے بال نکل بھی آئیں تو وہ اسے صاف کرلیتی ہیں، یہ ایک واضع سا فطری سا فرق ہے جو ہمیشہ سے موجود ہے، یہ کتنا واضع ہے اس پر کچھہ تھوڑا بہت اختلاف ہوسکتا ہے اور کوئی آدمی اس سے استدلال بھی کرسکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر جس طریقے سے شریعت لے کر آتے ہیں اس ہی طرح سے وہ فطرت کا بھی بہترین نمونہ ہوتے ہیں چناچہ ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اللہ کے جتنے پیغمبر ہیں انہوں نے یہ ہی وضع قطع اپنائی ہے صالحین کی وضع قطع بلعموم یہ ہی رہی ہے اور اس ہی چیز کو عام طور پر پسندیدہ سمجھا گیا ہے، تو داڑھی کے بارے میں یہ میرا نقطہ نظر ہے، میں اسے ایک پسندیدہ چیز سمجھتا ہوں ایک فطری چیز سمجھتا ہوں اور یہ سمجھتا ہوں کہ کیوں کے یہ انبیاء علیہ السلام کا طریقہ رہا ہے صآلحین کا طریقہ رہا ہے اس وجہ سے اسکے اپنانا چاہئیے، فطری دین کے حیثیت سے، بہت ساری چیزیں بہت اہمیت کی حامل کی بھی ہوتی ہیں اور بہت سی چیزیں زرا کم اہمیت کی بھی ہوتی ہیں تو اسکی اہمیت کتنی ہے کتنی نہیں ہے اسکو عقل عام کی روشنی میں انسان سمجھہ سکتا ہے۔

اسکے بعد دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جسے اللہ کے پیغمبر کوئی شریعت بیان کرتے ہیں، اور وہ آکربتاتے ہیں کہ یہ چیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال کی گئی ہے اور یہ چیز حرام کی گئی ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ناپسندیدہ قرار دی گئی ہے یہ دوسرا حصہ ہے، پہلے حصے میں انسان رائے خود قائم کرلیتا ہے، اور اس میں کچھہ چیزیں نہایت واضع ہوتی ہیں جن میں کوئی اختلاف کا سوال نہیں ہوتا بعض چیزوں میں کچھہ اہل علم کے درمیان تھوڑا بہت اختلاف بھی ہوسکتا ہے، جیسے کھانے پینے کی چیزوں کی چیزیں ہیں جنہیں انسانی فطرت سمجھتی ہے کہ یہ کھانے پینے کے لئیے نہیں ہیں لیکن بعض علاقوں میں آدمی کے تمدن کے حساب سے اس میں اختلاف بھی ہوجاتا ہے، اسکی ایک مثال خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہی پیش آگئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گو پکا کے رکھہ دی گئی، تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نہیں کھاتا، حضرت خالد بن ولید نے پوچھا رسول اللہ حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں حرام تو نہیں ہے لیکن مجھے پسند نہیں ہے، تو حضرت خالد بن ولید نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے اسے اٹھا کے کھا لیا۔ لیکن دین کا جو دوسرا حصہ کے جسے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حکم بنا دیں یا قرآن کے زریعے سے اللہ تعالیٰ اس کا حکم فرما دیں اس میں پھر کسی قسم کی بحث و مباحثے کی گنجائش نہیں رہ جاتی اور جب گنجائش نہیں رہتی تو گویا انسانوں کے اوپر حجت تمام ہوجاتی ہے، اور اس میں پھر یہ نہیں دیکھا جاتا کہ چیز کے لئیے فطرت کے اندر کیا مظاہر موجود ہیں پھر صرف یہ دیکھا جاتا ہے کہ اللہ کی کتاب میں اور پیغمبروں کی ہدایت میں اسکے بارے میں کیا فرمایا گیا ہے، اب غور کیجئیے کہ داڑھی یا اسطرح کی اور چیزوں کے بارے میں جو کچھہ فطرت میں ہے وہ میں نے بیان کردیا کہ داڑھی بہت اچھی چیز ہے انبیاء نے پسند فرمائی ہے رکھی ہے صالحین نے اپنائی ہے میں بھی اسکو پسند کرتا ہوں مسلمانوں کو رکھنی چاہئیے، بس بات اس حد تک ہی ہے اس سے آگے مت بڑھئیے۔

لیکن کیونکہ ہمارے ہاں بہت سی چیزیں ہمارے اندر رائچ ہوچکی ہیں تو ان میں زرا بھی اپنے نقطہ نظر سے ہٹ کر کوئی بات سنتے ہیں تو انکے لئیے بڑی اجنبیت سے پیدا ہوجاتی ہے۔ اب میں دوسرے حصے کی طرف آتا ہوں کہ کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے موضوع بنا کر اسکے بارے میں کوئی قانون سازی کی ہےِ؟ کیا اسکے بارے میں کوئی ہدایات دی ہیں کیا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سنت کی حیثیت سے جاری فرمایا ہے؟ ظاہر بات ہے اس میں اب کوئی عقلی بحث نہیں ہوسکتی اس میں تو دین کے ماخذ کو دیکھنا پڑے گا کے اس میں کیا فرمایا گیا ہے کیا بات کی گئی ہے، قرآن مجید میں یہ مسلہ سرے سے زیرِ بحث ہی نہیں آیا ہے، یعنیٰ قرآن مجید میں اس بارے میں کوئی بات نہیں کہی گئی ہے، نہ اللہ تعالیٰ نے کہیں حکم دیا ہے کہ تم داڑھی رکھو نہ اللہ تعالیٰ نے کہیں روکا ہے کہ تم داڑھی نہ منڈھواو، قرآنِ مجید میں بہت سے احکام بیان ہوئے ہیں حلت اور حرمت بیان ہوئی ہے لیکن ایسی کوئی بات نہیں فرمائی اصولی طور پر یہ بات جان لیجئیے کہ جتنی بھی حلتیں اور حرمتیں ہیں انکی شرو وضاحت خود پیغمبر فرماتے ہیں، لیکن انکی بنیاد اور اساس لازم ہے کہ قرآن مجید کے اندر ہو یہ چیز قطعی ہے، اسکی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ بھی دین بیان فرمایا ہے وہ اس ہی کتاب کی بنیاد پر بیان فرمایا ہے، اس سے ہٹ کر وہ وہ دین ہے جو پہلے سے انبیاء علیہ السلام کی سنت کے طور پر چلا آرہا تھا اسکی آپ نے تجدید فرمائی اور اصلاح فرمائی اور بہت سی چیزیں پہلے سے دین کی حیثیت سے جاری تھیں آپ نے بھی انکو جاری فرما دیا، چناچہ انکے بارے میں ہمارے پاس امت کا اجماع بھی ہوتا ہے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ کا اجماع بھی ہوتا ہے اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات بھی ہوتے ہیں فقہا بھی جو کچھہ بیان کرتے ہیں وہ ہوتا ہے گویا واضع اور روشن جگہ پر ہم کھڑے ہوتے ہیں جیسے مثال کے طور پر ہم پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں یہ نماز انبیاء علیہ سلام کے دین میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے قرآن نے ہمکو بتایا ہے کہ جب سیدنا اسمعیل علیہ سلام نے بیعت اللہ بنایا تو اپنے اہل و عیال کو اس میں نماز کا حکم دیا یہ طواف یہ رکوع یہ سجود ہمیشہ سے انبیاء علیہ سلام میں ہمیشہ سے رہے ہیں، حچ بھی ان ہی مناسک کے ساتھہ پہلے سے جاری تھا یعنی یہ ایک جاری سنت ہے، ان تمام چیزوں میں جو کمی کجیاں تھیں انہیں دور کر کے آپ نے انہیں جاری رکھا۔

سنت کی حیثیت سے جو چیزیں جاری کی جاتی ہیں انکی نوعیت یہ ہوتی ہے کہ آپ آج کے زمانے سے لے کر اوپر تک جو کچھہ بھی سنت کا رکارڈ ہے جب اسکو آپ دیکھتے ہیں تو مکمل طور پر آپکو اجماع نظر آئے گا یعنی بلکل اتفاق ہوگا جیسے قرآنِ مجید آج بھی کتاب اللہ مانی جاتی ہے ایسے ہی دو سو سال پہلے بھی مانی جاتی تھی یعنی ہر دور میں اسے مسلمے کی حیثیت اسے حاصل رہتی ہے یہ ہی معاملہ سنت کا ہے یعنی نماز بھی اس ہی طریقے سے روزہ، حچ، زکات، یہ سب اس ہی طریقے سے امت کے اندر اسکے اجماع سے جاری و ساری ہوتی ہیں، دوسرے یہ کہ جو اصل ماخذ ہے یعنی صحابہ اکرام رض اللہ عنہہ کا اجماع اسکے اندر اسکو جاری کرنے کے کے بارے میں نہایت واضع صورت ہمارے سامنے موجود ہوتی ہے یعنی حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو صرف کہہ کر ہی نہیں چھوڑ دیا ہوتا بلکے بہت وضاحت کے ساتھہ یہ بتایا ہوتا ہے یہ ہی صحابہ اکرام منتقل کرتے ہیں یہ ہی امت منتقل کرتی ہے اور اسکے بعد اس میں کسی فہم کا سوال نہیں ہوتا بلکے وہ ایک محکم روایت ہے جسکی بنا ہر وہ چیز جاری ہوجاتی ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داڑھی کے معاملے میں ہمارے پاس کیا ہے؟ اس میں تو کوئی شبہ نہیں جب آپ آج کے زمانے سے اوپر تک جاتے ہیں تو آپکو فقہہ کے ہاں اس پر بہت سی بحثیں ملتی ہیں اور بہت سا انکے ہاں اتفاقِِ رائے ملتا ہے جو وہ اسکو ایک حیثیت دیتے ہیں لیکن جیسے جیسے آپ اوپر چلے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی اسے زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ داڑھی نہ رکھنا ایک نہ پسندیدہ چیز ہے چناچہ علماء جو بیان کرتے ہیں وہ یہ کے یہ ایک نا پسندیدہ عمل کے کے انسان اپنی داڑھی منڈھوا دے اس سے زیادہ کوئی بات اوپر جب آپ جاتے ہیں اہلِ علم بھی آپکو کہتے ہوئے نظر نہیں آتے، پھر جب آپ اس سے آگے جاتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی جو احادیث ہیں ان میں کیا بات بیان ہوئی ہے؟ میں آپ کے سامنے وہ تمام روایتیں رکھہ دیتا ہوں اور پھر اسکے بعد آپکو یہ بتاتا ہوں کے انکی نوعیت کیا ہے؟ ان میں کیا بات کہی گئی ہے اور صورت فہمی نے انکو کیا شکل دے دی ہے۔

پہلی بات تو یہ سمجھہ لیجئیے اصلاً صرف تین روایتیں ہیں داڑھی کے معاملے میں سارا جو ذخیرہ ہے حدیث کا اس میں اصلاً تین روایتیں ہیں، ایک ہی روایت کو مختلف لوگ بیان کر رہے ہوتے ہیں لیکن اصلاَ جو روایتیں ہو وہ صرف تین ہیں۔

ایک روایت یہ ہے جس میں کسریٰ کے کچھہ صفرا حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئے تو انہوں نے کچھہ اسطرح کی وضع بنا رکھی تھی کہ بڑی بڑی مونچھیں جیسے ہمارے ہاں بھی آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھہ لوگ رکھتے ہیں اور داڑھیاں منڈھوائی ہوئی تھیں یعنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے ساتھہ گھٹی ہوئی داڑھیاں تھیں، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسکو نا پسند فرمایا، اور یہ فرمایا کہ تم لوگوں نے یہ کیا اپنی صورتیں بنا رکھی ہیں تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارے جو آقا یعنی بادشاہ جو ہیں انہوں نے یہ ہی صورت ہمارے لئیے مقرر کی ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نا پسند فرمایا، اور فرمایا کہ میرے اللہ نے جو میری فطرت بنائی ہے اس میں جو احکام رکھے ہیں اس میں یہ صورت کچھہ پسندیدہ نہیں ہے۔ یہ روایت تاریخی روایت ہے محدثین نے اس روایت کو سرے سے قبول ہی نہیں کیا، اور جو بات اس میں بیان ہوئی ہے وہ اتنی ہی ہے جتنی میں کہہ رہا ہوں یعنی یہ ایک نا پسندیدہ بات ہے اور اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نا پسند ہی فرمایا ہے کہ آدمی اسطرح کی وضع قطع بنائے۔

دوسری روایت ، مشکوات شریف میں بیان ہوئی ہے اس روایت کا معاملہ یہ ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے لوگوں سے فرمایا دس چیزیں فطرت میں سے ہیں، میں وہ روایت درج کردیتا ہوں اور یہ بھی بتا دیتا ہوں کے کیا بات اس میں زیرِ بحث آئی ہے اور خود اس روایت کے ساتھہ محدثین نے کیا معاملہ کیا ہے، یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ سے ہے، روایت یہ ہے کہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دس چیزیں فطرت میں سے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چیزیں گنوائی وہ یہ ہیں، مونچھوں کا ترشوانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، حلق میں پانی ڈال کر گلہ صاف کرنا، ناخنوں کو کتروا کے رکھنا، انگلیوں کے جوڑوں کے درمیان جمے ہوئے میل کو صاف کرنا، بغل کے بال صاف کر کے رکھنا، زیرِ ناف بال صاف کر کے رکھنا، رفاء حاجت کے بعد پانی سے استنجہ کرنا۔ اب یہ بات سمجھہ لیجئیے اگر روایت کے بعین ہی مان لیا جائے تو اس میں اتنی ہی بات کہی گئی ہے جو میں نے بیان کی ہے یعنی یہ ایک فطری چیز ہے گویا جو فطری چیز ہے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیانکردیا.

اسکے اندر اس سے زائد کوئی بات نہیں، لیکن خود روایت کا کیا حال ہے؟ یہ جتنی چیزیں میں نے آپکو گنوائی ہیں یہ نو ہیں، جبکہ راوی نے کہا تھا کہ دس ہیں، راوی کا کہنا ہے کہ دسویں بات وہ بھول گیا ہے، راوی کہتا ہے مجھے ٹھیک سے یاد نہیں دسویں چیز مزمزہ ہوسکتی ہے.

حدیث کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ راوی اگر اختلاف کا اظہار کرتا ہے یا اپنے حافظے کے معاملے میں اسطرح کی کسی صورت کا شکار ہوجاتا ہے تو یہ گویا اسکی روایت کا ضعف ہے اسکے اندر، اچھا بات اگر یہیں تک رہ جاتی تب بھی ٹھیک تھا، اگلا مسلہ یہ ہے کہ دس چیزیں جو اس میں بیان کی گئی ہیں ان میں اگر راوی کی بیان کردہ دسویں چیز مزمزہ کو شامل بھی کرلیں اگر تو اس میں ایک اتنی اہم چیز شامل نہیں ہے جس کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے جسکو فطرت قرار دیا ہے جو صحیح ترین روایتوں کے اندر آئی ہے اور مسلمانوں کے ایک بلکل متواتر عمل ہے وہ ہے ختنہ، اب اس سے بھی دلچسپ بات یہ ہے کہ مشکوات شریف میں ہی اس ہی روایت کو ایک دوسرے طریقے سے بیان کرنے والا راوی یہ بیان کرتا ہے کہ اس میں جو دس چیزیں تھیں ان میں اصل میں جس جگہ داڑھی کا ذکر ہے اس جگہ داڑھی تھی ہی نہیں اس جگہ ختنہ تھی، قرینِ قیاس بھی یہ ہی بات ہے اسکی وجہ یہ ہے کہ جو صحیح ترین روایتیں ہیں ان میں بھی یہ ہی بیان کیا گیا ہے کہ پانچ چیزیں فطرت میں سے ہیں ان میں بھی ختنہ بیان ہوا ہے۔ تو یہ اس روایت کا حال ہے، اسکے اوپر کس عقیدے کس نقطہ نظر سے حلت و حرمت کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے، یعنی راوی پہلے دس چیزیں پوری نہ کرسکا پھر اسکے بعد مزید یہ کہ جو چیز بیان کر رہے تھے اس میں ایک اہم ترین چیز نہیں ہے یعنی ختنہ، اور اس ہی کی دوسری روایت سے ہمکو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس میں تو داڑھی تھی ہی نہیں ختنہ تھی، ظاہر ہے اب اس سے دین میں کوئی استدلال کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن اگر اسکو پھر بھی مان لیا جائے تو بھی بات اتنی ہی ہے جتنی میں کہتا ہوں کہ فطرت کی چیز ہے۔

تیسری اور آخری روایت بھی میں آپ کے سامنے رکھہ دیتا ہوں اور دیکھئیے کے اس میں کیا بات کہی گئی ہے اور لوگوں نے اسکو کس طریقے سے سمجھہ ہے، اور اگر آپ غور کریں تو اصل میں اسکا مدعا کیا بنتا ہے۔ یہ روایت عام طور پر محدثین کتاب الباس میں لاتے ہیں، یعنی جو قدیم ہمارے ماخذ ہیں ان میں کوئی داڑھی کا باب نہیں ہوتا، لباس کی چیزیں جہاں بیان کرتے ہیں اس میں یہ بات بھی بیان کردیتے ہیں، یہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہہ کی روایت ہے، کم و بیش یہ ہی روایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے بھی بیان ہوئی ہے، اور ان ہی الفاظوں میں یہ روایت حضرت ابو امامہ سے بھی بیان ہوئی ہے، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہہ کی روایت سند کے لحاظ سے متفق روایت ہے، اور ابو امامہ کی روایت صرف مسند احمد میں ہے اور اسکی سند میں بھی کچھہ اختلاف ہے، تینوں روایتوں میں صرف ایک چیز ہے جس میں فرق ہے، سب سے پہلے آپ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہہ کی روایت سن لیجئیے، حضور پاک صلی اللہ علیہ سلم نے فرمایا کہ تم مشرکین کے طریقے سے مختلف طریقہ اپناو تم داڑھیاں بڑی کیا کرو اور مونچھوں کو چھوٹا رکھا کرو، دوسری روایت میں مشرکین کی جگہ ہے مجوس کے طریقے کی مخالفت کیا کرو، اور تیسری روایت میں مجوس کی جگہ اہلِ کتاب کے طریقے کی مخالفت کیا کرو، یعنی باقی روایت یہ ہی ہے لیکن ایک میں مشرکین، ایک میں مجوس اور ایک میں اہل کتاب ہے، اب اس میں اگر روایت صرف اتنی ہوتی کہ داڑھیاں بڑھاو اور مونچھیں ترشواو تو بھی کوئی بات ہو سکتی تھی، روایت تو یہاں سے شروع ہورہی ہے کہ مشرکین کی مخالف وضع اپناو، یا مجوس کی مخالف وضع اپناو، یا اہلِ کتاب کی مخالف وضع اپناو، اب اسکے بعد علمی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حضور کیا فرمانا چاہتے ہیں یعنی کیا بات آپکے پیشِ نظر ہے؟

تین امکانات ہوسکتے ہیں، ایک امکان یہ ہوسکتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے زمانے کے مشرکین، مجوس، یا اہل کتاب سے مسلمانوں کا امتیاز قائم کرنے کے لئیے یہ بات کہی، ایک امکان یہ ہوسکتا ہے، لیکن جب ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی طریقہ دیکھتے ہیں تو حضور مسلمانوں کے لئیے اسطرح کا کوئی امتیاز قائم کرنا اور خاص طور پر اہل کتاب کے بارے میں تو پسند ہی نہیں فرماتے تھے، بلکے انکی موافقت کے طریقے کو آپ پسند فرماتے تھے، میں آپ کے سامنے دوسری متفقہ روایت رکھہ دیتا ہوں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہہ کی، یہ روایت تمام حدیث کی کتابوں میں ہے روایت یہ ہے کہ، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی معاملے میں اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابھی کوئی ہدایت نہیں آئی ہوتی تھی تو آپ اہل کتاب کے طریقوں کو اپنانا پسند فرماتے تھے۔ اس میں آپ یہ نہ خیال کیجئیے گا کے کوئی عبادت کا کوئی طریقے ہے جسی کی بات کی جارہی ہے، اہل کتاب اپنے بال بناتے وقت صدل کا طریقہ اختیار کرتے تھے اور مشرکین حرب کا طریقہ یعنی بال اٹھا کر بناتے ہیں اور بعض اوقات مانگ نکال کر بناتے ہیں، تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ طریقہ اختیار کیا جو اہل کتاب اپناتے تھے۔

دوسرا امکان یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی بدعت رواج پا گئی تھی لوگوں کے اندر، یعنی انہوں نے کسی چیز کو دین بنا لیا اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس معاملے میں لوگوں کی اصلاح کرنے کے لئیے لوگوں سے یہ فرمایا، کیوں کے جب لوگوں میں ایسی کوئی بدعت رواج پا جائے تو جب تک عملاَ اسکی اصلاح نہ کی جائے تو وہ اصلاح ہوتی نہیں، جیسے عربوں میں اپنے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا ایسا ہی تھا جیسے سگے بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا ممنوں ہوتا ہے، تو اسکو حضور کو عملاَ توڑنا پڑا اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی بیوی سے شادی کر کے، یعنی جو چیز دین میں بدعت بن جائے اس طریقے سے عملاَ توڑ دیاجاتا ہے.

بدعت کے حوالے سے ایک اور متفقہ روایت سن لیں یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہہ سے مروی ہے کہ یہود و نصاریٰ اگر بڑھاپا آجائے تو وہ اپنے بال رنگتے نہیں ہیں، تم ان سے مختلف طریقہ اختیار کیا کرو، اس ضمن میں جب ساری روایات کو سامنے رکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ دین میں یہ چیز ایک بدعت کی حیثیت اختیار کر گئی تھی کے آدمی کو اپنے بال نہیں رنگنے چاہئیں یہ تقویٰ کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ نے بال سفید کردئیے ہیں تو انہیں سفید ہی رہنا چاہئیے، تو حضور نے فرمایا نہیں یہ کوئی چیز نہیں ہے اسکا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے، اب ظاہر ہے اس ہی روایت میں یہ کہا گیا ہے کہ یہود و نصاریٰ کی مخالفت کرو وہ بال رنگنا پسند نہیں کرتے، تم رنگ لیا کرو۔ اب کوئی بھی آدمی یہ نہیں کہے گا کہ یہ کوئی واجب ہوگیا یہ کوئی سنت ہوگئی، یہ کوئی دین کا حکم بن گیا، ہر آدمی جانتا ہے سمجھتا ہے آج کے معاشرے میں بھی آپکو لاکھوں لوگ ایسے نظر آئیں گے جنکے بال سفید ہوتے ہیں وہ نہیں رنگتے، تو یہ اس وقت کے لحاظ سے ایک بدعت کو ختم کرنے کے لئیے فرمایا تھا، تو ایک بدعت کا اصلاح دوسری چیز یہ ہوسکتی ہے۔

تیسری چیز یہ ہوسکتی ہے کہ اخلاقی لحاظ سے آدمی جو وضع قطع اختیار کرتا ہے بعض اوقات وہ دین کے مزاج کے بلکل خلاف ہوتی ہے، جیسے مثلاَ یہ مسلہ زیرِ بحث آیا ہے کہ، عربوں کے اندر بعض اوباش لوگ جو تہبند باندھتے تھے وہ جان بوجھہ کر پیچھے سے اسکی ایک لٹھہ چھوڑ دیا کرتے تھے جو پیچھے سے گھسٹتی چلی آتی تھی، بٹن کھلے ہوئے ہیں قمیض کے، ظاہر ہے یہ ایک بہت ہی متکبرانہ طریقہ ہے لباس کا حضور نے اسے سخت نا پسند فرمایا اور آپ نے اسطرح کا لباس پہننا ممنوں فرما دیا، تو یہاں مسلہ اصل میں لباس کا نہیں ہے مسلہ ایک وضع قطع کا ہے، کہ دنیا کا ہر سلیم طبع آدمی آپکو اچھی وضع قطع اپنانے کے لئیے کہے گا، اس ہی کی ایک دوسری مثال یہ ہے کہ مثلاَ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا جسکے بال بکھرے ہوئے تھے، لگتا تھا کئی دنوں سے نہایا نہیں ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے بالوں کا احترام کیا کرو انہیں بنا سنوار کے رکھا کرو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے یہ توجہ دلائی، اب ظاہر بات ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟ یعنی ایک آدمی کو اخلاقی نصحیت کی گئی ہے، اس سے یہ کہاں ثابت ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بال کٹوانے کا منع فرمایا ہے؟ اگر اس بالوں کے احترام والی حدیث کو، داڑھی بڑھاو اور مونچھیں ترشواو والے تناظر میں لے لیں تو پھر تو کوئی آدمی اپنے بال گنجا نہیں ہوسکتا، کیوں کے حضور نے تو بال سنوار کے رکھنے کا حکم دیا ہے گنجا ہونے کا مطلب تو بلکل ہی الٹا کرنا ہوگیا یعنی سنوارنے کے بجائے آپ گنجے ہی ہوگئے، کسی سے سنا ہے آپ نے کہ اسلام گنجا ہونے سے منع کرتا ہے؟ لوگ حج کے موقع پر بھی گنجے ہوتے ہیں۔ یہ بلکل اسطرح ہے کہ اگر آپ نے بال رکھنے ہیں تو پھر انکا احترام کریں سنوار کر رکھیں، بلکل اس ہی طرح یہ ہی بات ہے کہ اگر آپ نے داڑھی رکھنی ہے تو پھر اسکے وضع یہ ہوگی کہ داڑھی بڑی اور مونچھیں چھوتی رکھنی ہونگی۔

تو اس ہی طرح اہل کتاب، مشرکین یا مجوسوں کے ہاں جو وضع قطع رائج ہوگئی تھی داڑھی مونچھوں کے بارے میں جسکی نبی صلی اللہ وسلم نے مخالفت کرنے کا فرمایا، جس کے یہ تین امکانات ہوسکتے ہیں، اب آپ تینوں امکانات کو دیکھہ لیجئیے کہ بنتا کیا ہے؟ یعنی اگر امتیاز قائم کرنے کے لئیے ہے اپنے زمانے کے مشرکین، مجوس، اور اہل کتاب سے تو وہ مشرکین ختم ہوگئے وہ اہل کتاب ختم ہوگئے، یہ مسلہ بھی ختم ہوگیا ظاہر بات ہے نوعیت ہی بلکل وقتی ہوئی، اگر کسی بدعت کی اصلاح ہے تو بدعت کیا تھی اسکی اصلاح ہوگئی اسطرح کے احکامات ظاہر ہے وقتی ہوتے ہیں بدعت کی اصلاح کر دی گئی ہے تو بس ہوگئ ختم ہوگیا معاملہ، پھر اگر کوئی نئی بدعت پیدا ہوگی تو ہم اس اصول کی روشنی میں پھر کوئی رائے قائم کرلیں گے، تیسری چیز یہ کہ وضع قطع کا مسلہ ہے تو وہ قرینِ قیاس یہ ہوسکتا ہے کہ لوگ بسا اوقات داڑھی مونچھہ کچھہ اسطرح سے رکھتے ہیں، جو رکھتے ہیں انکی بات ہورہی ہے، کہ مونچھیں بڑی بڑی اور داڑھی گھٹی ہوئی ہوتی ہے یہ ظاہر ہے بلکل اوباشوں اور بے ہودہ لوگوں کی وضع ہے۔ تو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ توازن سکھایا کہ داڑھی مونچھہ رکھنی ہے تو پھر اسطرح رکھو کے داڑھی بڑی اور مونچھیں ترشی ہوئی ہوں، گویا اخلاقی لحاظ سے ایک نصحیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی بلکل ایسے ہی جیسے بالوں کے احترام کے بارے میں فرمائی ہے کہ رکھو تو بنا سنوار کے رکھو جو نہیں رکھنا چاہتا وہ بھلے گنجا ہوجائے اس سے دین کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ان تین امکانوں کے علاوہ کوئی چوتھا امکان موجود نہیں، اب اس سے جو بات معلوم ہوتی ہے، امتیاز ختم ہوگیا، اگر کوئی چیز بدعت کی اصلاح تھی تو ہوچکی، اور اگر وضع قطع کی اصلاح ہے تو قیامت تک کے لئیے سر آنکھوں پر، کہ جو آدمی بھی داڑھی رکھے وہ وضع قطع کے ساتھہ رکھے کہ مونچھیں ترشی ہوئی ہوں اور داڑھی بڑھی ہوئی ہو نہ کہ داڑھی چھوٹی رکھہ لے اور مونچھیں بڑھی ہوئی ہوں، تو یہ اخلاقی اصلاح ہوگئی، پیغمبر اخلاقی اصلاح کرنے کے لئیے ہی آتے ہیں، اور یہ ہی انکا موضوع ہوتا ہے، لوگوں کی داڑھیوں کے مسائل طے کرنے کے لئیے نہیں آتے، بلکے اخلاقی پہلو بتانے کے لئیے آتے ہیں۔

میں اس ہی تیسری بات کو زیادہ قرینِ قیاس سمجھتا ہوں، اس ہی کو صحیح سمجھتا ہوں اور ہر مسلمان کو یہ نصحیت کرتا ہوں کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سرے سے مسلہ داڑھی رکھنے یا نہ رکھنے کا ہے ہی نہیں، یعنی جسطرح سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے بالوں کو سنوار کے رکھا کرو تو اس سے اگر کوئی آدمی یہ استدلال کرلے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم بال رکھنے کا حکم دے رہے ہیں تو یہ مسلہ ہی نہیں ہے، آپ نے بال نہیں رکھے ہوئے آپ گنجا رہنا چاہتے ہیں تو کوئی بات نہیں آپ بڑے اطمنعان کے ساتھہ سر پہ پانی بہائیے اور لطف لیجئیے، اور اگر رکھے ہوئے ہیں تو انکا احترام آپ پر لازم ہے انہیں بنا کر سنوار کر رکھیں، اس ہی طرح اگر آپکی داڑھی مونچھہ نہیں ہے تو یہ ایک الگ مسلہ ہے فطرت بحث اپنی جگہ موجود ہے، میں صرف یہ روایت سمجھا رہا ہوں کہ اگر آپ نے داڑھی مونچھیں رکھی ہوئی ہیں تو شریفانہ وضع قطع سے رکھئیے، روایت تو صرف یہ ہی بیان کرتی ہے۔

یہ ہے دین کے پورے ذخیرے کی کل کائنات ان دلائل کی جسکی بنیاد پر لوگ بات کرتے ہیں، خلاصہِ کلام یہ ہے کہ دین کے پورے ذخیرے میں کوئی بات بھی موجود نہیں اسکے علاوہ جو کچھہ تھا میں نے اس پر تبصرہ کردیا، لیکن، یہ ایک فطری چیز ہے، یہ دینِ فطرت کے اندر شامل ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو پسند تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی بھی تھی، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ نے رکھی تھی صالحین رکھتے رہے ہیں، مسلمانوں کو رکھتے رہنا چاہئیے، لیکن یہ بات کے اسے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سنت کے طور پر جاری کیا ہے دین کے پورے ذخیرے میں ایسی کوئی بات موجود نہیں۔

تحقیق سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے، تطہر بدن، تطہر خورد و نوش، تطہر نفس، عبادات۔ دین کے جتنے بھی احکامات ہیں وہ ان جار چیزوں کا ہی احاطہ کرتے ہیں، اب ظاہر ہے داڑھی ان چاروں چیزوں میں نہیں آتی، کوئی نہیں کہہ سکتا کہ داڑھی تطہر بدن کی چیز ہے، تطہر خورد و نوش کی چییز ہے، تطہر نفس کی چیز ہے، یا عبادات کی چیز ہے۔ کوئی غیر مسلم اگر آپ سے سوال کرتا ہے کہ مسلمان مونچھیں کیوں ترشواتے ہیں؟ تو آپ بتائیں گے کہ یہ تطیر بدن کی چیز ہے، مسلمان ختنہ کیوں کرتے ہیں؟ کیوں کے یہ تطہر بدن کی چیز ہے۔ نماز، روزہ حج وغیرہ کیوں کرتے ہیں؟ کیوں کے یہ عبادات ہیں۔ لیکن جب یہ سوال کیا جائے کہ مسلمان داڑھی کیوں رکھتے ہیں؟ تو سوائے اس کے، کے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ عمل ہے، فطرت کی چیز ہے اسلئیے رکھتے ہیں، اسکے علاوہ کوئی جواب نہیں دیا جاسکتا۔ اور یہ ہی کچھہ میں نے آپکی خدمت میں عرض کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ اس معاملے میں میرا استدلال ہے اور نقطہِ نظر ہے، اسکے باوجود بھی کوئی آدمی اس سے اختلاف رکھتا ہے تو اسے اختلاف رکھنا چاہئیے، پہلے میری بھی رائے کم و بیش وہ ہی تھی جو لوگوں کے درمیاں عام طور پر رائج ہے لیکن تحقیق کرنے کے بعد یہ مواد سامنے آیا اور یہ اسکی نوعیت ہے اس پر میں نے اپنی رائے ظاہر کر دی ہے یہ اگر کوئی جرم ہے تو آپ مجھے معاف فرما دیں۔

(یہ تحریر جاوید احمد غامدی صاحب کی تحریروں سے ماخوذ کی گئی ہے)۔

کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ یہ رائے تنہا غامدی صاحب کی رائے ہے تو ایسے لوگوں کے لئیے مصر کے مفتیِ اعظم کا فتویٰ  پیشِ خدمت ہے جو کہ دس   جنوری دو ہزار تیرہ کو پاکستان کے تمام اخباروں میں شائع ہوا ہے۔

1101721056-1 1101721056-2

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

27 Responses to کیا داڑھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے؟ یا اسکا شریعت سے کوئی تعلق ہے؟

  1. Darvesh Khurasani نے کہا:

    محترم میں آپکو یہ مشورہ دینا چاہونگا کہ آپ کتاب (غامدیت کیا ہے) کا مطالعہ کیجئے گا۔
    غامدی صاحب کا مضمون پڑھا، اور احادیث نبوی کو فقط تاریخی روایت کا نام دئے کر اسکی اہمیت کو کم کرنے حربہ بھی پڑھ لیا۔

    کہنے اور لکھنے کو اس پر بہت کچھ ہے۔لیکن وہ بعد میں۔

  2. fikrepakistan نے کہا:

    بہتر ہوتا کہ آپ غامدی صاحب کی زاتی حیثیت کو ترجیح دینے کے بجائے لکھے گئے مضمون پر دلائل کے ساتھہ گفتگو کرتے، تحریر میں دئیے گئے مواد کے علاوہ اگر کچھہ آپ کے پاس ہے اس ضمن میں کچھہ اور مواد ہے تو برائے کرم شئیر کریں تاکے ہمیں بھی کچھہ سیکھنے کا موقع ملے۔ کیونکہ داڑھی کے حوالے سے پورے دین کے ذخیرے میں جو مواد تھا وہ تحریر میں دے دیا گیا ہے، اگر آپکو اختلاف ہے تو ضرور آپ دلائل دیں۔ دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتا ہے، کردار کشی نہیں۔

    • Darvesh Khurasani نے کہا:

      فکر پاکستان بھائی ایک مطالبہ کرتا ہوں ،اور امید ہے بے جا نہ ہوگا ۔وہ یہ کہ تبصروں کو بھی کوڈ لگا دو تاکہ یہ بھی نستعلیق فونٹ میں نظر آئیں۔
      بے شک تحریراور تبصرے میں امتیاز کیلئے تبصرے کا فونٹ تھوڑا چھوٹا رکھا جائے، لیکن نستعلیق کوڈ ضرور لگا دیا جائے، کہ ہم لوگ اسکے ایسے عادی ہوئے ہیں کہ اس کے بناء بڑی دقت ہوتی ہے اردو تحریر پڑھنے میں۔لھذا سب تبصرہ نگاروں کے تبصروں کو نستعلیق فونٹ والا کوڈ لگایا جائے۔حقیقتا مجھے ساتھیوں کے تبصرے پڑھنے میں شدید دقت ہوتی ہے۔
      دوسری بات یہ کہ میں غامدی صاحب کی ذات پر اعتراض نہیں کرتا ہوں، لیکن جو فکر وہ پھیلا رہا ہے، اسکو غامدیت کا نام اسلئے دیتا ہوںتاکہ فکر کی واضح تعریف ہوسکے۔
      ذات میں تو اسکے دن رات کے معمولات، اسکی اہل و اولاد اسکے دیگر مشاغل کا ذکر ہوگا، لیکن کتاب (غامدیت کیا ہے) خالص اسکی فکر سے بحث کی گئی ہے ۔

  3. بڑے بھائی ! فطرت کوئی غیر تغیر پذیر شے نہیں ہے اور نا ہی یہ کوئی حتمی چیز ہے۔ اس میں تغیر بھی آتا ہے اور شدید نوعیت کے زوال بھی آتے ہیں انفرادی بھی اور اجتماعی طور پر مثلاً ہم جنس پرستی ایک کراہیت آمیز چیز ہے اسے انسانی فطرت بحثیت مجموعی پسند نہیں کرتی لیکن دور حاضر میں ایسے معاشروں کی کمی نہیں ہے جو اس پر تنقید کرنے والوں کو مریخ کی مخلوق سمجھتے ہیں۔ فطرت کو حدود میں رکھنے کے لیے اللہ سبحانہ تعالیٰ نے شریعت عطا کی ہے کہ انسانی فطرت کو اسکی جائز حدود میں رکھا جا سکے کسی کنی بیشی کے بغیر۔۔۔
    اس شریعت کے تین ماخذ ہیں قرآن، سنت اور اجماع۔ یہ تین ماخذ شریعت وضع کرتے ہیں۔ اجماع ان معاملات میں کہ جن پر قرآن و حدیث سے براہ راست راہنمائی نہیں مل رہی ہو یا وہ امور جو انسانی اور علوم کی ترقی کے باعث امت کو آج سے پہلے درپیش نا آئے ہوں ان پر قرآن ، سنت اور دین کا علم رکھنے والے اور ان چیزوں کا مزاج سمجھنے والے علم و تقویٰ کے حامل علمائے دین متفق ہو کر ایک حتمی رائے قائم کرسکییں ۔ اس رائے کو خود بخود شریعت کا درجہ حاصل ہو جاتا ہے۔
    قرآن کا انکار کسی بھی عالم (چاہے متقی ہو یا منافق ) ایک نا ممکن امر ہے لیکن حدیث اور سنت کی حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوشش پہلی بار نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی کئی بار ہوئی ہیں اور آئندہ بھی ہوتی رہیں گی اور ہر دور میں امت اس کو مسترد کرتی رہے گی۔
    آپ نے ککو شاہ فرام ککے زئی کی عبارت نقل کی جس میں وہ کہتا ہےے ہیں کہ نبی کریم ﷺ بالوں کے احترام کی نصیحت کی ہے اس میں بال کٹوانے کی نکیر نہیں ہے۔۔۔ بالکل صحیح بات ہے کیونکہ ہم حج پر بال کٹواتے ہی ہیں پھر یہ کہ موجودہ دور میں پرانے طرز کے لمبے بال رکھنے کا رواج نہیں ہے۔ لیکن اس سے داڑھی مونڈنے کا کہاں جواز بنتا ہے ؟ کیا کسی موقع پر شریعت ہمیں داڑھی مونڈنے کا عام حکم بھی دیتی ہے( حج کی طرح)
    جب داڑھی بڑھانے اور مونچھیں ترشوانے کا ایک حکم دے دیا ہے تو داڑھی مونڈنے/شیو کرنے کا جواز آپ کہاں سے لاسکتے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ اسکے طول پر ہی بحث ہوسکتی ہے کہ شارع نے اسکی کوئی حد متعین نہیں فرمائی لیکن یہ شیو کرنے کا جواز میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
    کیا نبی کریمﷺ کے حکم کے جواب میں اپنی عقل اور دین فہمی کے گھوڑے دوڑانا ایک بہت بڑی گستاخی اور جسارت نہیں ہے؟
    یہ باتیں جو ککو شاہ فرما رہے ہیں 1400 سالہ علمی تاریخ جو جید فقہا ، محدثین اور دیگر علما سے بھری پڑی ہے، کسی دوسرے کو کیوں نہیں سوجھیں۔ کیا ککو شاہ اسلامی تاریخ کے سب سے بڑے عالم ہیں؟ کیا دوسرے سارے نکمے تھے؟ معاذ اللہ

    • Darvesh Khurasani نے کہا:

      بات کو کچھ اور بھی بڑھادونگا کہ قوم لوط پر عذاب بشمول دیگر چھوٹے چھوٹے بد اعمالیوں کے لواطت کے سبب آیا۔ اور اگر غامدی صاحب کی طرح سوچھا جائے تو وہ عذاب اسلئے آیا کہ اس سے فطرت مسخ ہو رہی تھی کیونکہ افزائیش نسل معدوم ہوتی جا رہی تھی،اور بقائے انسانی کا مسئلہ کھڑا ہو رہا تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے انکو ایک انسانی فطرت کی بحالی کی کوشش نا کرنے اور افزائیش نسل کی کوشش نا کرنے کے سبب سزا دی۔
      اب چونکہ آج کل اگر ہم جنس پرستی کی بھی جائے تو بھی اہم سبب جو کہ افزائیش نسل انسانی ہے کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ،کیونکہ ٹیسٹ ٹیوب یا سپرم بینک کے ذریعے یا کلوننگ یا دیگر آلات جدیدہ کے ذریعے نسل انسانی کی بقاء ممکن ہے۔
      لھذا اب فطرت کو نقصان کا خطر نہیں اسلئے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔
      اس اعتراض کو بالکل لغو قرار دیا جاتا ہے کہ لواطت کی حرمت قران سے ثابت ہے کیونکہ قران فطرت اور انسان کی فلاح کیلئے اتارا گیا ہے، اور آج کل کے ذمانے میں لواطت سے ہر دو کو کوئی خطرہ نہیں۔
      کیسی رہی میری غامد کلون سوچ۔ کل کو میں بھی اسکا منصب سنبھال سکتا ہوں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        اسلام و علیکم درویش بھائی، داڑھی فطری چیز ہے اس کا تو کئی بار تحریر میں بھی اقرار کیا گیا ہے، باقی تفصیلی جواب جواد بھائی کے تبصرے میں دیا گیا ہے اسے پڑھہ لیں آپ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اسلام و علیکم جواد بھائئ، تحریر میں جو حدیث دی گئی ہے اسکا مفہوم کچھہ یوں ہے کہ، یہود و نصاریٰ اپنے بال نہیں رنگتے لیکن تم ان سے مختلف وضع اپناو تم بال رنگ لیا کرو۔
      اور داڑھی سے متعلق جو حدیث ہے اسکا مفہوم یہ ہے کہ، تم مجوس، مشرکین، اہل کتاب سے مختلف وضع اپناو داڑھی بڑھاو اور مونچھیں ترشواو۔
      ان دونوں حدیثوں میں جو بات مشترک ہے وہ یہ کہ، یہود و نصاریٰ، مشرکین اور مجوس سے مختلف وضع اپنانے کا فرمان ہے، اگر داڑھی کے
      معاملے میں اسے فرمان سے سنت اخذ کی جارہی ہے تو پھر سفید بالوں کے رنگنے کے معاملے میں بالوں کو رنگنے کو سنت کیوں اخذ نہیں
      کیا جارہا؟ جبکہ دونوں احدیث میں ایک ہی بات کی گئی ہے ایک میں داڑھی اور ایک میں بالوں کو رنگنے کا ذکر ہے، اگر اس حدیث کی
      روشنی میں یہ معنیٰ اخذ کیئے جائیں کے اس فرمان سے داڑھی کی حرمت قائم ہوگئی ہے اور وہ سنت کے درجے پر آجاتی ہے، تو پھر
      ہمیں یہ بھی ماننا ہوگا کہ بالوں کو سفید رکھنا بھی خلاف سنت عمل ہے، پھر ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ بال بھی رنگے، کیوں کے ایسا
      ممکن نہیں ہے کہ ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مطلب سنت نکالیں اور دوسری کو سرے سے کوئی اہمیت ہی نہ دیں۔
      ان دونوں احدیث کو سامنے رکھتے ہوئے رہنمائی فرما دیں کہ اگر ایک فرمان پر ہم داڑھی کو سنت مان رہے ہیں تو دوسرے فرمان
      پر بال رنگنے کو سنت کا درجہ کیوں نہیں دے رہے؟

      • بال رنگنے کو سنت کا درجہ نہیں مل سکتا کیونکہ نبی کریم ﷺ نے کبھی بال نہیں رنگے۔ جس مذکورہ حدیث کا آپ حوالہ دے رہے ہیں اسکے الفاظ ہی صاف بتا رہے ہیں کہ یہ تجویز ہے کوئی شرعی حکم نہیں ہے۔
        تجاویز اور اخلاقی نصحیت چاہے اپنے اندر کتنی ہی حکمتیں رکھتی ہوں شریعت کا درجہ نہیں پاتیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے مزاج مقدسہ کا پتا دیتی ہیں۔ لیکن پھر میرا سوال وہی ہے کہ اگر داڑھی کا حکم کوئی اخلاقی نصیحت تھی تو ہمیں تاریخ ، سیرت اور آثار کی کتب میں داڑھی مونڈنے کا ذکر کیوں نہیں ملتا کیوں صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین ، تابعین و تبہ تابعین امت کے فقہا ، علما اور صالحین نے نبی کریم ﷺ کا منشاء سمجھنے میں غلطی کی اور اب تک غلطی کر رہی ہے؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین کا فہم دین ہم سے کمتر تھا معاذ اللہ ۔۔
        وہ تو نبی کریم ﷺ سے کسی واسطے کے بغیر فیضیاب ہورہے تھے اور براہ راست علم حاصل کر رہے تھے تو ان سے ایسی غلطی کیوں ہوگئی؟
        آپ کے پاس ایسا کیا ذریعہ ہے جس کی بنیاد پر کسی سنت کو غیر اہم یا غلط سمجھی گئی قرار دے رہے ہیں؟
        امت کے پاس تو ایسا مظبوط جواز ہے کہ جس کے سامنے ہر قسم کی دلیل بےمعنی ہوجاتی ہے اور وہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی اجمعین، اور سلف کا طرز عمل ۔۔۔
        ککو شاہ کے پاس تو قیاسی اور خیالی گھوڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ خدارا آپ تو ان گھوڑوں پر سواری نا کیجئیے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        جواد بھائی، آپ نے فرمایا بال رنگنے کو اسلئیے سنت کا درجہ نہیں مل سکتا کیوں کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بال نہیں رنگے۔ آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہوا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جو کے اس وقت مسلمانوں کو لیڈ کر رہے تھے، وہ لوگوں کو ایک ایسا کام کرنے کی تلقین کر رہے ہیں جو وہ خود نہیں کرتے تھے، اور کام بھی وہ جس سے وضع مختلف ہونی ہے باقی مذاہب سے۔ آپکی یہ بات کوئی کیسے مان سکتا ہے کہ بنی پاک صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو ایسا کام کرنے کی تلقین کریں جو وہ خود نہیں کرتے تھے، آپکی یہ بات کسی بھی لحاظ سے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مبارک سے میل نہیں کھاتی، نہ انکے مزاج انکی دی ہوئی تعلیم سے مطابقت رکھتی ہے۔

        ہاں یہ بات آپکی درست ہے کہ اخلاقی نصحیت دین نہیں بن جاتی، یہ ہی بات تو تحریر میں کہی گئی ہے کہ داڑھی والی بات بھی اخلاقی نصحیت ہی سے تعبیر کی جانے کہ اگر داڑھی رکھنی ہے تو پھر اسطرح شریفوں کی وضع قطع کے ساتھہ رکھی جائے۔ آپ نے کہا کہ داڑھی نہ رکھنے کہیں حکم نہیں ملتا، تو بھائی بال نہ رنگنے کا بھی تو حکم نہیں ملتا۔

        آپ نے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ اور اسلاف کی بات کی ہے تو بھائی اس سے کون انکاری ہے کہ وہ لوگ فطرت پر نہیں تھے؟ وہ جانتے تھے کہ یہ مرد کی فطرت کا حصہ بنائی گئی ہے اسے فطری طور پر اپنانا ہی ہے، جیسے اور دوسری فطری چیزیں اپنائے ہوئے تھے وہ سب لوگ ایسے ہی داڑھی بھی اپنائی ہوئی تھی، یہاں یہ بات نہیں ہورہی کہ داڑھی رکھنی ہے یا نہیں، مسلمان داڑھی رکھتے آئے ہیں اور ہمیشہ رکھیں گے کیوں کے یہ فطری چیز ہے۔ فطری چیزوں میں سے اگر کسی چیز کو قرآن یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اٹھا کر اسے دین کا درجہ دے دیں تو وہ پھر لازمی دین کا حصہ بن جاتی ہے۔

        یہ بات آپ سے بہتر کون جاسکتا ہے کہ جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کسی چیز کو دین کا درجہ دیتے ہیں تو پھر اس پر عمل نہ کرنے کی صورت میں وعید سنائی جاتی ہے، داڑھی نہ رکھنے پر کونسی وعید دی گئی ہےِ؟ کہیں کسی ایک جگہ بھی ایسا نہیں آیا کہ جو داڑھی نہ رکھنے والے کے لئیے یہ عذاب کی وعید ہے۔ مونچھوں کے بارے میں تو ملتی ہے حدیث کہ، جو مونچھیں نہ ترشوائے وہ ہم میں سے نہیں۔ اب آپ ہی بتائیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب مونچھوں کے نا ترشوانے پر اتنی بڑی وعید دے رہے ہیں تو داڑھی کے بارے میں یہ ہی الفاظ کہہ دینے میں کیا حرج تھا؟ اسلئیے جس طرح آپ بال رنگنے والی حدیث کو اخلاقی نصحیت مان رہے ہیں ٹھیک اس ہی طرح داڑھی بڑھانے اور مونچھیں ترشوانے والی حدیث بھی وضع قطع کے حوالے سے ایک اخلاقی نصحیت ہی ہے جو قیامت تک کہ لئیے ہر مسلمان کے سر آنکھوں پر ہے کہ جب بھی کوئی داڑھی رکھے گا تو وہ اس وضع سے رکھے گا کہ داڑھی بڑی اور مونچھیں ترشی ہوئی، اور اگر آپ بضد ہیں کہ نہیں یہ بات تو دین کا حصہ بن گئی کہ حضور پاک نے مشرکین، اور اہل کتاب سے مختلف وضع اپنانے کا فرمایا ہے تو پھر آپکو یہ بھی ماننا ہوگا کہ بال رنگنے کے حوالے سے بھی بلکل یہ ہی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں کہ تم یہود و نصاریٰ سے مختلف وضع اپناو، وہ بال نہیں رنگتے تم بال رنگ لیا کرو۔ ان دونوں احدیث میں مغز کے حوالے سے کوئی فرق نہیں ہے۔
        مضمون میں ایک اور حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے جسکا مفہوم کچھہ اسطرح ہے کہ، بالوں کا احترام کرو انہیں بنا سنوار کے رکھا کرو۔

        یہ بھی ایک اخلاق نصحیت ہی ہے، اب کوئی اسے بھی دین بنا لے تو پھر تو کوئی گنجا ہی نہیں ہوسکتا، کیوں کے بالوں کے احترام کے لئیے پہلی شرط ہی بال ہونا ہیں۔ بال ہونگے تو احترام ہوگا تب ہی کوئی انہیں بنا سنوار کر رکھے گا نہ، اسکا بھی مطلب بلکل واضع ہے کہ اگر کوئی بال رکھتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ انکا احترام بھی کرے انہیں بنا سنوار کے رکھے، اور نہیں رکھنا چاہتا تو شوق سے گنجا ہوجائے اور مزے کرے۔ یہ ہی پیمانہ داڑھی سے مطعلق حدیث کا ہے کہ جو داڑھی رکھے تو پھر ایسے رکھے کہ داڑھی بڑی اور مونچھیں ترشی ہوئی ہوں، نہ کہ اوباشوں کی طرح مونچھیں بڑی بڑی اور داڑھی گھٹی ہوئی ہو۔ اس کی زندہ مثال موجودہ پیر پگارا صاحب۔ ہیں کبھی انہیں دیکھہ لیجئیے گا وہ کہنے کو تو پیر ہیں لیکن مونچھیں بڑی اور داڑھی گھٹی ہوئی رکھی ہوئی ہے انہوں نے جو کہ بنی صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی نصحیت سراسر خلاف ورزی ہے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتی ہے کردار کشی نہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ غامدی صاحب کی بدولت مجھے دینِ اسلام اسکی صحیح روح کے ساتھہ سمجھنے میں بہت مدد مل رہی ہے، افسوس اس بات کا ہے کہ جاوید احمد غامدی صاحب پر بے جا تنقید کرنے والوں کے پاس اختلاف کرنے کے لئیے سوائے بغض و کینا کے کوئی مدلل جواب موجود نہیں ہے۔ جتنے لوگوں نے بھی تنقید کی ان میں سے کوئی ایک بھی دلیل سے ثآبت نہ کرسکا کہ داڑھی سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے تو کیسے ہے؟

        وجہ صرف یہ ہے کے بچپن سے جو ہمارے دماغوں میں بھر دیا گیا ہے ہم اسے ہی دین سمجتے ہیں خود سے پڑھہ کر تحقیق کرنے کو کفر سمجھتے ہیں جو کچھہ ہمارے فرقے کہ عالم نے کہہ دیا ہمارے نزدیک بس وہ ہی دین ہے، یہ تحقیق کرنے کی زہمت گوارا نہیں کرتے کے جو ہمارے فرقے کا عالم کہہ رہا ہے وہ کس حد تک درست بات ہے، اسکا دین سے کوئی تعلق ہے بھی یا نہیں، یا یہ صرف اپنے فرقے کی خود ساختہ تشہر کر رہا ہے۔ دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتا ہے، کردار کشی نہیں، مثال اس تحریر کے تبصروں میں موجود ہے کتنے لوگوں نے اختلاف کیا مگر دلیل کوئی ایک بھی نہیں دے سکا، میں نے دلیل مانگی مگر دلیل ندارد۔ صرف بغض و کینا ہے وہ بھی بے جا۔

  4. نورمحمد نے کہا:

    BHUT KHUB .. JAWAB SAHAB . . . .

  5. عہد رسالت سے لے کر آج تک مسلمان تواتر کے ساتھ داڑھی کو بطور سنت ہی رکھتے چلے آئے ہیں۔ داڑھی کو عہد رسالت اور عہد صحابہ میں سنت ہی سمجھا جاتا ہے۔
    اس ضمن میں بعض احادیث یہ ہیں:
    سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “دس چیزیں فطرت میں سے ہیں۔ مونچھیں کاٹنا، داڑھی کو معاف رکھنا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، جوڑوں کا دھونا، بغل کے بال صاف کرنا، زیر ناف بال مونڈنا، استنجا کرنا۔” مصعب کہتے ہیں کہ میں دسویں بات بھول گیا، شاید یہ کلی کرنا ہو۔ (مسلم ، کتاب الطہارہ، حدیث 261)
    ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو، داڑھیوں کو وافر رکھو اور مونچھوں کو چھوٹا کرو۔ (بخاری ، کتاب اللباس، حدیث 5553)
    ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مونچھوں کو پست کرو، داڑھیوں کو معاف رکھو۔ (بخاری ، کتاب اللباس، حدیث 5554)
    امام بخاری (194-256/810-870)اور امام مسلم (204-261/819-875)نے ان احادیث کو بطور سنت ہی درج کیا ہے۔ امام بخاری نے اس باب کا عنوان “اعفاء اللحی” یعنی داڑھی کو معاف رکھنا درج کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی کو منڈوانے سے معاف رکھنے کو وہ سنت سمجھتے تھے۔ اسی طرح امام مسلم نے متعلقہ باب کا عنوان “خصال الفطرہ” یعنی فطری خصلتیں رکھا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تیسری صدی ہجری میں علماء داڑھی کو فطری سنتوں میں شمار کرتے تھے۔ مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا (d. 58/678)کی حدیث سے واضح ہے کہ سیدہ رضی اللہ عنہا مرد کے لیے داڑھی کو اسی طرح سنت سمجھتی تھیں جیسا کہ مونچھیں کاٹنا، زیر ناف بال صاف کرنا سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی کی بھی دین میں وہی حیثیت ہے جو مونچھیں کاٹنے، زیر ناف بال صاف کرنے، دانتوں اور منہ کی صفائی اور استنجا کرنے کی ہے۔
    سیدہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مونچھوں کو کاٹنے اور داڑھی کو معاف رکھنے کا حکم دیا۔ (موطاء، ابواب الشعر، حدیث 2748)
    اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مالک کے زمانے میں لوگ داڑھی کو سنت سمجھتے تھے۔ واضح رہے کہ امام مالک کا زمانہ وہ ہے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے براہ راست فیض یاب ہونے والے تابعین ابھی زندہ تھے اور اپنے شاگردوں کو صحابہ کا علم منتقل کر رہے تھے۔ ہمارے علم میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ امام مالک کی بیان کردہ اس روایت پر کسی نے تنقید کی ہو۔اگر تابعین کے نزدیک داڑھی سنت نہ ہوتی تو لازماً کوئی امام مالک کی بیان کردہ اس روایت سے اختلاف کرتا لیکن ایسا کوئی اختلاف ہمارے علم میں نہیں ہے۔
    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالحین کے ہاں داڑھی بطور سنت رکھی جاتی تھی اور اس معاملے میں فاضل مصنف کی رائے درست نہیں ہے۔ انہوں نے اپنے بعض بیانات میں اوپر بیان کردہ بخاری کی روایتوں کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ یہ مکمل نہیں ہیں اور پوری بات مسند احمد کی اس حدیث میں بیان ہوئی ہے:
    ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے بعض بزرگوں کے پاس گئے جن کی داڑھیاں سفید تھیں۔ آپ نے فرمایا: “اے گروہ انصار! داڑھیوں کو سرخ اور زرد میں رنگا کرو اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔” راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! اہل کتاب تو ہمیشہ پاجامہ پہنتے ہیں اور تہبند نہیں باندھتے۔” فرمایا: “تم پاجامہ بھی پہنو اور تہبند بھی اور اہل کتاب کی مخالفت کرو۔” عرض کیا: “یا رسول اللہ! اہل کتاب موزے پہنتے ہیں اور جوتے نہیں پہنتے۔” فرمایا: “تم موزے بھی پہنو اور جوتے بھی۔” ہم نے عرض کیا: “یا رسول اللہ! اہل کتاب تو اپنے داڑھیوں کو کم کرتے ہیں اور مونچھوں کو بڑھاتے ہیں۔” فرمایا: “تم مونچھیں کم کرو اور داڑھیوں کو وافر رکھو اور اہل کتاب کی مخالفت کیا کرو۔” (مسند احمد، باب ابو امامہ باہلی)
    ان کی یہ بات بھی درست نہیں ہے۔ مسند احمد کی حدیث سیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ کی ہے جبکہ بخاری و مسلم کی روایتیں سیدنا ابن عمر اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم کی ہیں۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ بالکل الگ الگ واقعات ہیں۔
    تاریخ کی کتب میں شاہ ایران کے قاصدوں کا واقعہ ہے اور علامہ ناصر الدین البانی (1914-1999)نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس واقعے میں یہ بیان ہوا ہے کہ جب شاہ ایران کے قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے تو ان کی منڈی ہوئی داڑھیوں اور بڑھی ہوئی مونچھوں کو دیکھ کر آپ نے سخت اظہار ناپسندیدگی فرمایا۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں ایسا کرنے کو کس نے کہا ہے۔ وہ بولے کہ ہمارے رب کسری نے۔ آپ نے فرمایا کہ میرے رب نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں داڑھیوں کو بڑھاؤں اور مونچھوں کو پست کروں۔
    اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ داڑھی تو ایک ایسی فطری سنت ہے جس کی توقع صرف مسلمانوں سے ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں سے بھی کی جا رہی تھی ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شاہ ایران کے ان قاصدوں کی منڈی ہوئی داڑھیوں کو دیکھ کر اظہار نفرت نہ فرماتے۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ قدیم دور میں داڑھی منڈوانے کو مثلہ جیسا برا عمل سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ امام شافعی (150-204/767-819) کے نزدیک کسی کی زبردستی داڑھی مونڈنے پر سزا مقرر کرنے کا حکم ہے۔
    (حوالہ بلاگ :مبشر نذیر)

    • fikrepakistan نے کہا:

      ارتقاء حیات، آپ نے جتنی احدیث درج کی ہیں وہ سب تحریر میں شامل ہیں اور انکی نوعیت بھی درج کردی گئی ہے۔

      • آپ کے نقطۂ نظر کوکیا کہوں
        یہ تو وہی بات ہو گئی کہ جیسے بریلوی میلاد رسول ﷺ کو قرآن سے ثابت کر دیں
        کسی بھی بات کو اپنی نطر سے نہ دیکھیں
        اصحاب رسولﷺ ہر معاملے کی دلیل ہین

        اور ہم اسی کو سنت سمجھتے ہیں کہ جسے صحابہؓنے جاری رکھا

        آپ کو اللہ راہ دکھائی اتنے عرصے بعد آپ کو الہام ہوا کہ اسے سنت نہ کہا جائے
        مسلمانان عالم نبیﷺ کے بعد دھوکے میں تھے یہ آپ کو خبر ہوئی کہ اسلام میں داڑھی سنت نہیں ہے

        اور آپ کے سے کئی جدید علماء اسے جائز بھی کہتے ہیں
        اللہ ہمیں صحابہ کا سا اسلام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
        اور آپ کو فکر پاکستان سے بجائے فکراسلام عطا فرمائے

        آمین

      • fikrepakistan نے کہا:

        پہلے بھی عرض کیا تھا ایک بار پھر آپکی خدمت میں عرض ہے کہ اختلاف اس بات پر ہرگز نہیں ہے کہ داڑھی صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ نے رکھی ہے یا نہیں، اس حقیقت سے کوئی بھی انکاری نہیں ہے رکھی ہے بلکل رکھی ہے، اختلاف اس بات پر ھے کہ داڑھی سنت ہے یا نہیں؟

        سنت کیوں کے پیور دین ہے، یا تو قران میں دین ہے یا سنت میں ہے اسکے علاوہ کسی چیز میں دین نہیں ہے، تو اب کوئی اگر کسی چیز کو سنت قرار دیتا ہے تو اسے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ چیز دین ہے۔ یا اس چیز کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور دین جاری فرمایا ہے۔ پہلے بھی عرض کیا تھا پھر عرض ہے کہ دین اسلام چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے، ایک۔ تطہیر بدن، دو۔ تطہیر خورد و نوش، تین۔ تطہرِ نفس، چار۔ عبادات۔ آپ دین کا کوئی بھی حکم اٹھا کر دیکھہ لیں وہ آپکو ان چار چیزوں سے باہر نہیں ملے گا۔

        داڑھی ان چاروں چیزوں میں نہیں آتی، کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہر بدن کی چیز ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہیر نفس کی چیز ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی تطہیر خورد و نوش میں آتی ہے؟ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ داڑھی عبادات میں آتی ہے؟۔

        اور جس حدیث کی بنیاد پر لوگ اسے سنت قرار دیتے ہیں وہ حدیث آپ نے بھی پڑھہ رکھی ہے سب جانتے ہیں کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجوسوں، اہل کتاب، اور مشرکوں سے مخالف وضع اپنایا کرو، داڑھیاں بڑی اور مونچھیں رکھا کرو اور مونچھوں کو تراش لیا کرو۔

        اگر آپ اس حدیث سے یہ اخذ کرتی ہیں کے اس سے داڑھی کی حرمت قائم ہوگئی ہے اور یہ سنت کے درجے پر فائز ہوگئی ہے تو پھر آپکو بخاری شریف کی اس حدیث کو بھی ماننا ہوگا اور بال رنگنے کا بھی سنت ماننا ہوگا جس میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ، تم اہل کتاب سے مختلف وضع اپنایا کرو وہ اپنے بال نہیں رنگتے مگر تم رنگ لیا کرو۔

        ان دونوں احدیث کا مغز ایک ہی ہے کہ اہل کتاب، مشرکوں اور مجوسوں سے مختلف وضع اپنایا کرو، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک حدیث میں دئے گئے بیغام کو ہم سنت مان رہے ہیں اور دوسری حدیث میں دئیے گئے پیغام کو کوئی اہمیت ہی نہیں دے رہے اور بالوں کے رنگنے کو سنت قرار نہیں دے رہے؟
        اس بات کا جواب دے دیں برائے مہربانی۔

  6. Darvesh Khurasani نے کہا:

    فکر پاکستان بھائی
    آپ نے جو نکتہ اُٹھایا ہے کہ اگر داڑھی کو رنگنا سنت موکدہ نہیں تو پھر داڑھی رکھنے پر اتنا زور کیوں نیز اسکو کیوں سنت قرار دیا گیا ہے۔ میں نے اس بات پر جو غور کیا تو مجھے آپکا یہ سوال پسند آگیا۔
    پہلے اگر ہم دیکھ لیں کہ سنت کیا ہے ،اور اسکی اقسام کیا ہیں ،تو شائد بات آسان ہوجائے۔
    سنت کہتے ہیں نبی کریم (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) کی اقوال ،افعال و تقریرات (کوئی صحابی ایک کام کرئے اور پیغمبر اسکی تائید کرئے یا سکوت اختیار کرئے،یا اسکی نکیر نا فرمائے) کو ۔
    اسکے بعد سنت کی دو طرح سے تقسیم ہوئی ہے۔
    (1) موکدہ:وہ سنت جس پر نبی کریم (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) نے خود بھی مواظبت (پابندی) کی ہو اور امت کو بھی اسکی تعلیم دی ہو۔
    (2) غیر موکدہ: وہ کام جو کبھی تو حضور (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) نے کیا ہو اور کبھی اسکو چھوڑا ہو،یا امت کو اسکی تعلیم تو دی ہو لیکن اسکی مداومت ظاہر نہ ہو
    اب یہاں اگر ہم دیکھ لیں تو داڑھی کو رنگنا اور داڑھی نا کٹوانا دونوں احادیث سے ثابت ہے ،اور یہ احادیث اقوال رسول اللہ (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) ہیں۔
    لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ داڑھی رنگنا نبی کریم (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) کی قول سے ثابت ہے ،لھذا سنت تو ہوا۔ لیکن میرے علم کے مطابق داڑھی رنگنے کا فعل رسول اللہ (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) سے ثابت نہیں ۔ حالانکہ اخری عمر میں نبی کریم (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) کے چند بال سفید ہوئے تھے۔
    اسکے برعکس داڑھی رکھنے کا حکم قول نبی کریم (صل اللہ تعالیٰ علیہ والہ وصحبہ وسلم) سے ثابت ہے اور ساتھ میں فعلا بھی داڑھی رکھی ہے۔نیز اس داڑھی رکھنے کی موظبت بھی کی ہے، اور ساتھ ہی نہ رکھنے پر نا پسندیدگی کا اظہار فرمایا ہے۔
    تو اسمیں قول و فعل دونوں جمع ہو گئے ہیں۔ اسلئے داڑھی کو سنت موکدہ میں شمار کیا جاتا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش خراسانی بھای، یہ بات آپ بھی بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ یہ سنت موکدہ اور غیر موکدہ بعد کے زمانے کی ٹرم ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تو صرف سنت ہی ہوا کرتی تھی، یہ فقہہ کی تشریح ہے۔
      سنت کیوں کے دین ہے اسلئیے ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر فعل کو سنت نہیں کہہ سکتے، سنت کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ اسکا دین ہونا لازمی ہے، اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی چیز کو دین بناتے ہیں تو پھر اس کو حکم کا درجہ دیا جاتا ہے اسکی بنیاد کہیں نہ کہیں قرآن سے بھی ملتی ہے، اسکی مکمل تشریح کی جاتی ہے، اس حکم پر عمل نہ کرنے کی صورت میں عذاب کی وعید سنائی جاتی ہے۔
      داڑھی کے حوالے سے ہمیں کہیں کوئی ایسی بات نہیں ملتی جس میں داڑھی نہ رکھنے پر عذاب کی وعید دی گئی ہو، یہاں تو لوگ گدو کھانے کو بھی سنت قرار دیتے ہیں، سنت کا پہلا اصول ہی یہ ہے کہ اس چیز کا دین ہونا لازمی ہے۔ داڑھی فطری چیز ہے مرد کی فطرت میں ودیت کر کے بھیجا ہے اللہ نے مسلمان اسے داڑھی رکھیں گے، بنی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رکھی ہے، صحابہ اکرام رضی اللہ عنہہ نے رکھی ہے صالحین رکھتے رہے ہیں، یہ بہت اچھی چیز ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پسند بھی فرمائی ہے اس میں بھی کوئی شک نہیں ہے، بس بات یہاں تک ہی ہے۔ داڑھی سنت ہے ایسی کوئی دلیل قرآن، یا حدیث کے ماخذ سے نہیں ملتی۔
      اور جہاں تک یہ بات کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بال نہیں رنگتے تھے، اسکی کوئی دلیل ہے تو پیش کردیں، کیونکہ یہ بات کسی طرح بھی ہضم نہیں ہوتی ہے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو یہود و نصاریٰ سے مختلف وضع اپنانے کا حکم دے رہے ہیں اور خود رہنما ہوتے ہوئے اس پر عمل نہیں کر رہے، یہ بات آپ نواز شریف، یا زرداری صاحب کے بارے میں کہتے تو ضرور مان لیتا لیکن میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت ہرگز ایسی نہیں کہ دوسروں کے ایک کام کا حکم دیں اور خود اس پر عمل نہ کریں۔

  7. Darvesh Khurasani نے کہا:

    ایک جگہ دیکھا ہے کہ غامدی صاحب کے نزد سنت صرف وہ ہے جو کہ دین ابراہیمی میں بھی سنت تھا،اور پھر اسمیں جو چیزیں ذکر کی گئی ہیں۔

    انمیں بشمول دیگر ان دو چیزوں کا بھی ذکر ہے 1) ملاقات کے وقت سلام ۔2) چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا۔
    اور انکو سنت کہہ کر دین کہا گیا ہے ۔یہ غامدی کی کتاب (میزان ) میں اسکا ذکر کیا گیا ہے۔

    لیکن جو بات میرے سامنے آئی ہے وہ یہ کہ جیسا کہ آپ نے کہا کہ دین کا حکم دیا جاتا ہے اور نافرمانی پر عذاب کی وعید بھی ہو ۔ لیکن مذکورہ دو چیزوں کے نا کرنے پر شائد کوئی عذاب نہیں ہے۔

    اگر ہو اور مجھے نہیں معلوم تو اگر اسکا ذکر ہوجائے تو مجھے بھی اسکا علم ہوجائے گا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      درویش خراسانی بھائی، جیسا کہ تحریر میں بھی عرض کیا ہے کہ دین چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے، تطہیرِ بدن، تطہیرِ خورد و نوش، تطہیرِ نفس، عبادات۔ آپ نے جن دو چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ دونوں دعائیں ہیں، اللہ کا شکرانہ ادا کرنا عبادات میں ہی شامل ہے، مسلہ یہ ہے کہ داڈھی کا کو آپ کیا کہیں گے؟ نہ یہ تطہیرِ بدن کی چیز ہے، نہ یہ تطہیر نفس کی چیز ہے، نہ یہ تطہیر خورد و نوش میں آتی ہے، اور نہ ہی عبادات میں۔

      اس وقت میرے پاس میزان موجود نہیں ہے ہو سکے تو آپ میزان کا مطالعہ کرلیں اس میں مزید تفصیل مل جائے گی آپکو۔

  8. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    فطرت کی مد میں آپ کی تحریر سے محسوس ہوتا ہپے کہ آپ بہت اُونچے درجے کے مفکر صاحبِ علم ہیں ۔ صرف اتنا بتا دیجئے کہ اگر ایک بچہ اکیلا جنگل میں جہاں صرف جنگلی جانور رہتے ہوں پل کر جوان ہو اور دوسرا کراچی ۔ دہلی ۔ لندن یا نیویارک میں پیدا ہو کر جوان ہو تو کیا دونوں کی فطرت ایک ہی ہو گی ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      بلکل ایک ہی ہوگی، اللہ تعالیٰ دنیا کے ہر انسان کو دینِ فطرت پر ہی پیدا کرتا ہے، یہ دنیا میں آنے کے بعد اسکا ماحول اور اسکے حالات طے کرتے ہیں کہ اس نے کس طرف جانا ہے یا اسے کیا کرنا ہے، جو لوگ جنگل میں پیدا ہوئے اللہ نے انکی فطرت میں بھی حیاء رکھہ کر بھیجی ہے اسلئیے ہی وہ لوگ کپڑوں کے بجائے پتوں سے اپنا جسم ڈھانپتے ہیں، کیوں کے حیاء خود دین فطرت کا حصہ ہے، اور یہ جو آپ نے جنگل اور بڑے بڑے شہروں کے لوگوں کا ملاپ کیا ہے اسکا تعلق فطرت سے نہیں علم سے ہے۔ جو آج کراچی یا امریکہ میں پرورش پا رہا ہے اگر وہ جنگل میں ہوتا تو اسکے علم کی نوعیت بھی وہ ہی ہوتی جو اس وقت کسی جنگل میں رہنے والے انسان کی ہوگی۔ فطرت اور علم کو گڈ مڈ کر گئے ہیں آپ۔

  9. ایم۔دانیال نے کہا:

    داڑھی سنت ہے یا نہیں ہے؟ رکھنی چاہئے یا نہیں؟ اس بحث سے قطع نظر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم انفرادی اور اجتماعی سطح پر اپنے معاملات اور اپنے اعمال درست کریں بجائے اس کے کہ ہم ظاہری وضع و قطع پر اپنا زور صرف کریں۔ سزا و جزا کا انحصارانسان کے نیک وبد اعمال پر ہے داڑھی رکھنے،کالی پیلی ٹوپی پہننے، پائنچے اوپر نیچے کرنے پر نہیں۔ ہمارے معاشرے کی اخلاقی و معاشرتی انحطاط کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ ہماری عبادات اور ظاہری وظع قطع تو مسلمانوں والی ہے لیکن ہمارے اعمال ہمارے دینی تعلیمات کے بلکل برعکس ہیں ۔ اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو داڑھی بھی رکھتے ہیں نماز بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں لیکن جھوٹ بولتے ہیں ، غیبت کرتےہیں، تکبر کرتے ہیں، ناپ تول میں بے ایمانی کرتے ہیں، وعدہ خلافی کرتے ہیں، جھوٹ اور دھوکہ دہی سے اپنی چیزیں بیچتے ہیں،اپنے سے کم تر کو حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور بندوں کے حقوق غصب کرتے ہیں۔
    کیا یہ کھلا تضاد نھہیں ہے ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      ایم دانیال صاحب، میں آپکی بات سے سو فیصد متفق ہوں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کسی شخص کی معلومات لینے کی غرض سے لوگوں سے پوچھا فلاں شخص کیسا ہے؟ لوگوں نے کہا، بہت نمازیں پڑھتا ہے، بہت روزے رکھتا ہے، بہت عبادت گزار ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ سب چھوڑو یہ بتاو کے لوگوں کے ساتھہ معاملات میں کیسا ہے؟۔

      اور جہاں تک رہی بات داڑھی کی تو میں اب بھی اپنی بات پر قائم ہوں داڑھی کسی بھی طرح سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہے ہرگز نہیں ہے۔ میں نے اپنی بات دلیل سے پیش کی ہے اگر کوئی کہتا ہے کہ داڑھی سنت ہے تو پھر دلیل کا جواب دلیل سے لائے۔

  10. Shadab Ansari نے کہا:

    کیا کوئی بتا سکتا یے کی مندرجہ ذیل اصول دین کس نے بنایا ؟
    "دین چار چیزوں کا احاطہ کرتا ہے، تطہیرِ بدن، تطہیرِ خورد و نوش، تطہیرِ نفس، عبادات۔ آپ نے جن دو چیزوں کا ذکر کیا ہے وہ دونوں دعائیں ہیں، اللہ کا شکرانہ ادا کرنا عبادات میں ہی شامل ہے، مسلہ یہ ہے کہ داڈھی کا کو آپ کیا کہیں گے؟ نہ یہ تطہیرِ بدن کی چیز ہے، نہ یہ تطہیر نفس کی چیز ہے، نہ یہ تطہیر خورد و نوش میں آتی ہے، اور نہ ہی عبادات میں۔”

    میرے لئے اتنا جاننا ھی کافی ہے کہ میرے نبی پاک ﷺ نے داڑھی رکھنے کا حکم دیا ھے اور یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پسندیدہ عمل ہے۔ امت کے صالحین اور آپ ﷺ سے محبت رکھنے والے آج تک اس پر عمل پیرا ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      شاداب صاحب، یہ اصول اللہ نے ہی وضع فرمایا ہے، اگر آپ کے پاس ایسی کوئی معلومات ہے کہ جو دین ہے اور ان چار چیزوں سے باہر ہے تو پیش کیجئیے تاکے ہم سبکی معلومات میں اضافہ ہوسکے، آپ نے شائد پوسٹ کو ٹھیک سے نہیں پڑھا، میں نے لکھا ہے کہ داڑھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھی ہے صالحین رکھتے آئے ہیں یہ ایک فطری چیز ہے رکھنی چاہئیے بس یہیں تک ہے یہ بات، اگر کوئی اسے دین بناتا ہے تو پھر اسے ثابت کرنا پڑے گا کہ یہ کیسے دین ھے؟ میں نے اس ضمن میں مصر کے مفتیِ اعظم کا فتویٰ بھی پیش کیا ہے، اور جہاں تک رہی بات نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی تو ایسا کوئی حکم بطور دین جاری نہیں کیا گیا ہے، اسکی مثال میں نے تحریر میں ہی دی ہے بالوں کے احترام والی حدیث سے، کہ بالوں کا احترام کرو، معنیٰ اسکے یہ ہی ہیں کے اگر بال رکھو تو پھر انہیں بنا سنوار کر رکھو، ٹھیک یہ ہی بات معنیٰ داڑھی کے حوالے سے ہیں کہ اگر داڑھی رکھو تو پھر اسطرح رکھو کہ مونچھیں پست اور داڑھی بڑھی ہو نہ کہ اوباشوں کی طرح کہ مونچھیں بڑی بڑی اور داڑھی گھٹی ہوئی ہو۔

  11. atiq ur rehman نے کہا:

    بہت خوشی ہویئ

  12. محمد نے کہا:

    السلام علیکم۔
    سفید بالوں کو رنگنے اور بالوں کے احترام یعنی سنوارنے والے حدیث کا حوالہ دیجئے۔ تاکہ مجھے یقین ہو جائے۔ کہ یہی احادیث بھی صحیح درجے کا ہے۔
    دوسرا سوال ۔ کہ واقعی صحیح، ضغیف یا موضوع حدیث میں بالوں کو رنگ نہ دینے کا ذکر نہیں ہے۔
    برائے مہربانی ضرور جواب دیجئے۔
    جزاک اللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s