پاکستان میں وہ ہوتا ہے جو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔


پیسہ حرام کا ہے لیکن مرغی ذبح کرنے سے پہلے قصائی کو بار بار تاکید کی جاتی ہے بھائی اللہ ہواکبر ضرور پڑھہ لینا۔

قصائی جس بکرے پر بڑے زور و شور سے اللہ ہواکبر پڑھہ کر ذبح کرتا ہے تھوڑی دیر بعد اس ہی بکرے کے گلے میں پائپ ڈال کر پانی کی مشین چلا دیتا ہے پانی کے پریشر سے گوشت کا وزن بڑھہ جاتا ہے۔

ابھی ایک پروگرام دیکھا جس میں بازاروں میں ملنے والی حلیم میں گوشت کی جگہ بھینس کے کان ڈالے جاتے ہیں جس سے حلیم گاڑھا ہوجاتا ہے اور گوشت کا خرچہ بھی بچ جاتا ہے۔

یہاں اسپتالوں سے استعمال شدہ سرنجز کو ری سائیکل کر کہ کولڈ ڈرنکس اور دیگر مشروب پینے کے لئیے اسٹرو تیار کی جاتی ہے، اسٹرو جو کہ کولڈ ڈرنک کے ساتھہ مفت دی جاتی ہے، اب اندازہ کریں کے یہاں جو چیز انسان خرید کر استعمال کرتا ہے وہ تک غلاضت سے بھرپور اور ملاوٹ شدہ ہوتی ہے تو پھر جو چیز مفت دی جاتی ہوگی اسکی غلاضت کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔

ابھی پچھلے دنوں ایک اندھے شخص کو ڈرائیونگ لائسنس دے دیا گیا، جس پر بہت بھد اڑی ہے۔

تنظیم کا نام کیا ہے؟ جماعت اسلامی، جماعت اسلامی کے انتخابی امیدوار عثمان شریف صاحب کا یہ حال ہے کہ الیکشن کمیشن کو دوسرا کلمہ نہیں سنا سکے، تو جو اسلام کا نام لئیے بغیر پاکستان میں بربادی پھیلا رہے ہیں انکے مذہبی شعور کا کیا حال ہوگا؟۔

کفار سفر سے پہلے کوئی دعا نہیں پڑھتے، لیکن نہ انکی ٹرینیں لیٹ ہوتی ہیں، اور نہ ہی حادثے ہوتے ہیں جبکہ ہم سفر کی دعا پڑھہ کر سفر کا آغاز کرتے ہیں لیکن گھنٹوں نہیں دنوں کے حساب سے ٹرینیں لیٹ ہوتی ہیں اور حادثے بھی سب سے زیادہ ہمارے ہاں ہی ہوتے ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہم دعا پڑھنے کے بعد سمجھتے ہیں کہ اب ہم کتنی ہی لاقانونیت کریں اللہ ہمیں محفوظ رکھے گا۔

گلی کے مریل کتوں کے کانوں پر ایلفی لگا کر انہیں کھڑا کردیا جاتا ہے خریدار اسے ایلسیشن سمجھہ کر خرید لیتا ہے۔

ایک آدمی اللہ کی آزاد مخلوق پرندوں کو قید کرتا ہے اور دوسرا انہیں ثواب کی نیت سے پیسے دے کر آزاد کروا دیتا ہے یوں دونوں کا کام ہوجاتا ہے۔

یہ واحد ملک ہے جہاں لوگ حج پر جانے کے لئیے بھی رشوت دیا کرتے ہیں، تاکے وہاں زرا اچھا اور کعبے سے قریب کوئی رہنے کا بندوبست ہوسکے۔

یہ واحد ملک ہے جہاں بیسن سے زیادہ مہنگی چنے کی دال ہوتی ہے، بیسن چنے کی دال سے بنتا ہے یعنی چنے کی دال کو پیسنے کے پروسسز سے گزارنے کے بعد بیسن بنتا ہے یعنی ایک کلو دال میں سے کم از کم آدھا پاو وزن تو کم ہو ہی جاتا ہوگا، تو بیسن کو چنے کی دال سے مہنگا ہونا چاہئیے لیکن الٹا ہی حساب ہے اور وہ اسلئیے ہے کہ وہ چنے کی دال کا بیسن ہوتا ہی نہیں ہے وہ آسٹریلیا سے درآمد کیا ہوا پیلا مٹر ہوتا ہے جسے پیس کر چنے کی دال کا بیسن کہہ کر بیچا جاتا ہے۔

اچھی کتابیں کسی بھی معاشرے کی تربیت کے لئیے بنیادی کردار ادا کرتی ہیں، اپنے بچپن میں تو جگہ جگہ لائبریریاں دیکھی تھیں لیکن اب ان لائبریریوں والوں نے کتابوں کی جگہ سی ڈیز رکھہ لی ہیں، اب یہاں ہر شخص کی ایک ہی پسندیدہ بک رہ گئی ہے اور وہ ہے چیک بک۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نواز شریف سے ملاقات کے لئیے انکے گھر گئے وہ لکھتے ہیں کہ میں نے نواز شریف کے پورے گھر میں صرف ایک ہی کتاب دیکھی اور وہ تھی ٹیلیفون ڈائریکڑی۔

یہاں گونگا چیخ چیخ کر بہرے کو سنا رہا ہے اور بہرہ سن کر اندھے کو دکھا رہا ہے، کہ کیسے ٹنٹا اپنے ہاتھوں میں کلاشنکوف لئیے لنگڑے کا پیچھا کر رہا ہے اور لنگڑا ایک سو بیس کی اسپیڈ سے بھاگا چلا جارہا ہے، یتیم کے والدین حادثوں کے جعلی کلیم وصول کر رہے ہیں، بے اولاد کی اولادیں معاشرے میں حرامی کے نام سے جانی جا رہی ہیں، جبکہ اصولاً ایسے بچے کا اپنا کیا قصور ہوتا ہے؟ حرامی بچے کو نہیں حرامی تو ایسے والدین کو کہنا چاہئیے، لیکن جہاں دماغ کا استعمال کفر سمجھا جاتا ہو ایسے معاشرے میں ایسی باتوں پر کون توجہ دے سکتا ہے؟۔

شہرِ آسیب میں آنکھیں ہی نہیں کافی

الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دے گا.

 

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

9 Responses to پاکستان میں وہ ہوتا ہے جو پوری دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔

  1. تنظیم کا نام کیا ہے؟ جماعت اسلامی، جماعت اسلامی کے انتخابی امیدوار عثمان شریف صاحب کا یہ حال ہے کہ الیکشن کمیشن کو دوسرا کلمہ نہیں سنا سکے، تو جو اسلام کا نام لئیے بغیر پاکستان میں بربادی پھیلا رہے ہیں انکے مذہبی شعور کا کیا حال ہوگا؟۔
    ________________________________________________________

    کم از کم مجھے یقین تھا کہ یہ پوسٹ ضرور آئے گی۔ اور عثمان شریف کا حوالہ ضرور ہوگا۔
    بات صرف اتنی تھی کہ عثمان صاحب غالباً بوکھلا ئے ہوئے تھے۔ پہلے ان سے پراپرٹی کے حوالے سے سخت سوالات کیے گئے‬، ‫کرائے کے مکان پر جرح کی گئی‬
    ‫پھر انکم ٹیکس والا سوالات کرنے لگا‬ ‫ابھی اس کی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ جج نے درمیان میں دوسرا کلمہ سنانے کو کہا‬ ‫موصوف کنفیوز ہوگئے اور چوتھا کلمہ سنادیا‬ پھر دوسرا سنانے لگے اور "اشھداللہ الہ” کہہ کر جج سے کہنے لگے کہ‬ ‫میں ترتیب بھول گیا ہوں۔۔۔۔۔ ‫پھر دوسرا کلمہ سنادیا۔۔۔۔‬
    ‫اور کلیر ہوگئے‬ ‫لیکن میڈیا صرف وہی کلب چلارہا ہے‬۔۔۔۔ ‫میں ترتیب بھول گیا ہوں۔۔
    یہ ایک ہیومن ایرر ہے جسے توڑ مروڑ کر پیش کیا جا رہا ہے اور چونکہ معاملہ جماعت اسلامی کا ہے اس لیے ناقابل معافی ہے۔۔۔

  2. بڑے افسوس کی بات ہے کہ جناب جواد صاحب کو پوری پوسٹ میں صرف جماعت اسلامی والی بات ہی نظر آئی حلانکہ تحریر ہمارے معاشرے کی صحیح عکاسی کر رہی ہے مگر ہم اسے قبول کرنے کئے تیار ہی نہی۔

    • میں تو بالکل تیار ہوں۔۔۔ اعتراض صرف اس بات پر ہے کہ چیزوں کو انکے سیاق و سباق سے الگ کرکے گھٹانے یا بڑھانے کی کوشش کی جائے۔ یہ افراط و تفریط ہمارا عمومی رویہ ہے ۔ ہم تنقید کے شوق میں مکمل منظر نامہ کو نہیں دیکھ پاتے۔ اور نتیجہ میں ہماری حالت اس ہوٹل کے بیرے کی ہوجاتی ہے۔ جہاں ایک آدمی کھانا کھانے کے بعد بل دینے سے انکار کردیتا ہے۔ نتیجتاً مینیجر اسکی پٹائی کرتا ہے اور دھکے دیکر ہوٹل سے نکال دیتا ہے۔ جب مفت خورہ ہوٹل سے نکلنے لگتا ہے تو ہوٹل کا بیرا اسکے ایک چپت رسید کردیتا ہے۔ مینیجر یہ دیکھ کر بولتا ہے کہ میں نے اس کی خوب پٹائی کر تو دی تھی پھر تم نے اسے کیوں مارا؟ بیرا کہتا کہ صاحب آپ نے اپنا بل وصول کرلیا تو میں اپنی ٹپ کیسے چھوڑتا۔۔۔
      تو جناب اس قوم کے نقادوں کی کیفیت ٹپ وصول کرنے والے بیرے کی سی ہوگئی ہے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        جواد بھائی، یہ تحریر تو بہت ہی دھندلا سا آئینہ ہے، شفاف آئینے کا یہ بلاگ متحمل نہیں ہوسکتا ورنہ جو کچھہ پاکستانی معاشرے میں ہورہا ہے اس سے کون انکاری ہوسکتا ہے؟ صرف کوئی ایک ایسی برائی بتا دیں جو ہمارے معاشرے میں پریکٹس نہیں ہو رہی۔ دنیا جن غلاضتوں کا سوچ بھی نہیں سکتی یہاں وہ وہ کام ہورہے ہیں، مجھے حیرت ہے کہ اتنی ہلکی پھلکی تحریر آپکو ایکذیجوریٹ نظر آئی ہے۔

  3. rasheed نے کہا:

    آپ کی تحریر میں ایک عجیب تضاد ہے-

    میں آپ کی اس بات سے متفق ہوں کہ حرام پیسے سے خریدی گی مرغی پر اللہ اکبر پڑھ دینے سے وہ حلال نہیں ہو جاے گی نیز یہ کی حرام کے پیسے سے صدقہ و زکوت دینے سے وہ پیسہ حلال نہیں ہہو جاے گا-

    آپ کی گذشتہ تحریریں اور موجودہ تحریر کا غالب حصہ اس بات پر زور دے دیا ہے کہ کسی بھی کام کو کرنے کے لیے اس کام کی ایس-او-پی پر ہی عمل کر کے ہی اسے ٹھیک طریقہ سے انجام دیا جاسکتا ہے، اسی سے ایک جسمانی و ذہنی صحت مند معاشرہ وجود پا سکتا ہے، یہاں بھی میں آپ سے متفق ہوں–
    لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آی کہ ایک آدمی کو اگر دوسرا کلمہ نہیں آتا تو جس کام کے لیے ایک فرد اپنے آپ کو پیش کر رہاے ہے اس سے اس کا کیا تعلق ہے

    ایک فرد اپنے آپ کو عوامی خدمت کے لیے پیش کرریا ہے نہ کہ مسجد کی امامت کے لیے-
    میرے خیال میں آپ کا یہ اعتراض آپ کی گذشتہ تحریروں سے اخذ کردہ آپ کے اپنے مسلک کے خلاف ہے-

    آپ بات یہاں تک ہو ہی گی ہے تو ایک آدھ سوال میں بھی پوچھ لوں کہ یہ تمام واقعات جو آپ نے اپنی تحریر میں ذکر کیے پیں ، انہیں روکنا کس کی ذمہ داری ہے-
    "کے-ایم-سی” / "سی-ڈی-جی-کے” کی اور یہ ادارہ کس کے زیرنگرانی کام کررہاہے ؟
    اگر آپ بھول گے ہیں تو آپ کو یاد دلادوں کہ یہ تمام ادارے متحدہ کی 1985 سے کام کر رہے ہیں، حضرت یہ کل 28 سال ہوتے ہیں، بیچ کے چند سال نکال دیجیے تب بھی کم از کم 20-23 سال متحدہ نے اس شہر پر بلا شرکت غیرے حکومت کی ہے-
    جن لابیریریز کا آپ رونا رو رہے ہیں وہ ہماری بھی دیوار گریہ ہے، میں نے خود تیموریہ لایبریری میں جا کر پوچھا کہ کتابیں کہاں چھپا دی گی ہیں، کیوں عوام کو اشو نہیں کرتے، تو لابریرین نے جواب دیا کہ ٹاون ناظم نے منع کیا ہے- یہ جس وقت کی بات میں کر رہا ہوں اس وقت "مصطفی کمال” جیسے "علم دوست”” سٹی ناظم تھے-

    • fikrepakistan نے کہا:

      رشید صآحب تبصرے کا بہت بہت شکریہ، آپ نے فرمایا کہ جس کام کے لئیے وہ صاحب خود کو پیش کر رہے ہیں اس میں کلمے کی کیا ضرورت ہے؟ اس پر تو بہت زیادہ اعتراض کیا جاسکتا ہے لیکن میں آپ سے اتنا ہی عرض کروں گا کہ پھر یہ سوال آپ الیکشن کمیشن سے کیجئیے، سپریم کورٹ میں رٹ داخل کیجئیے، آئین میں سے ایسی تمام دفعات نکلوائیے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ عوام کی نمائندگی کرنے والے شخص کو دیندار ہونا لازمی ہے اسے دین کے بارے میں بنیادی معلومات ہونی لازمی ہیں، اور رہی بات یہ کہ یہ سب کچھہ متحدہ کے دور میں ہوا ہے تو ہوا ہوگا بھائی میں نے کب انکار کیا ہے، لیکن کراچی میں تو متحدہ کے دور میں ہوا ہے باقی پاکستان میں سارے دودھہ سے نہائے ہوئے ہیں؟ کیا یہ ساری غلاضتیں پاکستان کے دوسرے حصوں میں نہیں پائی جاتیں؟ میری تحریر کا عنوان اگر غور سے پڑھہ لیتے تو شائد آپ کو صرف کراچی کی بات کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی، میں نے کراچی نہیں پاکستان لکھا ہے عنوان میں آپکی ٹانگ پتہ نہیں کیوں کراچی پر آکر ٹوٹ گئی، اسے ازلی بغضِ حسین ہی سے تعبیر کیا جاسکتا بس۔

  4. علی نے کہا:

    بالکل درست فرمایا۔ یہاں کسی بندے کو مایانہ کروڑ روپے حلال کی آمد بھی ہو تو وہ اس میں دس روپے حرام کے ملانے کو بے قرار رہتا ہے

  5. Sarwat AJ نے کہا:

    آپ کی بات کسی حد تک ٹھیک ہے، واقعی یہ سب معاشرے کے دوغلے روئیے ہیں، نظر بھی سب کو آتے ہیں، لیکن بدلنا کوئی بھی نہیں چاہتا۔ اور کہہ دیا جاتا ہے کہ ایسا تو ہوتاہے۔ گویا کسی کام کا ہوتے رہنا اس کی مشروعیت کا جواز بن جاتا ہے۔
    ایک بروڈکاسٹ پڑھی کہ ہم اپنے ضمیروں سے بھی دھوکہ کرجاتے ہیں۔ ضمیر آواز اٹھاتا ہے تو اسے ٹال دیتے ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بہت اچھی بات کہی ہے آپ نے ہم لوگ واقعی اپنے ضمیر سے بھی چیٹنگ کرتے ہیں جہاں وہ انگڑائی لیتا ہے وہیں اسے میٹھی سے لوری سنا کر سلا دیتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s