بڑی سوچ


باپ بچے کو بری طرح سے پیٹ رہا تھا، کسی نے پوچھا کیوں مار رہے ہو بچے کو؟ باپ بولا کل اسکا رزلٹ آنے والا ہے اور آج مجھے کام سے دوسرے شہر جانا ہے۔

وہ شخص بولا میرا بیٹا بھی فیل ہوگیا تھا لیکن کم بخت نے مجھے چھہ مہینے تک پتہ ہی نہیں لگنے دیا۔چھہ مہینے بعد میرے بیٹے کے دوست نے مجھہ سے شکایت کی کے آپکا بیٹا فیل ہوگیا ہے، میں نے کہا فیل ہوگیا تو کیا ہوا؟ امتحان کوئی کرکٹ کا ورلڈ کپ تھوڑی ہے جو پانچ سال میں ایک بار آئے گا۔

یہ تو خیر مذاق کی بات تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بچوں سے انکا بچپن چھین لیا ہے، بچہ صبح سے اٹھہ کر پڑھائی میں جت جاتا ہے اور رات گئے تک بھی اسے پڑھائی سے فرصت نہیں ملتی، دور کی مجبوری اپنی جگہ ہے لیکن ہم نے بچوں سے انکا بچپن چھینا ہے یہ حقیقت بھی اپنی جگہ ہے۔

انسان کو سوچ بڑی رکھنی چاہئیے، بڑا وہ ہی بنتا ہے جسکی سوچ بڑی ہوتی ہے، کسی نے کہا تھا کہ بچے کو پڑھا لکھا کر اس قابل نہ بنانا کے اچھی نوکری پہ لگ سکے، بلکہ اس قابل بنانا کہ پڑھے لکھوں کو نوکری پہ رکھہ سکے۔

ہمارے ہاں اکثر بڑے بڑے لوگ چھوٹی سوچ رکھتے ہیں، ایک سیاستدان کو ٹی وی پر دیکھا کے کسی غریب کے گھر کھانا کھا رہا تھا، لیڈر کا یہ کام نہیں ہے یہ چھوٹا پروجیکٹ ہے، لیڈر کو اس بات میں دماغ لگانا چاہیے کہ غریب کس دن اسکے جیسا کھانے کھائے گا؟

ہمارے مذہبی رہنما المعروف علماء اکرام کی یہ کوشش رہتی ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ مسجدیں بنوائیں، یہ انکا کام ہی نہیں ہے، یہ انکی شخصیت کے لحاظ سے بہت چھوٹا کام ہے، مذہبی رہنماء کی سوچ یہ نہیں ہونی چاہئیے کہ ملک میں مسجدیں بنوائیں، انکی سوچ یہ ہونی چاہئیے کہ کیسے پورے ملک کو مسجد بنائیں؟۔

گدھ نے چکور سے کہا تیری کوئی زندگی ہے زمین پر بیٹھا صرف چاند کو ہی تکتا رہتا ہے، مجھے دیکھہ میں کیسا انچا اڑتا ہوں کیا میری اڑان ہے، چکور نے جواب دیا ایسی انچی اڑان سے کیا فائدہ جس میں نظریں زمین پر پڑے مردوں کو تلاشتی ہوں، میں زمین پر رہتا ہوں لیکن اپنی سوچ میں چاند رکھتا ہوں، تو آسمان میں اڑتا ہے لیکن سوچ میں مردے رکھتا ہے۔

ابوالکلام آزاد نے کہا تھا کہ خواب وہ نہیں ہوتے جو تم سوتے میں دیکھتے ہو، خواب وہ ہوتے ہیں جو تمہیں سونے نہیں دیتے۔

پورے پاکستان کے سارے انسٹیٹیوٹ مل کر بھی اگر صرف ایک ابوالکلام آزاد نکال دیں تو سمجھو تعلیم کا حق ادا ہوا، اس ملک نے بہت کچھہ دیا ہے ہمیں، اس ملک کا قرض اتارنے کا ایک ہی طریقہ ہے اور یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ کم از کم کسی ایک مستحق بچے کی تعلیم کا زمہ اپنے سر لے کر اسے کسی لائق بنا دیں تو سمجھو کہ کسی حد تک ہم نے انسان ہونے کا حق ادا کردیا۔

آخر میں ایک لکھاری کہ خیالات جسکا نام مجھے بھی یاد نہیں۔

ایک کمرہ تھا جس میں، میں رہتا تھا ماں باپ کے ساتھہ

اور ساتھہ میں تھیں دو بہنیں، ایک میرا بھائی

کمرہ بہت بڑا تھا ہم لوگ تھے کم

اسلئیے اس کمی کو پورا کرنے کے لئیے مہمان بلا لیتے تھے ہم

پھر خوشحالی آئی پیسہ آیا، خوشحالی اس کمرے میں نہیں سماء پائی

جو چادر میرے پورے کنبے کے لئیے بڑی پڑتی تھی

اس چادر سے بڑے ہوگئے ہم سب کے پاوں

لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ دیواروں میں دراڑیں پڑتی ہیں

حقیقت یہ ہی ہے جب دراڑیں پڑتی ہیں تب دیورایں بنتی ہیں

پہلے ہم سب لوگ دیواروں کے پیچ میں رہتے تھے

اب ہمارے بیچ میں دیواریں رہتی ہیں

اور یہ خوشحالی مجھے کہاں سے کہاں تک پہنچا گئی

پہلے میں ماں باپ کے ساتھہ رہتا تھا

اب ماں باپ میرے ساتھہ رہتے ہیں

اور آج کل تو حالات یہ ہیں کہ ہم ایک گھر میں رہتے ہیں

لیکن ہمیں ایک دوسرے کا پتہ نہیں رہتا

پہلے کہیں باہر جانا ہوتا تھا تو باپ سے پوچھنے کی ہمت نہیں ہوتی تھی، ماں سے کہتا تھا ماں مجھے باہر جانا ہے ابو جان سے اجازت دلا دیں، ماں اجازت دلاتی تھی تو میں باہر جاتا تھا، پھر میں باپ کی اجازت سے باہر جانے لگا، پھر میں باپ کو بتا کر باہر جانے لگا، پھر میں باپ کو بغیر بتائے باہر جانے لگا، اور آج باپ کی ہمت نہیں کہ مجھہ سے پوچھہ سکے کہ بیٹے تو کہاں جارہا ہے؟

پہلے میں ماں باپ کے ساتھہ رہتا تھا

اب ماں باپ میرے ساتھہ رہتے ہیں

پھر ہم نے بنا لیا ایک مکان

ایک کمرہ اپنے لئیے

ایک کمرہ بچوں کے لئیے

ایک ریڈنگ روم

ایک باہر چھوٹا سا ڈرائینگ روم ان لوگوں کے لئیے جو میرے آگے ہاتھہ جوڑتے ہیں

 ایک وہ اندر بڑا سا ڈرائینگ روم ان لوگوں کے لئیے جنکے آگے میں ہاتھہ جوڑتا ہوں۔

 

 

Advertisements
This entry was posted in متفرقات. Bookmark the permalink.

8 Responses to بڑی سوچ

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    باتیں بہت اچھی ہیں ۔ صرف ایک تصحیح کی ضرورت ہے ۔ عُلماء کرام زیادہ مساجد بنانے کا نہیں کہتے بلکہ وہ داڑھی والے کہتے ہیں جو مسجد کو اپنا روزگار بناتے ہیں ۔ جن مساجد میں آج تک آپ نے نماز پڑھی ہے کبھی آپ نے ان کے اماموں کی تعلیم معلوم کی ہے اور اُن کے کردار و گفتار کا موازنہ کیا ہے ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب اسلام و علیکم، اتنی مدت بعد آپکو اپنے بلاگ پر دیکھہ کر بہت خوشی ہوئی، نیز یہ کہ میں آپکی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں، میرا اشارہ بھی ایسے ہی لوگوں کی طرف تھا جنہوں نے دین کو ہی روزگار بنایا ہوا ہے۔

  2. جو بات میں کرنا چاہ رہا تھا وہ جناب افتخار اجمل صاحب نے بیان فرمادی۔
    مضمون نہایت عمدہ ہے۔ جس میں آپ نے نہایت عمدگی سے اقدار کے زوال کو پیش کیا ہے۔

  3. Faisal Gujjar نے کہا:

    Bohat ache Likha haiapp nay bhai.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s