لے آئیں گے بازار سے دل و جاں اور


اسے ادراک ہوچکا تھا اب اسکی موت یقینی ہے وہ اس دنیا میں کچھہ ہی دن کا مہمان رہ گیا ہے، ڈاکڑوں کا تجویز کردہ علاج اتنا مہنگا تھا کے وہ خود کو بھی بیچ دیتا تب بھی اتنے پیسے اکھٹے نہیں کر پاتا جتنے علاج کے لئیے درکار تھے، اس نے سوچا ویسے بھی مجھہ جیسے بیمار لاچار انسان کو کوئی کیونکر خریدے گا؟۔

تین بیٹیاں ایک بیٹا اور ان میں سے کوئی بھی دس سال کی عمر سے زیادہ نہیں تھا، میرے بعد کیا ہوگا بچوں کا؟ میری بیوی بچوں کو سنبھالے گی یا نوکری کر کے انکا پیٹ پالے گی؟ کیا بنے گا میرے بعد میرے بیوی بچوں کا؟ بینک اکاونٹ میں پانچ سو روپے سے زیادہ رقم نہ تھی، زیورات پہلے ہی بک چکے ہیں، اپنے بیوی بچوں کے لئیے سوائے دکھہ پریشانی مفلسی اور محرومی کے کیا چھوڑ کے جارہا ہوں؟ یہ وہ سوالات تھے جنکا جواب اسکے پاس نہ تھا اور یہ سوالات اسے ایک بار کی موت سے پہلے سو سو بار مار رہے تھے۔

اس ہی سوچ میں ڈوبا وہ کب نیند کی بانہوں میں چلا گیا اسے پتہ ہی نہ چلا، آنکھہ کھلی تو پورا جسم پسینے میں شرابور تھا، یہ کیسا خواب دیکھا ہے میں نے؟ کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ اگر واقعی ایسا ممکن ہے تو میں کر گزروں گا یہ ہی ایک راہ ہے جس پر چل کر میں اپنے بیوی بچوں کے لئیے کچھہ کرسکتا ہوں۔

وہ فوراً بستر سے اٹھا کمپیوٹر آن کیا تھوڑی ہی تلاش کے بعد اسےخواب میں نظر آنے والی ویب سائٹ مل گئی ویب سائٹ پراسکی مطلوبہ تفصیلات کچھہ اسطرح سے تھیں۔

دماغ: پندرہ ہزار ڈالر

دل: بارہ ہزار ڈالر

جگر: دس ہزار ڈالر ، ارے نہیں جگر ہی تو ناکارہ ہوگیا ہے میرا یہ اب کسی کے کس کام کا اسے تو کوئی گباڑ کے بھاو بھی نہیں لے گا۔

گردے: پانچ ہزار ڈالر

آنکھیں: تین ہزار ڈالر

اس نے جلدی جلدی ساری رقم کا ٹوٹل کیا تو پینتیس ہزار ڈالر بن رہے تھے پھر ننانوے سے ضرب دینے کے بعد جو رقم سامنے آئی وہ پاکستانی روپے میں تقریباً چونتیس لاکھہ پینسٹھہ ہزار روپے بن رہی تھی، اگر یہ رقم ڈیفینس سیونگ میں محفوظ کر دی جائے تو بارہ فیصد کے حساب سے ہر مہینے چونتیس ہزار روپے میرے بیوی بچوں کو ملنے شروع ہوجائیں گے جو کہ میری موجودہ تنخواہ سے بھی کہیں زیادہ ہیں۔

بس یہ ہی ٹھیک ہے اسکے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں میرے پاس وہ زیرِ لب بڑبڑایا، لیکن علماء حضرات اور یہ پھپھوندی لگی ذہنیت کے لوگ تو مخالفت کریں کے میرے اس فعل کی پھر کیا کروں گا میں؟.

علماء کہتے ہیں جسم اللہ کی امانت ہے کسی انسان کو یہ حق نہیں کے وہ اللہ کی اس امانت میں خیانت کرے اسکے اندر کے انسان نے آواز لگائی، لیکن یہ امانت تو قبر میں چیونٹیاں کھا جاتی ہیں اس سے کہیں بہتر ہے میرے اعضاء انسانیت کے کام آجائیں اور ساتھہ ہی میرے بیوی بچوں کا بھی کچھہ بھلا ہو جاتا ہے تو یہ کسی طرح بھی غلط نہیں ہوسکتا، اللہ فرماتے ہیں جس نے ایک انسان کی جان بچائی اس نے گویا پوری انسانیت کی جان بچائی، اور پھر میرے جیسے قریب المرگ انسان کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے، میرے بعد میرے بچے سڑکوں پر بھیک مانگیں گے؟ یا میری بیوی کو انکے پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لئیے کوئی غلط راستہ اختیار کرنا پڑے گا؟ اس سب سے تو کہیں بہتر ہے کہ میں اپنے خواب پر عمل کر گزروں، اور ویسے بھی اسلام انتا سنگدل نہیں ہے کہ بندے کو ارشد پپو کی طرح ہاتھہ پاوں باندھ کر امن کمیٹی کے وحشی درندوں کے سامنے پھینک دے اور پھر اسکے ساتھہ وہ لوگ ایسا سلوک کریں جسکی مثال دورِ جہالت کے کفار سے بھی نہیں ملتی۔

اس معاشرے میں بسنے والے لوگوں نے، علماء نے سیاستدانوں نے مذہبی جماعتوں نے سیاسی جماعتوں نے کبھی میرے جیسے لوگوں کے مسائل کے لئیے کبھی آواز اٹھائی؟ پورے پاکستان میں گورنمنٹ ملازمین کی تعداد کتنی ہوگی؟ کروڑ ڈیڑھہ کروڑ ہوگی زیادہ سے زیادہ، چند لاکھہ لوگ ملٹی نیشنل کمپنیز میں ملازم ہونگے، باقی کے لوگ انسان نہیں ہیں کیا؟ ان لوگوں کو مرنے کے بعد گرئیجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ، پینشن وغیرہ مل جاتی ہے مگر میرے جیسے پرائیوٹ اداروں میں کام کرنے والے لوگ کیا کریں؟ انکے بچے انسان نہیں ہیں کیا؟ میرے مرنے کے بعد کہاں جائیں کے میرے جیسے لاچار انسان کے گھر والے؟ علماء کو جب نائب رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے ہوئے بھی امت کے حقیقی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے، نام نہاد سول سوسائٹی میرے جیسے پسے ہوئے لوگوں کے مسائل پر خاموش رہتی ہے، عدلیہ سے لے کر حکومت تک کوئی ہے جو میرے جیسے لوگوں کی زخم پرسی کرئے، آئے گا ان میں سے کوئی میرے بچوں کے زخموں پہ مرہم رکھنے؟ تو میں کیوں فکر کر رہا ہوں ان سب کی؟۔

اس سے پہلے کے کوئی اور خیال اسے اسکے ارادے سے روکتا، وہ آن لائن اپنے جسمانی اعضاء کی ایڈوانس بکنگ کروا چکا تھا۔

 

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

4 Responses to لے آئیں گے بازار سے دل و جاں اور

  1. کوشش کرنے سے یہ ملک اور اس کے حالات بدلیں گے۔ اور ایک دن ضرور بدلیں گے۔ مایوسی سے تو سے تو قطعی طور پہ حالات نہیں بدلے جاسکتے۔ ہمت نہ ہاریں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s