بندر اور انسان میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بندر لالچی نہیں ہوتا۔


اس نے پانچ سو بندر اور ایک آدمی اپنے ساتھہ لیا اور گاوں پہنچ گیا، گاوں کے باہر رک کر اس آدمی سے کہا تم یہاں بیٹھہ جاو اور فی بندر سو روپے کے حساب سے بیچنا، آدمی کو بندروں کے ساتھہ گاوں کے باہر چھوڑنے کے بعد وہ گاوں میں آیا اور منادی کروا دی کے جس کے پاس جتنے بندر ہیں وہ میرے پاس لے آئے میں دو سو روپے کے حساب سے بندر لینے آیا ہوں، گاوں کے لوگ خوش ہوگئے کہ باہر سو روپے میں بندر مل رہا ہے اور یہ بیوقوف ہم سے دو سو میں خریدنے کے لئیے تیار ہے، گاوں کے ہر آدمی نے سو روپے میں بندر خریدا اور دو سو روپے فی بندر کے حساب سے اس شخص کے بیچ دیا، یوں ایک ہی دن میں تمام بندر بک گئے، جاتے ہوئے وہ شخص گاوں والوں سے بولا تم لوگ دعا کرنا میرے بندر شہر میں اچھے داموں بک جائیں تو اگلی بار میں تم سے چار سو روپے فی بندر کے حساب سے خریدنے آوں گا یہ کہہ کر وہ شخص پانچ سو بندر لے کر گاوں سے چلا گیا۔

کچھہ ہی دنوں کے بعد وہ واپس لوٹا اس بار پھر اس نے اپنے آدمی سے کہا تم بندروں کے ساتھہ گاوں کے باہر ہی رکو اور اس بار فی بندر دو سو روپے کے حساب سے بیچنا، اسے ہدایت دینے کے بعد وہ گاوں والوں کے پاس پہنچا اورگاوں والوں سے بولا کہ آپکی دعا سے شہر میں بندر اچھے داموں بک گئے ہیں اسلئیےمیں دوبارہ لینے آیا ہوں اسلئیے جس کے پاس بھی بندر ہیں وہ لے آئے اس بار میں چار سو روپے فی بندر کے حساب سے خریدوں گا، لوگ دھڑا دھڑ گاوں کے باہر بیٹھے شخص سے دو سو روپے فی بندر کے حساب سے خرید کر اسے چار سو روپے فی بندر کے حساب سے بیچنے لگے، اس بار گاوں کے باہر بیٹھے شخص کے چند گھنٹوں میں ہی سارے بندر بک گئے، اور سارے بندر وہ گاوں والوں سے خرید چکا تھا، جاتے ہوئے وہ ایک بار پھر گاوں والوں سے مخاطب ہوا کہ آپ لوگ دعا کرنا کے اس بار بھی شہر میں بندر اچھے داموں بک جائیں تو اگلی بار میں آپ سے آٹھہ سو روپے فی بندر کے حساب سے خریدوں گا۔

کچھہ عرصے تک یونہی یہ سلسلہ چلتا رہا اور وہ ہر بار قیمت بڑھا کر گاوں والوں سے بندر خریدتا رہا، اس دوران صرف ایک تبدیلی آئی کے اب بندر والا ایک دن پہلے گاوں کے باہر آکر بیٹھہ جاتا اور لوگ ایڈوانس میں ہی بندر خرید کر رکھتے کہ جیسے ہی وہ خریدار آئے گا اسے بیچ دیں گے، اور وہ بھی اگلے ہی روز آجاتا یوں یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کے قیمت دس ہزار فی بندر تک پہنچ گئی، اس بار وہ جاتے ہوئے بولا کہ میرا بہت بڑا سودا طے ہوا ہے اگلی بار میں آپ سے زیادہ تعداد میں بندر لینے آوں گا اور اب کی بار میں آپ لوگوں سے فی بندر بیس ہزار کے حساب سے خریدوں گا۔

اب کی بار اس نے ایک دن پہلے اپنے بندے کو دس گنا زیادہ بندر لے کر بھیجا اور اسے ہدایت دی کے اس بار تم پندرہ ہزار فی بندر کے حساب سے بیچنا، جیسے ہی اسکا آدمی گاوں کے باہر پہنچا لوگ پہلے سے ہی اسکے منتظر تھے کسی نے اپنی بیٹی کے جہیز کا زیور بیچا، کسی نے گھر گروی رکھہ کر پیسے لئیے، کسی نے زیورات بیچ کر پیسے جمع کئیے، تو کسی نے زمین بیچ کر پیسے اکھٹے کئیے اور ہر شخص نے اپنی حیثیت سے کہیں زیادہ تعداد میں بندر خرید لئیے یوں دیکھتے ہی دیکھتے پندرہ ہزار فی بندر کے حساب سے گزشتہ تعداد سے دس گنا زیادہ بندر چند ہی گھنٹوں میں بک گئے۔

ایک دن گزار وہ نہیں آیا، دو دن گزرے وہ نہیں آیا، تین دن گزر گئے وہ نہیں آیا، یوں دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میں بدل گئے مگر وہ خریدار لوٹ کر نہیں آیا، آتا بھی کیسے؟ وہ اپنے ساتھی اور پانچ سو بندروں سمیت ایک نئے گاوں کا رخ کر چکا تھا جہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ اس گاوں میں اتنے انسان نہیں رہتے جتنے بندر رہتے ہیں، کیوں کے انسان تو قرض کے بوجھہ تلے دب کر مرچکے تھے، کسی کی بیٹی کا جہیز گیا، تو کسی کی زمین گئی، تو کسی کاگھر گیا، لوگوں کی اکثریت یہ صدمہ برداشت نہیں کر پائی، اور جو لوگ بچ گئے تھے وہ ہر وقت بندروں کواپنے سامنے بٹھا کرخود سے یہ سوال کرتے رہتے تھے کہ ان بندروں اور ہم میں کیا فرق ہے؟ میرے حساب سے تو بندر اور انسان میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بندر لالچی نہیں ہوتا۔

اس طرح کی جتنی بھی اسکیمیں ہوتی ہیں وہ دراصل پونزی اسکیم کہلاتی ہیں، چارلیس پونزی اٹلی سے تعلق رکھنے والے ایک فراڈئیے کا نام ہے یہ ہی شخص بانی ہے اس اسکیم کا، انیس سو بیس میں پہلی بار یہ اسکیم چارلیس پونزی نے ہی شروع کی تھی، اور اب جتنے بھی لوگ اس طرح کے گھناونے کاروبار کرتے ہیں وہ بنیادی طور پر چارلیس پونزی کے طریقہ کار کو ہی فالو کر کے یہ گھناونی اسکیمیں انٹرڈیوس کرواتے ہیں۔ چالیس پونزی کے بارے میں جاننے کے لئیے اس لنک کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔http://en.wikipedia.org/wiki/Ponzi_scheme

یہ تحریر لکھنے کا خیال اسلئیے آیا کے کراچی میں ایک عدد ایسی جعلی فائنانشل کمپنی لوگوں کے اربوں روپے لے کر فرار ہوگئی ہے، نیشن والا نامی یہ کمپنی آج سے تقریباً سات سال پہلے وجود میں آئی، یہ لوگ ایک لاکھہ روپے پر ماہانہ پانچ ہزار روپے پروفٹ کی مد میں دیا کرتے تھے، اور جتنی رقم آپ ایک سال کے لئیے فکس کروانا چاہئیں وہ رقم ٹھیک ایک سال بعد ڈبل کر دی جاتی تھی، میں بہ زاتِ خود ایسے کئی لوگوں کو جانتا ہوں جنہوں نے اپنے گھر کے زیور تک بیچ کر اس کمپنی میں انویسٹ کیا تھا، ایک صاحب تو ایسے بھی ہیں جو اپنا زاتی گھر بیچ کر خود کرائے کے مکان میں رہنے لگے اور بیچے ہوئے گھر کے لاکھوں روپے اس کمپنی میں انویسٹ کردئیے، آج یعنی گیارہ اپریل دو ہزار تیرہ کو یہ انکشاف ہوا کے کمپنی کے مالکان لوگوں کا پیسہ لے کر فرار ہوچکے ہیں آفس کو گورنمنٹ کی طرف سے سیل کردیا گیا ہے، آفس کے باہر متاثرین نے شدید احتجاج کیا، ایک اطلاع کے مطابق ایک عورت نے اپنے اوپر تیل چھڑک کر خود کو آگ لگا لی، ایک محتاط اندازے کے مطابق چار سو کروڑ روپے لوگوں نے اس کمپنی میں انویسٹ کئیے ہوئے تھے، میں تہہ دل سے ان تمام متاثرین کے دکھہ میں شریک ہوں میری دعا ہے کہ اللہ سب کی جان و مال کی حفاظت فرمائیں، آمین۔ http://www.nationwala.com.pk/ یہ ویب سائٹ اس ہی کمپنی کی ہے، آج جب میں نے اس ویب سائٹ پر وزٹ کیا تو ویب سائٹ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے ہیں،

(The site is underconstruction)

We’ll back soon

مجھے نہیں پتہ کہ اب نیشن والا اپنے بندر لے کر کس گاوں کس شہر کا رخ کرے گا، وی ول بیک سون کا مطلب تو یہ ہی ہے کہ، ہم بہت جلد واپس آئیں گے، خدا جانے اور کتنے لوگ اس ملک کے غلیظ سسٹم کی بھینٹ چڑھیں گے، اس پوسٹ کو اپنے حلقے میں زیادہ سے زیادہ پھیلائیں تاکے آپکا کوئی پیارا انسان سے بندر نہ بن جائے اور پھر کسی بندر کو سامنے بٹھا کرخود سے یہ سوال نہ کرے کہ تجھہ میں اور مجھہ میں کیا فرق ہے؟ اور میرے جیسے کسی شخص کو یہ کہنا پڑے، بندر اور انسان میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بندر لالچی نہیں ہوتا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to بندر اور انسان میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بندر لالچی نہیں ہوتا۔

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    اس میں مُلک کا کیا قصور ہے ؟ قصور اُن سب کا ہے جو دھوکہ کھانا پسند کرتے ہیں اور مُلک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں

    • fikrepakistan نے کہا:

      ساری دنیا میں کسی بھی سنگین واقع کا تعلق ملک سے نہیں ہوتا، لوگوں سے ہی ہوتا ہے، ملک ہوتا کیا ہے؟ زمین، کھیت، کھلیان، پہاڑ، دریا، سمندر، ندی نالے، ان سب چیزوں کو ملا کر لوگ ہی اسے ملک کا درجہ دیتے ہیں۔ ہاں اگر ملک میں منصفانہ سسٹم ہو تو اسطرح کے واقعات میں بہت زیادہ حد تک کمی آسکتی ہے، ہمارے ملک میں تو کوئی سسٹم ہی نہیں ہے جسکا جو جی چاہے وہ کرتا پھرے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ باقی رہی لوگوں کی بات تو ایسے معاشرے میں مجبوری میں لوگ ایسے ہی راستے پر چل پڑتے ہیں اگر حکومت اپنا کام طریقے سے کرئے تو شائد لوگ اتنی بڑی تعداد میں اسطرح اپنی تمام زندگی کی متاع کا رسک نہ ہیں، باقی یہ تو بین القوامی اصول ہےکہ، عقل کو غرض نہیں ہوتی۔

  2. واللہ اس بارے جب پتہ چلا تو مجھے بھی دلی دکھ ہوا اور کار سرکار نے عوام بے چاروں کو جو بے یارو مددگار چھوڑ رکھا ہے ۔ اس بارے بھی سخت افسوس ہے۔بہر حال ۔۔ دعا کی جئیے ۔۔

  3. پنگ بیک: کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔ | گیلی دھوپ

  4. پنگ بیک: کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے. آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔ | گیلی دھوپ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s