ہم میں اور مغرب میں کیا فرق ہے؟؟؟


ہمارے ہاں امام ضامن ہوتا ہے
انکے ہاں نظام ضامن ہوتا ہے

ہمارے ہاں سائیں ہوتے ہیں
انکے ہاں سائنس ہوتی ہے

انکے ہاں امین ہوتے ہیں
ہمارے ہاں کمین ہوتے ہیں

انکے ہاں تحقیق ہوتی ہے
ہمارے ہاں تضحیک ہوتی ہے

انکے ہاں بجلی ہوتی ہے
ہمارے ہاں کھجلی ہوتی ہے

انکے ہاں آسائیش ہوتی ہے
ہمارے ہاں آلائیش ہوتی ہے

انکے ہاں صبر ہوتا ہے
ہمارے ہاں جبر ہوتا ہے

انکے ہاں انصاف اندھا ھے
ہمارے ہاں انصاف بھینگا ہے

انکے ہاں انصاف ہوتا ہے
ہمارے ہاں انصاف, صاف ہوتا ہے

انکے ہاں میرٹ پر عمل ہوتا ہے
ہمارے ہاں میریٹ ہوٹل ہوتا ہے

وہ حالات سے لڑتے ہیں
ہم آپس میں لڑتے ہیں

انکے ہاں سائنس دان ہوتے ہیں
ہمارے ہاں مولوی صاحبان ہوتے ہیں

انکے ہاں سوچ ہوتی ہے
ہمارے ہاں ایک دوسرے کی کھوج ہوتی ہے

انکےہاں لوگ کام، عبادت کی طرح کرتے ہیں
ہمارے ہاں لوگ عبادت بھی سرکاری کام کی طرح کرتے ہیں

وہ لوگ جفا کش ہوتے ہیں
ہم لوگ وفا کش ہوتے ہیں

وہ لوگ وطن سے محبت کرتے ہیں
ہم لوگ وطن کی تجارت کرتے ہیں

ہمارے ہاں تعداد ہوتی ہے
انکے ہاں استعداد ہوتی ہے

انکے ہاں اصل ہوتی ہے
ہمارے ہاں نقل ہوتی ہے

انکے پاس ہر اک مسلے کا حل ہوتا ہے
ہمارے پاس ہر حل کے لئیے ایک مسلہ ہوتا ہے

انکے ہاں عقل کا استعمال ہوتا ہے
ہمارے ہاں مسل کا استعمال ہوتا ہے

وہ شجر کاری کرتے ہیں
ہم کاروکاری کرتے ہیں

وہ لوگ زندگی کو جیتے ہیں
ہم لوگوں کو زندگی جیتی ہے

انکے ہاں سوال اٹھانا فخر کی بات ہوتی ہے
ہمارے ہاں سوال اٹھانا کفر کے بات ہوتی ہے

وہ پیسے سے مذہب کماتے ہیں
ہم مذہب سے پیسہ کماتے ہیں

انکے ہاں تقویٰ ہوتا ہے
ہمارے ہاں فتویٰ ہوتا ہے

انکے وزیرِاعظم کا گھر کسی ایک گلی میں ہوتا ہے
ہمارے وزیرِاعظم کے گھر میں کئی گلیاں ہوتی ہیں

انکے ہاں حریف بھی قوم کے لئیے شریف ہوتا ہے
ہمارے ہاں شریف بھی قوم کے لئیے حریف ہوتا ہے

وہ زندگی کو جنگ سمجھتے ہیں
ہم جنگ کو زندگی سمجھتے ہیں

انہوں نے اپنے لوگوں کے لئیے کار ایجاد کی
ہم نے اپنے لوگوں کو بےکار کیا

وہ کائنات کو تسخیر کر رہے ہیں
ہم کائنات کو بے توقیر کررہے ہیں

انکا ایٹم بم لوگوں کی حفاظت کر رہا ہے
ہمارے لوگ ایٹم بم کی حفاظت کر رہے ہیں

وہ جدید نصاب بنا رہے ہیں
ہم اجمل قصاب بنا رہے ہیں

وہ تدبر کرتے ہیں
ہم تکبر کرتے ہیں

وہ پیٹ بھر کے کھاتے ہیں
ہم پلیٹ بھر کے کھاتے ہی

وہ زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں
ہم کھانے کے لئیے زندہ رہتے ہیں

ہم وسائل کا ضیاع کرتے ہیں
وہ ضیاع سے وسائل پیدا کرتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

11 Responses to ہم میں اور مغرب میں کیا فرق ہے؟؟؟

  1. Hasan نے کہا:

    ہمارے ہاں بھی سائنسدان ہيں

    • fikrepakistan نے کہا:

      حسن صاحب، آپ نے فرمایا ہمارے ہاں بھی سائنسدان ہوتے ہیں۔

      سکون تو تب ہو جب چھاوں صحن میں دیکھوں
      ایسے تو نظر گلی کا شجر بھی آتا ہے۔

      ہمارے سائنسدان بھی صرف نقل ہی مار رہے ہیں انکی، ہمارے سائنسدانوں نے اگر خود سے کچھہ ایجاد کر کے دنیا کو تحفہ دیا ہے تو برائے مہربانی بتائیے دنیا کو۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        اور آپ نے جو لنک دیا ہے ڈاکڑ عبدالسلام صاحب والا، تو ہماری قوم کی سوچ اتنی گھٹیا ہے کہ ہم نے اس عظیم سائنسدان کو بھی ملک بدر ہونے پر مجبور کردیا تھا، کیوں کے وہ ایک قادیانی تھے، اور ہمیں محبت ہے نقل مار اسلامی ایٹم بم سے۔

  2. anwer7star نے کہا:

    بڑی واضع تصویر کشی ہے، خاص طور پر تقابلی صورتحال کو جس خوبصورت طریقے سے بیان کیا ہے اور قابل تعریف ہے

  3. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    ایک بات آپ بھول گئے کہ آپ کے ہاں اُردو بولی جاتی ہے لیکن درست لکھنا نہیں آتی ۔ پتہ نہیں اُن کے ہاں جو زبان بولی جاتی ہے وہ درست لکھتے ہیں کہ نہیں ۔
    آپ کے ہاں سب کچھ خراب ہے اور اُن کے ہاں سب کچھ ٹھیک مگر عجیب بات ہے کہ آپ ابھی تک اُن کے نہیں ہوئے صرف دور سے ہی اُن کے غلام ہیں

    • fikrepakistan نے کہا:

      اسلام و علیکم اجمل صاحب، رات کے آخری پہر لکھی گئی ہے یہ تحریر اس وجہ سے کچھہ غلطیاں سرزد ہوگئیں جنہیں درست کردیا گیا ہے، توجہ دلانے کے لئیے بہت بہت شکریہ، رہی بات انکے دیس میں جاکر بسنے کی، تو میں نے ایسا کبھی بھی نہیں سوچا، میرا وطن پاکستان ہی میری محبت ہے، بات غلامی کی نہیں ہے یہ ہی حقیقت کے تو میں یا کوئی اور کیا کرسکتا ہے؟ ہم فوٹو گرافر ہیں پینٹر نہیں ہیں، جو منظر ہے اسکے تصویر کھینچ کر سامنے رکھہ دی، اب اگر منظر ہی غلیظ ہے تو اس میں کیمرے کا کیا قصور ہے؟۔

  4. بہت عمدہ ۔۔۔
    اس تقابل پر تو آزاد شاعری کا گمان ہو رہا ہے۔
    لیکن ایک بات یہ بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ انکے یہاں بھی یہ سب کچھ ایک دن میں نہیں ہوا ہے انہوں نے ترقی کی اس منزل تک پہنچنے کے لیے اس سے کہیں زیادہ پستیاں دیکھی ہیں جو ہم دیکھ رہے ہیں۔
    دوسری ایک بہت اچھی بات یہ محسوس ہورہی ہے کہ پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد میں تبدیلی کی خواہش بہت شدید ہے۔ مار ہم اکثریت کی اجتمائی بدحواسی اور شعور سے محرومی کے ہاتھوں مار کھا رہی ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      السلام و علیکم جواد بھائی، آپ نے درست فرمایا، میں نے گذشتہ پوسٹ میں بھی لکھا تھا کہ فرانس اور برطانیہ خود آپس میں سو سو سال کی جنگیں لڑ چکے ہیں، یہ ارتقاء کا عمل ہے جو راتوں رات تکمیل نہیں پاتا۔ لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کہ چھیاسٹھہ سال بعد بھی ابھی تک ہمارے ہاں یہ عمل شروع نہیں ہوسکا ہے، کہیں سے ابتداء تو ہوتی نظر آئے۔ تبدیلی کا میں بھی قائل ہوں اور اپنا ووٹ بھی اس بار تبدیلی کے لئیے ہی استعمال کروں گا، کسی جماعت کے لئیے نہیں نیک سیرت امیدوار کے لئیے۔

  5. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    و علیکم السلام و رحمۃ اللہ ۔ حضور ہماری قوم کے اجتمائی انحطاط کی اصل سبب ہمارا خود کو نہ پہچاننا ہے ۔ ہم اپنی اچھائیاں چھوڑ کر غیروں کی بُرائیاں اپنانے میں فخر محسوس کرتے ہین بمصداق اسکے کہ وہ ترقی کیوں نہ کریں اُن کا بچہ بچہ انگریزی بولتا ہے ۔ مجھے فخر ہے کہ میں اُردو میڈیم سکول کا پڑھا ہوں ۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کسی کی چوری کر کے نہیں اپنی عقل اور اللہ پر بھروسے سے کامیابی حاصل کی اور دنیا کو حیران کر دیا ۔ جن انجہیئروں نے غوری اور شاہین مزائیل بنائے وہ بھی نقل باز نہ تھے اور ان میں سے کوئی بھی امریکا یا برطانیہ کا پڑھا لکھا نہ تھا ۔ جس انجئر (سلطان بشیر الدیم محمود) نے چشمہ پلانٹ خالص پاکستانی علم سے بنایا وہ بھی انجیئرنگ کالج لاہور ہی کا پڑھا ہوا ہے ۔ اللہ کی کرم نوازی کہ مجھ سے جوانی میں وہ کام بھی کروا دیا جو جرمن انجنیئر سالہا سال کوشش اور تمام سہولیات کے باوجود نہ کر سکے تھے ۔ جب ہماری جان روشن خیال حکمرانوں سے چھوٹ جائے گی تو وقت خود بخود بدلے گا ان شاء اللہ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s