پوری قوم کو صادق و امین امیدوار مبارک ہوں


جعلی ڈگری والے صادق و امین ہوگئے، کروڑوں اربوں کے قرضے معاف کروانے والے صادق و امین قرار دے دئیے گئے، زانی، شرابی، کبابی، بھی دین دار ثابت کردئیے گئے، جن لوگوں نے ترقیاتی فنڈ کے نام پر جائدادیں بنائیں وہ لوگ محب وطن قرار دے دئیے گئے، جن لوگوں نے دہشتگردوں کی حمایت کی، انکے نظریہِ دہشتگردی کو اپنا نظریہ بتایا وہ لوگ بھی محب وطن پاکستانی قرار دے دئیے گئے، جن لوگوں نے آئی جے آئی، بنانے میں خفیہ ایجنسیز سے کروڑوں روپے لئیے، ان میں سے کچھہ مذہب کے نام پر اور کچھہ سیاست کے نام پر قوم کو لوٹنے والے لٹیرے ہیں، وہ سب بھی آئینِ پاکستان کے حساب سے صادق و امین ٹھرا دئیے گئے۔

جن لوگوں نے لاکھوں کی تعداد میں اسلحہ لائسنس دے کر کرائے کے قاتلوں کو پروان چڑھایا وہ لوگ بھی صاحبِ ایمان قرار دے دئیے گئے، جو قبائلی علاقوں میں خطاب فرماتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جمہوریت کفر ہے، اور جب شہروں میں تقریر فرماتے ہیں تو کہتے ہیں جمہوریت میں ہی پاکستان کی بقا ہے ایسے دوغلے لوگوں کو بھی اسلام کا المبردار مان کر انہیں کلین چٹ دے دی گئی۔

جو لوگ پورا کا پورا بینک آف پنجاب کھا گئے، ایسے لوگوں کو اور انکے پورے پورے پریوار کودیانتدار اور ملک کا وفادار مان کر ایک بار پھر ملک و قوم کے وسائل لوٹنے کا لائسنس دے دیا گیا۔

جو لوگ ببانگِ دہل خود کو پاکستانی کہلانے سے انکاری ہیں، پاکستان کے وجود کو ہی ختم کرنے کے درپے پیں، واضع ثبوت ہیں کہ بھارت کی ایجنسیز کے ایجنٹ ہیں، انہیں بھی سچا اور مخلص پاکستانی قرار دے دیا گیا۔

جن لوگوں نے رینٹل پاور کیس میں پاکستانی عوام کے کروڑوں نہیں اربوں روپے لوٹے وہ ایماندار قرار دے دئیے گئے، جنہوں نے پانچ سال جمہوریت کے نام پر بھڑوت کی، جنہوں نے پانچ سال جمہوریت کے نام پر اس ملک کو کسی طوائف کے کوٹھے سے بھی بدتر مقام پر لا کر کھڑا کر دیا، جنہوں نے پاکستان کے وجود کو کسی حسین دوشیزہ کا خوبرو جسم سمجھہ کر اسکے انگ انگ کو نوچا اور لوٹا، ایسے لوگوںکو بھی دین دار، ایمان دار، وفادار ٹھرا دیا گیا۔

پاکستان کرپٹ ملکوں میں ساٹھویں نمبر پر تھا، ان پانچ سالوں میں وہ بتیسویں نمبر پر آگیا، ساری دنیا ہماری کرپشن کی گواہ ہے، دنیا نے ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے ہماری پوری قوم کے لئیے ریمارکس پاس کئے کہ پاکستانی پیسے کے لئیے اپنی ماں کو بھی بیچ سکتے ہیں،ایسے ضمیر فروشوں کو پاکستان کی عدالتوں اور الیکشن کمیشن نے آئین کی رو سے صادق اور امین قرار دے دیا۔

یہ الیکشن کمیشن نہیں ہے، یہ الیکشن میں کمیشن ہے۔ یہ عدالت نہیں ہے، یہ دلالت ہے، یہ عدلیہ نہیں ہے، یہ گدلیہ ہے، کوئی ان پی سی او حلف بردار  حرام خوروں سے پوچھے، کہ اگر یہ سارے حرامی صادق و امین ہیں، یہ سارے کتے اگر محبِ وطن ہیں، یہ مادرِ وطن کی دلالی کرنے والے اگر ایماندار ہیں تو پھر پاکستان کی اس حالت کا زمہ دار کون ہے؟ یہ معیشت وینٹیلیڑ پر کس کی وجہ سے لگی ہوئی ہے؟ اگر یہ سب لوگ پارسہ ہیں تو پھر ساری دنیا میں ہم چور اور بکاو کس لئیے مشہور ہیں؟

اگر یہ سب ایماندار ہیں، تو پھر یقیقناَ ڈاکڑ عبدالقدیر، عبدالستار ایدھی، ادیب رضوی، جیسے لوگ چور ہیں لٹیرے ہیں کرپٹ ہیں، مادرِ وطن کے تاجر ہیں، پھر یہ ہی لوگ ہیں جنکی وجہ سے آج پاکستان کرپشن میں بتیسویں نمبر پر آگیا ہے، میری پاکستان کے اس الیکشن میں کمیشن، اور دلالت سے ہاتھہ جوڑ کر التجاء ہے کے ڈاکڑ عبدالقدیر، عبدالستار ایدھی، ادیب رضوی اور ان جیسے اور گنتی کے چند لوگوں کو سرِ عام پھانسی پر لٹکایا جائے تاکہ آئندہ پاکستان میں کوئی کرپشن کرنے کا سوچے بھی تو اسکے خواب میں فخرو بھائی اور چمار چوھدری کا مکروہ چہرہ آجائے، اور وہ ڈاکڑعبدالقدیر، عبدالستار ایدھی، اور ادیب رضوی جیسا بننے کے بجائے، زرداری، نواز شریف، الطاف حسین، چوھدری شجاعت، مولانہ فضل الرحمان، قاضی حسین احمد، اسفندیار ولی، طلال بگٹی، پیر پگاڑا، یا اس ہی طرح کا اور کوئی عالمی ڈکیت بننے کو فوقیت دے۔

یہ ملک نہیں ہے منڈی ہے.

کسی چوک پہ بھڑوا ہے، کسی چوک پہ رنڈی ہے۔

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

5 Responses to پوری قوم کو صادق و امین امیدوار مبارک ہوں

  1. noureen tabassumm نے کہا:

    بہت کڑوا سچ ، ایک زوردار تھپڑ ہم عوام کے منہ پر- اب بھی نہ ہمیں سمجھـ آئے تو ہمیں مر ہی جانا چاہیے – کچھـ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم ووٹ تو اُن چوروں کو نہ دیں قطع نظر اس بات کے وہ جیتیں یا ہاریں –
    "شکوۂ ظلمتِ شب سے تو بہتر تھا
    اپنے حصے کی اِک شمع جلائے جاتے”

  2. Noureen Tabassum نے کہا:

    بہت کڑوا سچ ، ایک زوردار تھپڑ ہم عوام کے منہ پر- اب بھی نہ ہمیں سمجھـ آئے تو ہمیں مر ہی جانا چاہیے – کچھـ بھی نہیں کر سکتے تو کم از کم ووٹ تو اُن چوروں کو نہ دیں قطع نظر اس بات کے وہ جیتیں یا ہاریں –
    “شکوۂ ظلمتِ شب سے تو بہتر تھا
    اپنے حصے کی اِک شمع جلائے جاتے”

    • fikrepakistan نے کہا:

      نورین تبسم صاحبہ، تحریر کی پسندیدگی کا بہت شکریہ، یہاں کچھہ بھی نہیں بدلنے والا یہ ہی چور سیاستدان رہیں گے، یہ ہی چور مولوی رہیں گے، یہ ہی چور اور بکاو عدلیہ رہے گی، یہ ہی جانبدار میڈیا رہے گا۔ تو بہت تیزی سے ختم ہورہا ہے وہ ہے ایک عام غریب انسان۔

      زنداں ہے وہ ہی پاوں کی زنجیر وہ ہی ہے
      اب کے بھی میرے خواب کی تعبیر وہی ہے۔

  3. Nauman faisal نے کہا:

    Bhut khob likha hai aap ne, Allah aap ko sach likhne ka hosla ata farmay ameen.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s