کچھہ سوال جواب


سوال۔ کیا جمعہ کا خطبہ اردو زبان میں دیا جاسکتا ہے؟

جواب۔ دیا جاسکتا ہے کیا مطلب؟ دینا چاہئیے، جب آپ اللہ سے منہ موڑ کر اللہ کے بندوں سے مخاطب ہیں تو پھر انکی زبان میں ہی خطاب کرنا چاہئیے تاکہ جن لوگوں کو عربی نہیں آتی انکی سمجھہ میں بات آسانی سے آسکے۔

سوال۔ عورت کی شکل مرنے کے بعد ہر کوئی دیکھہ سکتا ہے یا اس وقت بھی محرم اور غیر محرم کا خیال رکھا جائے گا؟ اسکا خاوند اسکو نہلا سکتا ہے یا اسکا چہرہ دیکھہ سکتا ہے؟

جواب۔ موت اور زندگی کے احکام بلکل مختلف ہیں، یہ ٹھیک ہے کہ عام طور پر ہمارے ہاں اسکا بہت خیال رکھا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی خاتوں زندگی میں اس بات کو پسند نہیں کرتی تھیں کہ کوئی انکا چہرہ دیکھے تو مرنے کے بعد بھی ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے، یہ اچھی بات ہے یہ ایک روایت ہے ہمارے ہاں جو اس ہی طرح سے چلی آرہی ہے۔ ہاں البتہ میری سمجھہ میں یہ بات نہیں آتی کے مرنے کے بعد شوہر اپنی بیوی کو غسل کیوں نہیں دے سکتا؟ جبکہ اس سے بہتر غسل کون دے سکتا ہےِِ؟ یا شوہر کی موت کے بعد بیوی سے بہتر غسل شوہر کو کون دے سکتا ہے؟ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کی اہلیہ نے ہی انکو غسل دیا تھا۔

سوال۔ کیا یہ بات ٹھیک ہے کہ رمضان میں مرنے والے جنتی ہونگے یا انکو کوئی فضیلت حاصل ہوگی؟

جواب۔ جنت اور دوزخ کے معاملے میں اللہ تعالیٰ نے ایک واضع معیار بیان کردیا ہے اور وہ یہ کہ آپ ایمان والے ہوں، آپ اچھا عمل کرنے والے ہوں، آپکا روزِ آخرت پر ایمان ہو، (ریفرنس سورہ بقرہ آیت باسٹھہ) اب اس معیار پر جو پورا اترے گا وہ جنت میں جائے گا، جو اس پر پورا نہیں اترتا اسکے لئیے رمضان کا مہینہ کچھہ نہیں کرسکتا، یہ مہینے تو اللہ تعالیٰ نے اسلئیے مقرر کئے تاکے آپ ان میں اچھے عمل کر کے آپ خود کو جنت کا متحق بنا سکیں۔

سوال۔ جنت میں حوریں ہونگی جنہیں پہلے کسی جن و انس نے چھوا نہیں ہوگا کیا اہل جنت ان حوروں کے نتیجے میں اولاد سے فیضیاب ہونگے؟

جواب۔ ایک بات تو یہ سمجھہ لیجئیے کہ یہ حور کوئی کسی مخلوق کا نام نہیں ہے، یہ ایک ایڈجیکٹو ہے جسکا مطلب ہوتا ہے آہو چشم، یعنیٰ ہرن کے آنکھوں والی، یہ عورتوں کی صفات میں سے ایک صفت ہے، یہ عربی زبان کا ایک لفظ ہے جسکے معنیٰ ہی ہرن کی آنکھوں والی، یہ بنیادی طور پر ایک ایڈجیکٹو ہے جسے لوگوں نے ایک نام بنا لیا ہے۔

سوال۔ خوشبو جس میں الکوحل شامل ہوتا ہے اسے لگانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب۔ شراب پینا حرام ہے، اسکے علاوہ اسکا کوئی استعمال منع نہیں ہے آپ اطمنعان کے ساتھہ استعمال کرسکتے ہیں۔

سوال۔ عموماَٰ سننے میں آتا ہے کہ شادی کے بغیر نمازِ جنازہ جائز نہیں، کیا یہ درست ہے؟

جواب۔ لوگ بھی کیسے کیسے مسلے ایجاد کرتے ہیں؟ دو جلیل القدر پیغمبر ہیں حضرت یحیحیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ سلام، جنہوں نے شادی نہیں کی، نمازِ جنازہ کیا ہے ایک دعا ہے ہم نماز میں ہر روز انکے لئیے دعا کرتے ہیں، امام ابنِ تیمیہ نے بھی شادی نہیں کی، محدیثین میں جنکا مرتبہ سب سے بلند ہے امام بخاری رحمت اللہ علیہ انہوں نے بھی شادی نہیں کی، تو اب بتائیے کیا رائے ہے آپکی؟

سوال۔ شیطان کے متعلق جو کچھہ بتایا جاتا ہے تو ایسے لگتا ہے جیسے یہ رحمان کے ہم پلہ کوئی چیز ہے جو ہر وقت ہر جگہ انسانوں کو گمراہ کرتا ہے، یہ بھی بتا دیں کے یہ جنوں میں سے تھا یا فرشتوں میں سے تھا؟

جواب۔ شیطان جنوں میں سے تھا، اس بات کو قرآن نے بہت واضع طور پر بیان کردیا ہے، اس وقت دو ہی باشعور مخلوقات تھیں، فرشتے اور جنات، یہ جنوں میں سے تھا فرشتوں میں سے ہرگز نہیں تھا، باقی یہ کہ وہ رحمان کے ہم پلہ کوئی چیز ہے تو ایسی کوئی بات نہیں ہے، جب دنیا میں اللہ تعالیٰ کسی کو مہلت دیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے جیسے دنیا اسکی مٹھی میں ہے، جیسے اس وقت مثال کے طور پر امریکہ کا معاملہ ہے، لیکن ہر چیز اللہ ہی کی مٹھی میں ہے اور وہ جب چاہے گا یہ مہلت ختم کردے گا، شیطان کا بھی یہ ہی معاملہ ہے اللہ جب چاہے گا اسے بھی سے پکڑ لے گا۔

سوال۔ کیا قادیانی کو سلام کیا جا سکتا ہے؟ بعض لوگ اس بات پر اسرار کرتے ہیں کہ قادیانیوں کو سلام کر کے ہم حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے انکاری ہوجاتے ہیں، اور قادیانیوں کا سوشل بائی کاٹ کرنا دراصل حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا اقرار ہے۔

جواب۔ ہر انسان کو سلام کیا جاسکتا ہے، انبیاء علیہ سلام نے سب کو سلام کیا ہے، اور بلکے قرآن میں یہ کہا گیا ہے کہ اگر کوئی آپکو سلام کرے اور اس میں کوئی مومن اور غیر مومن کی تصخیص نہیں ہے تو آپ اسے بہتر طریقے سے سلام کا جواب دیں، اسلئیے ہر شخص کو سلام کیجئیے اسکے لئیے دعا کیجئیے سلامتی کی، اگر وہ کسی غلطی میں مبتلا ہے تو علمی طریقے سے آپ اسکی غلطی کو واضع کیجئیے، لیکن سوشل بائی کاٹ کرناتعلق ختم کرلینا یہ انبیاء کا طریقہ نہیں ہے، انبیاء کا طریقہ دعوت دینے کا طریقہ ہے پیغام دینے کا طریقہ ہے، وہ انسانوں تک حق پہنچاتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں انکا بائی کاٹ نہیں کرتے۔

سوال۔ کیا کسی غیر مسلم کے ساتھہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا جاسکتا ہے؟ اور کیا کسی ہندو کے گھر روزہ افطار کیا جاسکتا ہے؟

جواب۔ کسی بھی انسان کے ساتھہ ایک ہی برتن میں کھانا کھایا جاسکتا ہے، اور ہندو کے گھر روزہ بھی افطار کیا جاسکتا ہے، یہ تو بہت ہی اچھی بات ہے کہ اسطرح آپکو موقع ملے گا اسے اپنے دین کی تعلیمات پہنچانے کا۔ کھانے پینے کے بارے میں قرآن نے یہ بتایا ہے کہ آپ کوئی حرام چیز نہیں کھائیں گے، پھر چاہے وہ حرام چیز مسلمان کے دستر خوان پر ہو وہ بھی نہیں کھائیں گے، سب سے پہلے یہ سمجھہ لیجئیے کہ دنیا کا ہر انسان آدم اور حوا کی اولاد ہیں اسلئیے انسان ہونے کے ناطے سب ہمارے بھائی ہیں، اگر ہم انکے پاس بیٹھیں گے نہیں ان سے بات نہیں کریں گے، تو ان تک اپنی بات کیسے پہنچائیں گے؟ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی پابندی نہیں لگائی، صرف حرام حلال کا خیال رکھیں بس۔

سوال۔ذبیحہ کے بارے میں ہے کہ اگر اس پر غیر اللہ کا نام لیا جائے تو وہ حرام ہوجاتا ہے، لیکن مغرب میں جہاں مشینوں پر جانور ذبح کئے جاتے ہیں ان پر نہ اللہ کا نام لیا جاتا ہے نہ غیر اللہ کا، اسکا کیا معاملہ ہے؟ آیا وہ حلال سمجھہ کر کھایا جاسکتا ہےِِ؟

جواب۔ آپکے اس سوال کا جواب برائے راست اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دے دیا ہے اصل میں جب آپ جانور کو ذبح کرتے ہیں تو جانتے ہییں آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ ایک جان لے رہے ہوتے ہیں، یہ جان اللہ کی اجازت کے بغیر لینے کی جسارت نہیں کی جاسکتی، اسلئیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر میرا نام لے کر ذبح نہیں کیا گیا تو پھر نہیں کھاو، یہ جان لینا کوئی معمولی مسلہ نہیں ہے اس میں اللہ کی اجازت ضروری ہے کیوں کے ہر جاندار کی جان کا مالک اللہ تعالیٰ کی زات ہے۔ سورہ معائدہ میں البتہ اس مسلے کو واضع کردیا گیا ہے کہ اہلِ کتاب کا ذبیحہ مسلمانوں پر حلال ہے، سورہ معائدہ میں اللہ نے تین شرطیں بیان فرمائی ہیں گوشت کھانے کی، ایک اللہ کے نام پر ذبح کیا جائے، دوسرا یہ کہ جانور کے جسم کا سارا خون نکل جانا چاہئیے کیوں کے وہ ناپاک ہوتا ہے، تیسری شرط، ذبح کرنے والا توحید کا ماننے والا ہونا چاہئیے، اور اہل کتاب ان تینوں شرطوں پر پورا اترتے ہیں اسلئیے اہل کتاب کا ذبیحہ قرآن نے جائز قرار دیا ہے۔

جاوید احمد غامدی۔

Advertisements
This entry was posted in طرزعمل. Bookmark the permalink.

2 Responses to کچھہ سوال جواب

  1. جوانی پِٹّا نے کہا:

    غیر مسلموں کے ساتھ ایک برتن میں کھانا کھانا ٹھیک ھوگا۔ لیکن پریکٹیکل زندگی میں آسان نہیں۔
    غیر مسلم چھوڑیں، ایک ہی مذھب کے لوگوں کے صفائی کے معیار مختلف ھو سکتے ھیں۔ جو کام ایک کے لیے نارمل ھے، وہی دوسرے کے لیے کریہہ فعل ھو سکتی ھے۔
    صرف انگلیاں چاٹنے کو ہی لے لیجیئے۔ میرے لیے کافی مشکل ھے کہ کسی ایسے شخص کے ساتھ ایک ہی برتن میں کھانا کھاوں، جو کہ کھاتے کھاتے انگلیاں بھی چاٹتا جا رہا ھو۔ لیکن یہ میرا پرسنل سوچ اور معاشرتی مسئلہ ھے۔ دین کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
    اسی طرح یہ کہنا آسان ھے کہ ھندو کے ساتھ کھانا کھایا جا سکتا ھے۔
    لیکن جب آپ کے آس پاس اُن کے مذھبی نشان یعنی بت وغیرہ پڑے ھوں تو یقیں کریں اُن کے ساتھ کھانا امپاسبل ھو جاتا ھے۔
    اسی طرح میں نے ایک ہی ٹیبل پر ایک صاحب کے ساتھ علیحدہ برتنوں میں کھانا کھایا ھوا ھے۔ میری نظر پڑی تو اُن کے ناخنوں میں جم کر کالا ھوئے میل کو دیکھ کر مجھے تقریباً ابکائی آ گئی۔
    ھو سکتا ھے کہ کسی کو میرے ساتھ کھاتے بھی ابکائیاں آتی ھوں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      بلکل متفق ہوں میں آپکی بات سے، لیکن ظاہر ہے اسکا دین سے تو طعلق نہیں ہے، یہ صفائی ستھرائی کے معاملات تو کسی غیر مسلم کے ساتھہ کیا کسی سگے مسلم بھائی کے ساتھہ بھی درپیش ھونگے تو انسان اسکے ساتھہ کھاتے ہوئے اجتناب ہی کرے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s