ہم سب فحاشہ ہیں


ہم طوائف کو یا کسی جسم فروش عورت کو گری ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن ضمیر فروش، وطن فروش، ایمان فروش، مذہب فروش، سیاسی سیاستدانوں اور مذہبی سیاستدانوں کو اپنے کاندھوں پر بٹھاتے ہیں، انہیں ووٹ کی صورت میں پانچ سال وطن عزیز کے ساتھہ زنا بلجبر کا لائسنس دیتے ہیں، اسکے باواجود بھی ہم اور ہمارے سیاستدان عزت دار ہیں، اور وہ طوائف وہ جسم فروش عورت گری ہوئی نظر سے دیکھے جانے کے لائق ہے جو نہ جانے کس کس مجبوری کی تحت جسم فروشی پر مجبور ہوجاتی ہے۔

قصور اس جسم فروش عورت کا نہیں، قصور ہمارا ہے، اگر ہم نے ان ضمیر فروشوں کو، وطن فروشوں کو، ایمان فروشوں کو، مذہب فروشوں کو، ووٹ نہ دیا ہوتا تو شاید ہمارے معاشرے کی کسی عورت کو اپنا جسم بیچنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اگر طوائف یا فحاشہ گری ہوئی ہے، تو پھر پاکستان کا ہر شہری گرا ہوا ہے۔

انسانی معاشرہ انسانی جسم کی طرح ہوتا ہے جیسے انسانی معاشرے میں نیکی اور بدی ساتھہ ساتھہ چلتے ہیں ٹھیک اس ہی طرح انسانی جسم میں بھی غلاضت کے کئی عنصر پائے جاتے ہیں، معدہ غلاضت کا ڈھیر ہوتا ہے، چربی شریانوں میں جمنے کے بعد گند پھیلاتی ہے، خون میں گٹھلیاں بن جانا، ایسی اور کئی مثالیں دی جاسکتی ہیں، جو لوگ کسی انسانی معاشرے کو آئیڈیل معاشرہ بنانے کی بات کرتے ہیں وہ سراسر بکواس کرتے ہیں، انسانی معاشرہ آئیڈیل ہو ہی نہیں سکتا، کبھی نہیں ہوا، خلیفہِ راشدین کے دور میں بھی نہیں ہوا۔

جس معاشرے میں نیکی اکیاون فیصد اور بدی اننچاس فیصد ہوگی وہ معاشرہ نیکی کا معاشرہ کہلائے گا اور جس معاشرے میں بدی اکیاون فیصد اور نیکی اننچاس فیصد ہوگی وہ معاشرہ بدی کا معاشرہ کہلائے گا، جیسے انسانی جسم سے یہ سب غلاضتیں الگ نہیں کی جاسکتیں ویسے ہی انسانی معاشرے سے بدی کو یکسر نہیں مٹایا جاسکتا، ضرورت اس امر کی ہے کہ نیکی کو اکیاون فیصد تک لے آیا جائے، باقی سب بکواس ہے، انسان خدا نہیں بن سکتا۔

ایک ہی حلقے سے مولانہ فضل الرحمان اور مسرت شاہین الیکشن کے لئیے کھڑے ہوئے ہیں، مسرت شاہین ایک اداکارہ ہونے کی وجہ سے مشہور ہیں، ویسے تو مولانہ کی وجہِ شہرت بھی اداکاری ہی ہے، وہ قبائلی علاقوں میں وعظ میں فرماتے ہیں جمہوریت کفر ہے، اور جب قبائلی علاقوں سے نکل کر شہروں کے فائیو اسٹار ہوٹلز کا رخ کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ جمہوریت میں ہی پاکستان کی بقاء ہے، یہ کامیاب اداکاری نہیں تو اور کیا ہے؟۔

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا قول ہے کہ وہ شرابی جو کونے میں بیٹھہ کر شراب پی رہا ہے اس مولوی سے کہیں بہتر ہے جو مسجد کے منبر پر بیٹھہ کر منافرت پھیلا رہا ہے۔مسرت شاہین کو مولانہ پر یہ فوقیت حاصل ہے کہ مسرت شاہین نے جس زریع سے بھی پیسہ اور شہرت کمائی وہ سب کے سامنے ہے، محترمہ نے جو کیا ببانگِ دہل کیا کم از کم منافقت نہیں کی، مولانہ نے لاکھوں معصوم پاکستانی بچوں کو ڈالر کے بدلے نام نہاد جہاد کا درس دے کر افغان جنگ میں جھونک دیا، جبکہ خود مولانہ نے اپنی کسی ایک اولاد کو بھی اس جہاد کے زریعہ جنتی بننے کی سعادت حاصل کرنے کا درس نہیں دیا۔ مسرت شاہین نے اپنی محنت سے اور اپنے جسم کی نمائش سے یہ دولت اور شہرت حاصل کی، جبکہ مولانہ نے اسلام کے نام پر، دین فروشی کے عوض مولانہ ڈیزل کا اعزاز حاصل کیا، فرق صاف ظاہر ہے کہ ایک جسم سے پیسہ کمانے والی اداکارہ کہیں بہتر ہے اس مولانہ سے جو اسلام فروش ہے۔

اگر یہ مولانہ اور ان جیسے دوسرے سیاسی اور مذہبی سیاستدان ٹھیک ہوتے تو کسی مسرت شاہین کو انکے مقابلے میں کھڑے ہونے کی جسارت نہ ہوتی، اگر ان لوگوں نے اپنے اپنے منصب سے وفاداری نبھائی ہوتی تو آج ہمارے معاشرے میں جسم فروشی اتنے عروج پر نہ ہوتی، اوپر عرض کر چکا ہوں کہ انسانوں کے معاشرے سے بدی مکمل طور پر کبھی بھی ختم نہیں کی جاسکتی، ہاں اوسط کو کم کیا جاسکتا ہے، اگر یہ سب لوگ واقعی امین اور صادق ہوتے تو ہمارے معاشرے میں بدی کی اوسط پچیانوے فیصد کے بجائے اننچاس فیصد پر کھڑی ہوتی اور ہمارا معاشرہ بھی حقیقی معنوں میں انسانی معاشرہ کہلانے کا حقدار ہوتا۔

ہماری عدالتوں اور الیکشن کمیشن نے جن لوگوں کو آئین کی رو سے صادق اور امین قرار دیا ہے، دنیا جانتی ہے کہ ان میں سے صرف صادق اور امین وہ ہی ہوسکتا ہے جس کے والدین نے بچپن میں اسکا نام صادق یا امین رکھا ہوگا۔ دہشتگردی پھیلانے والے بھی آپکے سامنے ہیں، بھتہ خور بھی آپکے سامنے ہیں، مذہب فروش بھی آپکے سامنے ہیں جنہوں نے کشمیر اور افغانستان کے نام پر پاکستان کے معصوم لوگوں کو جنگ کی جہنم میں دھکیلا اور اپنے بچوں کو امریکہ میں تعلیم دلوائی، وہ سیاسی اور مذہبی منافق اور دین فروش بھی آپکے سامنے ہیں جنہوں نے آئی جے آئی بنانے کے لئیے خفیہ ایجنسیز سے لاکھوں کروڑوں روپے لئیے اور پوری قوم کے ووٹ کا سودا کیا۔

وہ لوگ بھی آپکے سامنے ہیں جو پاکستان کے وجود کے ہی انکاری ہیں، وہ لوگ بھی آپکے سامنے ہیں جو سالانہ پانچ لاکھہ کا ٹیکس دیتے ہیں اور میرے اور آپکے پیسے سے سالانہ چالیس کروڑ کی سکیورٹی لیتے ہیں، قوم سے کہتے ہیں ہم نے وطن چھوڑنے کے لئیے ڈکٹیڑ سے کوئی معاہدہ نہیں کیا، اور پھر سعودی حکومت وہ معاہدہ منظرِ عام پر لے آتی ہے تو بغلیں جھانکنا شروع کردیتے ہیں، جنہوں نے اپنے بچوں کو بیرونِ ملک اربوں ڈآلرز کے کاروبار کروا کر دئیے، اتنا پیسہ تو برطانیہ کے وزیرِاعظم کے پاس نہیں ہے جتنا پیسہ انکی اولادیں وہاں لے کر بیٹھی ہوئی ہیں، یہ وہ ہی لوگ ہیں جنہوں نے میرے اور آپکے پیسے سے بنا ہوا مسلم کمرشل بینک میاں منشاء کو کوڑیوں کے دام فروخت کردیا، کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں؟۔

گذشتہ حکومت کی کرپشن کے بارے میں کچھہ کہنا تو سورج کو روشنی دکھانے کے مترادف ہوگا، اگر پاکستان جیب میں ڈال کر لے جانے والی کوئی چیز ہوتا تو اب تک یہ لوگ پاکستان کو سوئس بینک کے کسی لاکر میں لے جا کر رکھہ چکے ہوتے۔

اب فیصلہ عوام کے ہاتھہ میں ہے، چاہیں تو پاکستان کی مزید بیٹیوں کو فحاشہ ہونے سے بچا لیں، اور چاہیں تو پورے پاکستان کو ہی چکلہ بنا دیں۔ لیکن یہ بات ہر شخص کے ذہن میں رہے، کہ اگر پھر سے ان ہی سب سیاسی لٹیروں اور مذہب فروشوں کو ووٹ دیا تو پھر کسی کو کوئی حق نہیں کے کسی جسم فروش عورت کو گری ہوئی نظر سے دیکھے، کیوں کے اس کی جسم فروشی کے کہیں نہ کہیں زمہ دار آپ بھی ہونگے، اگر ایک جسم فروش عورت فحاشہ ہے تو پھر پارسہ ہم بھی نہیں ہیں ایسے لوگوں کو ووٹ دینے سے ثابت ہوجائے گا کہ ہم سب فحاشہ ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

15 Responses to ہم سب فحاشہ ہیں

  1. بندہ نے کہا:

    جناب عالی آپ کراچی میں رہتے ہیں وہاں کی سیاست کا روزانہ مشاہدہ کرتے ہیں، اخبار کے ذریعے نہیں بلکہ عین الیقین مشاہدہ، تو کبھی قاید تحریک الطاف حسین پر بھی ایک مفصل مضمون قلم بند کریں
    بندہ مشکور ہوگا

    • fikrepakistan نے کہا:

      بندہ بھائی، میری حال ہی میں لکھی ہوئی تحریر، پوری قوم کو صادق و امیں امیدور مبارک ہوں، کا مطالعہ کرلیں تو شاید آپکا گلہ دور ہوجائے، نام لے کر تو میں نے اس پوسٹ میں بھی سوائے مولانہ کے کسی کو بھی مخاطب نہیں کیا ہے، مولانہ کو موازنہ کرنا تھا مسرت شاہین سے اسلئیے اس تحریر میں انکا نام لینا پڑا۔ تحریر میں جس طرح بغیر نام لئیے دورے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے وہیں آپ کے مطلوبہ صاحب کا بھی نام لئیے بغیر تبصرہ کیا گیا ہے تحریر کو دوبارہ پڑھہ لیں۔

  2. منیر عباسی نے کہا:

    براہ مہربانی مجھے اس "ہم سب” کی کیٹیگری سے نکال دیں۔ کم از کم میں آپ جیسا نہیں ہوں۔ آپ کو حق ہے اپنے بارے میں سب کچھ کہنے کا۔ آپ باقی سب لوگوں کے لئے وہ کچھ کہنے کا حق نہیں رکھتے جو آپ اپنے لئے کہہ سکتے ہیں۔

    شکریہ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      منیر صاحب، اگر آپ نے واقعی آج تک پاکستان میں ان میں سے کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کو ووٹ نہیں دیا تو پھر ظاہر ہے آپ اس زمرے میں نہیں آتے۔ اب آپ نے ووٹ دیا ہے یا نہیں یہ تو آپ اور آپکا ضمیر ہی بہتر جان سکتے ہیں۔ ظاہر ہے یہ تحریر ان ہی لوگوں کے لئیے ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی میں ان میں سے کسی بھی جماعت کو ووٹ دیا ہے، اور جس نے بھی ان میں سے کسی بھی مذہبی یا سیاسی جماعت کو ووٹ دیا ہے وہ کم از کم خود کو اس جرم سے بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ مجھہ سمیت ہر شخص کو دنیا میں نہیں تو اللہ کے گھر میں لازمی ووٹ کی امانت کا حساب دینا ہوگا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      منیر صاحب۔ اور اگر آپ پاکستان سے باہر ہیں تو پھر تو بلکل ہی مطمعین ہوجائیے کہ پی سی او حلف بردار ججز المعروف آذاد عدلیہ نے آپ جیسے سمندر پار پاکستانیوں کو تو پاکستانی ماننے سے ہی انکار کر دیا ہے اور آپ لوگوں سے ووٹ کا حق ہی سلب کرلیا ہے، آپ تو نیرو کی طرح چین کی بانسری بجائیں۔

  3. وسیم رانا نے کہا:

    جاندار۔۔۔

  4. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    حضور ۔ میں پاگل ہو سکتا ہوں ۔ بیوقوف ہو سکتا ہوں لیکن فاحش یا فاحشہ نہیں ہو سکتا

    • fikrepakistan نے کہا:

      افتخار اجمل صاحب، میں آپ سے کبھی ملا نہیں ہوں لیکن آپکی زات کے بارے میں مجھے قوی امید ہے کہ آپ فرقہ پرستی یا قوم پرستی کو فوقیت ہرگز نہیں دیتے ہونگے، باقی رہی بات فحش ہونے کی تو اسکے لئیے مونث ہونا قطعی ضروری نہیں ہے۔

  5. Rai M Azlan نے کہا:

    Speechless ki jo bhi urdu hoti hay apni mojoda halat yeh parhny ke bad wohi hui parhi hay.

  6. Rai M Azlan نے کہا:

    aik request yeh jo shaikh abdulqadir jilani ka qol istamal kia gya hay iska reference mil jaye to barhi nawazish hogi.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s