اپنے پرکھوں کی وراثت کو سنبھالو ورنہ. اب کی بارش میں یہ دیوار بھی گر جائے گی


پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز، اے این پی، ایم کیو ایم، جمعیتِ علماء اسلام، جمعیتِ علماء پاکستان، مسلم لیگ فنکشنل، جماعتِ اسلامی، مسلم لیگ ق، یہ سب وہ جماعتیں ہیں جو ایک سے زائد بار بلکے کئی کئی بار کسی نہ کسی صورت حکومت میں رہ چکی ہیں، اب بھی اگر کوئی سمجھتا ہے کہ ان میں سے ہی کوئی چراغ جلے گا تو روشنی ہوگی تو اسکو چاہئیے خود کو مومن کی فہرست میں سے ازخود خارج کردے، کیوں کے مومن تو ایک سوراخ سے دو بار نہیں ڈسا جاسکتا۔

مجھے عمران خان سے کوئی بہت زیادہ توقعات نہیں ہیں، عمران خان میں صرف ایک ہی خوبی نظر آتی ہے کہ وہ لٹیرا نہیں ہے، ایک ہزار برائیاں اسکے اندر ہوسکتی ہیں، لیکن کوئی اگر یہ کہے کہ عمران خان سیاست سے پیسہ کمانے والا انسان ہے تو یہ بات فلحال تو قابلِ قبول نہیں ہوسکتی، ہاں اگر عمران خان کو اقتدار ملا اور پھر اسکی کوئی ایسی کرپشن سامنے آئی تو میں ضرور اسکے بارے میں اپنی رائے پر نظرِ ثانی کروں گا۔

ماضی میں ہم سب نے ان ہی جماعتوں میں سے کسی نہ کسی جماعت کو ووٹ دیا ہے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے، اس بار پوری قوم کو قومیت اور فرقہ واریت سے اٹھہ کر دیکھنا ہوگا، میرا ایسا ماننا ہے کہ لوگ عمران خان سے اور اسکی جماعت سے اتنی محبت نہیں کرتے جتنی اب درج بالا جماعتوں سے نفرت کرتے ہیں اور لوگوں کی یہ نفرت جائز بھی ہے۔

عمران خان سے بہت زیادہ توقعات اسلئیے نہیں ہیں کہ عمران خان کا اپنا کوئی انٹلیکچول لیول نہیں ہے، لیکن یہ کمی صرف عمران خان میں ہی نہیں ہے، ان تمام جماعتوں میں سے کسی ایک کا بھی انٹلیکچول لیول نہیں ہے، کسی کا ویژن نہیں ہے، عشروں کے پار دیکھنے والی نگاہ نہیں ہے، اگر ہوتا تو یہ لوگ، چھہ مہینے، ایک سال، اور دو سال میں بجلی کا بحران ختم کرنے کی بات نہ کرتے، دس لاکھہ ڈالر سے ایک میگا واٹ بجلی بنتی ہے، اور پاکستان میں چھہ ہزار میگا واٹ کا شارٹ فال ہے، میں نے پہلے کیلکولیڑ پر یہ حساب لگانا چاہا تو کیلکولیڑ کی چیخیں نکل گئیں اس نے میرے آگے ہاتھہ جوڑ دیئے، پھر کمپیوٹر سے رجوع کیا تو وہ بھی بے ہوش ہوگیا، جس ملک کا وہ بچہ جسے ابھی پیدا ہونا ہے وہ بھی اسی ہزار کا مقروض ہو، ایسے ملک کے سیاسی لیڈر جب یہ کہیں کے چھہ مہینے میں بجلی کا بحران ختم کردیں گے تو انکے جھوٹ پر کوئی احمق ہی یقین کرسکتا ہے۔

عمران خان پاکستان کو ترقی کی معراج پر لے جائے گا میں ایسا بلکل بھی نہیں سمجھتا، عمران خان بہت سے بہت اتنا کرسکتا ہے کہ پاکستان کی ٹنکی کا جو پیندا ہی نکال کر پھینک دیا گیا ہے، یعنیٰ جتنا بھی پانی ڈال لو وہ ٹنکی میں رک ہی نہیں سکتا، عمران خان صرف اتنا ہی کرسکتا ہے کہ پاکستان کی ٹنکی میں پیندا لگا دے، ترقی تو بہت ہی دووووووووووووووووووووووووووورررررررررررررررررررررر کی بات ہے، اس وقت تو تنزلی رک جائے یہ ہی سب سے بڑی ترقی کی بات ہوگی پاکستان کے لئیے۔

اس وقت پاکستان کا یہ حال ہے کہ پاکستان کی گاڑی ریورس گئیر میں ہے، پاوں اسپیڈ پر ہے اور گاڑی کا میٹر دو سو چالیس کی اسپیڈ دکھا رہا ہے، عمران خان نے اگر پاکستان کی اس گاڑی کو ریورس گئیر سے نکال کر نیوٹرل بھی کر دیا تو سمجھو بہت بڑی کامیابی پاکستان نے حاصل کرلی۔

اگر نواز شریف وزیرِ اعظم بنے تو میری یہ تحریر گواہ رہے گی، وہ صرف اور صرف انتقامی سیاست کریں گے، جیسا کے کل ہی انہوں نے انڈین چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے فرمایا ہے کہ وہ وزیراعظم بنے تو کارگل کی تحقیقات کروائیں گے، اور اسکی تمام تفصیلات انڈین گورنمنٹ کو فراہم کریں گے، نواز شریف کا یہ بیان ہی پاکستانی قوم کی آنکھیں کھولنے کے لئیے کافی ہونا چاہئیے, کیا یہ ملک سےغداری نہیں ہے کیوں اور کس لئیے وہ انڈیا کو کارگل کی تحقیقات کی تمام تفصیل مہیہ کریں گے؟ ایک دشمن ملک کو اپنی فوج کی تحقیقات کی تفصیلات مہیہ کی جائیں گی، کیا اب بھی کسی شک کی گنجائش باقی ہے اس قوم کی آنکھیں کھولنے کے لئیے؟.

اب بھی اندازہ نہیں ہورہا کہ نواز شریف جیسا انا پرست انسان جسکا کوئی لیول ہی نہیں ہے، وہ پاکستان کے ساتھہ وہ سلوک کرئے گا کہ زرداری لوگوں کو ولی اللہ لگنے لگے گا، اور یہ بھی خارج از امکان نہیں کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی مل کر حکومت بنا لیں، پھر کیا بنے گا پاکستان کا اس کو تو سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ یہ لوگ ہر وہ پروجیکٹ شروع کریں گے جس میں انکی اپنی یا انکے رفقاء کی کمپنیز کا مال کھپ سکے، انکی شوگر، انکا سریا، انکا آٹا، انکے انڈے، انکی مرغیاں، انکا اسکریپ، غرض یہ کہ ہر وہ کام کیا جائے گا جس سے صرف اور صرف انکو فائدہ پہنچے گا، ہر وہ نمائشی کام کیا جائے گا جس سے صرف ملک و قوم کا پیسہ برباد ہوگا۔ پیلی ٹیکسی، سستی روٹی، لیپ ٹاپ، بس یہ ہے انکی ذہنی سطح کی معراج، یہ اس سے آگے بڑھہ ہی نہیں سکتے، کہتے ہیں مچھلی کھلا کر بھکاری بنانے سے کہیں بہتر ہے مچھلی پکڑنا سکھا دو، تاکے بندہ بھکاری بننے کے بجائے بہ عزت روزگار کما سکے، مگر یہ سب انکے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ اس سب کے باواجود بھی اگر قوم ان ہی لوگوں کو ووٹ دینا چاہے تو بھائی ہر شخص اللہ کے گھر میں اپنی اس گواہی کا خود زمہ دار ہوگا۔ میں نے کہیں پڑھا تھا کہ شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ جھوٹی گواہی ہے، ووٹ ایک گواہی ہے کہ جسے ہم ووٹ دے رہے ہیں وہ ایماندار، دیانتدار، اور پاکستان سے وفادار ہے، ان سب کے ماضی کو دیکھتے ہوئے بھی اگر کسی کو لگتا ہے کہ یہ سب ایماندار دیانتدار، اور پاکستان سے وفادار ہیں، تو پھر اسے لازمی اپنی یہ گواہی ان ہی لوگوں کے حق میں دینی چاہئیے اور اگر لگے کہ نہیں انکا ماضی واضع طور پر بتا رہا ہے کہ یہ لوگ ہماری گواہی کے مستحق نہیں ہیں تو پھر عمران خان کو ایک موقع ضرور دینا چاہئیے۔

اب اگر عظمتِ کردار بھی گر جائے گی

آپ کے سر سے یہ دستار بھی گر جائے گی

بہتے دھارے تو پہاڑوں کا جگر چیرتے ہیں

حوصلہ کیجئیے یہ دیوار بھی گر جائے گی

ہم سے ہونگے نہ لہو سینچنے والے جس دن

دیکھنا قیمتِ گلزار بھی گر جائے گی

سرفروشی کا جنوں آپ میں جاگا جس دن

ظلم کے ہاتھہ سے تلوار بھی گر جائے گی

ریشمی لفظوں میں نہ قاتل سے باتیں کیجئیے

ورنہ شانِ لبِ گفتار بھی گر جائے گی

اپنے پرکھوں کی وراثت کو سنبھالو ورنہ

اب کی بارش میں یہ دیوار بھی گر جائے گی

ہم نے یہ بات بزرگوں سے سنی ہے منظر

ظلم ڈھائے گی تو سرکار بھی گر جائے گی۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

2 Responses to اپنے پرکھوں کی وراثت کو سنبھالو ورنہ. اب کی بارش میں یہ دیوار بھی گر جائے گی

  1. منصورالحق منصور نے کہا:

    جناب بہت سے لوگوں کے لئے تو زرداری پارٹی اب بھی ولیوں کی جماعت ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s