جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئیے۔


جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئیے، پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کو یہ حق نہیں ہے کہ الیکشن میں دھاندلی کا رونا روئے، انتخابی نتائج بلکل فطرت اور قدرت کے اصولوں کے عین مطابق آئے ہیں، یہ کون لوگ ہیں جو گنے کے کھیت میں انگور تلاش کر رہے ہیں؟ گنا بویا ہے تو گنا ہی نکلے گا انگور کیسے نکل سکتا ہے؟ جیسا دودھہ ویسی چھاج، جیسی چھاج ویسا مکھن، کیا غلط ہوا ہے آخر؟ سب کچھہ بلکل درست ہوا ہے، وہ ہی کام ہوا ہے جس کام کو کرنے کے لئیے پی ٹی آئی سے لے کر پیپلز پارٹی تک تمام سیاسی جماعتیں، عدالتوں سے لے کر الیکشن کمیشن تک، پٹواری سے لے کر بیورو کریسی تک پورا سسٹم جس کام کے لئیے زور لگا رہا تھا وہ ہی کام لوگوں کے عمل کے عین مطابق درست ہوا ہے۔

پی ٹی آئی سمیت وہ تمام جماعتیں اس وقت کہاں تھیں جب ڈاکڑ طاہر القادری انہیں بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ رہے تھے کہ خدارا اپنا حق پہچانو، تمہارے ساتھہ دھوکہ کیا جارہا ہے، شہد میں لپیٹ کر زہر کی گولیاں پوری قوم کے وجود میں اتاری جارہی ہیں، اس نظام اور اس ملی بھگت سے بنے الیکشن کمیشن کی زیرِ نگرانی دس بار الیکشن میں حصہ لے لو مگر تبدیلی نہیں آسکتی، وہ ہی لوگ وہ چہرے دوبارہ منتخب ہوکر آجائیں گے اور حکومت بنا کر پانچ سال پاکستان کی چھاتی پر مونگ دلیں گے۔ خدارا آنکھیں کھولو اور دیکھو کہ زرداری حکومت کی تاریخی کرپشن کے باواجود نواز شریف کس لئیے خاموش ہے، یہ باری ہماری اگلی باری تمہاری، ابھی تم ہمیں نہ چھیڑو تمہاری باری میں ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے، تھوڑا سا بھی شعور رکھنے والا انسان جانتا تھا کہ زرداری اور نواز کے اس معاہدے کا سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہوگا، لیکن عمران خان صاحب کی آنکھوں پر سے کلین سوئیپ کا پردا ہٹتا تو وہ کچھہ دیکھنے کے قابل ہوتے نہ، افسوس کے ہارون رشید جیسے زیرک انسان نے بھی اس وقت طاہر القادری صاحب کو غلط کہا، اگر پی ٹی آئی ڈاکڑ صاحب کی بات مان لیتی اور غیر آئینی طریقے سے بنائے گئے الیکشن کمیشن کو تحلیل کر کے نیا اور مکمل طور پر آئین کے تمام تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد الیکشن کمیشن بنایا جاتا تو پی ٹی آئی کو آج یوں سر پکڑ کر رونا نہ پڑتا۔

ڈاکڑ طاہر القادری صاحب نے کسی جگہ یہ نہیں کہا تھا کہ الیکشن نہیں ہونے چاہئیں، انکا مطالبہ بلکل جائز تھا کہ جس الیکشن کمیشن نے الیکشن کروانے ہیں وہ نواز اور زرداری کی ملی بھگت سے بنا ہے، معاہدے کی رو سے نواز شریف کی باری ہے تو الیکشن کمیشن ہر لحاظ سے نواز شریف کو ہی سپورٹ کرئے گا، اور وہ ہی ہوا، ورنہ زرداری جیسا مکار انسان پوری الیکشن کمپین میں چپ چاپ بیٹھا رہا، پیپلز پارٹی کی واضع شکست دیکھتا رہا اور خاموش رہا، زرداری کی مکاری کو سامنے رکھتے ہوئے کوئی کیسے یقین کرسکتا ہے اس بات پر؟۔

سب پہلے سے طے تھا، زرداری صاحب جانتے تھے کہ معاہدے کی رو سے یہ باری نواز شریف کی ہے، اسلئیے وہ پیپلز پارٹی کی یقینی شکست پر بھی خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے، پیپلز پارٹی کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے، گذشتہ پانچ سالوں میں پیپلز پارٹی نے اتنا مال بنا لیا ہے کہ اگلے پانچ سال روٹی کی جگہ نوٹ کھائیں تب بھی پیسہ ختم نہ ہوگا، اس سارے معاملے میں نقصان اگر کسی کا ہوا ہے تو وہ ہے پی ٹی آئی، آج پی ٹی آئی کو کراچی اور لاہور میں احتجاج کرتے دیکھہ کر مجھے عمران خان صاحب اور انکے مشیروں پر بلکل بھی رحم نہیں آیا کیوں کے جس وقت قسمت کی دیوی ان پر مہربان تھی اس وقت جیت کے نشے میں انہیں طاہر القادری صاحب کی باتیں کسی دیوانے کی بکواس لگ رہی تھیں، انہوں نے حقارت سے ڈاکڑ صاحب کی بار بار کی جانے والی پیشکش کو ٹھکرایا تھا، جسکا نتیجہ آج عمران خان اور انکے مشیر بھگت رہے ہیں، اور مجھے پورا یقین ہے کہ عمران خان اور انکے مشیروں میں اتنی اخلاقی جرت اب بھی نہیں پیدا ہوگی کے وہ کم از کم اس بات کا اعتراف ہی کرسکیں کے ڈاکڑ صاحب آپ نے جو کہا تھا درست کہا تھا ہم سے غلطی ہوگئی جو آپکی بات پر کان نہیں دھرا، کاش ہم اس وقت آپکی بات مان لیتے اور آئین کی رو سے نیا الیکشن کمیشن بنانے کے آپکے مطالبے میں آپکا ساتھہ دے دیتے۔

عمران خان صاحب کو زرداری اور نواز شریف نے مل کر ماموں بنا دیا ہے، اب روتے رہو چلاتے رہو اب الیکشن کمیشن میں ہزار کیڑے نکالتے رہو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، اب دو عدلیہ کو ہزار گالیں جس نے چوروں کو، ڈکیتوں کو، اربوں روپے کے قرضے معاف کروانے والوں کو، جعلی ڈگری والوں کو، منی لانڈرنگ کرنے والوں کو، پاکباز اور آئین کی رو سے صادق اور امین قرار دیا، یہ تھے ہماری عدالتوں کے قرار دئیے گئے وہ صادق اور امین جنہوں نے پاکستان کو ایک بار پھر ان ہی چوروں اور لٹیروں کے حوالے کردیا جنکی وجہ سے پاکستان آج روانڈا سے بھی پیچھے کھڑا ہے، اب وائٹ پیپر نکالو یا بلیک پیپر، اگلے پانچ سال تک تو کچھہ بھی نہیں بدل سکتا، وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئیے۔

پی ٹی آئی کے لوگوں سے خاص التماس ہے کہ نیچے دئیے گئے لنک کو پی ٹی آئی اور اسکے مشیروں سمیت ہر اس شخص کو دیکھنا چاہئیے جو الیکشن میں دھاندلی کا رونا رو رہا ہے، تاکے انکی سمجھہ میں آسکے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا تھا کہ، مومن کی فراست سے ڈرو۔

کاش عمران خان ڈاکڑ طاہر القادری صاحب کی بات مان لیتے۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

One Response to جو مکا لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے منہ پر ہی مار لینا چاہئیے۔

  1. عبد اللہ نور نے کہا:

    محترم یہ آپ کا نکتہ نظر ہے جس میں ایک حد تک حقیقت ہےلیکن یقینا آپ یا میں عقلِ کُل نہیں ہیں۔ بہت سے آزاد لکھنے والے اس سے بہت مختلف رائے رکھتے ہیں ۔ ہمارے پیارے کراچی سے تعلق رکھنے والے کئی صحافی بھی ان میں شامل ہیں۔ محترمہ زاہدہ حنا ان میں سے ایک ہیں۔ یقینا وہ ایک ترقی پسند سوچ رکھنے والی روشن خیال مصنفہ ہیں، پنجابیوں یا نواز شریف کی ایجنٹ نہیں ہیں۔ ان کی تازہ تحریر ملاحظہ ہو۔ http://www.express.pk/story/126758/ zahedahina@gmail.com
    آج مجھے ایک منظر یاد آتا ہے۔ میاں نواز شریف اور شہباز شریف کراچی کی اینٹی ٹیررسٹ کورٹ میں غداری کا مقدمہ بھگت رہے تھے۔ میں اس روز کمرہ عدالت میں تھی۔ میاں صاحب کی والدہ اور کلثوم نواز ملاقات کے لیے آئی تھیں۔ بیگم شریف جس بنچ پر بیٹھی تھیں وہ قدرے اونچی تھی اور ان کے پیر زمین سے کچھ اٹھے ہوئے تھے۔ یہ دیکھ کر دونوں بھائیوں نے اپنی بیویوں کے پرس سمیٹے اور والدہ کے قدموں کے نیچے رکھ دیے تاکہ ان کے معلق پیروں میں تکلیف نہ ہو۔ یہ ایک یاد رہنے والا منظر تھا۔ پندرہ سال کا منظر یہ ہے کہ ٹیلی ویژن سے جب پی ایم ایل (ن) کے کسی امیدوار کی کامیابی کا اعلان ہوتا تھا تو میاں صاحب اندر جاتے ، والدہ کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتے اور باہر آجاتے تھے۔ بزرگوں کے احترام اور عجز و انکسار کی ایک مثال۔ حالیہ انتخابات دو نقطہ ہائے نظرکے درمیان ایک ٹکرائو تھے۔ شکر ہے کہ غرور تکبر اور دشنام طرازی کی پسپائی ہوئی۔
    اس وقت ایک طرف مبارکبادیوں کا شور ہے تو دوسری طرف دھاندلیوں کی آہیں ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سربراہ کے بارے میں چند کالم نگاروں کے توہین آمیز جملے نگاہوں سے گزرے۔ بعض لوگوں کے ظرف کا اندازہ تو پہلے ہی ہوگیا تھا اب یقین آگیا کہ یہ لوگ کتنے سچے اور غیر جانبدار ہیں۔ جہاں سے ان کے چہیتے کو جھولیاں بھر کر ووٹ ملے، اس کے بارے میں سانس ڈکار نہیں لیتے۔ یہ نہیں کہتے کہ صاحبو کمال ہے الیکشن کمیشن نے کیسے شفاف الیکشن کرادیے۔ یوں خاموش رہتے ہیں جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ جن حلقوں میں تکبر و رعونت کے ساتھ بڑے بڑے دعوے کیے گئے تھے، وہاں خوابوں کے حباب حقائق کے کانٹوں کی نذر ہوگئے تو اس پر ایک شور و غوغا ہے۔
    مجلس آہ وبکا ہے۔ برگر قبیلے کی بات اور ہے۔ اس کے لیے کسی سپر ہیرو کی زہر سے بھری ہوئی تقریریں دراصل وہ ویڈیو گیم ہیں جن میں “Kill” “Crush” اور “Delete” جیسے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے کوڑے اور چابک کی سنسناتی ہوئی آواز صرف ’بن حُر‘ اور’گلیڈی ایٹر‘ ایسی ہالی ووڈ فلموں میں سنی ہے۔ آج جمہوریت اور آزادی کا بھرپور لطف اٹھانے والے یہ لوگ نہیں جانتے کہ جب اپنے اور دوسروں کے لیے جمہوری حق مانگنے والے نصف بدن سے برہنہ نوجوان ٹکٹکی پر باندھے جاتے تھے اور کوڑے مارنے والا دور سے بھاگتا ہوا آتا اور پشت کی کھال ادھیڑ کر ساتھ لے جاتا تو اس اذیت کا ذائقہ کیسا ہوتا تھا۔ آج تحریر و تقریر کی آزادی اور جمہوریت کی راہ پر سفر ان ہی ہزار ہا غریب اور گم نام سیاسی کارکنوں کی قربانیوں کا صلہ ہے۔ ان کے احسان مند ہوں انھیں جاہل اور بے شعور نہ کہیں۔
    سچ تو یہ ہے کہ’’انقلاب‘‘ کا نعرہ ان ہونٹوں پر سجتا ہے جنھیں دنوں پانی کی بوند نہ ملی ہو اور وہ سوکھ کرتڑخ گئے ہوں۔ برف میں لگی ہوئی منرل واٹر کی بوتلوں سے گھونٹ لینے والے کچھ نہیں جانتے۔ نہ پیاس، نہ بھوک اور نہ یہ کہ امید کی ایک ننھی سی کرن بیوہ اور مفلس ونادار کے گھر میں کس طرح اجالا کرتی ہے۔ہمارے جیسے ترقی پذیر ملکوں میں انتخابات کی زمین میں خوابوں کی فصل کاشت ہوتی ہے اور یہ خواب وہ دیکھتے ہیں جن کے لیے زندگی ایک سزا ہے، بیروزگاری، بھوک، جہل، اور ذلت و خواری جن کی پیشانیوں پر پیدائش سے پہلے لکھ دی جاتی ہے۔
    پاکستان میں ضیاء الحق اور بہ طور خاص پرویز مشرف دور میں جعلی معاشی ترقی ہوئی جس کے سبب ایک ایسا مراعات یافتہ طبقہ پیدا ہوا جس نے گزشتہ پانچ برسوں میں خوب قد کاٹھ نکالا۔ وہ پاکستان کے غریب اور متوسط طبقے کی زندگی کے حقائق سے واقف نہیں۔ وہ اس بات کو ماننے کے لیے ہر گز تیار نہیں کہ پاکستانی غریبوں کو بھی اقتدار میں شراکت کی اجازت دی جائے اور وہ بھی اپنے سیاسی نمایندوں کے وسیلے سے ان معاملات پر اثر انداز ہوسکتا ہو جو اس کی ذلت آمیز زندگی بدلنے کا سبب ہوسکتے ہیں۔ یہ طبقہ جمہوریت اور سیاستدانوں کا سخت مخالف ہے۔ وہ عوام کو باشعور تسلیم نہیں کرتا۔ خود کو بالا تر سمجھ کر ان کی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔
    60 کی دہائی کے نصف آخر میں بننے والی پیپلز پارٹی وہ جماعت تھی جس نے غریبوں کو زندہ رہنے کا حوصلہ دیا تھا اور خوبصورت خواب ان کی آنکھوں میں رکھ دیے تھے۔ پیپلز پارٹی جب تک لوگوں کے ساتھ وعدے وفا کرتی رہی، انھوں نے بدترین حالات میں بھی اس کا ساتھ دیا۔ لیکن2008 میں پیپلز پارٹی جیت کر بھی عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر سکی۔ 2013 میں یہ عالم ہوا ہے کہ پنجاب میں اس کاکوئی پرسان حال نہیں۔ یہی عالم خیبرپختونخوا میں اے این پی کا ہوا ۔ اس شکست کے اسباب کا کھلم کھلا اظہار بیگم نسیم ولی خان نے کیا ہے۔ انھوں نے بے دھڑک یہ کہا کہ ہیلی کاپٹروں اور بلٹ پروف گاڑیوں میں گھومنے والے خدائی خدمت گار نہیں ہوسکتے۔
    ادھرمیاں نواز شریف ہیں جنہوں نے 1988کے بعد سیاست کی وہ روش اختیار کی، جس میں انقلابی نعرے تو نہ تھے لیکن وہ اپنی معاشی پالیسیوں سے شہروں اور قصبوں کی زندگی بدلتے چلے گئے۔ پھر جب وہ2 مرتبہ دو ، سوا دو سال کے لیے وزیر اعظم ہوئے تو انھوں نے دونوں مرتبہ اس بات کی کوشش کی کہ وہ ملک کا مقدر سنوار سکیں۔2013میں وہ ایک طویل جلاوطنی، پارلیمنٹ سے پانچ برس کی دوری اور ہر وضع کی تہمتیں ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ ’’مک مکا‘‘ اور ’’نورا کشتی‘‘ کے طعنے سہتے ہوئے انتخابی میدان میں نکلے تھے۔ انھوں نے کسی طور کے بلند بانگ دعوے نہیں کیے۔ ان کا ایجنڈا معاشی ترقی، بیروزگاری کے خاتمے اور بجلی کا بحران حل کرنے کا تھا۔ لوگوں نے انھیں اور میاں شہباز شریف کو کام کرتے دیکھا ہے۔ انھیں علم ہے کہ نواز شریف کے ساتھ ایک منجھی ہوئی ٹیم ہے۔ اگر اسے کام کرنے کا موقع ملے تو وہ یقینی طور پر ایسے کام کرسکتی ہے جن سے عام پاکستانی کی زندگی میں قدرے سکون آسکتا ہے۔
    آج لوگوں کو مسلم لیگ (ن) سے توقعات ہیں لیکن ایسی نہیں جنھیں پورا کرنے کے لیے الہٰ دین کے جن کی ضرورت پڑے۔ انتخابات کے زمانے میں کسی مردِ دانا سے پوچھا گیاکہ ووٹ کسے دینا چاہیے۔ جواب ملاکہ اس شخص کو ووٹ دیجیے جس نے انتخابی مہم کے دوران سب سے کم وعدے کیے ہوں۔ اس کے منتخب ہونے کے بعد اس سے ہمیں کم شکایتیں ہوں گی۔ اس جملے کو نظر میں رکھا جائے تو سچ یہ ہے کہ میاں صاحب نے بہت کم وعدے کیے ہیں۔ ان کا پہلا اور آخری وعدہ معیشت کی بحالی، قانون کی بالادستی اور امن قائم کرنے کا تھا۔ منتخب ہونے کے بعد بھی انھوں نے یہی باتیں کی ہیں۔ وہ پڑوسی ملکوں سے بہترین تعلقات اور امریکا سے افہام و تفہیم کے ذریعے پاک افغان مسائل کو حل کرنے کی بات کررہے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک تاثر یہ رہا ہے کہ فوج سے ان کے گہرے اختلافات ہیں لیکن اس بارے میں بھی انھوں نے وضاحت سے بات کی ہے اور کہا ہے کہ انھیں ادارے سے کوئی اختلاف نہیں ۔
    2013 کے انتخابات کو بندوق کی نال اور توپ کے دھانے پر رکھ لیا گیا تھا۔ ایک طرف بندوق کی گولی تھی اور دوسری طرف ووٹ کی پرچی۔ یہ بات اب سے ڈیڑھ صدی پہلے کہی گئی تھی کہ گولیوں کا تیر بہ ہدف نسخہ ووٹ کی پرچی ہے۔ 2013 میں پاکستانیوں نے یہ بات حرف بہ حرف سچ ثابت کردی۔ انتہا پسندوں کی کیسی کیسی دھمکیاں تھیں۔ 11 مئی کے انتخابات میں کوئی کسی بھی جماعت کا امیدوار نہ بنے۔ اس تاریخ کو لوگ گھروںمیں رہیں۔ کوئی ووٹ ڈالنے کے لیے باہر قدم نہ رکھے ورنہ گولیوں سے چھلنی کردیا جائے گا۔ عورتوں کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی۔
    انھوں نے صرف دھمکیاں ہی نہیں دیں، اس دوران کتنے ہی بے گناہ ان کے ہاتھوں مارے گئے۔ اس فضا میں اکثریت کا خیال تھا کہ انتخابات میں گھروں سے نکلنے والوں کی تعداد کم ہوگی لیکن لوگوں نے ایک بار پھر حیران کردیا۔ وہ جوق در جوق نکلے، جن علاقوں میں انتہاپسندوں کی دہشت تھی، وہاں ووٹ ڈالنے والوں کا تناسب 60 فیصد سے زیادہ رہا۔ عورتیں جن سے کہا گیا تھا کہ ان کی ٹانگیں توڑ دی جائیں گی وہ جان ہتھیلی پر رکھ کر نکلیں اور انھوں نے یہ ثابت کردیا کہ وہ دن گزر گئے جب ان کے مقدر کا فیصلہ عقل دشمن کرتے تھے۔ ان انتخابات کا نتیجہ کسی ایک جماعت کی نہیں، عوامی دانش کی فتح ہے۔ ہم سب کو یہ فتح مبارک ہو کہ یہ ہماری زندگی بدل دینے کا آغاز ہے۔
    انتخاب 2013کے نتائج میں عوام نے سب کو یہ پیغام دیا ہے کہ جن کو سیاست میں کامیابی کی تمنا ہے وہ ان کے پاس ووٹ کی بھیک مانگنے آئیں۔ بڑے صاحب ڈرائیور کے گھر جائیں، چھوٹے صاحب مالی کی خوشامد کریں۔ بیگم صاحبہ ماسی کو اپنے ساتھ بٹھائیں اور گھر کے بچے نوکروں سے احترام کے ساتھ پیش آئیں۔
    انتخابات میں لوگوں نے ان کو کامیاب اور کامران کرایا جنہوں نے خود کو ان کا خادم اور نوکر ہونے کا اعلان کیا اور انھیں ناکامی سے دوچار کیا جو احساس برتری، تکبر اور غرور میں مبتلا تھے۔
    واقعی یہ سچ ہے کہ عوام اور ان کی دانش سے ٹکرانے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s