وہ جو کہتے ہیں میرے حالات بدل جائیں گے. عنقریب انکے خیالات بدل جائیں گے۔


دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستانیوں کو بھی خواب دیکھنے کا مکمل اختیار حاصل ہے، لیکن پاکستانیوں کے لئیے بات صرف اس حد تک ہی ہے وہ اس سے آگلے مرحلے میں د نیا کی برابری نہیں کرسکتے، بقیہ دنیا میں لوگ خواب دیکھنے کے بعد تعبیر بھی خود ہی طے کرتے ہیں اور اس تعبیر کو کامیابی سے ہمکنار بھی خود ہی کرتے ہیں، انکے خواب کی تکمیل میں انکا سسٹم انکی حکومت انکے لوگ انکے ادارے مکمل تعاون کرتے ہیں، اور جو جس قابل بھی ہوتا ہے پورا سسٹم اسے اپنی آغوش میں لے کر اسکے صحیح مقام تک پہنچا کر ہی دم لیتا ہے۔

اب آئیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی طرف، یہاں عام انسانی آنکھہ کو صرف خواب دیکھنے تک کی ہی آذادی حاصل ہے، انکے خوابوں کی تعبیر طے کرنا سیاستدانوں، مولویوں، فوج، ایجنسیز، میڈیا، عدلیہ، کا کام ہے، دل سے شاباش دینے کا دل کرتا ہے ان سب اداروں اور لوگوں کو کہ کیا جال بنا ہے ان لوگوں نے مل کر کہ پچھلے چھیاسٹھہ سالوں سے ہر بار عام پاکستانی کو خوابوں کی تعبیر الٹی مل رہی ہے لیکن کسی کو بھی اصل وارداتیئے کا علم نہیں ہے، کسی کو بھی یہ ادراک نہیں ہو پاتا کہ وہ کیا چیز ہے جسکی وجہ سے ہمارے خواب آذاد اور تعبیریں مقید ہیں؟

یہ سب ایول جینئیس ہیں، ان سب کو چھیاسٹھہ سالہ کامیاب اداکاری پر آسکر ایوارڈ اور اس جالسازی پہ مبنی مکروہ نظام کو کامیابی سے قائم و دائم رکھنے پر نوبل پرائز ملنا چاہیئے، میں دعوے سے کہتا ہوں کے دنیا کا بڑے سے بڑا ملک، بڑے سے بڑی ایجنسی، بڑے سے بڑا ادارہ بھی ان سب کی اس کارکردگی کا مقابلہ نہیں کرسکتا، دنیا کے سارے ملک اور ساری خفیہ ایجنسیز ملکر بھی نہ ایسا مکروہ نظام مرتب کرسکتی ہیں اور نہ ہی اتنی کامیابی سے چھیاسٹھہ سالوں تک چلا سکتی ہیں، اس نظام کی کامیابی کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پسنے والے طبقے کی آس نہیں ٹوٹنے دی جاتی، جیسے مریض کی سانس اکھڑنے لگتی ہے تو اسے فوراَ مصنوی سانس دینے کے لئیے وینٹی لیٹر پر ڈال دیا جاتا ہے تاکہ زندگی کی امید نہ ٹوٹنے پائے ٹھیک ایسے ہی ان سب نے ملکر اس نظام کو کچھہ اسطرح مرتب کیا ہے کہ عام پاکستانی کی امید نہیں ٹوٹنے دیتے، جیسے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ اب پانی ناک تک آگیا ہے ویسے ہی نیچے سے تھوڑآ سا نلکا کھول دیا جاتا ہے اور دھیرے دھیرے پانی ناک سے واپس نیچے آجاتا ہے۔

اس نظام کے تحت عام پاکستانی کی امید کو قائم رکھنے کے لئیے مذہب کا استعمال کرتے ہوئے سستے ترین جذبات بیچے جاتے ہیں کبھی شریعت کا انجیکشن لگا دیا جاتا ہے، کبھی جہاد کا انجیکشن لگا دیا جاتا ہے، کبھی بھارت کا حوا کھڑا کردیا جاتا ہے، کبھی کشمیر (جو کہ ہماری شہ رگ ہے، گو کہ شے رگ کے بغیر انسان ایک لمحہ نہیں جی سکتا لیکن پتا نہیں یہ کیسی شہ رگ ہے جس کے بغیر ہم چھیاسٹھہ سالوں سے زندہ ہیں) کا ڈرامہ کھڑا کردیا جاتا ہے، کوئی روٹی کپڑا اور مکان کی امید دیتا ہے، تو کوئی قرض اتارو ملک سنوارو جیے گھٹیا ترین نعرے کی امید دیتا ہے، کوئی سب سے پہلے پاکستان کی امید دے دیتا ہے اور کوئی نیا پاکستان لے کر مارکیٹ میں آجاتا ہے، یہ سب امیدیں دراصل ان سب کی پروڈکٹس ہیں، یہ ملک ان لوگوں کے لئیے منڈی ہے اور ہم عام پاکستانی ان سب خبیثوں کی ان جھوٹی پروڈکٹس کے خریدار ہیں۔

یہ سوچ کر کہ غم کے خریدار آگئے

ہم اپنے خواب بیچنے سرِ بازار آگئے

زندگی ہر بار صدا دے کے چھپ گئی

ہم ایسے سادہ دل تھے کہ ہر بار آگئے

اب آپ غور کریں کے ان میں سے ایک بھی پروڈکٹ ایسی نہیں ہے جس سے عوام کو کچھہ ملا ہو، سب سے پہلا نعرہ قائدِ اعظم نے لگایا کہ ہم پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے، قائدِ اعظم کے پاس ویژن تھا، صلاحیت تھی، قابلیت تھی، عشروں کے پار دیکھنے والی بسارت تھی، دیانت تھی، یہ سب قائد کے پاس وافر مقدار میں تھا لیکن زندگی بہت تھوڑی سی تھی، انکے بعد قائدِ کے مخلص ساتھیوں کو راہ سے ہٹا دیا گیا، یہاں تک کے کراچی سے ایوب خان نے مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کو بھی ہروا دیا، یوں قائد کا خواب تو پورا نہ ہوسکا، اسکے بعد سے لے کر آجتک کے آخری نعرے نیا پاکستان بنائیں گے، کے نعرے تک تمام نعرے سیاستدانوں کی پروڈکٹ ثابت ہوئے، ان تمام پروڈکٹس کی خوبی ہی یہ ہے کہ ان میں سے ایک بھی پروڈکٹ پاکستان اور عوام کے لئیے کارگر ثابت نہیں ہوئی لیکن اس قوم کی آس بھی نہیں ٹوٹنے دی گئی، ان تمام پروڈکٹس کا حال کچھہ اسطرح ہے جیسے کوئ بازار سے پوری طرح چھان پھٹک کرنے کے بعد تربوز خریدے اور جب پورے شوق سے اسے کھانے کی نیت سے کاٹے تو اندر سے وہ گلا سڑا بدبودار نکلے، پہلے نعرے سے لے کر اس آخری نعرے تک کی حقیقت اس گلے سڑے تربوز سے زیادہ نہیں رہی ہے، نہ شریعت نافذ ہوئی، حالنکہ قوم کو شریعت کا انجیکشن لگانے والوں کو مشرف دور میں پورے پانچ سال مکمل اختیار کے ساتھہ سرحد میں حکومت کرنے کا بھرپور موقع دیا گیا لیکن پورے پاکستان میں تو کجا وہ سرحد کے کسی ایک محلے تک میں شریعت فافض نہ کرسکے، نہ روٹی ملی، نہ کپڑا ملا، نہ مکان ملا، نہ قرض اترا نہ ملک سنورا، سب سے پہلے پاکستان کہا تھا آج سب سے آخر میں ہے پاکستان، سب سے آخری پروڈکٹ کو تو کچھہ زیادہ ہی پزیرائی ملی، اس بار عام آدمی کے ساتھہ ساتھہ خواص بھی اس پروڈکٹ کے خریدار بن بیٹھے، لیکن نیا پاکستان تو بہت دور پرانے پاکستان کے بھی لالے پڑتے نظر آرہے ہیں۔

میں طاہر القادری صاحب کی اس بات سے سو فیصد متفق ہوں کے جب تک اس ہی گھٹیا نظام کے تحت غیر آئینی الیکشن کمیشن اور نگراں حکومتیں بنتی رہیں گی تبدیلی نہیں آسکتی، گھوم پھر کر وہ ہی چور لٹیرے اسمبلیوں کی زینت بنیں گے جو انیس سو اٹھاسی سے جتتے آرہے ہیں، طاہر القادری صاحب نے بلکل درست کہا کے عمران خان پورے پانچ سال یہ کہتے رہے کہ نواز شریف اور زرداری ملے ہوئے ہیں، نون لیگ پنجاب میں حکومت میں ہے اور زرداری مرکز میں، دونوں کے درمیاں معاہدہ ہے کہ تم ہمیں نہ چھیڑنا ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے، یہ فرینڈلی اپوزیشن کے نام پر دونوں مل کر پاکستان کا ستیا ناس نکال رہے ہیں، یہ ہی کہتے آئے ہیں نہ عمران خان صاحب؟

اب کیا ہورہا ہے؟ عمران خان صاحب سرحد میں حکومت بنا رہے ہیں اور نواز شریف صاحب مرکز میں حکومت بنا رہے ہیں، نواز شریف صاحب شوکت خانم ہسپتال جا کر عمران خان کے ساتھہ پانچ سالہ فرینڈلی میچ فکس کر آئے ہیں سب کچھہ ویسا ہی ہو رہا ہے صرف چہرے بدلے ہیں، زرداری کی جگہ نواز شریف نے اور نواز شریف کی جگہ عمران خان نے لے لی ہے، طریقہ واردات وہ ہی رہے گا، پانچ سال تم ہمیں نہ چھیڑنا ہم تمہیں نہیں چھیڑیں گے، یہ ہے وہ تبدیلی جسکا پیچھلے دو سال سے رونا رویا جارہا تھا، یہ ہے وہ نیا سراب جسے پانی کہہ کر بیچا گیا، اب فیس بک پر ہارون رشید صاحب اور عمران خان صاحب پارٹی اجلاسوں میں اپنے لوگوں کو یہ سمجھانے میں لگے ہوئے ہیں کہ یہ ہی وقت کا تقاضہ ہے فرینڈلی اپوزیشن ہی بہتر ہے۔

اگر عمران خان صاحب اور انکے مشیر زرا بھی عقلمند ہوتے تو سرحد میں اکثریت ملنے کے باواجود حکومت نہ بناتے بلکے اپوزیشن میں بیٹھنے کو ترجیح دیتے، کیوں کے عمران خان کی پروڈکٹ لوگوں نے خریدی ہی اس بنیاد پر تھی کہ عمران آزمایا ہوا نہیں ہے ایک موقع اسے بھی دینا چاہئیے، اب عمران خاں صاحب یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہمیں تو آزمایا ہی نہیں گیا، اب عمران خان کے مخالفین اگلے الیکشن میں یہ کہہ کر ووٹ بٹوریں گے کے پی ٹی آئی نے سرحد میں کونسا تیر مار لیا جسکی بنیاد پر انہیں پورے پاکستان کی حکومت دے دی جائے؟ اب ڈلیور کر کے دکھاو سرحد میں، سرحد میں ہے ہی کیا؟ داڑھی، جھاڑی، اور پہاڑی کے سواء کچھہ بھی نہیں ہے سرحد میں، ان تین چیزوں میں زیادہ سے زیادہ کیا تبدیلی لے آئیں گے خان صاحب؟ امریکہ کا کل ہی بیان آیا ہے کہ پاکستان کے لئیے ڈرون حملوں کی پالیسی میں کوئ تبدیلی نہیں کی جائے گی، القائدہ سے اگلے بیس سال بھی جنگ جاری رہے گی، لا کے دکھاو اب تبدیلی،اب روک کے دکھاو نیٹو کی سپلائی, ڈرون حملے بھی ہونگے، خودکش حملے بھی ہونگے، لوڈشیڈنگ بھی ہوگی، سارے مل اپنی پوری طاقت بھی لگا لیں تب بھی دو تین سال تو کیا اگلے دس سالوں تک بھی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہیں کرسکتے، قرض اتارنے کے لئیے قرض لینا پڑے گا، وزیرِ خزانہ کا پہلا قدم ہی آئی ایم ایف سے مزید پانچ ارب ڈالر کی بھیک مانگنا ہوگا، قرضوں اور خیرات پہ کھڑی معیشت کو یہ نااہل لوگ سارا زور لگانے کے باواجود بھی اپنے قدموں پر کھڑا نہیں کرپائیں گے، کچھہ بھی نہیں بدلے گا، کچھہ بھی نہیں بدلے گا، کچھہ بھی نہیں بدلے گا، تبدیلی کا خواب دیکھنے والوں کو چاہئیے کہ یا تو خواب بدل لیں یا آنکھیں ہی بدل لیں۔

سرحد میں حکومت بنانا پی ٹی آئی کے لئیے خود کشی کے مترادف ہوگا، اور اس خود کشی کے لئیے پی ٹی آئے والے بہت زیادہ اتاولے نظر آرہے ہیں، یہ ممکن ہی نہیں کے آدھی ادھوری حکومت اپنی شرطوں پر معاملات طے کرے، پی ٹی آئی نے اگر سرحد میں حکومت بنائی تو اسے بھی اس گلے سڑے نظام کا حصہ بننا ہی پڑے گا، پینسٹھہ سالہ یوتھہ کے ترجمان پرویز خٹک جو کے پیپلز پارٹی سمیت مختلف جماعتوں کی حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں وہ پہلے کیا کر پائے ہیں جو اب کچھہ کرلیں گے، پی ٹی آئی نے اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لئیے جو تحریک چلائی تھی جو لہر نظر آئی تھی وہ اب عشروں تک بھی اس قوم کو دیکھنے کو نہیں ملے گی، پی ٹی آئی اب نواز شریف والا کردار ادا کرے گی، دکھاوے کی بیان بازیاں چلتی رہیں گی، اندر سے فرینڈلی اپوزیشن والا کام چلتا رہے گا، یہ ہے وہ تبدیلی جس کے لئیے دو سال سے پوری قوم نے ادھم مچایا ہوا تھا، اب پوری قوم پھر سے کسی نئے تاجر کی نئی پروڈکٹ کا انتظار کرے انشاءاللہ نئی پروڈکٹ ضرور ملے گی، آخر میں پاکستان کی فریاد اس شعر میں دیکھئیے۔

وہ جو کہتے ہیں میرے حالات بدل جائیں گے

عنقریب انکے خیالات بدل جائیں گے۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

4 Responses to وہ جو کہتے ہیں میرے حالات بدل جائیں گے. عنقریب انکے خیالات بدل جائیں گے۔

  1. Nauman faisal نے کہا:

    That’s true brother

  2. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ کچھ زیادہ ہی قنوطی نہیں ہو گئے ؟
    میں تو صرف ایک بات جانتا ہوں کہ میں وہی کروں جو میرا فرض ہے ۔ اتنا ہی ہو جائے تو اللہ کی کرم نوازی ہے ۔ اللہ نے اپنے نبی سے کہہ دیا ”تم نے پیغام پہنچا دیا اب اُن کی فکر کرنا تمہارا کام نہیں“ تو میں کون ہوتا ہوں دوسروں کی فکر کرنے والا ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضرت آپ قنوطی سمجھہ رہے ہیں اور میں اسے حقیقت پسندی سمجھتا ہوں، میں پینٹر نہیں ہوں، فوٹوگرافر ہوں، اپنے پاس سے پینٹ نہیں کیا کچھہ بھی، جیسی شکل ہے اسکی تصویر کھینچ کر سامنے رکھہ دی، اب اگر شکل ہی بری ہے تو تصویر تو بری ہی آئے گی نہ، اس میں فوٹوگرافر کیا کیا قصور ہے؟

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s