ماضی کی یادوں پر اپنی آنکھیں نچوڑنا بے سود ہے


غم، دکھہ، رنج، الم، درد، ہیجان، یاسیت، سوز، افسوس، پچھتاوا، یہ سب کیفیات ایک ماں کی اولاد ہیں، اس ماں کا نام ہے ماضی کی یادیں، ان اولادوں کی ماں تو ایک ہی ہے لیکن عمومی طور پر انکے باپ کئی ایک ہوتے ہیں، دوست، بھائی، بہن، رشتے دار، میاں، بیوی، محبوب، محبوبہ، محلےدار وغیرہ یہ سب ہمارے ماضی کی یادوں کے ناجائز باپ ہوتے ہیں، یہ سب وہ لوگ ہیں جو ہمیں سب سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔

دھوکہ وہ ہی دیتا ہے جس پر آپ سب سے زیادہ اعتماد کرتے ہیں، ظاہر ہے راہ چلتے اجنبی پر تو کوئی اعتماد نہیں کرتا اسلئیے کسی اجنبی کے دھوکہ دینے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا، اعتماد اور دھوکے کا یہ ساتھہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا، اپنوں پر اعتماد کرنا ہماری مجبوری ہوتی ہے، اپنوں کا ہمیں دھوکہ دینا اپنوں کی مجبوری ہوتی ہے، ان دونوں کے پاس ہی کوئی اور آپشن نہیں ہوتا، جسطرح ہمیں اعتماد کرنے کے لئیے صرف اپنے ہی دستیاب ہوتے ہیں ایسے ہی اپنوں کو بھی دھوکہ دینے کے لئیے اپنے ہی دستیاب ہوتے ہیں۔

جیسے موت کو نہیں مارا جاسکتا ایسے ہی ہم چاہ کر بھی اس اولاد کو یتیم نہیں کرسکتے، اعتماد کیا جاتا رہے گا دھوکہ دیا جاتا رہے گا کہ اس خوبصورت دھوکے کا نام ہی زندگی ہے۔

دنیا کا ہر مقام آباد ہی اچھا لگتا ہے سوائے تین مقامات کے، ہسپتال، جیل، اور قبرستان، یہ تین مقامات جتنے بے آباد ہوں اتنے ہی حسین لگتے ہیں، انسان کے ماضی کا قبرستان بھی جتنا بے آباد ہو حال اور مستقبل کے لئیے اتنا ہی مفید ہوتا ہے، انسان کا ماضی کرکٹ کے اس پلیئر کی طرح ہوتا ہے جو اپنے حصے کا کھیل کھیلنے اوپنر کی حیثیت سے بیٹنگ کرنے آئے اور پہلی ہی بال پر آوٹ ہوکر واپس پویلیئن لوٹ جائے، اپنے حصے کا کھیل کھیلنے کے بعد اب اس پلئیر کو کوئی حق نہیں پہنچتا کے وہ پھر سے گراونڈ میں آکر پچ پر لیٹ جائے اور کہے کہ نہ کھیلوں گا نہ کھیلنے دونگا۔

درحقیقت ماضی کی یادیں بھی ہمارے حال اور مستقبل کے ساتھہ کرکٹ کے اس پلئیر کا سا ہی سلوک کرتی ہیں، وہ آکر ہمارے حال کی پچ پر لیٹ جاتی ہیں خود تو کھیل نہیں سکتیں لیکن حال اور مستقبل کو بھی کھل کر نہیں کھیلنے دیتیں، اسلئیے بہتر یہ ہی ہے کہ ماضی کی ان یادوں کو ماضی کے قبرستان میں ہی دفن کردیا جائے اور پھر ان قبروں کو بھی مسمار کردینا چاہئیے تاکے انکا نام و نشان تک باقی نہ بچے اگر آپ ایسا کرنے کے لئیے تیار نہیں ہیں تو پھر خود کو ذہنی طور پر تیار رکھئیے کہ یہ یادیں آپکو کبھی بھی کوئی بڑا اور زندگی کا اہم فیصلہ نہیں کرنے دیں گی، آپکا حال جب بھی کامیابی کا چکا لگانے کی کوشش کرئے گا یہ یادیں آکر پچ پر لیٹ جائیں گی پھر نہ وہ خود کھیلیں گی اور نہ ہی آپکو کھیلنے دیں گی۔

ماضی ہسٹری ہے حال گفٹ ہے اور مستقبل مسٹری ہے، ماضی کو بدلہ نہیں جاسکتا اسلئیے ماضی کی یادوں پر اپنی آنکھیں نچوڑنا بے سود ہے، ماضی کو قدرت بھی نہیں بدل سکتی، حال گفٹ ہے زندگی سے جو ملے اسے اللہ کی طرف سے تحفہ مان کر رکھہ لینا چاہئیے بہتر کے لئیے تدبیر کرتے رہنا چاہئیے، انسان کو ہر حال میں جینا حال میں ہی چاہئیے، مستقبل مسٹری ہے غیر واضع ہے، کسے معلوم تھا وقت کا بادشاہ نواز شریف وزیراعظم ہاوس سے آرمی چیف کو گالیاں نکالتے نکالتے جیل کی کال کوٹھری میں تالیاں بجانے تک آجائے گا، سالا ایک مچھر آدمی کو ہیجڑا بنا دیتا ہے۔

کسے معلوم تھا زرداری جیل میں مچھر مارتے مارتے ایوان صدر میں پہنچ کر ان انسانوں کا معاشی قتل کرئے گا جنھیں مچھر بھی خون چوس کر چھوڑ دیتا ہے، لوگوں کی اکثریت دو انتہاوں پر زندگی کاٹتی ہے، ایک وہ جو ماضی میں ہی رہنا چاہتے ہیں پھر وہ ماضی چاہے زاتی ہو یا پوری قوم کا ہو، دوسرے وہ جو مستقبل کی فکر میں اپنا آج بھی برباد کرلیتے ہیں، حال زندگی جینے کا درمیانی راستہ ہوتا ہے حال ہی وہ واحد زریعہ ہے جس سے انسان ماضی کے بہکاوں اور مستقبل کے متوقع پچھتاوں کے لئیے کوئی صدباب کرسکتا ہے، اسلئیے زندگی جینے کے لئیے سب سے بہترین راستہ حال میں جینا ہی ہے، ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا چاہئیے لیکن ماضی میں رہنا نہیں چاہئیے، تم اپنے آج کی فکر کرلو، آنے والا کل خود تمہاری فکر میں لگ جائے گا۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s