علم و تحقیق کا المیہ


اِس معاشرے میں ہر چیزگوارا کی جاتی ہے، لیکن علم و تحقیق کا وجودکسی حال میں گوارا نہیں کیا جاتا۔ لوگ بے معنی باتوں پر داددیتے، خرافات پر تحسین و آفرین کے نعرے بلند کرتے، جہالت کے گلے میں ہار ڈالتے اور حماقت کی راہ میں آنکھیں بچھاتے ہیں، مگر کسی علمی دریافت اور تحقیقی کارنامے کے لیے، بالخصوص اگر وہ دین سے متعلق ہو تو اُن کے پاس اینٹ پتھر کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔

یہاں سب سے بڑا مرض عامیانہ تقلید کا مرض ہے۔ ہر وہ چیز جسے لوگوں نے اختیار کیا ہوا ہے؛ جو پہلے سے چلی آ رہی ہے؛ جس سے لوگوں کے جذبات وابستہ ہیں؛ جو اُن کی شناخت بن گئی ہے؛ جو اُن کے لیے ایک روایت کی حیثیت رکھتی ہے، وہ اگرچہ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو اور اُس نے حقیقت کا چہرہ کتنا ہی مسخ کیوں نہ کر دیا ہو اور وہ اللہ کے کسی صریح حکم اور اُس کے رسول کی کسی واضح سنت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، لوگ اُس پر کوئی تنقید سننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اُنھیں اِس بات سے کوئی دل چسپی نہیں ہوتی کہ کہنے والے نے اپنے نقطہ نظر کے حق میں دلیل کیا پیش کی ہے۔ اُن کی ساری تگ و دو کا محور صرف یہ ہوتا ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح اپنی اُس روایت کو بچانے میں کامیاب ہو جائیں۔ چنانچہ وہ تنقید کرنے والے کے دلائل سے گریز کر کے، اُس کے کلام میں تحریف کر کے، اُس کے مدعا کو تبدیل کر کے، اُس کی شخصیت کو مجروح کر کے، اُس کا مذاق اڑا کر، غرض یہ کہ ہر طریقے سے حق کو باطل اور باطل کو حق بنا دینے کی کوشش کرتے ہیں.

اِس معاملے میں سب سے برا رویہ اُن لوگوں کا ہوتا ہے جو بس شدبد علم کی بنا پر مذہبی پیشواؤں کی صف میں شامل ہونا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو اُن سے زیادہ اُن کے عقائد و نظریات کا محافظ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک شخص اخنس بن شریق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ اصلاً قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا، لیکن اِس بات کا مدعی تھا کہ وہ بنی زہرہ میں سے ہے۔ چنانچہ جاہلی روایات کی حفاظت میں وہ اُن لوگوں سے کہیں زیادہ سرگرم ہوا جو خود اُن روایات کے امین تھے.

اِس طرح کے لوگ چونکہ احساس کہتری کے مریض اور خوداعتمادی سے محروم ہوتے ہیں، اِس وجہ سے دوسرے مذہبی پیشوا اگر کسی راے کو غلط کہیں تو یہ اُسے گمراہی کہتے ہیں، وہ اُسے گمراہی قرار دیں تو یہ اُسے فتنہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اِنھیں اِس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ حق کیا ہے اور باطل کیا؟ وہ جہاں جاتے، جو کچھ پڑھتے اور جس سے ملتے ہیں، اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے کچھ مسالہ تلاش کرنے اور اپنی سیادت کے لیے کوئی راستہ ڈھونڈنے کے سوا اُنھیں کسی چیز سے دل چسپی نہیں ہوتی۔ وہ بحث میں بھی علمی محاکمے کا طریقہ اختیار نہیں کرتے، بلکہ اپنا سارا زور لینا، پکڑنا، جانے نہ دینا کی قسم کے نعرے بلند کر کے مذہبی پیشواؤں کو اِس بات کی طرف متوجہ کرنے پر صرف کرتے ہیں کہ علم و تحقیق کی ہر شمع جس قدر جلد ممکن ہو بجھا دی جائے۔ وہ اگر زندگی کے کسی مرحلے میں کبھی کسی ایسے شخص کی صحبت میں چند دن گزار لینے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں جو یوحنا بپتسمہ دینے والے کی طرح اونٹ کے بالوں کا لباس پہنتا، ٹڈیاں اور جنگلی شہد کھاتا اور بادشاہوں کی طرح کلام کرتا ہے تو باقی زندگی اِس تشویش میں گزار دیتے ہیں کہ لوگ کہیں اُنھیں بھی اِس مرد حر کا ہم نوا نہ سمجھ لیں۔ وہ ہر دوسرے تیسرے دن ایک براء ت نامہ شائع کرتے ہیں کہ لوگو، آگاہ رہو۔ میں اگرچہ کبھی مسیح کا ساتھی تھا، لیکن اب تم اُسے صلیب دینا چاہتے ہو تو وہ جو مرغ کے دوبار اذان دینے سے پہلے تین مرتبہ اُس کا انکار کرے گا، وہ میں ہی ہوں۔

اُن کی شخصیت ایک عجیب مجموعی تضادات ہوتی ہے۔ وہ اپنے پیرووں کے سامنے بڑی شان کے ساتھ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُنھوں نے جو راے قائم کی ہے، دلیل کی بنا پر قائم کی ہے۔ چنانچہ کوئی شخص اگر دلیل سے اُن کی راے کو غلط ثابت کر دے گا تو وہ بغیر کسی تردد کے اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار ہوں گے، لیکن جب کوئی شخص اُن کے نقطہ نظر کے خلاف برہان قاطع لے کر اُن کے سامنے آ جاتا ہے تو بے تکلف فرماتے ہیں: میاں، دلیل کی حیثیت تو بس ایک لونڈی کی ہے جس سے جو خدمت لینا چاہو گے، وہ بجا لائے گی۔ اصلی تبدیلی تو دل کی تبدیلی ہے، اور اُس کی بارگاہ میں دلیل کی کیا حیثیت؟ وہ لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بغیر کسی تعصب کے اُن کی بات سنیں، لیکن جب اُن کا کوئی پیرو بغیر کسی تعصب کے دوسرے کی بات سننا چاہتا ہے تو اُن کا غضب لاوے کی طرح ابلتا اور خود اُن کے وجود کی ساری غلاظتوں کو اُن کے سامنے ڈھیر کر دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو درس دیتے ہیں کہ برے گمانوں سے بچو اور کان لگانے اور ٹوہ میں رہنے سے احتراز کرو، لیکن اپنے کسی مخالف کی کردار کشی کے لیے اُنھیں اگر کسی تنکے کا سہارا ملنے کی بھی توقع ہو تو وہ اِس کے لیے ہر پتھر کو الٹنے اور ہر وادی کو قطع کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔

لیکن اِس پر شکایت کا کیا محل؟ اِس معاشرے میں جہاں صدیوں سے تحقیق و اجتہاد کی حیثیت ایک شجرممنوعہ کی رہی ہے؛ جہاں وہ لوگ بھی جو بظاہر اہل دین اور ارباب دانش سمجھے جاتے ہیں، علم کے جواب میں جہالت اور استدلال کے جواب میں ابتذال کی روش اختیار کرتے ہیں؛ جہاں بات کو سننے اور سمجھنے کے بجاے قائل کا نفسیاتی تجزیہ کرنے سے لوگوں کو زیادہ دل چسپی ہوتی ہے؛ جہاں ہر وہ چیز جس پر دوچار صدیاں گزر جائیں، مقدس ہو جاتی ہے؛ جہاں صحیح اور غلط کا معیار بالعموم لوگوں میں پذیرائی ہوتا ہے، وہاں اِس سے بہتر کسی رویے کی توقع آخر کی ہی کیوں جائے؟

تاریخ گواہی دیتی ہے کہ دنیا کی بڑی بڑی حقیقتیں بالعموم اِسی طرح کے ماحول میں مرسح عالم پر نمودار ہوئی ہیں۔ یہ رویے نہ یوحنا و مسیح کی دعوت میں سد راہ بن سکے، نہ ابن حزم اور ابن تیمیہ سے اُن کا مقام چھین سکے، نہ سقراط کی حکمت سے دنیا کو محروم کر سکے، نہ کوپرنیکس اور گلیلیو کی دریافتوں کو چھپانے میں کامیاب ہو سکے۔ علم و تحقیق کی شمع ہمیشہ اِسی طرح روشن رہی ہے اور آنے والے زمانوں میں بھی، اگر اللہ نے چاہا تو اِسی طرح روشن رہے گی۔

 

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

10 Responses to علم و تحقیق کا المیہ

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ کون سی دنیا میں رہتے ہیں ؟ اگر آپ عوام کی سمجھ میں آنے والی باتیں کرین تو کسی کا بھلا ہو سکتا ہے ۔ فلسفہ جھاڑنے والے بہت آئے اور چلے گئے مگر دنیا میں کچھ بہتری نہ کر سکے ۔ آپ نے سقراط کا ذکر کیا ہے جو اُس جمہوری نطام کے خلاف تھا جو آج کی نام نہاد آزاد دنیا میں رائج ہے ۔ اس کے نتیجہ میں سقراط کو زہر پینا پڑا تھا ۔ سقراط کہتا تھا کہ باعِلم اور بے علم برابر نہیں ہوتے اسلئے حکمران چننے کا حق صرف باعلم کو ہے ۔ آپ نے اجتہاد کی بات کی ہے ۔ دین کے سلسلہ میں اجتہاد کی کچھ کی کچھ شرائظ ہین کیونکہ دن اللہ کا ہے کسی انسان کا بنایا ہوا فارمولا نہیں ہے

    • fikrepakistan نے کہا:

      بے شک دین اللہ کا ہے، لیکن عقل اللہ نے انسان کو زاتی حیثیت میں ہی دی ہے۔

      • بے شک دین اللہ کا ہے، لیکن عقل اللہ نے انسان کو زاتی حیثیت میں ہی دی ہے۔
        ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

        یہ لائن اس المیہ کی طرف اشارہ کرتی ہے جس میں غامدیت اور غامدیت سے پہلے پرویزیت اور پرویزیت سے پہلے قادیانیت اور قادیانیت سے پہلے بے شمار گروہ متاثر رہے ہیں۔
        حضرت ! جس عقل کی بات آپ کر رہے ہیں وہ خالص عقل نہیں ہے کیونکہ عقل خالص کا ٹھیکہ تو ڈارونیت کے پیروکاروں نے لیا ہوا ہے۔ آپ تو محض جدت پسند اور زمانے کے ساتھ چلنے والے مسلمان سے زیادہ کچھ بھی نہیں ۔ جو اسی کوشش میں ہلکان رہتا ہے کہ کسی طرح اسلام کو جدید مغربی تہذیب کے ساتھ اس جدید مغربی تہذیب کی شرائط کے مطابق ہم آہنگ کیا جاسکے ۔
        کیا آپ عقل سے عائد دینیہ کے کسی بھی جز کو ثابت کرسکتے ہیں۔ سات آسمان اور سات آسمانوں سے اوپر اللہ تعالیٰ کی ذات جو ازل سے ہے اور ابد تک رہے گی، فرشتے، جنت دوزخ ، انبیاء اولیاء ۔۔۔۔ کیا ہے جو عقل کی روشنی میں درست قرار پاتا ہے؟
        اللہ سبحانہ تعالیٰ سے خود کو عقل کل سمجھنے والی گمراہی سے محفوظ رکھنے کی دعا ہے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        غامدی صاحب اگر ابھی تک جماعت سے وابسطہ ہوتے تو آج آپ جسے غامدیت سے تعبیر کر رہے ہیں اس ہی کا دفع کرتے نظر آرہے ہوتے، یہ ہی المیہ ہے ہماری قوم کا کہ ایک بات اگر مودودی صاحب کہیں تو وہ درست ہے اور وہ ہی بات غامدی یا کوئی دوسرے صاحب کہیں تو غلط ہے۔ عقل کی بات جس ضمن میں کی گئی ہے اس کی طرف آپکی توجہ ہی نہیں گئی عقل کی بات افتخار صاحب کے تبصرے میں اجتہاد کے پہلو پر کی گئی ہے جسے آپ نے کہاں سے کہاں جوڑ دیا۔ دلیل کا جواب صرف دلیل ہوسکتا ہے، آپ غامدی صاحب کی کردار کشی کرنے کے بجائے دلیل کے ساتھہ انکی کہی ہوئی باتوں کا جواب لائیں تو پڑھنے والوں کو بہت فائدہ پہنچے گا، کم علموں کی طرح بغض سے کام لے کر کردار کشی کرنے سے آپکی اپنی شخصیت کا تاثر غلط کنوے ہوگا، دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتا ہے کردار کشی نہیں۔ داڑھی پر تحریر لکھی تھی غامدی صاحب کی مکمل دلائل کے ساتھہ، جسکا جواب نہ آپ سے بن پڑا نہ آپ کے جیسے کسی اور ایسے صاحب سے بن پڑا جو بغضِ غامدی میں مبتلا ہیں، دلیل لائئیے دلیل، اگر دلیل نہیں لا سکتے تو پھر اخلاقی جرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حق کو حق کہہ دیجئیے اس سے آپکا قد بڑھے گا انشاءاللہ۔

      • Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

        بلاشُبہ صرف عقل ہی نہیں سب کچھ اللہ سُبحانُہُ و تعالی کا عنائت کردہ ہے جن کا طریقہ استعمال بھی اللہ نے بتایا ہے ۔ آپ انسان کی بنائی ایک چھوٹی سی مشین خریدتے ہیں تو اسے بنانے والے کے بتائے ہوئے طریقہ پر استعمال کرتے ہیں ۔ اللہ کی بنائی عقل کو اللہ کے بتائے ہوئے طریقہ کی بجائے اپنی مرضی سے استعمال کرنا بیوقوفی نہیں ہو گا ؟

      • fikrepakistan نے کہا:

        حضرت اللہ تعالیٰ نے انسان سے دینِ اسلام کی صورت میں صرف چار چیزوں کا مطالبہ کیا ہے، تطہیرِ بدن، تطہیرِ خورد و نوش، تطہیرِ اخلاق اور عبادات۔ انکے ضابطے اور پیمانے بتا دئیے گئے ہیں، پورا دین ان چار چیزوں کے تقاضے کے علاوہ کچھہ بھی نہیں ہے، اگر آپکی معلومات میں کوئی پانچیوں چیز ہو تو ضرور بتائیے گا تاکے میرے اور قارئین کے علم میں اضافہ ہوسکے۔

        اسکے علاوہ جتنے معاملات ہیں انہیں اللہ نے بندے کی عقل پر ہی چھوڑا ہے، وہ واقع تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا مفہوم عرض کردیتاہوں، کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو زمہ دار بنا کر کسی ریاست کی طرف روانہ کرتے ہوئے ان سے پوچھا تھا کہ معاملات کو کیسے چلاو گے؟ انہوں نے فرمایا قرآن و سنت سے رہنمائی لونگا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر قرآن و سنت میں حل نہ ملا تو کیا کرو گے؟ انہوں نے فرمایا پھر میں اپنی عقل سے رہنمائی لونگا۔

        ایسا نہیں ہے کہ اللہ نے انسان کو روبوٹ کے طور پر پیدا کیا ہے اور اسکا ریموٹ کنٹرول اپنے ہاتھہ میں رکھہ لیا ہے، انسان کو عقل دی ہے اور مکمل آذادی دی ہے کے عقل کا استعمال کرتے ہوئے فلاح کا راستہ اختیار کرے، ایسے سینکڑوں معاملات ہیں جنہیں اللہ نے اختیاری معاملات کی فہرست میں رکھا ہے انسان اپنے اور معاشرے کے حق میں جو بہتر سمجھے وہ فیصلہ کرے، مثال کے طور پر ٹریفک قوانین میں جو سزا دی جاتی ہے وہ کونسی آسمانی کتاب میں لکھی ہوئی ہے؟ یہ انسان کا اختیاری معاملا ہے کہ وہ دور کے لحاظ سے ضاطبے اور پیمانے متعین کرے، دور کی تبدیلی کے حساب سے اجتہاد کرتا رہے، عقل کا استعمال ضروری نہیں ہوتا تو پھرانسان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ فرشتے کافی تھے اسکی عبادت کے لئیے۔

  2. آپ غامدی صاحب کی کردار کشی کرنے کے بجائے دلیل کے ساتھہ انکی کہی ہوئی باتوں کا جواب لائیں تو پڑھنے والوں کو بہت فائدہ پہنچے گا، کم علموں کی طرح بغض سے کام لے کر کردار کشی کرنے سے آپکی اپنی شخصیت کا تاثر غلط کنوے ہوگا، دلیل کا جواب صرف دلیل ہی ہوسکتا ہے کردار کشی نہیں۔ داڑھی پر تحریر لکھی تھی غامدی صاحب کی مکمل دلائل کے ساتھہ، جسکا جواب نہ آپ سے بن پڑا۔۔۔۔
    ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

    ایک بار آئن اسٹائن نے کہا تھا کہ
    "دو چیزیں ایسی ہے جنکی کوئی حد نہیں ہے ۔ ایک کائنات اور دوسرا حضرت انسان کی حماقتیں۔ کائنات کے بارے میں اگرچہ مجھے شبہ ہے کہ اسکی کوئی حد نہیں ہے”۔
    بڑے بھائی ، اعلیٰ حضرت ، سرکار۔۔۔۔۔ ذرا ایک منٹ لیجئے اور پھر ٹھنڈے دل سے غور کیجئیے ۔ داڑھی رکھنے کا حکم نبی کریم ﷺ نے دیا ۔ اگر نہیں دیا تو بتائیے ۔۔۔صحابہ کرام رض ، تابعین، تبا تابعین ، آئمہ کرام ، محدثین ، مجتہدین ، بڑے بڑے علم حکمت کے نام ، سلف اور خلف کے تمام بزرگان نے بعینہ اس پر عمل کیا تاوقتیکہ کہ غامدی اور آپ میدان میں آگئے اور اب آپ کہتے ہیں ایسا کوئی منشاء نبی کریم ﷺ کا نہیں تھا ۔اور اگر تھا تو دلیل دو۔۔۔
    اب مجھے آپ خود ہی بتائیے کہ نبی کریم ﷺ کا حکم ہے ، صحیح احادیث سے ثابت ہے ، امت کا طرزعمل ہے اور آج آپ آکر کہتے ہیں کہ دلیل دو۔ خدا کو مانو یار

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ سے دلیل مانگی تھی آپ نے اتنی لمبی تقریر کردی لیکن دلیل پھر بھی نہیں دی، زیرِ بحث مسلہ سرے سے یہ ہے ہی نہیں کہ داڑھی نہیں رکھنی چاہئیے، مسلہ یہ ہے کہ کیا داڑھی دین کا حکم ہے؟ یا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی کو بطورِ سنت جاری فرمایا ہےِِ؟ دین کے پورے ذخیرے سے ایسی کوئی بات نہیں ملتی، قرآن بلکل خالی ہے داڑھی کے ذکر سے، اس ضمن میں اصلاً صرف ایک حدیث ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ تم مشرکوں، مجوسوں اور اہل کتاب سے مختلف وضع اپناو، وہ داڑھی چھوٹی اور مونچھیں بڑی رکھتے ہیں تم داڑھی بڑی اور مونچھیں ترشی ہوئی رکھا کرو۔ یہ ہے اس حدیث کا مفہوم، اب اگر اس حدیث سے آپ یہ استدلال لیتے ہیں کہ یہ حدیث داڑھی کی حرمت قائم کرتی ہے، تو پھر بخاری شریف کی ہی دو حدیثیں آپ کے سامنے رکھہ دیتاہوں۔ اہل کتاب وغیرہ اس وقت بال نہیں رنگتے تھے، تو مسلمانوں نے بھی یہ ہی طریقہ اپنا لیا بالوں کو سفید ہی چھوڑ دیا کرتے تھے، حضور نے فرمایا کہ تم اہل کتاب اور مشرکین سے مختلف وضع اپنایا کرو وہ بال نہیں رنگتے مگر تم رنگ لیا کرو۔ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اسکے بال بکھرے ہوئے تھے مٹی میں اٹے ہوئے تھے لگتا تھا کئی دنوں سے نہایا نہیں ہے، آپ نے فرمایا یہ کیا حلیہ بنا رکھا ہے تم نے، اپنے بالوں کا احترام کیا کرو انہیں بنا سنوار کر رکھا کرو۔

      دونوں حدیثوں کا مغز ایک ہی ہے کہ اہل کتاب اور مشرکوں سے مختلف وضع اپنانے کا حکم دیا گیا ہے، تو اگر آپ اس حدیث کی روشنی میں داڑھی کو سنت کا درجہ یا دین کا حصہ سمجھتے ہیں تو پھر بال رنگنے کو دین کا حصہ کیوں نہیں سمجھا جاتا؟ بال رنگنے کو سنت کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ تیسری حدیث میں بالوں کے احترام کا فرمایا ہے انہیں بنا سنوار کر رکھنے کا فرمایا ہے، تو اگر اس حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو پھر تو کوئی مسلمان گنجا نہیں ہوسکتا، کیوں کے گنجا ہونا تو بالوں کے احترام کے سراسر خلاف ہے، حضور تو بالوں کا احترام کرنے کا فرما رہے ہیں اور ہم الٹا ہی کام کر رہے ہیں گنجے ہو رہے ہیں۔

      اصل بات یہ ہے کہ ایک اخلاقی نصحیت ہے کہ اگر بال رکھہ رہے ہو تو پھر انہیں بنا سنوار کے رکھو انکا احترام کرو۔ اس ہی طرح اگر بال رکھنے ہیں تو پھر انہیں رنگ لیا کرو، بلکل یہ ہی بات داڑھی کے لئیے ہے کہ اگر اگر اگر داڑھی رکھنی ہے تو پھر اسطرح رکھو کہ داڑھی بڑی اور مونچھیں چھوٹی ہوں، نہ کہ اوباشوں کی طرح داڑھی گھٹی ہوئی اور مونچھیں بڑی بڑی رکھہ لو۔

      آپ نے جن جن ہستیوں کے نام گنوائے ہیں یقیناً ان سب نے داڑھی رکھی ہے غامدی صاحب نے بھی منع نہیں کیا ہے رکھنی چاہئیے اچھی چیز ہے حضور نے رکھی ہے پسند فرمائی ہے، بس یہیں تک ہے بات۔ اسے دین نہ بنائیے نہ اسے سنت بنائیں، نہ یہ دین کا حکم ہے نہ ہی سنت ہے، حضور نے پسند فرمائی ہے لیکن حضور کی ذاتی پسند نہ پسند دین نہیں ہے۔ دین وہ ہی چیز بنے گی جسے اللہ کے رسول بطور دین کہہ کر دیں گے۔

      یہ بات خود حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی ہے جسکا مفہوم یہ ہے کہ میری ہر بات کو دین نہ بنا لیا کرو، میں جو چیز بطور دین دوں اسے لے لیا کرو، دنیا کے معاملات تم مجھہ سے بہتر جانتے ہو۔ یہ صحیح مسلم کی حدیث ہے، ٦١٢٦ ۔٦١٢٧ ٦١٢٨۔

  3. ایک بار صلاح الدین ایوبی (اور یاد رہے کہ صلاح الدین ایوبی کا دور نبی کریم ﷺ کے دور سے کم و بیش پانچ سوسال بعد کا دور ہے) کے دور میں صلیبیوں کے کچھ نمائندے مذاکرات کے لیے آئے ۔ صلاح الدین ایوبی کی گود میں انکا پوتا کھیل رہا تھا ۔ اس نے جب ان صلیبی نمائندوں کو دیکھا تو رونے لگ گیا ۔ ان نمائندوں کو تجسس ہوا اور اس بچے کے رونے کی وجہ دریافت کی تو صلاح الدین ایوبی نے کہا کہ اس نے بغیر داڑھی والے مرد پہلی بار دیکھے ہیں اسی لیے خوف کھا گیا ہے۔۔۔۔۔ پانچ سو سال کا عرصہ دھیان میں رکھیے ۔۔۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جتنی احادیث میں نے آپکی خدمت میں پیش کی ہیں انکے مطابق تو پھر نہ کوئی مسلمان گنجا ہوسکتا ہے اور نہ ہی کوئی مسلمان اپنے بال سفید چھوڑ سکتا ہے، اگر حدیث کی روشنی میں آپ داڑھی کو دین کا حصہ مانیں گے تو پھر ان احادیث کی روشنی میں بال رکھنا اور انہیں رنگنا بھی دین کا حصہ ہی مانا جائے گا۔ پھر کسی عالم کو اپنے بال سفید نہیں چھوڑنے چاہئیے تاکے انکی تقلید کرنے والے بھی اپنے بال سفید نہ چھوڑیں، اور نہ ہی کسی عالم کو گنجا ہونا چاہئیے تاکے انکی تقلید کرنے والے گنجے ہوکر گناہ کا ارتکاب نہ کر بیٹھیں۔ میں نے اپنے دلائل دے دیئے ہیں اب اگر آپکے پاس انکے جواب میں کوئی ٹھوس دلائل ہیں تو پیش کیجیئے تاکے میری اور قارئین کے معلومات میں اضافہ ہوسکے، آپکے دلائل کا منتظر رہوں گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s