اصل مسلہ تکبر کا ہے


آپ کے ماننے والوں میں سے کوئی شخص اگر آپ کے ساتھ تعلق خاطر کے اظہار کے لیے یا آپ کی اتباع کے شوق میں ڈاڑھی رکھتا ہے تو اِسے باعث سعادت سمجھنا چاہیے، لیکن یہ دین کا کوئی حکم نہیں ہے۔ لہٰذا کوئی شخص اگر ڈاڑھی نہیں رکھتا تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کسی فرض و واجب کا تارک ہے یا اُس نے کسی حرام یا ممنوع فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس معاملے میں جو کچھ فرمایا ہے، وہ ڈاڑھی رکھنے کی ہدایت نہیں ہے، بلکہ اِس بات کی ممانعت ہے کہ ڈاڑھی اور مونچھیں رکھنے کی کوئی ایسی وضع اختیار نہیں کرنی چاہیے جو متکبرانہ ہو۔ تکبر ایک بڑا جرم ہے۔ یہ انسان کی چال ڈھال، گفتگو ، وضع قطع ، لباس اور نشست و برخاست، ہر چیز میں نمایاں ہوتا ہے۔ یہی معاملہ ڈاڑھی اور مونچھوں کا بھی ہے۔ بعض لوگ ڈاڑھی مونڈھتے ہیں یا چھوٹی رکھتے ہیں، لیکن مونچھیں بہت بڑھا لیتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسے پسند نہیں کیا اور اِس طرح کے لوگوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ متکبرین کی وضع اختیار نہ کریں۔ وہ اگر بڑھانا چاہتے ہیں تو ڈاڑھی بڑھا لیں، مگر مونچھیں ہرحال میں چھوٹی رکھیں*۔ انبیا علیہم السلام کے ذریعے سے جو ہدایت انسان کو ملی ہے، اُس کا موضوع عبادات ہیں، تطہیر بدن ہے،تطہیر خورونوش اور تطہیر اخلاق ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا ہے، تطہیر اخلاق کے مقصد سے فرمایا ہے۔ ڈاڑھی سے متعلق آپ کی نصیحت کا صحیح محل یہی تھا، مگر لوگوں نے اِسے ڈاڑھی بڑھانے کا حکم سمجھا اور اِس طرح ایک ایسی چیز دین میں داخل کر دی جو اِس سے کسی طرح متعلق نہیں ہو سکتی۔

یہی معاملہ ٹخنوں سے نیچی ازار کا ہے۔ عرب جاہلی میں متکبرین کا عام طریقہ تھا کہ لمبا قمیص پہنیں گے، پگڑی کا شملہ کمر سے نیچے تک لٹکتا ہوا ہو گا، ازار ٹخنوں سے اِس قدر نیچے ہو گی کہ گویا آدھی زمین پر گھسٹ رہی ہے۔ عربی زبان میں اِسے اسبال کہتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اِس کو سخت نا پسند کیا اور فرمایا ہے کہ اللہ قیامت کے دن اُس شخص کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرے گا جو غرور سے اپنا تہ بند گھسیٹتے ہوئے چلتا ہو۔ * ازار کے بارے میں تمام روایات اِسی وضع سے متعلق ہیں۔

تہ بند کے بارے میں یہ بات، البتہ کہی جا سکتی ہے کہ اُسے ٹخنوں سے نیچے لٹکتا ہوا چھوڑ دیا جائے تو متکبرین کی اِس وضع سے ایک نوعیت کی مشابہت پیدا ہو جاتی ہے، اِس لیے لٹکانے کی وجہ تکبر نہ بھی ہو تو احتیاط کرنی چاہیے۔ یہ بات کہی جا سکتی ہے ، لیکن اِس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ یہ مشابہت تہ بند ہی میں ہوتی ہے، ہماری شلوار ، پاجامے اور پتلون سے اِس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

جاوید احمد غامدی

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

4 Responses to اصل مسلہ تکبر کا ہے

  1. Mohammad نے کہا:

    یہ مذاہب اور اس کے ماننے والے۔۔۔۔۔چچچ چچچ
    اگر مذہب کی فیکٹری میں اچھے انسان تیار ہوتے تو یہ دنیا حقیقت میں جنت ہوتی اور لوگ جنت کے حصول کے لئے ایک دوسرے کی گردنیں نہ مارتے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      عالم اسلام اور خاص طور پر پاکستان میں جو مذہب کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں ان میں دین کی انتہائی غلط تشریحات کی جاتی ہیں جنکی وجہ سے دین کے اصل ثمرات نچلی سطح تک منتقل ہو ہی نہیں پاتے، یہ فیکڑیاں ان کی روزی روٹی ہیں جس میں عام آدمی کو ایندھن کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اس سے زیادہ ان دکانوں کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

  2. Mohammad نے کہا:

    آپ غامدی اسکول آف تھاٹ سے متاثر لگتے ہیں۔ کسی بھی مذہب، مسلک ،فرقہ یا آئیڈیالوجی کواختیار کرنا ، یا اس کا انکار کرنا ہر انسان کا شخصی وذاتی معاملہ ہے۔ میں ازراہ معلومات صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ غامدی صاحب کا حدیث کے بارے میں کیا موقف ونظریہ ہے اور اسے کیا درجہ دیتے ہیں؟ چونکہ میرا سوال آپکے موضوع سے متعلق نہیں ہے اور آپ بلاگ میں شائع نہ کرنا چاہیں تو مجھے پی ایم بھی کرسکتے ہیں۔ شکریہ
    محمد ذیشان

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد صاحب، بلاگ پر خوش آمدید، جہاں تک میں نے پڑھا ہے تو میں یہ سمجھہ پایا ہوں کے غامدی صاحب حدیث کے معاملے میں بلکل واضع اور مدلل نظریہ رکھتے ہیں، حدیث نبی پاک صلی اللہ علیہ سلم کی زندگی کا تاریخی ریکارڈ ہے، انکے قول و فعل کے تاریخی ریکارڈ ہے، جو دنیا بھر کے انسانوں کے لئیے مشعلِ راہ ہے، ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ یہاں مذہبی جماعتوں نے حدیث کو قرآن پر فوقیت دے رکھی ہے، جب کہ قرآن ہر حال میں حدیث سے مقدم ہے، یہاں لوگ حدیث سے قرآن کو پرکھتے ہیں یہ بلکل غلط رویہ ہے جسکی وجہ سے غلط تشریحات نے جنم لیا ہے، ہمیں قرآن سے حدیث کو پرکھنا چاہئیے، قرآن کی زمہ داری خود اللہ نے لی ہوئی ہے اس لئیے اس میں ترمیم کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ جبکہ ہم جانتے ہیں کے حدیث کے معاملات میں بہت گنجائیش موجود ہوتی ہے، غامدی صاحب حدیث کو مانتے ہیں احترام کرتے ہیں انکی ویڈیوز آپ یو ٹیوب پر دیکھہ سکتے ہیں وہ اپنے بیان میں سینکڑوں احادیث کا ریفرینس دیتے ہیں، کچھہ کم علم لوگوں نے بغض کی وجہ سے غامدی صاحب کو منکرینِ حدیث مشہور کیا ہوا ہے جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ انکا استدلال صرف اتنا ہے کہ حدیث سے قرآن کو پرکھنے کے بجائے قرآن سے حدیث کو پرکھا جائے کہ قرآن ہر ہر حال میں حدیث سے مقدم ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s