کچھہ غلط تشریحات کی تصیح


اسلام میں پردے کے اصل احکام کیا ہیں

میں پردے کے بجائے آداب کا لفظ زیادہ موزوں سمجھتا ہوں یعنی اختلاط ِمرد و زن کے کچھ آداب ہیں،جو اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔ پردے کا لفظ نہ قرآن مجید میں استعمال ہوا ہے اور نہ ہی حدیث میں، البتہ یہ ازواجِ مطہرات کے بارے میں ضرور استعمال ہوا ہے اور ان کے لیے اس کے بالکل الگ احکام ہیں جو سورہ احزاب میں بیان ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے گھرانے کے لیے جو صورت حال پیدا کر دی گئی تھی، اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کچھ خصوصی احکام دیے۔ انھی احکام کو بالعموم لوگ دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن قرآن نے بالکل واضح کر دیا ہے کہ ان احکام کا عام مسلمان عورتوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عام مسلمان عورتوں کے لیے جو احکام دیے گئے ہیں، وہ سورہ نور میں بڑی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ یہاں چار باتیں بیان کی گئی ہیں: پہلی بات، مردوں اور عورتوں، دونوں کو الگ الگ خطاب کر کے یہ کہی گئی ہے کہ اپنی نگاہوں پر پہرا بٹھاؤ۔

عام حالات میں تو ہم جب کوئی حکم دیتے ہیں تو بس مذکر کے صیغے استعمال کر دیتے ہیں، وہ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے ہوتاہے، لیکن قرآن مجید نے وہاں اہتمام کیا اور یہ کہا کہ ‘قل للمومنین’،’ قل للمومنات’، اے پیغمبر آپ مسلمان مردوں سے یہ کہہ دیں، اے پیغمبر، آپ مسلمان عورتوں سے یہ کہہ دیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرو۔ یعنی ان کے اندر ایک دوسرے کے لیے کوئی میلان پیدا نہیں ہونا چاہیے۔ لباس کا تمھیں خیال رکھنا چاہیے کہ وہ اعضا کو نمایاں کرنے والا نہ ہو۔ تیسری بات یہ کہی ہے کہ عورتوں کو اپنے سینے کو بھی اچھی طرح ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔

چوتھی اور آخری بات بھی عورتوں ہی سے متعلق ہے اور وہ یہ ہے کہ عورتیں زیب و زینت کرتی ہیں، زیورات پہنتی ہیں، اگر وہ یہ پہنے ہوئے ہوں تو پھران کو چھپا کر رکھیں۔ صرف ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبایش اس سے مستثنیٰ ہے۔ یہ بہت ہی قابل عمل اور بڑے ہی سادہ احکام ہیں۔ اگر آپ ان پر غورکریں تو انمیں ایک شرافت (decency) ہے،جو پیدا کرنا مقصود ہے۔ یہی بات ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیثوں میں بھی اسی کو بیان کیا ہے۔ اس سے زائد کوئی بات حدیث کے پورے ذخیرے میں نہیں ملتی۔

فتوی کے دو پہلو ہیں: ایک چیز تو یہ ہے کہ آپ دین کی کوئی بات پوچھتے ہیں: مثلاً آپ یہ پوچھتے ہیں کہ دین میں طلاق دینے کا کیا طریقہ ہے یا آپ یہ پوچھتے ہیں کہ شرک کیا ہوتا ہے۔ تو یہ بات عالمِ دین ہی بتائے گا۔ آپ اسی سے پوچھیں گے، حتیٰ کہ ریاست کو بھی اگر یہ مسئلہ درپیش ہو تو وہ عالمِ دین ہی سے پوچھے گی اور ایک عالمِ دین ہی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دین کے کسی معاملے میں اپنی رائے دے۔ اس کے اس حق پر کوئی قدغن نہیں لگائی جا سکتی۔

ایک چیز یہ کہ آپ محض رائے نہیں پوچھ رہے، بلکہ کسی دوسرے آدمی پر اس رائے کا اطلاق کر رہے ہیں۔ یعنی آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ اس مردو عورت میں طلاق ہو گئی یا نہیں؟ یا آپ یہ بات پوچھتے ہیں کہ فلاں شخص مشرک ہو گیا یا نہیں؟ تو اس معاملے میں کسی عالم کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنا نقطہء نظر بیان کرے۔ یعنی قانون نافذ کرنے کا کام علما نہیں کریں گے۔ ایسے معاملات کو بہرحال عدالت کے پاس جانا ہے اور عدالت ہی کو ایسے معاملات کا فیصلہ کرنا ہے۔ البتہ نکاح و طلاق کے معاملے میں اگر عالمِ دین کوباقاعدہ ثالث بنایا جائے تو وہ طلاق واقع ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ دے سکتا ہے۔

قرآن کے مطابق مومنوں پر کفار غالب نہیں آسکتے، اس تناظر میں دیکھیں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ مسلمان کافر اور کافر مسلمان ہو گئے ہیں؟

قرآن نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ مومنوں پر کفار غالب نہیں آسکتے۔ غلبہ اور مغلوبیت کے لیے اللہ تعالیٰ کے کچھقوانین ہیں۔ انھی کے مطابق غلبہ ہوتا ہے اور انھی کے مطابق مغلوبیت ہوتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں ہے کہ ایک آدمی مومن ہے تو وہ ہر حال میں غلبہ پالے گا۔ ایمان اور عمل صالح میں صحابہ کرام سے بڑھ کر کون سی جماعت ہو سکتی ہے، مگر اس کو بھی احد میں شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ غلبے کے اسباب میں سے ایک نہایت اہم سبب مادی قوت ہے۔ قرآن میں صحابہ کرام کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے لیے غلبے کی بشارت صرف اس صورت میں ہے، جبکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی مادی طاقت کم سے کم آدھی ہو۔ اب تھوڑی دیر کے لیے رک کر اپنا بھی جائزہ لے لیجیے کہ ہم مسلمان اس دور میں کیا کر رہے ہیں۔ ایک غلیل پکڑتے ہیں اور اس کے بعد کہتے ہیں کہ امریکہ کو فتح کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ اور نتیجہ کیا نکلا، پچھلے دوسوسال کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے، پے درپے شکست اور پے درپے مایوسی ہے، ٹیپو سلطان کے ساتھ کیا ہوا، مہدی سوڈانی کے ساتھ کیا ہوا، انور پاشا کے ساتھ کیا ہوا، ملا عمر کے ساتھ کیا ہوا، اسامہ بن لادن کے ساتھ کیا ہوا؟ اب ہم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ کامیابی کے لیے بس اتنا کافی ہے کہ آپ کے ہاتھ میں تسبیح ہے، اس کے بعد غلبہ آپ کے لیے لکھا ہوا ہے۔ یہ جان لیجیے کہ ایسا نہیں ہے، ہرگز نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ جب آپ حق پر ہوں گے تو اللہ آپ کی مدد کرے گا، لیکن مادی اسباب یعنی طاقت کا توازن کیا ہونا چاہیے، اس کا اندازہ آپ اس سے لگا لیجیے کہ صحابہ کے لیے توازن کا تناسب نصف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے بعد پھر اپنے طرز عمل کا بھی جائزہ لے لیجیے اور آپ حق پر کتنے ہیں، اس کا بھی جائزہ لینا چاہیے۔

کس فرقے کے امام کی اقتدا میں نماز نہیں ہوتی؟

ہر مسلمان امام کی اقتدا میں نماز ہو جاتی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نماز آپ کی ہوتی ہے، یہ کسی فرقے کی نہیں ہوتی ۔ اس لیے مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں جہاں بھی موقع ملے ، نماز ہو رہی ہو، آپ اطمینان کے ساتھ نماز پڑھیے ۔ امام خواہ سنی ہو یا شیعہ ، اہل حدیث ہو یا دیو بندی، اس سے آپ کی نماز کی قبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ایسی ہی بات ہے کہ اگر امام کا وضو نہیں ہے تو اس کی نماز نہیں ہوئی ، آپ کا وضو ہے تو آپ کی ہو گئی ہے۔

ہمارے ہاں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ قرآن مجید کو سمجھے بغیر پڑھنے سے بھی اجر و ثواب ملتا ہے۔ اس کے استدلال میں یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کوئی شخص ‘الم’ پڑھتا ہے تو اس کے چونکہ تین حروف ہیں، اس لیے اسے تیس نیکیاں ملیں گی۔ کیا قرآن کو بے سوچے سمجھے پڑھنے سے ثواب ملتا ہے اور اگر نہیں ملتا تو پھر اس حدیث کی کیا وضاحت کی جا سکتی ہے؟

حدیث میں یہ بات ہرگز نہیں کہی گئی کہ سوچے سمجھے بغیر قرآن پڑھنے کا اجر ملتا ہے۔ حدیث میں کہا گیا ہے کہ آدمی جب قرآن مجید پڑھتا ہے تو اس کے ہر حرف پر اس کو نیکی ملتی ہے۔ یعنی قرآن مجید کی آیت کا جو مدعا ہے، اس کو سامنے رکھ کر اس کی تلاوت کی جائے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ بے سوچے سمجھے کہیں کہ الف تو آپ کو دس نیکیاں مل جائیں گی۔ قرآن مجید تو علم و عقل کو اپیل کرتا اور فکروعمل کی راہوں کو متعین کرتا ہے۔ بے سوچے سمجھے پڑھنے سے یہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔

قرآن کے بارے میں یہ بات اُس کا ایک عام قاری بھی بہت آسانی کے ساتھ جان سکتا ہے کہ اُس کا موضوع صرف وہ حقائق ہیں جن کو ماننے اور جن سے پیدا ہونے والے تقاضوں کو پورا کرنے ہی پر انسان کی ابدی فلاح کا انحصار ہے۔ وہ اِنھی حقائق کو انفس و آفاق اور تاریخ کے دلائل سے ثابت کرتا ہے، بنی آدم کو اِنھیں ماننے کی دعوت دیتا ہے، اِن کو جھٹلا دینے کے نتائج سے اُنھیں خبردار کرتا ہے اور اِن سے جو تقاضے پیدا ہوتے ہیں، اُن کی شرح و وضاحت کرتا ہے۔ اِن کے علاوہ کسی چیز سے اُسے بحث نہیں ہے۔ اِس میں شبہ نہیں کہ اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے وہ عالم طبیعی کے بارے میں بھی اگر کچھ کہتا ہے تو اُس کا بیان کبھی حقیقت کے خلاف نہیں ہوتا، لیکن اِس عالم کے متعلق جو علوم و فنون انسان کی عقل نے دریافت کیے ہیں اور جو وہ آنے والے زمانوں میں دریافت کرے گی، اُنھیں قرآن مجید کبھی زیر بحث نہیں لاتا۔ اِس طرح کی کوئی چیز سرے سے اُس کا موضوع ہی نہیں ہے۔

لیکن اِسے کیا کہیے کہ اِس امت کی تاریخ میں بارہا لوگ اِس کتاب کو اُس کی اِس اصلی صورت میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوئے۔ چنانچہ اُنھوں نے پہلے یہ مقدمہ قائم کیا کہ یہ چونکہ اللہ کی کتاب ہے، اِس لیے دنیا کے سارے علوم و فنون اِس میں لامحالہ ہونے چاہییں۔ اِس کے بعد وہ اپنے اِس مقدمے کو ثابت کرنے کے لیے اِس بات کے درپے ہوئے کہ کسی طرح اِن علوم و فنون کے ماخذ اُس کی آیات میں سے ڈھونڈ نکالے جائیں۔ چنانچہ زبان و بیان اور نظم کلام کی ہر دلالت کو نظرانداز کر کے کبھی فلسفہ یونان کے اوہام اِس سے ثابت کیے گئے، کبھی ایک خاص زمانے کی سائنسی معلومات کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ درحقیقت اِس کی فلاں اور فلاں آیت سے اخذ کی گئی ہیں، کبھی علم طب اور نجوم و فلکیات کے بعض عقائد اِس سے برآمد کیے گئے، اور کبھی انسان کے ایٹم بم بنانے اور چاند پر پہنچنے کا ذکر اِس میں سے نکال کر دکھایا گیا۔

یہ ساری زحمت لوگوں کو صرف اِس لیے اٹھانا پڑی کہ اُنھوں نے اِس کتاب کے بارے میں بالکل غلط تصور قائم کر لیا۔ وہ اِس بات کو نہیں سمجھے کہ عالم کے پروردگار نے اِس کتاب سے پہلے انسان کو عقل عطا کی ہے۔ جس طرح یہ کتاب پروردگار کی عنایت ہے، اِسی طرح عقل بھی اُسی کی عنایت ہے۔ چنانچہ جن معاملات میں عقل کی رہنمائی اُس کے لیے کافی ہے، اُن سے اِس کتاب کو کوئی تعلق نہیں اور جن سے یہ کتاب بحث کرتی ہے، اُن میں عقل اگر اپنے وجود ہی سے غافل نہ ہو جائے تو اِس کی رہنمائی سے کبھی بے نیاز نہیں ہو سکتی۔

یہ صرف قرآن مجید ہی کا معاملہ نہیں ہے، اللہ کے نبی نے اپنے بارے میں بھی یہ حقیقت اپنے ماننے والوں کو بڑی وضاحت کے ساتھ سمجھائی ہے۔ ام المومنین سیدہ عائشہ کی روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو کھجوروں میں گابھا دیتے ہوئے دیکھا توفرمایا: اِس کے بغیر ہی ٹھیک ہے۔ اُنھوں نے اُس سال گابھا نہیں دیا ۔ چنانچہ پھل بہت ردی آیا۔ لوگوں نے آپ سے اِس کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم اِس طرح کے معاملات کو مجھ سے بہتر سمجھتے ہو۔ میں تمھیں اللہ کا دین بتانے آیا ہوں، اِس لیے میری طرف صرف اُسی کے لیے رجوع کیا کرو۔

ہم اگر قرآن مجید سے فی الواقع ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں تو لازم ہے کہ اُس کی طرف صرف دین کے حقائق و معارف جاننے کے لیے رجوع کریں۔ اپنے سونے کے لیے چارپائی بنانے اور اپنی آواز زہرہ و مریخ تک پہنچانے کے لیے ہمیں اپنی عقل کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ یہ حقیقت ہے کہ اُس نے انسان کو اپنے دائرہ عمل میں کبھی مایوس نہیں کیا۔

قرآن مجید ہم کو یہ بتانے کے لیے نازل کیاگیا ہے کہ اپنے پروردگار کی رضا ہم اِس دنیا میں کن چیزوں کو مان کر اور کن چیزوں پر عمل کر کے حاصل کر سکتے ہیں۔ ہمیں اُس کی آیات میں اپنی خواہشوں کا مضمون پڑھنے کے بجاے اپنی خواہشوں کو اُس کی پیروی کے لیے مجبور کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بات قرآن میں جگہ جگہ واضح کی ہے کہ اُس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی شرط یہی ہے ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص دنیا کے سارے علوم و فنون اِسی ایک کتاب میں دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو، لیکن اُس کی یہ خواہش اِس حقیقت کو نہیں بدل سکتی کہ اِس میں صرف اُس علم کا بیان ہے جو انسان کی ابدی فلاح کے لیے ضروری ہے۔

زبان سے کلمہ اسلام کا اقرار اور عمل سے اس کی نفی کرنے والے کو کیا کہیں گے؟

کہنے کی ضروت کیا ہے؟ یعنی کیا یہ ضروری ہے کہ ایسے شخص پر لازماً کوئی فتویٰ لگایا جائے۔ اگر کوئی آدمی کوتاہی کر رہا ہے تو ہمیں اپنے بھائی کو اس کوتاہی سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اسے بھلائی کی طرف دعوت دینی چاہیے، اس تک اللہ کا پیغام پہنچانا چاہیے۔ اس کے بارے میں فتویٰ صادر کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

19 Responses to کچھہ غلط تشریحات کی تصیح

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ کی عالمانہ تحاریر میں اتنا وثوق ہوتا ہے کہ مجھ جیسا ؑام سا انسان کانپ کے رہ جاتا ہے ۔ چنانچہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پردہ سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور سورۃ نور کی آیت 31 ہے جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے ۔ متعلقہ حصہ نقل کر رہا ہوں ۔ از راہِ کرم بتا دیجئے کہ آپ نے اس کا کیا ترجمہ کیا ہے اور اس کی بنیاد کیا ہے
    وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضرت سورہ نور ہی میں بیان ہوئی ہے یہ تفصیل، سورہ احزاب میں جو تفصیل بیان ہوئی ہے وہ ایک خاص پس منظر کے تحت حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہارات کے لئیے ہے، مشرکین نے اس وقت خاص طور پر نشانہ بنایا ہوا تھا ازواج مطہارات کو، وہ جب رفع حاجت کے لئیے گھر سے باہر جاتیں تو یہ لوگ رات کے اندھیرے میں وہاں پہنچ جاتے اور پکڑے جانے پر کہتے کہ ہم سمجھے ہماری لونڈی ہے، اسلئیے یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کو لوگ عموماَ عام خواتین کے پردے کے لئیے پیش کردیتے ہیں، سورہ احزاب کا شانِ نزول پڑھہ لیجئیے تو معاملا سمجھہ میں آجائے گا۔

      چہرے اور ہاتھہ پاوں کے کھلے رکھنے یا نہ رکھنے کی غلط فہمی بھی اس ہی وجہ سے ہوتی ہے کہ لوگ سورہ احزاب کو پردے کے لئیے رہنما بناتے ہیں، جبکہ عام خواتین کے لئیے سورہ نور میں ہدایت دی گئی ہیں۔

      • Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

        حضور ۔ آپ نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا اور سورۃ احزاب پر چلے گئے ہیں ۔ میرا تبصرہ ذرا غور سے پڑھیئے پھر جواب دیجئے

      • fikrepakistan نے کہا:

        حضرت پردے سے مطعلق سورہ نور میں چار ہی چیزیں بیان ہوئی ہیں تحریر میں بھی بیان کردی گئی ہیں، رہی یہ بات کے ہاتھہ اور منہ کے کھلا رہنے کا کہاں سے اخذ کرلیا تو اس ضمن میں بہت سی مستند احادیث موجود ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی عورتیں اپنا منہ کھلا رکھتی تھیں، گو کہ احادیثوں میں یہ بھی ملتا ہے کہ عورتیں چہرے کو ڈھانپ کر بھی رکھتی تھیں، لیکن اگر کوئی چہرہ کھلا رکھنا چاہتی تھیں تو وہ کھلا بھی رکھہ سکتی تھیں اسکی بھی شہادت کافی احادیث سے ملتی ہے، اگر آپ چاہیں گے تو ریفرنس کے لئیے میں آپکو ایسی احادیثوں کی تفصیل بھی پیش کردوں گا۔

    • G:murtaza نے کہا:

      لاحول ولاقوۃ الا باللہ۔اللہ کی پناہ یہ صاحب کو امریکہ اور یورپ اور پاکستان کے مشرف اور شوکت عزیز سے بھی کچھ زیادہ روشن خیال لگتا ہے جس کو شرعی پردے کو آداب کا نام دے رہا ہے ۔اور قرآن وحدیث کی غلط تشریحات کر کے لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے ایسا شخص لعین معلون اور لعنتی ہے اور قرآن کی اپنی طرف سے تفسیر کرتا ہے جو کہ تفسیر بالرائے ہے اور یہ اشد حرام ہے ۔اور اس نے صحابہ کرام پر پر بہتان باندھا ہے کہ ام المومنین جب رات کو پیشاب کے لئے تشریف لے جاتیں تو صحابہ کرام وہاں پہنچ جاتے جب پکڑے جاتے تو کہتے ہم نے سمجھاکہ ہماری لونڈیاں ہیں ۔ایسے شخص پر اللہ تعالی کی تمام ملائکہ کی،تمام انبیاء ،تمام اولیاء،تمام صحابہ کرام ،اور تمام ام مومنین رضی اللہ تعالی عنھم اور میری اور میرے خاندان والوں اور تمام مسلمانوں اور تمام امتوں کی طرف سے لعنت ہو۔آمین ثم آمین۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        جی مرتضیٰ صاحب۔ جہالت اس وقت بری ہوتی ہے جب اسکا اظہار کر دیا جائے، آپ نے کیا پڑھا ہر کیا سمجھا، صحابہ اکرام کی نہیں مشرکین کی بات کی گئی ہے کہ مشرکین ایسا کیا کرتے تھے رات کے اندھیرے میں امہات المومنین کے پریشان کی کرتے تھے اور جب پکڑے جاتے تو کہتے کہ ہم سمجھے ہماری لونڈی ہے، یہ پوری بات قرآن میں بیان ہوئی ہے سورہ احزاب کا مطالعہ کر لیں پھر اپنی جہالت پر خود ہی نادم ہو جائیے گا۔

  2. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ نے کس آیت کا یہ مطلب نکالا ہے کہ ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبایش مستثنیٰ ہے ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      چہرے اور ہاتھہ پاوں کے کھلے رکھنے یا نہ رکھنے کی غلط فہمی بھی اس ہی وجہ سے ہوتی ہے کہ لوگ سورہ احزاب کو پردے کے لئیے رہنما بناتے ہیں، جبکہ عام خواتین کے لئیے سورہ نور میں ہدایت دی گئی ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      ناصر البانی صاحب کی کتاب عورتوں کے اوڑھنے کی چادر، میں انہوں نے پردے سے مطعلق تمام احادیث اکھٹی کردی ہیں یہ کتاب با آسانی بازار میں دستیاب ہے اسے معاملے کو سمجھنے کے لئیے آسے پڑھا جاسکتا ہے، اس کتاب میں سے کچھہ میں آپکے سامنے رکھہ دیتا ہوں، یہ واقع پردے کی تمام آیات نازل ہونے کے بعد کا ہے، کہ ایک خاتون حضور پاک کی خدمت میں حاضر ہوئیں آپ کے ساتھہ ایک صابی بھی تشریف فرما تھے، وہ خاتون بہت خوبصورت تھیں تو وہ صحابی بار بار ان خاتون کو دیکھتے اور حضور ہر بار انکا چہرہ اپنے ہاتھوں سے دوسری طرف کر دیتے کہ نہ دیکھو، اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان خاتون کا چہرہ کھلا ہوا تھا اور حضور پاک نے بھی ان خاتون کو چہرہ ڈھکنے کا نہیں کہا بلکے ان صحابی کا چہرہ اپنے ہاتھوں سے دوسری طرف کر دیا۔ اس ہی طرح ایک اور جگہ البانی صاحب لکھتے ہیں کہ جب صبح کے وقت عورتیں نماز پڑھنے مسجد کی طرف جاتیں تو پہچان لی جاتی تھیں کہ کون کون ہیں، اگر وہ پردہ کرتی ہوتیں تو یہ نہ کہا جاتا کہ پہچان لی جاتی ہیں۔

      اس ہی طرح جنگوں کے دوران عورتیں زخمی مردوں کی مرہم پٹیاں کرتی تھیں، ایک صحابی شدید زخمی ہوگئے تو خود حضور پاک نے ان صحابی کا بستر ان خاتون کے خیمے میں لگوا دیا کہ تم سے اچھی تیمارداری انکی کوئی نہیں کرسکتا وہ صحابی تین دن تین راتیں ان خاتون کے ساتھہ اس خیمے میں رہے۔

      اور بہت سے واقعات اور احادیث کی تفصیل آپکو اس کتاب میں مل جائے گی۔

  3. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    آپ کا غلبہ کے متعلق بیان حقائق سے ہٹ کر ہے ۔ وہ آیت تو بتایئے جس کا ترجمہ آپ نے کیا ہے ”قرآن میں صحابہ کرام کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان کے لیے غلبے کی بشارت صرف اس صورت میں ہے، جبکہ دشمن کے مقابلے میں ان کی مادی طاقت کم سے کم آدھی ہو“۔
    باقی بیان بھی کچھ ایسے ہی ہیں
    میں نے آپ سے ایک بار قبل بھی درخواست کی تھی کہ لکھنے سے پہلے اچھی طرح مطالعہ کر لیا کریں مگر دوسروں کو فتوے سے روکتے ہیں اور خود قرآن شریف کے مفسّر اور حدیث کے ماہر بن کر تحریر لکھتے ہیں ۔ اگر آپ اپنی درستگی کرنے کی کوشش کریں گے تو اس میں آپ کا اپنا ہی فائدہ ہے ۔ محترم دوسروں کو پڑھانے سے پہلے اپنا علم تو درست کیجئے ۔ آپ کے فلاح پانے یا غرق ہونے سے دوسروں کو رتی برابر فرق نہیں پڑے گا

    • fikrepakistan نے کہا:

      سورہ ال انفال آیت ٦٦ چھیاسٹھہ ریفرینس کے لئیے حاضر ہے۔ وہ بات ضرور بتائیے گا جسے پڑھہ کر آپ کانپ جاتے ہیں۔

      [8:66] سرِدست اللہ نے تم سے بوجھ ہلکا کر دیا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ تم میں ابھی کمزوری ہے۔ پس اگر تم میں سے ایک سو صبر کرنے والے ہوں تو وہ دو سو پر غالب آجائیں گے اور اگر تم میں سے ایک ہزار (صبر کرنے والے) ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے دو ہزار پر غالب آجائیں گے اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

      • Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

        میں نے اسی لئے یہ سوال پوچھا تھا کیونکہ میرا خیال تھا آپ نے اسی آیت کے حوالے سے بات کی ہے ۔ حضور یہ استعارے کی زبان ہے ۔ گنتی اہم نہیں ہے ۔
        آپ نے پوچھا ہے کہ میں کیا پڑھ کر کانپ جاتا ہوں ۔ میرا پہلا تبصرہ ایک بار پھر پڑھ لیجئے ۔ مین نے وجہ لکھی ہوئی ہے
        سُبْحَانَكَ لاَ عِلْمَ لَنَا إِلاَّ مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّكَ أَنتَ الْعَلِيمُ الْحَكِيمُ

      • fikrepakistan نے کہا:

        حضور یہ استعارے کی زبان نہیں ہے، بلکل واضع الفظ میں اللہ تعالیٰ نے بیان کردیا ہے کہ اللہ جانتا ہے کہ تم بھی ابھی کچھہ کمزوری ہے، اسلئیے پرسنٹیج ڈبل کی رکھی گئی ہے، اور یاد رہے کہ یہ کن لوگوں کے مطعلق بات ہورہی ہے انکے مطعلق جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، جن میں سے بیشتر علم و عمل میں اپنا ثانی نہیں رکھتے، تقویٰ ایثار قربانی کے پیکر ہیں، انکے لئیے ڈبل کی پرسنٹیج رکھی گئی ہے کے اگر تم طاقت میں اور تعداد میں آدھے بھی ہوگے تو کامیابی تمہیں ملے گی، اب زرا آج کے مسلمانوں کے کردار پر نظر ڈال لیجئیے، کیا آج کے مسلمان طاقت اور کردار میں صحابہ اکرام سے بہتر ہیں؟ یقیناً آپکا جواب نفی میں ہوگا، تو اب آپ خود اندازہ کرلیں کے آج کے مسلمانوں کی طاقت اور کردار کے حساب سے کیا پرسنٹیج بنتی ہے، مائنس میں ہی بنے گی جناب۔

  4. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    جناب عالی ۔ ہر چند کہ آپ نے عِلم کی مزید شمعیں روشن کر دیں ہین لیکن میرے تینوں سوال ابھی تک آپ کی توجہ کے محتاج ہیں

    میرا پہلا سوال تھا (1) مجھے سمجھ نہیں آئی کہ پردہ سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور سورۃ نور کی آیت 31 ہے جس کا حوالہ آپ نے دیا ہے ۔ متعلقہ حصہ نقل کر رہا ہوں ۔ از راہِ کرم بتا دیجئے کہ آپ نے اس کا کیا ترجمہ کیا ہے اور اس کی بنیاد کیا ہے
    وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ
    میں پھر درخواست کرتا ہوں کہ اس آیت کا مطلب جو آپ سمجھے ہیں سیاق و سباق کے حوالے سے واضح کیجئے

    میرا دوسرا سوال تھا (2) آپ نے کس آیت کا یہ مطلب نکالا ہے کہ ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبایش مستثنیٰ ہے ؟
    اس میں بات صرف ہاتھ پاؤں اور چہرے کی نہیں ۔ آپ نے ہاتھ پاؤں اور چہرے کی زیبائش کی بات کی ہے
    اب آپ نے بہت سی مستند احادیث کا ذکر کیا ہے ۔ آپ وہ احادیث پورے حوالے کے ساتھ رقم کر دیجئے لیکن خیال رہے کہ اول قرآن شریف ہے ۔ جو بات قرآن شریف میں واضح نہ ہو اس کیلئے حدیث سے رجوع کیا جاتا ہے ۔ یہاں تو قرآن شریف کے ترجمے میں تحریف ہو رہی ہے چنانچہ حدیث کی فی الحال ضرورت نہیں ہے

    میرا تیسرا سوال مسلمانوں کے غلبہ کے بارے میں تھا جسے میں نے استعارہ کہا مگر آپ کو اعتراض ہے ۔ کیا کوئی عمل اللہ سۃبحانُہُ و تعالٰی کے حکم کے خلاف وقوع پذیر ہو سکتا ہے ؟ میرا جواب ہے ”ہرگز نہیں“۔ اب تاریخ میں جایئے اور غزوہ بدر کا یہ بند پڑھیئے
    ”مشاورت کے بعد مجاہدین کو تیاری کا حکم ہوا۔ مسلمانوں کے ذوق شہادت کا یہ عالم تھا کہ ایک نوعمر صحابی حضرت عمیر بی ابی وقاص اس خیال سے چھپتے پھرتے تھے کہ کہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس نہ بھیج دیے جائیں۔ اس کے باوجود مجاہدین کی کل تعداد 313 سے زیادہ نہ ہو سکی۔ یہ لشکر اس شان سے میدان کارزار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی کے پاس لڑنے کے لیے پورے ہتھیار بھی نہ تھے۔ پورے لشکرے پاس صرف 70 اونٹ اور2 گھوڑے تھے جن پر باری باری سواری کرتے تھے۔ مقام بدر پر پہنچ کر ایک چشمہ کے قریب یہ مختصر سا لشکر خیمہ زن ہوا۔ مقابلے پر 3گناہ سے زیادہ لشکر تھا۔ 1000 قریشی جوان جن میں سے اکثر سر سے پاؤں تک آہنی لباس میں ملبوس تھے وہ اس خیال سے بدمست تھے کہ وہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھر فاقہ کشوں کا خاتمہ کر دیں گے لیکن قدرت کاملہ کو کچھ اور ہی
    منظور تھا“۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضرت آپکی حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ، ہاتھہ پاوں اور چہرے کی زیبائش کسی آیت سے اخذ نہیں کی گئی ہے، میں ترجمہ کرنے والا کون ہوتا ہوں، جو ترجمہ مترجم نے کیا ہے میں نے تو وہ ہی درج کیا ہے، چار چیزوں کا ذکر ہے وہ چار چیزیں بیان کردی گئی ہیں، یہ بات آپ بھی بہت اچھی طرح جانتے ہیں کے چہرے سے مطعلق مختلف مکتبِ فکر کی مختلف تشریحات ہیں، ہاں البتہ حضور کے زمانے کے کچھہ واقعات ایسے ضرور ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ اس وقت عورتیں چہرہ کھلا بھی رکھہ لیا کرتی تھیں، اگر آپ بدر کی مثال دیں گے تو پھر میں احد کی مثال دونگا، اگر مادی طاقت کوئی حیثیت نہیں رکھتی اور صرف تقویٰ یا صبر ہی اہمیت رکھتا ہے تو پھر احد میں شکست کیوں ہوئی؟ اسباب کی اہمیت کو نظر انداز ہرگز نہیں کیا جاسکتا، میں نے اس ضمن میں سورہ انفال کی آیت بھی پیش کر دی ہے جس میں واضع طور پر فرما دیا گیا ہے کہ ابھی تمہارے اندر کچھہ کمزوری ہے اسلئیے دو سو کے مقابلے میں سو بھاری پڑو گے، یعنی طااقت کے حساب سے مسلمان کو کم از کم دشمن کا آدھا تو ہونا ہے، اور یہ دشمن کے مقابلے میں آدھے ہونے کی شرط بھی کن لوگوں کے لئیے ہے وہ لوگ جو صحابہ اکرام ہیں، اب آج کے لوگوں کا کردار دیکھہ لیں ہر پھر پرسنٹیج کا تخمینہ خود ہی لگا لیں، مائنس میں ہی نکلے گی ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      اس وقت زرا جلدی میں ہوں، چہرے کو کھلا رکھنے کے حوالے سے حضور کے زمانے کے واقعات کے حوالے میں آپکو دوسری نشست میں دے دونگا انشاءاللہ۔

  5. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    میں بحث میں اُلجھنا نہیں چاہتا ۔ آپ کی بہتری کی خاطر آخری کوشش کرتا ہوں ۔ پھر آپ جانے اور آپ کا کام ۔ ہرچند میں آپ کے اور آپ میرے اعمال کیلئے جوابدہ نہیں

    سورۃ النور آیت 31 ۔
    وَ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنٰتِ یَغۡضُضۡنَ مِنۡ اَبۡصَارِہِنَّ وَ یَحۡفَظۡنَ فُرُوۡجَہُنَّ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ لۡیَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوۡبِہِنَّ ۪ وَ لَا یُبۡدِیۡنَ زِیۡنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اٰبَآئِہِنَّ اَوۡ اٰبَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآئِہِنَّ اَوۡ اَبۡنَآءِ بُعُوۡلَتِہِنَّ اَوۡ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اِخۡوَانِہِنَّ اَوۡ بَنِیۡۤ اَخَوٰتِہِنَّ اَوۡ نِسَآئِہِنَّ اَوۡ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیۡنَ غَیۡرِ اُولِی الۡاِرۡبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفۡلِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یَظۡہَرُوۡا عَلٰی عَوۡرٰتِ النِّسَآءِ ۪ وَ لَا یَضۡرِبۡنَ بِاَرۡجُلِہِنَّ لِیُعۡلَمَ مَا یُخۡفِیۡنَ مِنۡ زِیۡنَتِہِنَّ ؕ وَ تُوۡبُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ جَمِیۡعًا اَیُّہَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ
    اور اے نبی ۔ مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے جو خود ظاہر ہو جائے اور وہ اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ۔ وہ اپنے بناؤ سنگھار کو ظاہر نہ کریں سوائے شوہر یا باپ یا شوہروں کے باپ اپنے بیٹے یا شوہروں کے بیٹے یا اپنے بھائی یا بھتیجے یا بھانجے کے یا اپنی میل جول کی عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو [کم سِنی کے باعث ابھی] عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے ۔ اور نہ اپنے پاؤں زمین پر مارتی ہوئی چلا کریں کہ ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ [حکمِ شریعت سے] پوشیدہ کئے ہوئے ہیں ۔ اے مومنو ۔ تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو ۔ توقع ہے کہ فلاح پاؤ گے

    تفسیر ابنِ کثیر میں اس کی تشریح موجود ہے

    سورۃ الاحزاب آیت 59
    یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّاَزۡوَاجِکَ وَ بَنٰتِکَ وَ نِسَآءِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ یُدۡنِیۡنَ عَلَیۡہِنَّ مِنۡ جَلَابِیۡبِہِنَّ ؕ ذٰلِکَ اَدۡنٰۤی اَنۡ یُّعۡرَفۡنَ فَلَا یُؤۡذَیۡنَ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا
    اے نبی ۔ اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی چادریں اپنے اوپر لٹکا لیا کریں ۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں ۔ اور اللہ غفور و رحیم ہے

    تفسیر ابنِ کثیر میں اس کی بھی تشریح موجود ہے

    • fikrepakistan نے کہا:

      سورۃ الاحزاب آیت 59
      سے مطعلق بلکل واضع احکام موجود ہیں کے وہ اس وقت کی خواتین اور ازواجِ مطہرات سے مطعلق تھے، سورہ نور میں آپ نے بھی وہ ہی تشریح پیش کی ہے جو تحریر میں دی گئی ہے، چہرے سے مطعلق مختلف تشریحات موجود ہیں، ہر ایک کا اپنا نقطہ نظر ہے اپنی دلیلیں ہیں، میں نے آپ سے ناصر البانی صاحب کی جس کتاب کا تذکرہ کیا ہے اسکا مطالعہ کرلیں معلوم ہوجائے گا کہ ان دونوں آیات کے نزول کے بعد بھی حضور کے زمانے میں عام عورتوں کے پردے کی نوعیت کیا تھی، میں آپکے استدلال کو یکسر مسترد نہیں کررہا، لیکن جو دلائل میں نے دئیے ہیں جن احادیث اور واقعات کا ذکر میں نے پچھلے تبصرے میں کیا ہے ان سے واضع ہوجاتا ہے کہ جن لوگوں نے چہرے کے کھلے ہونے کے حق میں دلائل دئیے ہیں میرے نزدیک وہ زیادہ مستند ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s