چار باتیں


وہ کونسی باتیں ہیں جو اس زمانے میں ہم پریکٹس کر کے جنت کے حقدار قرار پائیں گے۔ نبی پاک موجود تھے لوگوں میں جب انہوں نے بھی یہ باتیں ہدایت کیلئے پوچھیں، تو اب جتنی احادیث ہمارے پاس موجود ہیں یا قران پاک کا جو درس ہم تک پہنچتا ہے اس سے ہم کیا باتیں نکال لیں پانچ چھہ موٹی موٹی جن کو ہم اپنی زندگی میں داخل کر لیں اور پھر ہم کہیں کہ ہم شاید جنت کو پا لیں گے۔ وہ کیا باتیں ہوں گی؟

چار باتیں نکال لیں۔ یعنی عربوں ہی کا طریقہ اختیار کر لیا جائے۔ اچھی طرح غور کر کے سمجھ کر یہ جان لیں کہ آپ کو کیا چیزیں ماننی ہیں۔

ایمان، سب سے پہلی چیز۔ جو ماننا ہے وہ معلوم ہے۔ ہر آدمی کو معلوم ہے۔ یعنی ہم کو اس دنیا کے اندر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ ہم ایک خدا کے بندے ہیں، ایک دن اس کے حضور میں پیش ہونا ہے اور جواب دہی ہونی ہے۔ تو جو ماننے کی چیزیں ہیں ان کو مان لیں۔ ایک بات یہ ہوئی۔

دوسری چیز یہ ہے کہ اچھا عمل کریں۔ اس کیلئے آپ کو کسی پیغمبر کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ تھوڑی سی چیزیں ہیں جن سے متعلق کوئی اشتباہ پیدا ہوتا ہے، اللہ کے پیغمبروں نے اس کو دور کیا ہے، ورنہ انسان اپنے اندر جھانک کر دیکھے، جانتا ہے کہ اچھا عمل کیا ہے اور بُرا عمل کیا ہے۔ اللہ نے یہ الہام اس کے اندر کر کے اس کو دنیا میں بھیجا ہے۔ یہ تو اس کی فطرت میں ودیعت ہے۔ اسی کو بیان کیا ہے قران نے کہ ﻓﺎﻟﮭﻣﮭﺎ ﻓﺟورھﺎ و ﺗﻘوھﺎ۔ اور اسی کو دوسری جگہ بیان کیا ہے کہ بل الانسان علی نفسہ بصیرہ. ولوالقی معاذیرہ۔ انسان جتنے مرضی عذر تراشے وہ جانتا ہے، بڑی اچھی طرح جانتا ہے کہ حق کیا ہے باطل کیا ہے۔ تو اخلاقی رویوں میں اچھا عمل یہ انسان کو بہت اچھی طرح معلوم ہے۔ دوسری بات یہ ہے۔

تیسری چیز یہ ہے کہ جو بات صحیح بات آپ کو معلوم ہو گئی ہے، یہ اللہ کی ایک نعمت ہے جو آپ کو معلوم ہو گئی ہے، اچھے سلیقے کے ساتھ اپنے گردوپیش کے ماحول میں جتنی اللہ نے قوت دی ہے، جتنی صلاحیت دی ہے، جتنی قدرت دی ہے، جتنا وقت دیا ہے، پہنچائیے لوگوں تک۔ یعنی اس بات کیلئے متنبہ رہیے کہ یہ کوئی ایسا خزانہ نہیں ہے جس پر آپ کو سانپ بن کر بیٹھہ جانا ہے، بلکہ یہ بانٹنے کی چیز ہے، اور یہ لوگوں کو دیجیے، جو بھی صحیح بات آپ کو معلوم ہو گئی ہے، چھوٹی معلوم ہو گئی ہے، بڑی بات معلوم ہو گئی ہے، اس کے مواقع آدمی کو اپنے ماحول میں ملتے رہتے ہیں، اس کیلئے کوئی کام چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے، کوئی چلہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنی نوکری کرتے ہوئے، اپنا کاروبار کرتے ہوئے، منڈی میں بیٹھے ہوئے، جہاں آپ کو موقع ملے، بے شمار انسانوں سے ملنے کا موقع ملتا ہے، یہ کام کرتے رہیے۔ تیسری چیز یہ ہے۔

چوتھی چیز یہ ہے کہ گردوپیش میں نگاہ ڈالیے، کوئی نیکی کا، کوئی خیر کا، کوئی دین کا، کسی دائرے میں خدمت کا کام ہو رہا ہے، آپ اگر کچھ وقت دے سکتے ہیں، کچھ روپیہ دے سکتے ہیں، کچھ قوت اپنی اس میں لگا سکتے ہیں، تو جس چیز پر بھی آپ کا اطمینان ہو جائے، اس کیلئے آپ ہی کو سوچنا ہے، غور کرنا ہے، اپنے علم عقل کی بنیاد پر آپ سمجھ لیں کہ یہ ایک نیکی اور خیر کا کام ہے، اس کی مجھے سپورٹ کرنی چاہیے، اس کی مدد کیجیے۔

یہ چار باتیں ہیں، ان چار باتوں کو لکھہ کر اپنے پاس رکھہ لیجیے، یہی خلاصہ ہے پورا کا پورا قران مجید کا۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s