جینئیس اور قابل انسان کے درمیان فرق


ذہنی سطح کے لحاظ سے دنیا میں انسانوں کی انگنت اقسام پائی جاتی ہیں انگنت ذہنیتیں انگنت افکار، عمومی طور پر انسان کی ذہنی سطح کا دارومدار اسکے ماحول، تعلیم، صحبت، حالات اور واقعات پر منحصر ہوتا ہے، انسانوں کی ننانوے فیصد اقسام شخصیت سازی کے لئیے ان سب پیمانوں کی پابند ہوتی ہیں۔

یہ پیمانے بین القوامی ہیں، ایک پاکستانی سے لے کر ایک امریکن تک شخصیت سازی کے لئیے ان ہی پیمانوں کا پابند ہوتا ہے، اگر یہ پیمانے انسان کے حق میں مثبت ہونگے تو اسکے مثبت اثرات انسان کی شخصیت تک لازمی آئیں گے اور اگر یہ پیمانے منفی ہونگے تو انسان کی شخصیت انکے منفی اثرات سے نہیں بچ پائے گی۔

انسانوں کی صرف ایک قسم ایسی ہے جو کافی حد تک ان پیمانوں کی محتاج نہیں ہوتی، یہ وہ قسم ہے جسے ہم عرفِ عام میں خداداد صلاحیتوں کا مالک کہتے ہیں، پیمانوں کا یہ پورا پیکج بھی اگر ان کے حق میں مثبت نہ ہو تو یہ شائد وقتی طور پر تو انکی شخصیت کو مسخ کر سکتا ہے مگر مستقل بنیادوں پر نہیں۔

ایسے لوگوں کو جینئیس بھی کہا جاتا ہے، جینئیس لوگوں کا معاملہ عام طور پر دیگر لوگوں سے بہت مختلف ہوتا ہے، انکی شخصیت پر جینئیس ہونے کے ساتھہ ساتھہ اگر علم کا تڑکہ بھی لگ جائے تو یہ لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہہ، بل گیٹس، اسٹیفن جابز، آئن اسٹائن اور ایڈیسن بن جاتے ہیں۔

یہ لوگ گھاس کی طرح ہوتے ہیں جو کہیں بھی کسی بھی معاشرے میں کبھی بھی پیدا ہوجاتی ہے، جسطرح سے ہر گھاس کے مقدر میں کسی عالیشان محل کا گارڈن نہیں ہوتا ایسے ہی ہر جینئیس کے مقدر میں کامیابی نہیں ہوتی، جینئیس لوگوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ جینئیس جب تک کامیاب نہیں ہوتا دنیا اسے پاگل کہتی ہے، اور ہر وہ پاگل جو کامیاب ہوجاتا ہے دنیا اسے جینئیس کہتی ہے، انسانوں کی یہ قسم جسے جینئیس کہتے ہیں یہ بلڈ گروپ او نیگٹو کی طرح نایاب ہوتی ہے، جہاں سے دوسرے لوگ معاملے کو دیکھنا ختم کرتے ہیں یہ معاملے کو اس مقام سے دیکھنا شروع کرتے ہیں۔

مثال کے طور پہ ایڈیسن سالوں کی ریاضت اور کم از کم ایک ہزار تجربوں کے بعد دنیا کا پہلا بلب بنانے میں کامیاب ہوا، اب وقت آگیا تھا کہ وہ اپنی دن رات کی سالوں پہ محیط محنت یعنی اپنی ایجاد بلب دنیا کے سامنے رکھہ دے، بلب کو لیب سے حال تک لانے کی ذمہ داری ایڈیسن کے اسسٹنٹ کے سپرد کی گئی بد قسمتی سے سیڑھیاں اترتے ہوئے ایڈیسن کے اسسٹنٹ کے ہاتھہ سے بلب گر کر ٹوٹ گیا، اب اگر کوئی عامیانہ ذہنیت کا انسان ہوتا تو اپنے اسسٹنٹ کو عمران خان کے گارڈز کی طرح منظر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئیے غائب کر دیتا، لیکن وہ ایڈیسن تھا عمران خان نہیں تھا، ایڈیسن نے ایسا نہیں کیا، تقریب ملتوی کردی گئی اور ایک بار پھر دن رات کی محنت سے ایڈیسن نے بلب تیار کیا اور دوبارہ اس ہی اسسٹنٹ کو احتیاط کی تاکید کے ساتھہ بلب کو لیب سے حال تک پہنچانے کی زمہ داری سونپ دی۔

قابل انسان حالات کے حساب سے اپنا دماغ بدلتا ہے جبکہ جینئیس انسان اپنے دماغ سے حالات ہی بدل دیتا ہے، یہ ہی ایک بنیادی فرق ہے قابل اور جینئیس انسان میں، قابل انسان لکیر کا فقیر ہوتا ہے وہ ضابطوں پیمانوں کا محتاج رہتا ہے جبکہ جینئیس انسان اپنے ضابطے اور پیمانے خود تشکیل دیتا ہے وہ معاملات کو عامیانہ نظر سے نہیں دیکھتا، وہ، وہ کچھہ دیکھتا ہے جو نظر ہی نہیں آرہا ہوتا، وہ معاملات کو دیکھنے کے لئیے سیدھے اور الٹے طریقوں کا بھی پابند نہیں ہوتا وہ اکثر اوقات حقیقت جاننے کے لئیے سیدھے کو الٹا ہوکر دیکھتا ہے اور الٹے کو سیدھا ہوکر دیکھتا ہے۔

شہرِ آسیب میں آنکھیں ہی نہیں کافی

الٹا لٹکو گے تو پھر سیدھا دکھائی دیگا

وہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کی طرح وقت سے پہلے دیوار کے پیچھے دیکھہ لیتا ہے اور پھر صاحبِ معاملا کو بالوں سے پکڑ کر جھنجھوڑتا ہے کہ دیکھو دیوار کے پیچھے کیا معاملات چل رہے ہیں، ابھی بھی وقت ہے اٹھہ کھڑے ہو اگر وقت نکل گیا پچھتاوے کہ علاوہ صرف خیبر پختنخواہ ہی ہاتھہ آئے گا جہاں سوائے داڑھی، جھاڑی اور پہاڑی کے کچھہ بھی نہیں ہے، خود بھی ڈوبو گے اور پوری قوم کو بھی ڈبو دو گے۔

جینئیس کا المیہ یہ ہی ہے کہ جس وقت وہ عشروں کے پار دیکھہ کر دنیا کو آنے والے حالات واقعات سے آگہی دے رہا ہوتا ہے اس وقت دنیا اسکا مذاق اڑاتی ہے اسے پاگل، دیوانہ، سنکی جیسے القاب سے نوازتی ہے لیکن وقت نکلنے کے بعد جب وقت اسکی کہی ہوئی باتوں کو درست ثابت کرتا ہے جب کلین سوئپ کا خمار سر سے اترتا ہے تو پھر عمران خان کی طرح لوگ پچھتاوے سے ہاتھہ ملتے نظر آتے ہیں، پھر کسی ٹی وی چینل پہ عمران خان کہتا نظر آتا ہے کہ ڈاکڑ صاحب ٹھیک کہہ رہے تھے ہم نے انکی بات نہ مان کر غلطی کردی۔

کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

بحرحال دنیا میں اکثریت عمران خان جیسے بونوں کی ہی ہے اور ہمارے ہاں تو خاص طور پہ ہے تو نتیجہ بھی سب کے سامنے ہے، تبدیلی کا خواب دیکھنے اور دکھانے والے اگلے الیکشن تک قوم کے ہاتھوں خود تبدیل کر دئیے جائیں گے کہ ان حالات میں خیبر پختونخواہ جیسے صوبے میں ڈیلوری صرف ہسپتال میں ہی ممکن ہے باقی سب سراب ہے، قوم انتظار کرے کسی نئے بت کا کیوں کے قوم نے تو قسم کھائی ہوئی ہے کہ کسی جینئیس انسان کا ساتھہ نہیں دے گی قوم کو بھی شائد خدشہ ہے کہ کہیں واقعی انکی یہ ابتر حالت بدل ہی نہ جائے۔

جینئیس لوگوں کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ جینئیس جب تک کامیاب نہیں ہوتا دنیا اسے پاگل کہتی ہے، اور ہر وہ پاگل جو کامیاب ہوجاتا ہے دنیا اسے جینئیس کہتی ہے، انسانوں کی یہ قسم جسے جینئیس کہتے ہیں یہ بلڈ گروپ او نیگٹو کی طرح نایاب ہوتی ہے، جہاں سے دوسرے لوگ معاملے کو دیکھنا ختم کرتے ہیں یہ معاملے کو اس مقام سے دیکھنا شروع کرتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in طرزعمل. Bookmark the permalink.

2 Responses to جینئیس اور قابل انسان کے درمیان فرق

  1. فیصل نے کہا:

    ویسے تو آپکی تحریر ہی آپکی ذہنی استعداد کا ثبوت ہے جہاں آپ بل گیٹس اور سٹیو جابز جیسے کامیاب معاشی منیجرز کو جینئس کا درجہ دے رہے ہیں لیکن خیبر پختونخواہ سے متعلق آپکے ریمارکس افسوسناک ہیں، اور وہ بھی اس لئے کہ اس صوبے نے دوسری پارٹیوں کی بجائے تحریک انصاف کو منتخب کیا ہے۔ جہاں تک بات عمران خان اور اسکی حکومت کی ہے تو وہ تو وقت اور خود پارٹی کی کارکردگی ہی بتائے گی، میں انکا ترجمان نہیں کہ کوئی وضاحت پیش کروں۔ لیکن ایک عرض ضرور کرونگا کہ آپ ہی بتا دیجئے کہ روسی یلغار سے لے کر اب تک سب سے زیادہ نقصان کس صوبے نے برداشت کیا ہے تو فدوی کی معلومات میں اضافہ ہو گا۔
    یک جنت نظیر صوبہ جہاں شائد آدھے پاکستان کی بجلی بنتی ہے، زخموں سے چور چور ہے لیکن آپ کی باتیں ان پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں۔

  2. fikrepakistan نے کہا:

    فیصل صاحب، میں نے تو صوبہ سرحد کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں کہی جو قابل اعتراض ہو، لیکن اگر آپ کہلوانا ہی چاہتے ہیں تو حقیقت یہ ہے کہ بجلی بنتی کہیں بھی ہو لیکن اوسطَ سب سے زیادہ بجلی چوری بھی سرحد میں ہی ہوتی ہے، میں خود سوات میں جاتا رہا ہوں یہ بات مجھے وہاں کے لوگوں نے ہی بتائی کے ہم تو بجلی کا بل نہیں دیتے کیوں کے بجلی دینا تو ریاست کی زمہ داری ہے ہم بل کیوں دیں، اور اگر صوبہ سرحد روس وار سے عتاب کا نشانہ ہے تو اسکی وجہ بھی وہاں کے اپنے ہی لوگ ہیں کہ جہاد کے نام پر امریکہ کے فساد میں کیوں کودے وہاں کے لوگ؟ آج بھی ساری دنیا سے دہشتگرد جمع کر کے انہیں پناہ سرحد کے لوگوں نے ہی دی ہوئی ہے، ہر دور میں مذہب کے نام پر یہ ہی لوگ سب سے زیادہ کیوں بےوقوف بنتے رہے ہیں؟ قیمت تو چکانی پڑتی ہے نہ پھر ایسی بے وقوفیوں کی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s