ڈاکٹر جواد صاحب سے مودبانہ عرض۔


جواد بھائی غامدی صاحب سے آپکے اختلاف کی وجہ میں بہت اچھی طرح سمجھہ سکتا ہوں، غامدی صاحب کیونکہ جماعتِ اسلامی چھوڑ چکے ہیں اسلئیے انکی صحیح بات بھی اب آپکو غلط ہی لگتی ہے، غامدی صاحب کے استادِ محترم جناب امین احمد اصلاحی صاحب نے جماعتِ اسلامی چھوڑنے کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ جماعت انسان کو عقل دیتی ہے اور جب اسے عقل آجاتی ہے تو وہ جماعتِ اسلامی چھوڑ دیتا ہے۔ جو الفاظ آپ غامدی صاحب کے لئیے استعمال کرتے ہیں ایک خلقت یہ ہی سوچ اور یہ ہی الفاظ مودودی صاحب کے لئیے استعمال کرتی ہے، لیکن مسلہ یہ ہے کہ مودودی صاحب کے معاملے میں جماعتِ اسلامی کی اندھی تقلید آپکے آڑھے آجاتی ہے، وہاں آپکی اور آپکے ہمنواوں کی زبانیں گنگ ہوجاتی ہیں، اگر غامدی صاحب ابھی تک جماعتِ اسلامی سے وابسطہ ہوتے تو مودودی صاحب کی طرح غامدی صاحب کے حق میں بھی دلیلیں ڈھونڈ نکالتے ورنہ حق گوئی کے بجائے خاموشی اختیار کئے رہتے، لیجیئے پڑھئیے کہ دنیا آپکی جماعتِ اسلامی کے بانی کے بارے میں کیا کہتی ہے، اب لائیے مودودی صاحب کی ان سب باتوں کے حق میں دلیلیں۔

اگر غامدی صاحب کی فکر غلط ہے تو پھر مودودی صاحب کی فکر بھی غلط ہے، اور ایک غلط فکر رکھنے والے انسان کی بنائی ہوئی جماعت کے عقائد کیسے درست ہوسکتے ہیں؟

یہ اقتباسات کسی دل جلے دیوبندی، بریلوی یا اہلحدیث صاحب نے مودودی صاحب کی مختلف کتابوں سے بمہ حوالاجات جمع کرنے کے بعد اپنی بہودہ زبان میں تشریح کی ہے، یہ تحریر من و عن اسلئیے پیسٹ کی جارہی ہے کے فرقہ بندی اور مسلک پرستی والوں کے دل میں مودودی صاحب کے لئیے کیا مقام ہے وہ لوگوں کے سامنے آ سکے اور ان اقتباسات سے یہ معلوم ہو سکے کے خود مودودی صاحب ان مسلک پرستی اور فرقہ بندی والوں کے لئیے کیا رائے رکھتے تھے، آج کی جماعت اسلامی اگر حوس اقتدار میں ان ہی مسلک پرستی اور فرقہ بندی والوں کی گود میں بیٹھہ کر انکے ہاتھہ مضبوط کر رہی ہے تو کیا یہ اپنے قائد کے نظریات سے غداری نہیں ہے؟ تو اگر آج لوگ اور خود مودودی صاحب کا بیٹا یہ کہتا ہے کہ یہ مودودی صاحب کی بنائی ہوئی جماعت اسلامی نہیں ہے تو کیا غلط کہتے ہیں لوگ؟ اور میں اس وقت بہت ہی محظوظ ہوتا ہوں جب یہ فرقہ بندی والے اور جماتیئے اس بلاگ پر شیر و شکر ہو کر ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں سمجھہ نہیں آتی کے انکے اکابرین کی فکر پر ہنسو یا رووں.

مودودی عقائد ::

عقیدہ :نبی ہونے سے پہلے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھی ایک بڑا گناہ ہوگیا تھا کہ انہوں نے ایک انسان کو قتل کردیا ۔(بحوالہ :رسائل و مسائل ص 31)

عقیدہ :نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق مودودی لکھتا ہے کہ صحرائے عرب کایہ ان پڑھ بادیہ نشین دور جدید کا بانی اور تمام دنیا کا لیڈر ہے ۔(بحوالہ :تفہیفات ص 210)

عقیدہ : ہر فرد کی نماز انفرادی حیثیت ہی سے خدا کے حضور پیش ہوتی ہے اور اگر وہ مقبول ہو نے کے قابل ہوتو بہر حال مقبول ہوکر رہتی ہے ۔خواہ امام کی نماز مقبول ہو یا نہ ہو۔

(بحوالہ :رسائل و مسائل ص282)

عقیدہ :خدا کی شریعت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے ۔جس کی بناءپر اہل حدیث حنفی ،دیوبندی ،بریلوی ،سنی وغیرہ الگ الگ اُمتیں بن سکیں یہ اُمتیں جہالت کی پیدا کی ہوئی ہیں ۔(بحوالہ : خطبات ص 82)

عقیدہ :اور تو اور بسا اوقات پیغمبروں تک کو اس نفس شریر کی رہز نی کے خطرے پیش آئے ۔

(بحوالہ :تفہیمات ص 163)

عقیدہ :ابو نعیم اور احمد ہنسائی اورحاکم نے نقل کیا ہے کہ ید چالیس مرد جن کی قوت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو عنایت کی گئی تھی ۔دنیاکے نہیں بلکہ جنّت کے مرد ہیں اور جنت کے ہر مرد کو دنیا کے سو مردوں کے برابر قوت حاصل ہوگی ۔یہ سب باتیں خوش عقیدگی پر مبنی ہیں اللہ کے نبی کی قوتِ باہ کا حساب لگانا مذاقِ سلیم پر بار ہے الخ ۔(بحوالہ :تفہیمات ص 234)

عقیدہ :قرآن مجید نجات کے لئے نہیں بلکہ ہدایت کے لئے کافی ہے ۔(بحوالہ:تفہیمات ص 321)

عقیدہ :میں نہ مسلک اہل حدیث کو اس کی تمام تفصیلات کیساتھ صحیح سمجھتا ہوں اور نہ حنفیت کا یا شافعیت کا پابند ہوں۔(رسائل و مسائل ص 235)

عقیدہ :23سالہ زمانہ اعلانِ نبوت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے فرائض میں خامیاں اور کوتائیاں سرز د ہوئیں ۔(قرآن کی چار بنیا دی اصطلا حیں )

عقیدہ :جولوگ حاجتیں طلب کرنے کے لئے خواجہ اجمیر یا مسعود سالار کی قبرپر یا ایسے دوسرے مقامات پر جاتے ہیں زنا اور قتل کا گناہ کم ہے ۔یہ گناہ اس سے بھی بڑا ہے ۔(تجدید و احیاءدین ص 62)

عقیدہ :اصولِ فقہ ،احکام فقہ ، اسلامی معاشیات ،اسلام کے اصول عمران اور حکمت قرآنیہ پر جدید کتابیں لکھنا نہایت ضروری ہے کیونکہ قدیم کتابیں اب درس و تدریس کےلئے کار آمد نہیں ہیں ۔

(بحوالہ :تفہیمات ص 213)

مودودی کی چند گستاخیاں اور بیباکیاں ::

خدا کی چال :ان سے کہو اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے ۔(تفہیم القرآن پارہ نمبر 11رکوع 8)

نبی اور شیطان:شیطان کی شرارتوں کا ایسا کامل سدّباب کہ اسے کس طرح گھس آنے کا موقع نہ ملے ۔ انبیاءعلیہم السلام بھی نہ کرسکے ۔تو ہم کیا چیزہیں کہ اس میں پوری طرح کامیاب ہونے کا دعوٰی کرسکیں ۔(ترجمان القرآن جون 1946 ءص 57)

ہر شخص خدا کا عہد ہے :مومن بھی اور کافر بھی ۔حتّٰی کہ جسطرح ایک نبی اس طرح شیطانِ رجیم بھی ۔

(ترجمان القرآن جلد 25عدد 1،2،3،4ص 65)

نبی اور معیار مومن :انبیاءبھی انسان ہوتے ہیں اورکوئی انسان بھی اس پر قادر نہیں ہوسکتا کہ ہر وقت اس بلند ترین معیار کمال پررہے ۔ جو مومن کےلئے مقرّر کیا گیا ہے ۔بسا اوقات کسی نازک نفسیاتی موقع پر نبی جیسا اعلیٰ واشر ف انسان بھی تھوڑی دیر کے لئے اپنی بشر ی کمزوری سے مغلوب ہوجاتا ہے ۔(ترجمان القرآن )

ایلچی :محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ایلچی ہیں۔جن کے ذریعہ سے خدانے اپنا قانون بھیجا ۔(بحوالہ :کلمہ طیّبہ کا معنی صفحہ نمبر 9)

منکرات پر خاموش :مکّہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے منکرات (برائیوں )کا ارتکاب ہوتا تھا۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو مٹانے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اسلئے خاموش رہتے تھے ۔

(ترجمان القرآن 65 ءص 10)

محمد ی مسلک ہم اپنے مسلک اور نظام کو کسی خاص شخص کی طرف منسوب کرنے کو ناجائز سمجھتے ہیں مودودی تو در کنار ہم اس مسلک کومحمد ی کہنے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں ۔(رسائل و مسائل جلد 2ص437)

محترم حضرات !آپ نے مودودی کے عقائد پڑھے یہی عقائد ان کی جماعت اسلامی کے بھی ہیں مودودی کے بارے میں دیوبندی مولوی محمد یوسف لُد ھیا نوی اپنی کتاب ”اختلاف اُمّت اور صراطِ مستقیم“ میں لکھتا ہے کہ مودودی وہ آدمی ہے جس نے حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حجّۃالا سلام امام غزالی علیہ الرحمہ تک تمام عظیم ہستیوں کے ذات میں نکتہ چینی کی ہے ۔

مودودی کی کتاب تفہیمات غلاظتوں سے بھری پڑی ہے ۔جس سے آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس کے عقائد کیا تھے ۔

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

18 Responses to ڈاکٹر جواد صاحب سے مودبانہ عرض۔

  1. پتہ نہیں کس نے کس لئے یہ کچھ لکھا لیکن مجھے تو مودودی صاحب کی باتیں دوسرے تمام مسالک کے علما کی کتب میں بھی نظر آئیں۔اور دور جانے کی کیا بات کسی مسلک کے مولوی صاحب کا جمعے کا خطبہ ہی سن لیا جائے تو اسطرح کی باتیں کرتے رہتے ہیں۔بحرحال خصماں نوں کھاؤ تے سانوں کی

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی جن صاحب نے مودودی صاحب کی یہ ساری باتیں جمع کی ہیں ان سے کم از کم یہ تو مکمل طور پر واضع ہوجاتا ہے کہ مودودی صاحب مسلک پرستی اور فرقہ بندی کے کتنے سخت مخالف تھے، لیکن آج کی جماعتِ اسلامی اقتدار کے لئیے ان کے مسلک پرستی اور فرقہ بندی والی تمام جماعتوں کے ساتھہ ملکر جب انکے مسلک اور فرقے کے ہاتھہ مظبوط کرتی ہے تو یہ اپنے بانی کے نظریہ سے کھلی بغاوت نہیں ہےِِ؟ پھر کس بنیاد پہ کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہ مودودی صاحب کے نظریہ کی حامل جماعت اسلامی ہی ہے؟

  2. محمد سلیم نے کہا:

    میں مودودی مسلک سے نہیں ہوں مگر اس حقیقت سے بخوبی آشنا ہوں کہ سیاق و سباق سے ہٹ کر بیان کی گئی باتیں کیا گل کھلاتی ہیں۔ کئی ایسے موضوع جنہیں عام آدمی کسی لغزش نا ہوجانے کے ڈر سے نہیں چھیڑے گا تو کوئی نا کوئی ایسا عالم تو چاہیئے ہوگا جو ایسی باتوں کی تشریح کر کے عام آدمی کی تشفی کرے گا۔ آخر حادثہ افک، شہد والا واقعہ اور دیگر کئی موضوع ایسے ہیں جنہیں کوئی تو تشریح کرے گا!
    آپ کے بیان کردہ مذکورہ بالا اعتراضات نئے ہرگز نہیں، ہمیشہ پر سکون ماحول میں تلاطم پیدا کرنے کیلئے پیش کیئے جاتے ہیں۔ اور سننے والے محقیقین تو ہوتے نہیں کہ گھر جا کر ان باتوں کا سیاق و سباق دیکھا کریں۔ بس یہیں سے خراب پیدا ہوا کرتا ہے۔ اوپر دی گئی بہت سی باتوں میں سے ایک بات جو زبان کی تبدیلی کی بناء پر اشتباہ پیدا کرتی ہے (ایلچی :محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہی وہ ایلچی ہیں۔جن کے ذریعہ سے خدانے اپنا قانون بھیجا ۔(بحوالہ :کلمہ طیّبہ کا معنی صفحہ نمبر 9) کے بارے میں عرض ہے کہ سرکار صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبر تھے، مرسل تھے، نبی تھے، رسول تھے۔ یہ سارے القاب عربی ہیں، انگریزی میں ان کو میسنجر کہیں گے جس کا اردو ترجمہ یہی کچھ ہی ہوگا کہ پیغامبر، ایلچی، بھیجا گیا وغیرہ وغیرہ۔ اب اس بات میں توہین کا عنصر تو نہیں نکلتا۔
    گوہر شاہی، الیاس قادری، زید حامد، غامدی صاحب، ذاکر نائیک، طارق جمیل، شخصیت کوئی بھی ہو انسان ہیں؛ حق کہیں گے تو حق پر ورنہ دین تو سرکار کی وفات کے بھی منقطع نہیں ہوا تھا ان کے ہونے یا نا ہونے سے کیا فرق پڑے گا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      ورنہ دین تو سرکار کی وفات کے بھی منقطع نہیں ہوا تھا ان کے ہونے یا نا ہونے سے کیا فرق پڑے گا۔

      آپکی یہ بات وضحات طلب ہے، اگر تھوڑی وضاحت کر سکیں تو، کیوں کے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنے آخری خطبے میں فرما دیا تھا کہ آج دین مکمل ہوگیا، پھر کوئی کیس بنیاد پہ کہہ سکتا ہے کہ دین اللہ کے رسول کے وصال کے بعد بھی منقطع نہیں ہوا؟

      • محمد سلیم نے کہا:

        جی محترم فکر پاکستان، بات تشنہ رہ گئی تھی، توجہ دلانے کا شکریہ۔
        میرا مطلب تھا، دین اسلام تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی قائم اور جاری و ساری ہے۔ ان کل کی شخصیات سے کیا فرق پڑتا ہے کوئی آئے یا جائے۔ جو حق گوئی کرے گا یاد رکھا جائے گا جو باطل کی ترویج کرے گا وہ بھی پہچان لیا جائے گا۔ شکریہ۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        قائم، جاری و ساری، اور منقطع نہ ہونے میں بہت زیادہ فرق ہے بس یہ ہی بات تصحیح طلب تھی۔ باقی حق اور باطل کا فیصلہ تو اللہ کے گھر میں ہی ہوگا ہم میں سے کسی کو بھی یہ حق نہیں کہ کسی کے ایمان کا فیصلہ کرتے پھریں۔ بس اس ہی روئیے کی طرف توجہ دلانہ مقصود تھا۔

  3. جوانی پِٹّا نے کہا:

    میں نے آپ کی اس تحریر کو دو تین دفعہ اوپر سے نیچے تک پڑھا ھے۔ لیکن مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اس میں کونسے غلط عقائد یا غلاظتیں اور خباثتیں ھیں۔؟؟
    مودودی بھی غامدی کی طرح انسان ہی ھے۔ اس کی ہر بات پر سر ہلانا ضروری نہیں۔ بات سُن کر خود بھی غور کرنا چاھیئے کہ کیا صحیح ھے اور کیا غلط۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جوانی پٹا صاحب آپ نے بلکل درست بات کہی ہے، لیکن آپکی خدمت میں یہ عرض کرتا چلوں کے مودوی صاحب سے مطعلاق اس تحریر میں جو بھی بات کہی گئی ہے وہ میں نے ہرگز نہیں کہی ہے، وہ کسی دیوبندی بریلوی یا کسی اہلحدیث دل جلے نے کہی ہیں میں نے تو صرف موازنے کی غرض سے یہاں من و عن پیسٹ کیا ہے، بتانے کا مقصد صرف اتتا ہی ہے کہ جو لوگ غامدی صاحب کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کر رہے ہیں انہیں پھر اپنے رہنماء کی باتوں پر بھی غور کرنا چاہئیے، اگر انکے رہنماء کی باتیں درست ہیں تو پھر غامدی صاحب میں کیڑے کیوں نکالے جارہے ہیں؟ یہ ہی سب باتیں تو غامدی صاحب بھی کہتے ہیں تو غامدی صاحب برے ہیں، لیکن یہ باتیں مودودی صاحب کہیں تو وہ ٹھیک ہیں، میں اس غیر منصفانہ روئیے کی تصحیح چاہتا ہوں بس۔

      • جوانی پِٹّا نے کہا:

        میرا اشارہ آپ کی اِس بات کی طرف تھا کہ "مودودی کی چند گستاخیاں اور بیباکیاں”۔ اس عنوان سے آپ نے جو مواد نقل کیا ھے، اُس میں مجھے سچی بات ھے کہ عمومی طور پر کوئی خاص گستاخی نظر نہیں آئی۔ غامدی صاحب کے بھی یہی عقائد ھیں۔
        آپ کو چاھیئے تھا کہ نقطہ نظر کچھ تفصیل سے بیان کرتے۔ آپ نے مودودی کے عقائد اور مبینہ گستاخیاں تو بیان کیں لیکن صحیح کیا ھے وہ بھی بیان کرتے۔ کیونکہ میرے جیسے کوڑھ مغز آدمی کو بالکل پتہ نہیں چلا کہ کونسی والی بات غلط ھے۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        کیا صحیح ہے کیا غلط اس پر میری رائے تو محفوظ ہے، اس پوسٹ کے لکھنے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ کیا صحیح ہے کیا غلط ہے اس پوسٹ کے لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ یہاں لوگ غامدی صاحب کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں پھیلا رہے ہیں میں نے تو بس موازنے کے لئیے مودودی صاحب کی چند باتیں سامنے رکھی ہیں کہ جو لوگ غامدی صاحب کو غلط کہہ رہے ہیں وہ مودودی صاحب کے عقائد کو بلکل درست مانتے ہیں، مجھے اعتراض اس روئیے سے ہے کہ اگر غامدی صاحب غلط ہیں تو پھر مودودی صاحب بھی غلط ہیں، اور اگر مودودی صاحب درست ہیں تو غامدی صاحب کیسے غلط ہوگئے، محض اس وجہ سے کہ انہوں نے جماعت اسلامی چھوڑ دی ہے؟ اور اعتراض کرنے والے کیونکہ جماعت اسلامی سے وابسطہ ہیں تو انہیں مودودی صاحب کے بارے میں یہ ہی سب کچھہ کہنے میں ہیجان کیوں ہے؟ یہ دوغلا رویہ کیوں؟ بس یہ مقصد تھا تحریر کا۔ باقی کون صحیح ہے کون غلط ہے اسکا فیصلہ تو اللہ کے گھر میں ہی ہوگا، سب کی اپنی اپنی رائے ہے جس کا مرضی مانے جسکی مرضی نہ مانے، لیکن کسی کے ایمان کا فیصلہ کرنا ہمارا کام نہیں ہے، یہ فتویٰ فیکڑیاں بند ہونی چاہئہیں اب۔

  4. سب سے پہلے تو میں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ جماعت اسلامی اے اختلاف کرنے والے اور اس سے علحیدگی اختیار کرنے والے کئی ایک ہیں جن میں دو بڑے نام مرحوم امین احسن اصلاحی اور مرحوم ڈاکٹر اسرار احمد کے ہیں جنہیں جماعت اسلامی میں آج بھی نا صرف احترام حاصل ہے بلکہ پڑھا اور سنا بھی جاتا ہے۔ اگر آپ کا یہ خیال ہے کہ جاوید غامدی کی مخالفت جماعت اسلامی یا مولانا مودودی سے اختلاف کی وجہ سے کی جارہی ہے تو آپکی یہ بہت بڑی بھول ہے۔
    دوسرا ستم آپ یہ کر رہے ہیں خواہ مخواہ جاوید غامدی کو امین احسن اصلاحی صاحب اور مولانا مودودی کی صف میں کھڑا کر رہے ہیں۔ اور خصوصاً جاوید غامدی کو امین احسن اصلاحی صاحب کی شاگردی کی رعایت دینا مرحوم کے ساتھ ایک بہت بڑی نا انصافی ہے۔ آپ کا یہ رویہ اور متذکرہ بالا اقتباسات صاف بتاتے ہیں کہ آپ مولانا مودودی صاحب اور امین احسن اصلاحی صاحب کے بارے میں تو کیا جانیں گے خود جاوید غامدی کے بارے میں نہیں جانتے۔ اور ایک سطعی جذبے کی وجہ سے خواہ مخواہ ہی جاوید غامدی کی حمایت پر کمربستہ ہیں۔ آپ مولانا مودودی سے سوال و جواب پر مبنی کتاب رسائل و مسائل کی شروع کی پانچ جلدیں پڑھ لیں اور ساتھ انکی کتاب سنت کی آئینی حیثیت کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو شاید کچھ کچھ بات سمجھ آنا شروع ہوجائے گی۔
    اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو عقل سلیم عطا فرمائے اور جاوید غامدی جیسے فکری لٹیروں کی لوٹ مار سے حفاظت فرمائے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      مجھے افسوس کے ساتھہ کہنا پڑ رہا ہے کہ آپ خود کچھہ نہیں جانتے ان دونوں حضرات کے بارے میں، غامدی صاحب نے ایک مدت تک مودودی صاحب اور امین احسن اصلا حی صاحب کی سنگنت میں گزارا ہے، غامدی صاحب نے ایک نہیں کئی ایک جگہوں پر اس بات ذکر کیا ہے کہ امین احسن اصلاحی صاحب انکے استاد ہیں اب آپ بغض میں انتے آگے جاچکے ہیں کہ کچھہ ماننے کے لئیے تیار ہی نہیں ہیں تو اسکا تو کوئی علاج نہیں ہے کسی کے بھی پاس۔ پھر بھی آپکی اطلاع کے لئیے یہ وکی پیڈیا کا لنک دے رہا ہوں اسے پڑھہ لیں اس میں بھی واضع طور پر غامدی صاحب کو امین احسن اصلاحی صاحب کا شاگرد بتایا گیا ہے اور اگر یہ بھی جھوٹ لگے تو لازمی وکی پیڈیا کی مینجمنٹ پر کیس کر دیجئیے گا جھوٹ لکھنے پر۔
      http://en.wikipedia.org/wiki/Javed_Ahmad_Ghamidi

      تعصب کا یہ ہی رویہ ہے جو اکثر انسان کو حق سے محروم رکھتا ہے، کسی نے کیا خوب کہا تھا کہ، صرف مردے اور مردود ہی رائے تبدیل نہیں کرتے۔

  5. حضرت میں نے کب کہا کہ ہے کہ جاوید غامدی ، امین احسن اصلاحی صاحب سے اکتساب علم نہیں کیا ۔۔۔۔
    میں تو یہ کہہ رہا تھا کہ جاوید غامدی کو امین احسن اصلاحی صاحب کی شاگردی کی رعایت دینا مرحوم کے ساتھ نا انصافی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جاوید غامدی امین احسن اصؒاحی صاحب کا ایک نا خلف شاگرد دہا ہے۔
    جاوید غامدی کی پوری جدہجہد اور تمام تحریریں اٹھا کر دیکھ لیں وہ سوائے انحراف کے کچھ بھی نہیں
    حضرت بات تو پوری سمجھ لیا کریں۔ اس کے برعکس مولانا مودودی رحمۃ الل علیہ اور امین احسن اصلاحی صاحب کی پوری جدوجہد مجتہدانہ شان لیے ہوئے تھی اور دونوں حضرات دین کے غلبہ اور اسلامی سلطنت کے قیام کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔
    کیا جاوید غامدی کے بارے میں یہ بات آپ کرسکتے ہیں؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      کیسی اسلامی حکومت کیسا غلبہ؟ وقت نے ثابت کیا ہے کہ یہ سب ٹرک کی بتیاں ہیں جن کے پیچھے قوم کے لگائے رکھا گیا ہے، انکا کوئی وجود اگر ہے تو کہاں ہےِِ؟ دنیا کے ستاون ممالک میں سے کس ملک کے بارے میں یہ کہہ سکتے ہیں آپ؟ اور آج کے دور میں کس کے پاس وہ فارمولا ہے جو موجودہ معاشی نظام سے تبدیل کیا جاسکے جسے پوری دنیا آسانی سے اپنا بھی لے، یہ سب کہنا بہت آسان ہے کرنا اتنا آسان نہیں ہے، اگر کسی کے پاس کوئی متبادل معاشی نظام ہے تو سامنے لائے ورنہ یہ ٹرک کی بتیاں اب بند ہوجانی چاہیں، ہمیں اس حقیقت کو مان لینا چاہئیے کہ اس وقت پوری مسلم ورلڈ میں کوئی ملک کوئی ہستی ایسی نہیں ہے جو کوئی دنیا کو کوئی ایسا مالیاتی اور معاشی نظام دے سکے جسے پوری دنیا آسانی سے اپنا لے۔

      وقت نے ثابت کیا ہے کہ اسلامی حکومت جیسے نعرے سوائے سیاست چمکانے کے کچھہ بھی نہیں ہیں، ایک سال سے زیادہ نہیں چل سکی مصر کی حکومت، کہاں سے چلے گی، صرف نیک نیتی آج کے دور میں کافی نہیں ہے، اس ہی نظام میں رہتے ہوئے ڈلیور بھی کرنا پڑتا ہے جو کے اخوان نہیں کر سکی، اب اسے کوئی فوج کی بغاوت کہے یا یہود و نصاریٰ کی سازش، مگر حقیقت یہ ہی ہے کہ دنیا اب جذباتی نعروں کی دنیا نہیں رہی، یہ رئیل ورلڈ ہے یہاں سروائو کرنا ہے تو ڈلیور کرنا ہوگا چاہے وہ کسی بھی نظام کے تحت ہو باقی سب ٹرک کی بتیاں ہیں۔

  6. جناب اگر حکومت الہیہ کا قیام کسی ٹرک کی بتی کے پیچھے کا سفر ہے تو جناب عالی نبی کریم ﷺ کے مدنی دور کے بارے میں کیا ارشاد فرمائیں گے کہ جب طاقت سے نا صرف ایک اسلامی ریاست قائم کی گئی بلکہ شریعت اسلامیہ کا پہلا نفاذ وہیں ہوا۔
    یہ تو ٹرک کی بتی اور وہ جس کے پیچھے پوری قوم لگی ہوئی ہے۔ وہ کیا معراج کا سفر ہے؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      ان نوٹنکیوں کو نبی پاک کیس زات کے ساتھہ جوڑتے ہوئے کچھہ تو لحاظ کر ہی لیا ہوتا، کون ہے آج اس درجے کہ حق پہ پاکستان میں یا پھر پوری مسلم ورلڈ میں؟ کون ہے اتنا قابل کے جو ایسا نظام مرتب کرئے گا جو موجودہ دنیا کے نظام کا متبادل ہو؟ کسی ایک ایسے عالم کسی ایک ایسے ماہر معاشیات کسی ایک ایسے ماہرِ تعلیم کا نام ہی بتا دیجئیے جس کے اندر یہ سب کرنے کی اہلیت ہو۔ اسلامی ریاست اسلامی ریاست کا باجہ سب بجاتے ہیں، مگر جب پوچھو کے کروگے کیسے تو بغلیں جھانکنیں لگتے ہیں، ہے کوئی ایسا قابل انسان مسلمانوں میں اس وقت جو یہود کے اس معاشی نظام کے متبادل ایسا نظام پیش کرے جسے پوری دنیا خوشی خوشی اپنا لےِِِ؟ سعودی عرب کو بڑا گلوری فائی کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب میں اسلامی نظام نافذ ہے یا وہ قریب تر ہے، سب ڈھونگ ہے، کیا سعودی عرب سود پر نہیں پل رہا؟ کیا سعودی عرب ڈیفرڈ پیمنٹ پر دنیا کو تیل نہیں دے رہا؟ کیا سعودی عرب نے بانڈ جاری نہیں کئے ہوئے؟ کیا سعودی عرب میں بینکنک نہیں ہورہی؟ کیا سعودی عرب کے بادشاہوں کے اپنے بچے اغیار کے نظام تعلیم کے محتاج نہیں ہیں؟ کیا پوری مسلم ورلڈ انکے بنائے ہوئے نصاب کی محتاج نہیں ہے؟ یہ سب بیکار کی جذباتی باتیں ہیں، ان سب جاہلوں کے آقا کے زات سے ملا رہے ہیں آپ، میرے بھائی دنیا کے ڈائنامکس اب چینچ ہوچکے ہیں یہ مسل کا نہیں عقل کا کھیل ہے، دنیا پر راج کرنے کی تمنہ ہے تو علم کی طاقت سے حاصل ہوگی، باقی سب تو بہت دور ابھی تو مسلم ورلڈ کو یہ تک نہیں پتا ہوتا کے دنیا میں نئے نئے نصاب بنتے کیسے ہیں، یہ بھی وہ ہی لوگ بتاتے ہیں کہ جاہلوں یہ پڑھو گے تو ہی کچھہ آگے بڑھہ پاو گے، اور آپ مسلمانوں کی اس جہالت کے دور میں چلے ہیں پوری دنیا پر غلبے کی بات کرنے۔ مسلمان کیا کہتے تھے؟ یا تو اسلام قبول کرلو، یا جزیہ دے دو یا پھر آجاو میدانِ جنگ میں، اس وقت ہم طاقتور تھے علم کی شمع ہمارے پاس تھی تو ہمارا ورلڈ آرڈر چلتا تھا، آج انکے پاس طاقت ہے انکے پاس علم ہے تو انکا ہی ورلڈ آرڈر چلے گا بھائی، ہے کوئی ایسا مسلم ملک جس سے اگر آج امریکہ کہہ دے کہ آجاو میدان جنگ میں تو وہ اسکا مقابلہ کرسکے؟ یہاں تو حالت یہ ہے کہ سعودی عرب کی پاک زمین کی حفاظت پر بھی امریکن ہی معمور ہیں اور آپ لوگ اب بھی لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے ہی لگا کے رکھنا چاہتے ہیں، لگے رہو بھائی نہ پچھلے دوسو سالوں میں کچھہ ملا ہے اور نہ اگلے دو ہزار سالوں تک کچھہ ملنے کی امید ہے، تا وقت یہ کہ جہالت سے نکل کر علم کی طرف نہیں آتی مسلم ورلڈ، باقی سب نوٹنکی ہے تماشہ ہے دھوکہ ہے جھوٹ ہے فریب ہے ایم ایم اے کی طرح مذہب کا استحصال ہے۔

  7. میں بعینہ اسی چیز کی بات کر رہا تھا جس سے متعلق آپ نے تازہ تازہ ارشاد فرمایا ہے۔
    ہم نبی کریم ﷺ کی تقلید نا کریں تو کیا کارل مارکس کی تقلید کریں؟ ہم خود کو نبی کریم ﷺ سے نا جوڑیں تو کیا گاندھی سے جوڑیں؟ اور کیوں نا جوڑیں ؟ کیونکہ جدید مغربی تہذیب برا مان جاتی ہے۔
    شریعت الہیہ کا نفاذ امت کی اہم ضرورت ہے آج کے وقت کا تقاضا ہے آج اگر دین کے داعی کا وقت نہیں ہے تو پھر کس کا وقت ہے ؟ نواز شریف، آصف علی زرداری یا الطاف حسین کا ؟ سیکیولر اشرافیہ نے گذشتہ ایک صدی میں اور سیکیولر بادشاہتوں نے کئی صدیوں میں امت کو کیا دیا ہے جو آئیندہ دے دیں گے؟ قوموں کے عروج مانگے تانگے کو فلسفوں سے حاصل نہیں ہوتے نا ہی مانگے تانگے کی تہذیبوں سے کوئی قوم بنتی ہے اس ملک کو دین اسلام ہی جوڑتا ہے اور جوڑ رکھا ہے ورنہ تو یہ کب کا ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہوتا۔ ٹرک کی بتی کا طعنہ دینے کی بجائے آپ کو اس تہذیب کی منافقت پر لعن طعن کرنی چائیے جو رات دن جمہوریت کا راگ الاپتی ہے مگر اسلام جمہوریت پر شب خون مارنے پر پیٹھ پیچھے تالیاں بھی پیٹتی ہے
    حسنی مبارک دہائیوں تک کرپشن سے ملک کا بیڑا غرق کرے تو جائز، امت کی پیٹھ میں خنجر گھونپے تو کوئی بات نہیں، مسلم حکمران اپنے ہی شہریوں کا امریکی فوج کے ساتھ مل کر قتل عام کریں تو واہ واہ ۔ مگر جہاں اسلام پسند عوام کے ووٹوں آپ ہی جمہوریت سے برسراقتدار آجائے تو آپ کو کیڑا کاٹنے لگ جاتا ہے۔ مرسی کے ایک سال کا موازنہ آپ مشرف اور پیپلز پارٹی کے دور سے کیجیئے ۔ آپ کو اپنے قول کے ہلکے پن کا خود ہی احساس ہو جائے گا۔
    امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ اللہ سبحانہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے اور یہ نشاۃ ثانیہ غامدی یا الطاف حسین کے ذریعے سے حاصل نہیں ہوگی بلکہ اللہ سبحانہ تعالی کے خاص اور چنیدہ بندوں کے ذریعے سے پایہ تکمیل تک پہنچے گی۔ جو دین کو اسکی اصل حالت میں نافذ کریں گے۔ اگر یقین نا آئے تو صحیح احادیث کے ذخیروں کو دیکھ لیجئیے۔
    خدا نخواستہ آپ منکر حدیث تو نہیں ہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      ویسے کونسی اسلامی ریاست بنانا چاہتے ہیں آپ پاکستان کو؟ دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، شعیہ، سنی، وہابی، طالبانی، یہاں تو اسلام ہی ایک ہزار قسم کے ہیں، ایک گلی ایک محلے میں اکھٹے نہیں ہیں مسلمان اور آپ پتہ نہیں کونسے جہاں کے فلسفے سنا رہے ہیں دنیا کو، چلیں مان بھی لیا کہ ان سب کی متفقہ اسلامی ریاست آپ یا آپ کے رہنما قائم کر لیں گے، زرا بس اتنا بتا دیں کے وہ کونسا معاشی نظام دیں گے آپ دنیا کو جسے دنیا فرمابرداری سے قبول کرلے گی اور آپ کے بنائے ہوئے نظام کے تحت وہ آپ سے کاروباری و دیگر معاملات کرنے کے لئیے راضی ہوجائے گی؟ کفار کے تعلیمی نظام کو ترک کر کے کون کون سے نصاب ترتیب دیں گے آپ؟ وہ کیا طریقہ کار ہونگے جنکے تحت دنیا آپ کے آگے سرنگو ہوجائے گی اور اپنے تمام کافرانہ نظامات کو چھوڑ کر آپکے دئیے ہوئے معاشی نظام کے آگے سجدہ ریز ہوجائے گی؟ کیسے ہوگی ایکسپورٹ کیسے ہوگی امپورٹ، بینکنگ کے بغیر کیسے چلیں گے یہ سارے معاملات؟ ظاہر ہے اسلامی ریاست میں تو سودی نظام نہیں چل سکتا، بلا سودی نظام کون مرتب کرے گا؟ یہ جوکر فرید پراچہ، اسد اللہ بھٹو، یہ منور حسن، یا یہ انپڑھہ جاہل طالبانِ؟ ٹرک ڈرئیور منگل باغ وغیرہ؟ اللہ کے واسطے عقل سے کام لیں ان میں کیا پوری مسلم ورلڈ میں کسی کے پاس بھی متبادل نظام نہیں ہے، نہ ہی کسی میں اتنی اہلیت ہے فلحال۔ خود بھی اس سراب سے نکل آئیں اور لوگوں کو بھی حقیقت بتائیں یہ جھوٹے دھوکے اب نہیں چلنے والے، پورے پاکستان سے خیبرپختنخواہ کے ایک آدھا ضلع تک محدود ہونے کے بعد بھی سمجھہ میں نہیں آرہی بات کہ دنیا آپ لوگوں کے اس ناٹک کو سمجھہ چکی ہے وہ نہیں آنے والی اب آپ لوگوں کے جھانسے میں۔ لاہور کو اپنا گڑھہ کہنے والے فرید پراچہ کو تین ہزار ووٹ بھی نہیں ملے یہ ہے آپ لوگوں کے اسلامی ریاست کے نعرے کی حقیقت مگر پھر بھی آپ لوگوں کی سمجھہ نہیں آرہی۔ لگے رہو بھائی، نہ پہلے کچھہ ملا ہے نہ آگے کچھہ ملے گا۔ خالی خولی کے نعرے مت لگائیں اگر کوئی متبادل نظام ہے تو وہ پیش کریں ورنہ حقیقت کو قبول کر کے لوگوں کو سچ بتائیں اور لوگوں کو ٹرک کی بتی کے بجائے علم کی طرف لے کر آئیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s