رمضان کی برکتیں یا؟؟؟؟؟


رمضان کی رحمتیں، رمضان کی نعمتیں، رمضان کی برکتیں، رمضان کے تحفے، یہ سب سدائیں ہر طرف سے سننے کو مل رہی ہیں، جس چینل پر چلے جاو یہ ہی گونجیں ہر طرف سنائی دے رہی ہیں، کہیں عامر لیاقت صاحب آمر کے روپ میں، تو کہیں مایا خان، مایا کمانے کے لئیے بیتاب، جس اشتہار میں دیکھہ لیں رمضان کا ذکر ضرور ملے گا۔

یہ دراصل سب ڈھونگ ہے، رمضان کی رحمتوں کو ہم نے رمضان کی غلاضتیں بنا دیا ہے، رمضان کو دھندہ بنا لیا ہے ہم نے، ہم رمضان بیچنے والے بیورپاری ہیں، کیسا ثواب کیسا اجر؟ کون ہیں وہ لوگ جنکے نزدیک رمضان حقیقت میں بخشش کا زریعہ بن سکتا ہے؟ کتنی تعداد ہے ایسے لوگوں کی؟

درحقیقت ہم سب رمضان فروش ہیں، پورے سال انتظار کرتے ہیں اس مقدس مہینے کا کہ کب یہ مقدس مہینہ آئے اور ہم اس کے تقدس کی تجارت شروع کریں، جو گھٹیا گلا سڑا مال پورے سال نہیں بکتا وہ اس مہینے میں بک جاتا ہے، ہر گندی گھٹیا غلیظ چیز کو رمضان کی پاکیزگی کے نام پر مقدس بنا کر بیچنے والے لوگ ہیں ہم، ہم پورے سال کی کمائی اس ایک مہینے میں کرنا چاہتے ہیں، اندازہ کریں یہ جملہ کتنا عام ہے کہ رمضان آگئے ہیں یار سیزن شروع ہوگیا ہے، ہر چیز کی قیمت کو چار سے ضرب دے کر رمضان کے تقدس کو ضرب لگانے والے گھٹیا ترین لوگ ہیں ہم، گو کہ یہ بخشش کا مہینہ ہے لیکن ہم ایک دوسرے کو بخشنے کے لئیے تیار نہیں اس مہینے میں جہاں جسکا جیسا موقع لگتا ہے عید کے نام پر چونا لگا دیتا ہے۔

کاروباری (دراصل کاروکاری) حضرات کے لئیے پانچ اور سات روزہ تراویح کا انتظام کیا جاتا ہے، اس بات سے ہی اندازہ لگا سکتے ہیں کے ہمارے لئیے فوقیت کس کی ہے رمضان کی برکتوں کی یا کاروبار کی برکتوں کی، ایک مہینے کا ثواب پانچ دن میں کما کے باقی کے پچس دن پیسہ کمانے میں لگ جاتے ہیں، یہ وہ حسین دھوکہ ہے جو ہم با جماعت خود کو دیتے ہیں، سبزی سے لے کر پھل تک ہر وہ چیز جس سے روزہ دار اپنا روزہ افطار کرتا ہے اسے دنیا کی نایاب ترین شے بنا دیتے ہیں ہم، سونے کا ریٹ گھٹ رہا ہے آلو، پیاز، بیسن، سموسے، یہاں تک کے بھیڑ بکریوں کی غذا خربوزہ اور تربوز جیسے نام نہاد پھلوں کی قیمتیں بھی عرشِ معلیٰ کو چھو رہی ہیں، ہمارے نزدیک رمضان کی برکتیں عبادات یا بخشش کے زرائع نہیں ہوتے بلکے ان سب چیزوں کی مہنگی فروخت کو ہی ہم رمضان کی برکات سمجھتے ہیں۔

اب رمضان کی اس مقدس عبادت کے نام پر دھندے شروع ہونگے، کوئی زکوات کا دھندہ کرے گا، کوئی فطرے کا کوئی صدقے کو گلوریفائی کرے گا، سیاسی جماعتیں، مسجدیں، مدرسے، زکوات، خیرات، صدقات، کی وصولی کے لئیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لئیے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے، کہ وہ جانتے ہیں کہ رمضان کے مہینے میں بخشش کے نام پر یہ قوم جتنی بیوقوف بنتی ہے اتنی باقی کے گیارہ مہینے نہیں بن سکتی، سب بارہ مہینے کی نیکیاں اس ایک ہی مہینے میں کرنا چاہیں گے، گن گن کر اللہ کی عبادات کی جائیں گی، گن کر قرآن ختم کئیے جائیں گے، گن کر نوافل پڑھے جائیں گے، روزے بھی بڑے اہتمام کے ساتھہ رکھے جائیں گے، ان سب نیکیوں کے ساتھہ ساتھہ ملاوٹ بھی جاری رہے گی، نقص والا مال بھی نقص چھپا کر فروخت کیا جائے گا، سستی سے سستی چیز کو مہنگا کر کے بیچا جائے گا، کیونکہ نماز روزہ میرا دین اور چوری میرا پیشہ والی سوچ خون کی طرح ہماری رگوں میں سرائیت کر چکی ہے۔

آمر لیاقت اور جنید جمشید جیسے خواتین کے مفکر، لوگوں کو پورے مہینے افطار اور سحری کے اوقات میں مذہبی انٹرٹینمینٹ مہیہ کریں گے، اور آخر میں دعا کروائیں گے جس میں انکی ہر ممکن کوشش ہوگی کے ہر پاکستانی دھاڑیں مار مار کر روئے، بھلے سے انہیں روتا دیکھہ کر کسی کی ہنسی چھوٹ رہی ہو لیکن رونا پڑے گا بھائی، دین کا معاملہ ہے ورنہ بے دین کا فتویٰ لگ سکتا ہے۔

سارے سال لوٹا ماری کرنے والے تاجر حضرات دل کھول کر راشن تقسیم کریں گے، پھر بھلے سے اس راشن کی تقسیم کے دوران کتنے ہی لوگ پیروں تلے کچل کہ مر جائیں، کیا فرق پڑتا ہے، کسی کی جان جاتی ہے تو جائے، انہیں تو راشن کے زریع سے بخشش کروانی ہے، عطیات بھی دئیے جائیں گے، روزہ داروں کے روزے بھی کھلوائے جائیں گے، یہ الگ بات ہے کہ رمضان گزرتے ہی اس غریب روزہ دار کو کوئی پانی کا بھی پوچھنے والا نہیں ہوگا، کیونکہ ایک نیکی کا اجر تو ستر سے ضرب ہو کر صرف رمضان میں ہی ملنا ہے اسلئیے بارہ مہینے کا اجر اس ایک مہینے میں ہی لے لیا جاتا ہے، گیارہ مہینے تو ایک نیکی کا اجر ایک نیکی ہی ملنا ہے۔

اعتکاف کا مطلب ہوتا ہے کہ انسان دنیا کے سے کٹ کر دس دن اللہ سے لو لگائے، لیکن ہم اجتماعی اعتکاف کے نام پر مسجدوں میں ہی ایک الگ شہر بسا لیتے ہیں، جہاں احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ ہم تنہا اللہ سے لو لگانے آئے ہیں، وہاں لوگ اللہ سے زیادہ آپس میں ایک دوسرے سے لو لگائے رکھتے ہیں، غرض یہ کہ ہم رمضان کی روح سے رمضان کے مغز سے کوسوں دور ہوتے ہیں، روزے کا مطلب ہے کہ انسان اللہ کی زات کے لئیے اللہ کے حکم کی کی پاسداری کرتے ہوئے کچھہ نہیں کھاتا پیتا تاکہ اسے کسی بھوکے پیاسے کی تکلیف کا احساس ہوسکے، مگر سب سے زیادہ کھانے رمضان میں ہی کھائے جاتے ہیں نت نئی ڈشز اور مشروبات رمضان میں ہی کھائے پئیے جاتے ہیں،بیگمات کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح آج اپنے سرتاج کے لئیے کوئی ایسی نئی ڈش تیار کروں جو پورے خاندان میں اس سے پہلے کسی نے نہ کھائی ہو، یہ رمضان ہمارے لئیے کسی فوڈ فیسٹیول سے کم نہیں ہوتا۔

بخشش کے زریع کو ہم نے پیسے کی کشش کا زریع بنا کے رکھہ دیا ہے، پچھلے سال آمر لیاقت کو جیو کی جانب سے رمضان میں ٹارگٹ دیا گیا تھا بیس ارب روپے کے بزنس کا جو کہ با آسانی پورا کرلیا گیا تھا،، اس سال یقیناَ یہ ٹارگٹ چالیس ارب تک پہنچ گیا ہوگا، جنید جمشید صاحب بھی کود پڑے ہیں اب اس دوڑ میں دیکھیں کون زیادہ تیز دوڑتا ہے، لیکن یہ طے ہے کہ رمضان کی برکتوں کی اس دوڑ میں تاجروں کی جیت ہوتی ہے، سیاسی جماعتوں و مذہبی جماعتوں کی جیت ہوتی ہے، اداروں کی جیت ہوتی ہے، مسجد مدرسوں کی جیت ہوتی ہے، آمر لیاقت سے لیکر جنید جمشید تک سب کی جیت ہوتی ہے، ہار صرف رمضان کے حصے میں آتی ہے، کہ اسکا اصل مقصد ان سب دھندوں میں کہیں گمنام موت مر جاتا ہے۔

آخر میں ایک التماس ہے کہ، آمر لیاقت اور جنید جمشید میں لوگوں کو رلانے کا مقابلہ ہوگا جو زیادہ لوگوں کو رلانے میں کامیاب رہے گا اسکے پروگرام کی ریٹنگ اتنی ہی زیادہ بڑھے گی، ایسے تمام رلانے والے لوگوں کے چاہنے والوں سے التماس ہے کے اپنے اپنے مفکر کو مایوس نہ کریں خود بھی دھاڑیں مار مار کے روئیں اور لوگوں کو بھی رونے کی تلقین کریں تاکہ ریٹنگ کی دوڑ میں انکا مفکر کسی سے پیچھے نہ رہ جائے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

2 Responses to رمضان کی برکتیں یا؟؟؟؟؟

  1. qalamnama نے کہا:

    بہت خوب! درست لکھا ہے آپ نے۔ رات ہی کو ایک پیروڈی دیکھ رہا تھا کسی ٹی وی چینل پر ہی جس میں ایک خوجہ سرا ناظرین کو روزے اور ذاتی/گھریلو زندگی کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے بارے میں کچھ کہھ رہا تھا یا کہھ رہی تھی! ہر چیز کمرشل ہو گئی ہے کیا کیا جائے۔
    http://www.qalamnama.wordpress.com

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s