تیرا غم میرا غم اِک جیسا صنم


یاسر جاپانی بھائی کی پر اثر تحریر ڈسکو مولوی پڑھی جس میں یاسر بھائی نے غیرجانبداری کے ساتھہ بہت ہی خلوص کے ساتھہ تحریر سے انصاف کیا ہے، اس تحریر میں درد واضع طور پر نظر آیا، لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیونکر ہورہا ہے؟ کچھہ چینل اپنے حساب سے دین کی تشریحات کر رہے ہیں اور باقی لوگ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں، کوئی تو وجہ ہوگی اسکی، دیگر لوگوں کی یہ خاموشی اپنے اندر بے پناہ معنیٰ لئیے ہوئے ہے۔

شاید آپ لوگوں کے لئیے یہ نئی معلومات ہو، کیونکہ میرے علم میں تو ابھی کچھہ ہی دن پہلے یہ بات آئی اسلئیے میرے لئیے تو یہ نئی بات ہی ہے، کراچی کی دیواروں پر جو بہ ظابطہ چاکنگ کی جاتی ہے اسکے لئیے ایک باقائدہ کمیٹی بنی ہوئی ہے اس کمیٹی میں تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے نمائندے شامل ہیں، یہ کمیٹی اسلئیے تشکیل دی گئی ہے تاکہ ان جماعتوں کا آپس میں تصادم نہ ہو، مثال کے طور پر اگر متحدہ قومی موومنٹ کوئی جلسہ کرنا چاہتی ہے یا یومِ تاسیسس وغیرہ کا سلسلہ ہے یا اس ہی ضمن میں کوئی اور تقریب منعقد کرنی ہے تو پھر یہ کمیٹی طے کرتی ہے کے آنے والے پندرہ دن متحدہ قومی موومنٹ کی چاکنگ کے لئیے کراچی کی مشہور دیواریں جو کہ زیادہ تر ہائی وے فیسنگ ہوتی ہیں وقف رہیں گی، پھر جیسے بے نظیر صاحبہ کی برسی یا سالگرہ یا پھر پیپلز پارٹی کا کوئی جلسہ وغیرہ ہونا ہے تو پھر یہ کمیٹی طے کرتی ہے کہ آنے والے پندرہ دن اب پیپلز پارٹی کے لئیے یہ دیواریں وقف رہیں گی۔

اس ہی طرح جماعت اسلامی کا کوئی جلسہ وغیرہ ہوتا ہے تو یہ ہی طریقہِ کار جماعت اسلامی کے لئیے اختیار کیا جاتا ہے، ربیع الاول کے مہینے میں یہ ہی طریقہِ کار سنی تحریک کے لئیے اختیار کیا جاتا ہے، اس ہی طرح طاقت کے حساب سے سب میں یہ دن تقسیم کر دئیے جاتے ہیں تاکہ کوئی بد مزگی نہ ہو اور کسی جماعت کی طرف سے کی گئی چاکنگ پر کوئی دوسرا چاکنگ نہ کرئے تاکے تصادم نہ ہو، مزے کی بات یہ ہے کہ ان جماعتوں کے آپس میں لاکھہ اختلافات سہی لیکن دیواروں پر چاکنگ کے معاملے میں یہ سب لوگ اپنے کمٹمنٹ سے بہت مخلص ہوتے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ آج تک چاکنگ پر کوئی جھگڑا یا مار کٹائی دیکھنے میں نہیں آئی، اسکا مطلب کیا ہوا؟ کہ سب نے ملکر آپس میں طے کیا ہوا ہے کہ قوم کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کے لئیے سب کو مناسب وقت دیا جائے گا، تاکہ سب اپنے اپنے حصے کی ٹرک کی بتیاں ان دیواروں پر روشن کر کے نصب کر سکیں، یعنی ان سب نے تالی ماری ہوئی ہے، میری باری ختم ہوئی تو میں نے عمران اقبال سے تالی مار لی، میں منظر سے ہٹ گیا پھر عمران اقبال کی باری ہے عمران اقبال کا وقت ختم ہوا تو یاسر بھائی کا وقت شروع ہوگیا اس ہی طرح سے یہ تمام لوگ تالیاں مار کر چلتے رہتے ہیں انکے دھندے چلتے رہتے ہیں اور عوام بے چارے سدا کے بیوقوف ہیں وہ بیوقوف بنتے رہتے ہیں اور اپنی اپنی جماعت کی ٹرک کی بتی کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔

یاسر بھائی نے فرمایا (نوجوان نسل جو پڑھی لکھی ذہین بھی ہے اور مطالعے کا شوق بھی رکھتی ہے۔یہ نسل سارے فساد کا قصوروار علماء دین کو ہی سمجھتی ہے۔اور یہی “روشن خیال ” نسل دین کو تماشہ بنانے والوں اور عمومیہ کے “مذہبی جذبات” سے کھیل کر مفاد حاصل کرنے والوں سے بھی نفرت کرتی ہے۔اور علماء حق چاھے کسی مسلک کے بھی ہوں بے شک خلوص دل سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔لیکن مفاد پرستوں کے ساتھ یہ بھی دین بیزاروں کے حقارت کا شکار ہوئے جاتے ہیں)۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل سارے فساد کا زمہ دار علماء اکرام کو کیوں سمجھتی ہے؟ انیس سو پچیاسی سے پہلے تک بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ فرقہ واریت نام کی کوئی چیز عام عوام کے ذہنوں میں نہیں پائی جاتی تھی، کوئی نہیں جانتا تھا کہ دیوبندی، بریلوی، شیعہ سنی، وہابی، اہلحدیث وغیرہ کا آپس میں نفرت کرنا لازمی ہے، ہر طرف محبتیں تھیں، ہر انسان دوسرے کے مسلک کا احترام کرتا تھا، کوئی مسلک اور فرقے کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہیں کرتا تھا، سب ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھہ لیا کرتے تھے، ایک دوسرے کے نظریات کی عزت کیا کرتے تھے، سب اتنا ضرور جانتے تھے کہ مذہبی اختلاف چاہے کتنا بھی سنگین کیوں نہ ہو اسکی بنیاد پر کسی کی جان نہیں لی جاسکتی، کیوں کے اللہ نے رسول نے فرما دیا ہے کہ ایک انسان کی جان کی قدر و قیمت کعبہ و مدینے کی حرمت سے زیادہ ہے۔

میری بات سے جو چاہے اختلاف کر سکتا ہے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت ضیاءالحق کے دور کے بعد ہی پھیلی ہے، افغان وار میں امریکہ کا ساتھہ دے کر جو کچھہ وہ انسان پاکستان کے مقدر میں لکھہ گیا ہے آج تیس سال بعد کی نسلیں بھی اسکا کیا ہوا ہی بھگت رہی ہیں اور ابھی نہ جانے کب تک بھگتیں گی، شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث یہ تمام فرقے تو پاکستان میں شروع سے ہی تھے لیکن ایسا جنونی کوئی نہیں تھا کہ فرقے کی یا عقیدے کی بنیاد پر کیس کی جان کے درپے ہوجائے، کبھی کسی نے سنا تھا کہ ایک ساتھہ سو لوگوں کو صرف اس بنیاد پر قتل کردیا گیا کہ وہ شیعہ تھے؟ کبھی کسی نے سنا تھا کے ایک ساتھہ پچاس ساٹھہ لوگوں کو محض اسلئیے قتل کردیا گیا کہ وہ کسی بزرگ کے مزار پر حاضری دینے آئے ہوئے تھےِ؟ انڈیا کے صوبے راجھستان کے ضلع اجمیر شریف جسکی وجہِ شہرت ہی بزرگانِ دین کے مزارات ہیں، وہاں کبھی سنا کسی نے کہ محض اس وجہ سے وہاں لوگوں کو بم سے اڑا دیا گیا کے وہاں لوگ حاضری دینے آتے ہیں فاتح پڑھنے آتے ہیں؟ جبکہ مزے کی بات یہ ہے کہ وہاں تو بزرگانِ دین کے مزارات پر ہندو برادری کے لوگ بھی عقیدت کے ساتھہ حاضری دینے آتے ہیں لیکن وہاں کوئی کسی کی جان نہیں لے رہا وہاں کوئی کسی کو بدعتی کہہ کر قتل نہیں کر رہا۔

پاکستان میں بھی انیس سو اسی سے پہلے تک ایسا نہیں ہوتا تھا، ضیاءالحق کو اپنی الگ ہی نوعیت کا ایک اسلام چاہئیے تھا جسکے پیروکار صرف جہاد کو ہی کل اسلام سمجھیں، اور جہاد بھی وہ جسکے حق ہونے کا فیصلہ پاکستان کی ایجنسیز نے کیا ہو، آئی ایس آئی نے کیا ہو، فوج نے کیا ہو، کچھہ بکاو قسم کے مولویوں کو اپنے ساتھہ ملایا گیا، امریکہ سے ڈالروں کی بارش کروائی گئی، ہیلی کاپڑرز سے جہادی مواد گرائے گئے، جمعہ کے واعظوں میں جہاد کی افادیت اور اہمیت کے بیانات جاری کروائے گئے، کہا گیا کہ اس جنگ میں امریکہ کا ساتھہ دو کیوں کے امریکہ اہل کتاب ہے، اور روسی کافر ہیں، اب پتہ نہیں محض بیس سال بعد امریکہ کافر کیسے ہوگیا؟

نہ جانے اتری ہے آج اس پر کونسی کتاب

اِک روز جس نے کہا تھا تم میرے قرآن ہو

میں اس بحث میں نہیں جاوں گا کہ وہ کونسا فرقہ تھا یا کونسی جماعتیں تھیں یا کون لوگ تھے جنہوں نے ایجنسیز اور فوج کو لبیک کہا اور پاکستان کے معصوم اور اسلام سے محبت کرنے والے لوگوں کو انسان سے جانوروں میں تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کیا، لیکن یہ تقسیم اب ہوچکی ہے، اب وقت کا پہیہ الٹا نہیں گھمایا جاسکتا، اب اگر خود وہ لوگ بھی چاہئیں تو قوم کے اندر سے یہ تشدت ختم نہیں کرسکتے جنہوں نے انہیں اس تشدت کی راہ پر لگایا کیوں کے اب انکے پیروکار انہیں ہی مار دینگے کہ اگر تشدت کا یہ راستہ غلط تھا تو ہمیں اس راہ پر لگایا ہی کیوں۔

بات چلی تھی عامر لیاقت اور اس جیسے دوسرے لوگوں سے جنہوں نے میڈیا کے زریعہ روپیہ پیسا کمانے کے لئیے دین کو ڈھال بنایا ہوا ہے، پیسہ کمانے کے لئیے دین کو ڈھال بنانے کا نیا طریقہ نہیں ہے یہ انیس سو اسی سے ایسے ہی چلا آرہا ہے اور ایسے ہی چلتا رہے گا، کیونکے اگر کوئی عالم میڈیا کے خلاف آواز بلند کرے گا تو پھر میڈیا بھی چپ نہیں رہے گا وہ انکے سارے زریع آمدنی عوام کے سامنے لا کر رکھہ دے گا کہ کیسے یہ تمام فرقے پیسہ جنریٹ کرتے ہیں، کون کون سے ممالگ انکو فنڈنگ کرتے ہیں، کون کون سے ممالک ہیں جو یہاں پراکسی وار ان مذہبی لوگوں کے تھرو پاکستان میں لڑتے ہیں، کیسے لاکھوں کی تعداد میں مسجدیں بنائی گئی ہیں کیسے مدرسوں کا نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے، کیسے مزارات سے انکم کی جاتی ہے کن کن طریقوں سے دین فروشی کی جاتی ہے، ان سب کے پاس ایک دوسرے کے سارے ریکارڈ موجود ہیں،اسلئیے مطمعین رہئیے  یہاں کوئی کسی کے خلاف آواز بلند نہیں کرے گا، یہ مہینہ میڈیا کا تو باقی گیارہ مہینے مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے کمانے کے ہیں، تیرا غم میرا غم اک جیسا صنم، ہم دونوں کی ایک کہانی، آجا لگ جا گلے دل جانی۔

Advertisements
This entry was posted in مذہب. Bookmark the permalink.

8 Responses to تیرا غم میرا غم اِک جیسا صنم

  1. دل جانی سے دیکھ بھال گلے لگیے گا۔۔۔۔ ایسا نا ہو کہ لینے کے دینے پڑ جائیں

    • fikrepakistan نے کہا:

      آپ نے تحریر کے عنوان کو درست نہیں سمجھا، تحریر کو دوبارہ پڑھیں شاید سمجھہ میں آجائے۔ یہ غم نہیں دراصل باہمی مفاد کی بات ہورہی ہے۔

      • بڑے بھائی ۔۔۔۔ میں ایک نہایت کند ذہن انسان ہوں مگر آپ یہاں بھی اسٹوری کو ٹویسٹ کرنے سے باز نہیں آئے ۔
        یاسر بھائی کی بات جس سے آپ اتفاق کررہے ہیں وہ اسکے بالکل برعکس ہے جو آپ کررہے ہیں۔

      • fikrepakistan نے کہا:

        سارے فیصلے آپ خود ہی کیوں کرنا چاہتے ہیں، حضرت کچھہ قارئین کی فہم پر بھی چھوڑ دیا کیجیئے۔

  2. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    محترم ۔ بھیڑیں ایک رُخ پر چلانے کیلئے ایک بھیڑ کو قابو میں رکھنا ہوتا ہے لیکن آدمیوں اور بھیڑوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیئے ۔ خاص کر کراچی کے عوام جو سب سے زیادہ پڑھے لکھے اور باشعور کہلاتے ہیں وہ ٹرک کی بتی کے پیچھے کیسے لگ جاتے ہیں ؟
    جب ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کیا میں ملک میں نہیں تھا اور 1983ء میں واپسی ہوئی پھر جب اُس نے ٹی وی پر کہا ”اگر آپ اسلام چاہتے ہیں تو میں 5 سال کیلئے صدر“۔میں نے ٹی وی اسی وقت بند کر دیا مزید کچھ حماقت کی تو مجھے غصہ آ جائے گا جو حرام ہے ۔
    17 اگست کو ضیاء الحق کو مرے 25 سال ہو جائیں گے ۔ جو ضیاء الحق کے مرنے کے بعد پیدا ہوئے وہ افسر بھی بن چکے ہیں ۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ یہ سب اتنے کمزور ہیں کہ ضیاء الحق کے مردے سے بھی ڈرتے ہیں ؟
    کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ 1985ء سے 2000ء تک بلکہ 2004ء تک پورے ملک میں کتنے دھماکے ہوئے ؟ اگر نہیں ہوئے تو پھر ان کا ذمہ دار ضیاء الحق کیسے ہوا ؟ پرویز مشرف کیوں نہ ہوا ؟
    عراق میں آئے دن جو دھماکے ہو رہے ہیں کیا ان کا ذمہ دار بھی ضیاء الحق ہے ؟
    مدرسوں کے سلسلہ میں یاسر صاحب کی جس تحریر کا حوالہ دے کر آپ نے یہ تحریر لکھی اس پر میرا تبصرہ پڑھ لیجئے

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضرت کراچی پاکستان سے باہر تھوڑی نہ ہے، یہ اس خطے میں ہی کوئی مسلہ ہے تقسیم سے پہلے بھی یہ خطہ بانج ہی تھا اور آج بھی بانچ ہی ہے۔

      باقی دنیا جانتی ہے کہ اسی سے پہلے کا پاکستانی اس حد تک جانور نہیں تھا، یہ سب ضیاءالحق صاحب اور انکے ہم پیالہ وہ ہم نوالہ لوگوں کے کارنامے ہیں جسکا بھگتاوا نا جانے کب تک دینا پڑے گا، لمحوں کے خطہ ہوتی ہے اور سزا صدیوں کو ملتی ہے، آج آپ بیج بوئیں گے تو اس بیج کو درخت بننے اور پھر پھل دینے میں سالوں کا عرصہ لگتا ہے، یہ تو پھر پوری قوم کی بربادی کا سوال ہے، ابھی تو بہت آگے تک جانے ہیں یہ معاملات اور اتنے آگے تک کہ سنبھلنتے ہوئے بھی دکھائی نہیں دے رہے۔

  3. ہم ستر کی دہائی میں پیدا ہونے والوں نے ضیاء دور ہی دیکھا ہے۔اس سے پہلے والے کیا بانٹتے تھے ہمیں نہیں معلوم۔
    بحرحال ضیاء کے دس سالہ دور کی برائیاں مشرف کا گیارہ سالہ دور اور زرداری کا پانچ سالہ دور بھی ختم نہیں کر سکا تو مستقبل میں بھی کچھ نہیں بدلے گا۔ضیاء سے پہلے بھی اور بعد میں بھی پاکستان تو ہوس زدہ لوگوں کے ہاتھوں میں دکھائی دیتا ہے۔جن کا دین سے کوئی تعلق ہی نہیں بنتا۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی بلکل درست کہا آپ نے، اگر تعلق بنتا ہوتا تو اتنی نمازیں، روزے، حج عمرے، تبلیغیں، عبادات، اجتماع، یہ ساری چیزیں سب سے زیادہ پاکستان میں ہی ہوتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ رویوں اور شخصیتوں میں گندگی اور غلاضتیں پاکستانیوں میں ہی پائی جاتی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s