بدی کی کتیا اور اسکے بچے


پہلے میرا خیال تھا کہ پاکستان میں غریب پیدا ہونا بہت بڑا جرم ہے، پھر رائے میں تبدیلی آئی کہ نہیں پاکستان میں کمزور پیدا ہونا زیادہ بڑا جرم ہے، پھر وقت اور حالات نے بتایا کہ بیٹا پاکستان میں پیدا ہونا ہی سب سے بڑا جرم ہے، اور خاص طور پر پاکستان میں مسلمان پیدا ہونا تو نا قابلِ معافی جرم ہے۔

غریب کا وجود تو یہاں کسی کھاتے میں ہی نہیں گنا جاتا، کمزور ہونا پیسے سے نہیں تو ذہنیت سے غریب ہونے کی نشانی ہے، کیوں کے بہت سے دلیر غریب تو اس معاشرے سے اپنے حصے کا حق کسی نہ کسی طور لے ہی لیتے ہیں، بائے ہک اور بائے کروک، اب اگر انسان غریب بھی ہے اور کمزور بھی تو اسکے لئیے تو پاکستان میں پیدا ہونا واقعی بہت بڑا جرم ہے اسے تو رضا کرانہ طور پر ہی خود کشی کرلینی چاہئیے، کہ وہ ساری زندگی پیسے والے لوگوں کے چمکتے جوتوں میں اپنا بجھا ہوا چہرہ ہی دیکھتا رہ جاتا ہے، کیا معاشرہ ہے کہ امیروں کے جوتے چمک رہے ہیں اور غریبوں کے چہرے تک بجھے ہوئے ہیں، جہاں تک رہی بات پاکستان میں مسلمان پیدا ہونے کی تو اگر تو وہ لگی بندی ذہنیت کا شکار نہیں ہے تو ساری زندگی خود سے یہ ہی سوال کرتے ہوئے گزار دے گا کہ میں ہوں کیا؟ دیوبندی ہوں؟ بریلوی ہوں؟ شعیہ ہوں، سنی ہوں؟ اہلحدیث ہوںِِ؟مقلد ہوں یا غیر مقلد ہوں؟ اگر یہ سب نہیں ہوں تو کیا واقعی میں مسلمان بھی ہوں یا نہیں؟۔

پتہ نہیں لوگ خود کو کسی فرقے کسی مسلک یا کسی نام نہاد مذہبی جماعت سے وابسطہ کرتے ہوئے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری خطبہ کیوں بھول جاتے ہیں جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلکل واضع الفاظ میں فرما دیا تھا کہ دیکھو میرے بعد تفرقوں میں مت بٹ جانا، ایک دوسرے کی گردن نہ مارنے لگنا، اور پھر ساتھہ ہی یہ بھی فرما دیا کہ آج دینِ اسلام مکمل ہوگیا، اکثر خیال آتا ہے جس وقت حضور پاک یہ تاریخی الفاظ فرما رہے تھے کہ آج دینِ اسلام مکمل ہوگیا، اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کونسے فرقے سے تھے؟ بریلوی تھے؟ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کونسے مسلک کونسے فرقے سے تعلق رکھتے تھے؟ اہلحدیث تھے؟ اس وقت حضرتِ عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہہ کونسے فرقے کونسے گروہ سے تھے؟ دیوبندی تھےِ؟ اس وقت حضرت علی کرم اللہ وجہہ کونسے فرقے سے تھے؟ شیعہ تھے؟۔

یعنیٰ جس وقت آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے دین مکمل ہونے کی منادی کردی اس وقت تو ایسا کوئی فرقہ ایسا کوئی مسلک نہیں تھا تو یہ بات تو طے ہوگئی کہ خود کو کسی بھی فرقے یا مسلک یا نام نہاد مذہبی گروہ یا جماعت سے وابسطہ کرنا سراسر حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی مخالفت کرنا ہے، اس سے بھی بڑا المیہ یہ کہ خود کو ان فرقوں اور مسلکوں سے وابسطہ کرنے والے لوگ ہی سب سے زیادہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا دم بھرتے ہیں، فرماتے ہیں غلامیِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں موت بھی قبول ہے، جبکہ اصولاَ تو انہیں موت اس وقت ہی آجانی چاہئیے جب یہ خود کو کسی فرقے یا مسلک سے وابسطہ کر رہے ہوتے ہیں، کیونکہ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری خطبے کے بعد بھی خود کو کسی فرقے یا مسلک سے وابسطہ کرنے سے بڑی نافرمانی تو اور کوئی ہو ہی نہیں سکتی، اسلئیے ایسے لوگوں کو اب یہ نعرہ بدل دینا چاہئیے بجائے اسکے کہ غلامیِ رسول میں موت بھی قبول ہے، انہیں چاہئیے نعرہ کچھہ اسطرح کرلیں، نافرمانیِ رسول میں موت بھی قبول ہے۔

اصولاً تو نہ نیکی بانجھہ ہوتی ہے نہ بدی، دونوں ہی وافر مقدار میں اولادیں جننے کا ہنر جانتے ہیں، بدقسمتی کی انتہا یہ ہے کہ پاکستان میں تو نیکی بھی بانجھہ ہے، ایسی کونسی نیکی ہے جو پاکستان میں نہیں کی جارہی؟

نماز، روزہ، حج، زکوت، توحید، پانچوں اراکین پر پوری نیک نیتی اور بد دیانتی کے ساتھہ عمل کیا جاتا ہے، جو حرام کا پیسہ جیب میں ڈال کر قصائی کے پاس گوشت خریدنے جا رہا ہے وہ پوری نیک نیتی سے اور جذبہِ ایمانی کے ساتھہ قصائی کو تاکید کرتا ہے کہ بھائی زبح کرنے سے پہلے اللہ ہواکبر ضرور پڑھہ لینا، اسے یہ خوف ہے کہ کہیں حرام گوشت اسکے شکم میں نہ اتر جائے، یہ ہی وجہ ہے کہ ایسی نیکیوں کے ثمرات معاشرے پر اثر انداز نہیں ہو پا رہے، اس ہی لئیے پاکستان میں نیکی مکمل طور پر بانجھہ ہے،  وہ ایک ایسی بوتل ہے جس پر لیبل روح افزاء کا لگا ہوا ہے اور بوتل کےاندر زبردست قسم کی مہنگی شراب موجود ہے۔ یہ تو بد دیانتی کی ایک بہت ہی معولی سی مثال دی ہے اگر تفصیل میں چلا گیا تو پوسٹ کے بجائے پوری کتاب لکھنی پڑ جائے گی، اسلئیے پاکستانیوں کی نیک نیتی کے ساتھہ بد دیانتی کی مثالوں کو یہیں روکتے ہیں۔

پاکستان میں بدی کتیا کی طرح وافر مقدار مین بچے جنتی ہے، مثال کے طور پر آجکل بند گوبھی ایک سو چالیس روپے کلو کے حساب سے بازار میں بک رہی ہے، کوئی زحمت کرے اور جا کر اس کسان سے پوچھے جو بیچارا دن رات ہل میں بیل کی جگہ خود جت کر زمین کا سینہ چیر کر یہ سبزی اگاتا ہے اس کسان کو بہت تیر مار کر اس سبزی کی قیمت تین سے چار روپے کلو ہی مل پاتی ہے، یہاں سے بدی نامی کتنیا کی جنی ہوئی اولادوں کا کام شروع ہوجاتا ہے، دلال اور بھڑوت کرنے والے کوئی انویسٹر کے نام پر کوئی آڑھتی کے نام پر، ایک کے ہاتھہ سے دوسرے کے ہاتھہ میں دوسرے کے ہاتھہ سے تیسرے کے ہاتھہ میں یوں ہاتھہ بدلتے بدلتے یہ سبزی اصل صارف تک پہنچتے پہنچتے ایک سو چالیس روپے تک پہنچ جاتی ہے، اور اس ہی پر اکتفا نہیں کرتے یہ لوگ، اصل صارف تک پہنچتے پہنچتے سبزی تک سے اسکی اصل غذائیت چھین لیتے ہیں، مختلف قسم کے کیمیکلز ڈال کر پانی میں بھگو کر وزن بڑھا کر اور نہ جانے کیا کیا طریقے اختیار کئیے جاتے ہیں جنکا مہذب دنیا میں تصور بھی ممکن نہیں ہوتا۔

خیر بات چلی تھی کہ آخری خطبے کو سننے یا پڑھنے کے بعد بھی فرقہ بندی اور مسلک پرستی کے دعوے داروں سے کہ انہیں بھی یہ زعم ہوتا ہے کہ وہ بھی مسلمان ہیں، بلکے صرف وہ ہی مسلمان ہیں، اب حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے بعد تو خود کو کسی مسلک یا فرقے سے وابسطہ کرنا خود ایک بدی ہے، اب یہ بدی کیسے بچے جنتی ہے اسکا احوال بھی سن لیں، میرے ایک بہت ہی محترم دوست ہیں افسوس کے وہ خود کو اہلحدیث فرقے سے وابسطہ کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن انکے مرحوم والد اور بڑے بھائی طبعیت سے بریلوی مسلک سے ہیں، قصہ کچھہ یوں ہوا کے میرے دوست کے رشتے کی ایک جگہ بات چلی، اچھا خاصہ کماو پوت ہے، شکل صورت میں بھی کمتر نہیں، میرے دوست کے گھر والوں کو لڑکی پسند آگئی اور لڑکی کے والدین کو میرا دوست پسند آگیا، کہ اچانک لڑکی کے والد کے اندر کا اہلحدیث جاگ گیا، میرے دوست کو مخاطب کر کے کہنے لگے میاں ہم تو اہلحدیث ہیں نظر نیاز کو بلکل بھی نہیں مانتے آپ کہیں نظر نیاز وغیرہ تو نہیں کرتے؟ میرا دوست خود اہلحدیث ہے اس سے پہلے کہ وہ بھی نظر نیاز کے معاملے میں لڑکی کے باپ کے موقف کی تائید کرتا میرے دوست کے والد سینے پہ ہاتہ مار کر بول اٹھے، ہم تو مانتے ہیں نظر نیاز اور ہر ہر موقع پر ہمارے ہاں نظر نیاز کی جاتی ہے، میرا دوست والد کے ادب میں یہ بھی نہ کہہ سکا کہ میرے والد اور بھائی بریلوی ہیں لیکن میں تو آپکا ہم مسلک ہم فرقہ اہلحدیث ہوں، یوں لڑکی کے والد نے محض اسلئیے رشتہ ختم کردیا کے انہیں لگا کہ لڑکا انکے مسلک یا فرقے کا نہیں ہے۔

بدی وہ کتیا ہے جو کبھی بھی ایک بچہ نہیں جنتی، تو اگلی بار کچھہ یوں ہوا کہ ایک اور جگہ رشتہ دیکھا گیا حسبِ سابق میرے دوست کے گھر والوں کو لڑکی پسند آگئی اور لڑکی کے والدین کو میرا دوست پسند آگیا، جس روز لڑکی کے والدین روایتی طور پر لڑکے کو دیکھنے آئے تو انکی نظر میرے دوست کی کتابوں کے شیلف پڑ گئی وہاں کچھہ اہلحدیث مکتبِ فکر کے علماء کی تحریر کردہ کتابیں موجود تھیں جنہیں دیکھہ کر وہ ٹھٹھک گئے، رشتہ کیونکہ میرے توسط سے تھا تو اس وقت تو وہ لوگ وہاں سے خاموشی سے واپس آگئے لیکن واپس آتے ہی میرے پاس پہنچ گئے آپکو معلوم ہے کہ ہم لوگ کٹر بریلوی ہیں اور ہمیں شبہ ہے کہ لڑکا اہلحدیث ہے کیونکہ ہم نے خود اسکے بک شیلف میں اہلحدیث علماء کی کچھہ کتابیں دیکھی ہیں، میں نے لاکھہ سمجھایا کہ اتنا سخت مزاج نہیں ہے ویسے ہی پڑھہ لیتا ہے بس، مگر انہوں نے میری ایک نہ مانی کہنے لگے ہمارے ہاں تو ہر تہوار پر نظر نیاز ہوتی ہے ایسے کسی بھی موقع پر وہ ہماری لڑکی کو نہیں بھیجھے گا یوں ہماری لڑکی ہی ہمارے ہاتھہ سے جائے گی، میں نے سمجھایا بھی کہ اسکے والد اور بھائی وغیرہ بریلوی ہی ہیں انکے گھر میں ہر طرح کی نظر نیاز کی جاتی ہے مگر وہ نہ مانے کہ والدین سے کیا ہمارا واسطہ تو لڑکے سے رہنا ہے وہ ہی جب ہمارے مسلک کا نہیں تو ہم کیسے کر سکتے ہیں یہ رشتہ، یوں یہ رشتہ بھی مذہب کے نام پر جہالت کی بھینٹ چڑھہ گیا۔

بدی کی کتیا کی عمر بھی بہت لمبی ہے پچھلے کئی عشروں سے بچوں پر بچے جنے جارہی ہے اور یہ اٹھارہ کروڑ مل کر پوری نیک نیتی اور بد دیانتی سے ان بچوں کی پرورش ایمانی فریضہ سمجھہ کے کر رہے ہیں، اور نہ جانے کب تک جہالت کا یہ ننگا ناچ ہمارے ملک میں ہوتا رہے گا، نہ مولوی حق بات سمجھا رہا ہے، کہ اسے اپنی دکان بند ہونے کا خدشہ ہے، نہ سیاستدان سمجھا رہا ہے کہ اسے اپنے ووٹ بینک کے ٹوٹنے کا خدشہ ہے، نہ ہی حکومتی سطح پر کوئی ایسے اقدامات کئیے جارہے ہیں جو ان اٹھارہ کروڑ کو مذہب کے نام پر پھیلی ہوئی جہالت سے نکالنے کی کوئی سعی کر سکیں، لگتا ہے اب کسی یہودی یا عیسائی مبلغ سے ہی اسلام کی اصل روح پر تعلیم دلوانی پڑے گی اس قوم کو شاید وہ ہی لوگ ہم سے بہتر سمجھتے ہیں دینِ اسلام کو تب ہی تو انکے معاشرے میں اسلام نظر آتا ہے، پاکستان میں کہنے کو تو ہر طرف مسلمان ہی مسلمان ہیں لیکن افسوس کہ اسلام خوردبین سے دیکھنے پر بھی کہیں نظر نہیں آتا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

10 Responses to بدی کی کتیا اور اسکے بچے

  1. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    حضور ۔ آپ کو ہر طرف بدی نظر آتی ہے ۔ ایک خاص ذہنی کیفیت طاری رکھنے کی بجائے آپ اپنے خود ساختہ خول سے باہر نکلیئے اور دیکھیئے کہ اسی ملک پاکستان میں تنگیءِ داماں سے فراغت حاصل کرنے کیلئے بہت کچھ ہے ۔ پاکستان مین اُن لوگوں کی کتنی تعداد ہے جن کا ذکر آپ نے کیا ہے اور فرقوں اور دوسری خرافات سے دور رہنے والوں کی تعداد کتنی ہے ؟ تمام صحیفے یہی بتاتے ہیں کہ اچھے لوگ کم ہوں گے ۔
    آپ کی اپنی پسند ہے کہ آپ کسے تلاش کر تے ہیں ۔ کیا اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سورت 53 النّجم آیت 39 میں واضح نہیں کر دیا ۔ وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَی ۔ ترجمہ ۔ اور یہ کہ ہر انسان کیلئے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی
    رہی بات لوگوں کی حالت کا سبب اُن کا غریب یا کمزار ہونا تو آپ کو معلوم ہونا چاہیئے کہ ساری دنیا میں دیانتداری اور محنت سے روزی کمانے والا درمیانہ طبقہ ہی زیادتی کا شکار ہے ۔ اُوپر والوں کی طرف سے اور نیچے والوں کی طرف سے بھی
    اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے سورت 13 الرعد آیت 11 میں یہ بھی بتا دیا ۔ إِنَّ اللّہَ لاَ يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّی يُغَيِّرُواْ مَا بِأَنْفُسِہِمْ ۔ ترجمہ ۔ اللہ تعالٰی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اسے نہ بدلیں جو ان کے دلوں میں ہے ۔
    جب لوگ اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرین گے تو اللہ کریم ضرور ان کی مدد فرمائین گے اور کامیاب کریں گے ۔
    آپ اتنا کچھ دوسروں کے متعلق لکھتے رہتے ہین ۔ اس سے آدھی کوشش آپ اپنے آپ کو درست کرنے میں کرتے تو دوسروں کے کیڑے نکالنے کی ضرورت محسوس نہ ہوتی ۔ کبھی آپ نے سوچا کہ اللہ یا اللہ کے رسول ﷺ کے کس حکم کی آپ بجا آوری کر رہے ہیں یا سراسر مخالفت ؟
    مگر جس کے ذہن پر پاکستان میں پیدا ہونے کے باوجود انگریز کی غلامی سوار ہو وہ اسی طرح لکھے گا
    ”کسی نہ کسی طور لے ہی لیتے ہیں، بائے ہک اور بائے کروک۫۔
    کیا اُردو واضح نہیں تھی کہ آپ کو اُردو ہی میں انگریزی بھی لکھنا پڑی ؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      السلام و علیکم، محترم افتخار اجمل صاحب، میری دیرینہ خواہش ہے کہ آپ سے شرفِ ملاقات حاصل کر سکوں، گذشتہ برس شہرِ اقتدار میں آنا بھی ہوا تھا لیکن قلتِ وقت نے مہلت نہ دی، انشاء اللہ اگر زندگی رہی تو آپ سے ملاقات کا شرف ضرور حاصل کروں گا، آپ سے بہت کچھہ سیکھنے کو ملتا ہے جسکے لئیے میں تہہِ دل سے آپکا شکر گزار ہوں، حضرت منظر ہی غلیظ ہے تو تصویر تو غلیظ ہی آئے گی، اس میں فوٹو گرافر پر غصہ کیا کرنا، آپ نے فرمایا کے دنیا بھر میں محنت اور دیانتداری سے کام کرنے والے درمیانے طبقے کے لوگ زیادتی کا شکار ہیں، میں بہت احترام کے ساتھہ آپ سے اختلاف کی جسارت کروں گا، پاکستان ساتویں نیوکلئیر پاور ہے، باقی کے چھہ ممالک میں سے کسی ایک میں بھی عام آدمی اتنی زلت کا شکار نہیں ہے جو حال پاکستان میں ایک عام آدمی کا ہے، بنیادی سہولیات سے آراستہ کرنا انکے حکمرانوں مشن ہوتا ہے، ایسی کوئی بنیادی ضرورت نہیں جو انکے عام آدمی کو حاصل نہ ہو، پاکستان میں باقی سہولیات تو چھوڑ ہی دیجئیے ابھی سیلاب کا ہی حال دیکھہ لیجئیے کہ کسطرح آدھے سے زیادہ پنجاب سندھہ اور سرحد ڈوبا ہوا ہے اور حکمرانوں کے عیاشیاں ہی ختم نہیں ہو کہ دے رہیں، باقی جو میں نے فرقہ بندی کے حوالے سے بات کی ہے تو وہ آپ بھی جانتے ہیں کہ اٹھارہ کروڑ میں سے اٹھارہ ہزار لوگ بھی ایسے نہ ملیں گے جو خود کو کسی فرقے یا مسلک سے وابسطہ نہ کرنے میں فخر نہ محسوس کرتے ہوں، رہی بات انگلش کو اردو میں شامل کرنے کی تو اگر ایک جملہ میں نے اگر اپنی تحریر میں شامل کر دیا ہے تو اس میں سیخ پا ہونے کی کوئی بات نہیں ہے، ہمارا تو پورا نظام ہی آج تک انگلش حکومت کا چل رہا ہے۔

      رہی بات یہ کہ میں زاتی حیثیت میں تبدیلی کے لئیے کیا کر رہا ہوں تو یہ میرا اللہ جانتا ہے کہ میں اپنی زات کی حد تک کیا کچھہ کرتا ہوں، میں تو بلاگ لکھنے کو بھی ایک عبادت ہی سمجھتا ہوں کم از کم دل مطمعین ہے کہ جھوٹ پر تو نہیں پال رہا اپنے پڑھنے والوں کو، حقیقت کا آئینہ دکھا رہا ہوں، اگر کچھہ بھی غلط لکھا ہے یا کچھہ ایسا لکھا ہے جو پاکستان میں نہیں ہورہا تو میری توجہ ضرور دلائیے گا اس جانب، اور اگر سچ لکھا ہے تو اخلاقی طور پر ہی سہی مگر تائید تو بنتی ہے۔

  2. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    حضور اختلاف آپ کا حق ہے ضرور استعمال کیجئے ۔ مجھے اللہ تعالٰی نے دوسرے ممالک جانے اور وہاں کے حالات کو سمجھنے کا موقع عطا فرمایا ۔ مین نے اظہارِ خیال اسی بناء پر کیا ۔ میں شاید اس دنیا کی مخلوق نہیں کیونکہ میں جب بھی دساور گیا ۔ ٹائیاں قمیضین پتلونیں تلاش کرنے یا بڑے شہروں کی رونقوں میں گم ہونے کی بجائے بڑے شہر کا ایک چکر لگانے کے بعد اپنا وقت بڑے شہروں کے مضافات اور چھوٹے شہروں کے لوگوں کے حالات معلوم کرنے پر صرف کرتا رہا ۔ جب سے دساور جانا چھوڑا ہے بذریعہ ای میل معلومات حاصل کرتا رہتا ہوں ۔ جو کچھ میں نے لکھا ہے اسی مطالعہ اور مشاہدہ کا نچوڑ ہے
    آپ نے سیلاب کی بات کی ہے ۔ 80 سے 90 فیصد لوگ ایسے ہین جنہوں نے قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کچے کے علاقوں میں پکی رہائش بنائی ہوئی ہے ۔ کچے کا علاقہ دریا کی زد میں ہوتا ہے ۔ وہاں فصلیں بونے کی اجازت ہوتی ہے مکان بنانے کی نہیں ۔ اب ذرا شہری کچی آبادیوں کا رُخ کیجئے ۔ سرکاری زمینوں پر کچی آبادیوں کے نام پر پکے دو دو منزلہ مکانات بنائے گئے ہیں جن میں خود بھی رہتے ہیں ور کرایہ دار بھی رکھے ہوئے ہیں ۔ یا پھر ایسے ہیں کہ کرایہ دار ہیں اور مکان کے مالک اجارہ دار لوگ ہیں ۔ یہ اجارہ دار بھی غریب کہلاتے ہیں ۔ اللہ کا کلا حق ہے ۔ اللہ نے بار بار فرمایا ہے کہ گوموں پھرو اور دیکھو فلاں کا کیا بنا وغیرہ ؟ یہ یاد رکھیئے کہ اللہ تعالٰی سہولت اور خوشیاں دیتا ہے ۔ تکالیف اور غم انسان اپنے لئے خود پیدا کرتا ہے
    اگر آپ تما برائیان جو لوگوں کے علم میں ہین لکھنے کی بجائے بہتری یا تربیت کی باتین لکھیں تو اچھا نہیں ہو گا کیونکہ کیڑے نکالنے والے اکثریت میں ہیں ۔ آپ نے لکھا کہ سب کچھ سچ لکھتے ہیں ۔ سعادت حسن منٹو نے بھی عدالت میں یہی کہا تھا کہ میں سچ لکھتا ہوں ۔ انسان کا کام برائیوں کا سچ لکھنا نہیں ہے بلکہ حق بات لکھنا اور کھنا ہے اور حق صرف وہ ہے جس کا اللہ نے اپنے رسول ﷺ کے ذیعہ ہمیں حکم دیا

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضور برائیوں کو اجاگر کرنے کا مطلب ہی حق کی تلقین ہوتا ہے، میں کم از کم ان لوگوں میں سے تو نہیں ہوں جو ایسے جاہل ہجوم کا چنے کے جھاڑ پر چڑھا دیتے ہیں کے وی آر دی بیسٹ، ہم ہی سب سے عظیم ہیں باقی سب واجب القتل ہیں، میں تو حق بات ہی کہہ رہا ہوں، اور جو کچھہ آپ نے حکومت کی ہمایت میں لکھا ہے کچے پکے علاقوں کا، تو انہیں راستے سے ہٹانا بھی حکومت کی ہی زمہ داری ہے، حکومت اپنا کام ٹھیک سے کرے تو کسی کی مجال نہیں کے کہیں قبضہ کر سکے، مگر حکومت تو خود قبضہ گروپ ہے جو بلاول ہاوس کے اطراف اور جاتی عمرے اور رائے ونڈ محل کے ارد گرد کی سینکڑوں میل کے راستوں پر قبضہ کر کے بیٹھی ہے تاکے یہ غریب ناپاک لوگ انکی رہائش کے پاس بھی نہ پھٹک سکیں، نواز شریف صاحب نے اور شہباز شریف صاحب نے جو سڑکیں روکی ہوئی ہیں ان پر بھی کبھی قلم اٹھائیے یہ ہوگا حق بات کہنا۔

  3. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    حضور ۔ دوسروں کو بُرا کہہ کے آپ یہی تو ثابت کر رہے ہیں کہ آپ بہترین ہیں ۔ اپنے آپ کو بہتر ثابت کرنے کا اچھا طریقہ یہ ہے کہ آپ اچھا سیکھیں اور دوسروں کی راہنمائی اچھائی کی طرف کریں ۔
    میں نے حکومت کی حمائت نہیں کی صرف حقیقت بیان کی تھی ۔ 2005ء کے بعد میں کراچی نہیں گیا ۔ کیا آپ جاتی عمرہ گئے ہیں جو آپ نے قبضوں کا ذکر کیا ہے ؟ اگر سنی سنائی بات آپ نے لکھ دی ہے تو حدیث ہے کہ ”آدمی کے جھوٹا ہونے کیلئے اتنا کافی ہے کہ کوئی بات سُنے اور بغیر تحقیق کے کسی دوسرے سے بیان کر دے“ ۔
    یہ بھی بتا دیجئے کہ حکومت کا کام کون چلاتا ہے ؟ کراچی کے متعلق تو آپ جانتے ہوں گے کہ بجلی چوری کون لوگ کرتے ہیں ؟ ٹھیک ہے کچھ وزراء بھی ان میں شامل ہوں گے لیکن باقی ؟ تجاوزات کون کرتا ہے ؟ انہیں چوری اور تجاوزات کی اجازت دینے والے کون ہیں ؟ کیا یہ چوری اور تجاوزات کرنے والے محکموں کے نچلے ملازمین کو ماہانہ نہیں دیتے ؟
    میں آپ کے اس فقرے پر اپنی ہنسی نہ روک سکا ”بلاول ہاوس کے اطراف اور جاتی عمرے اور رائے ونڈ محل کے ارد گرد کی سینکڑوں میل کے راستوں پر قبضہ کر کے بیٹھی ہے“۔ ۔ میاں شریف کی اولاد کی رہائش گاہ جاتی عمرہ میں ہے ۔ یہ رائے ونڈ محل کس بلا کا نام ہے ؟ یہ بتائیے گا کہ یہ سینکڑوں میل کہاں سے شروع اور کہاں ختم ہوتے ہیں ۔
    حقیقت یہ ہے کہ آپ کی تقریباً ہر تحریر جذبات کی نذر ہو جاتی ہے ۔ سنی سنائی اور ذرائع ابلاغ کی پھیلائی باتوں کے زیرِ اثر لکھنے اور مشتعل ہونے کی بجائے اپنے ذاتی مشاہدے کی بنیاد پر لکھا کیجئے تو آپ کیلئے بہتر ہو گا ۔ میرا کام تو صرف رہنمائی کرنا ہے عمل کرنا ہر آدمی کی اپنی صوابدید ہے

    • fikrepakistan نے کہا:

      حضرت میں نے اگر کوئی ایک بات بھی ایسی لکھی ہے جو ہمارے معاشرے میں پریکٹس نہیں ہورہی تو آپ ضرور مجھے غلط کہہ سکتے ہیں، لیکن اگر میں سچ کا آئینہ دکھا رہا ہوں تو اس میں کیا خرابی ہے؟
      حضرت مجھے لگتا ہے آپ ابھی تک انیس سو ڈیڑھہ میں ہی جی رہے ہیں، یہ دو ہزار تیرہ ہے سرکار، یہاں ہر چیز میڈیا میں آجاتی ہے، ایک نہیں دسیوں پروگرام دیکھہ چکا ہوں میں نواز شریف اور شہباز شریف صاحب کے گھر کے اطراف میلوں کے علاقے کو کیسے ان لوگوں نے اپنے قبضے میں رکھا ہوا ہے، کبھی کراچی آئیے تو بلاوال ہاوس کے اطراف کے مناظر بھی دکھاوں آپکو، میں نے تو جاپان بھی نہیں دیکھا لیکن میرے جاپان نہ دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ جاپان اس دنیا میں نہیں ہے؟ یو ٹیوب پر جائیے اور آرام سے گھر بیٹھے پوری دنیا کی سیر کیجئیے، اور ہاں یو ٹیوب پر نواز شریف کے محل کے اطراف میں جو قبضے کئے گئے ہیں انکی بھی ویڈیوز وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن اسے دیکھنے کے لئیے غیرجانبدار آنکھہ چاہیے۔

  4. Iftikhar Ajmal Bhopal نے کہا:

    بہت خوب ۔ بہت خوب ۔ جناب ۔
    دورِ جدید کے جوانوں کا سب سے بڑا علمیہ یہی ہے کہ وہ ” ہم چناں ۔ دیگرے نیست“ پر کاربند رہتے ہیں ۔
    میں آپ کے ساتھ مقابلہ نہیں کرنا چاہتا کیونکہ میرا آپ کا مقابلہ بنتا ہی نہیں ۔ میرے کمپیوٹر ۔ انٹرنیٹ اور بلاگنگ کے شاگرد بھی عمر میں آپ سے بڑے ہوں گے
    آپ کو اختیار ہے اپنی سوچ اور عمل کا ۔
    وما علینا الالبلاغ المبین

  5. Mohammed S Chishti نے کہا:

    فکر پاکستان کی ت حریر بدی کی کتئیا اور اس کے بچے معاشرے کے ناسوروں کے لے ایک چبھتا ھوا نشتر هےاچھے لوگ بھی برائ کی اس کشتی میں سوار هیں انگریزی کامشهور مقوله اف یو کانٹ بیٹ دیم جوائن دیم کے مصداق اچھےلوگوں نےصداے ا حتجاج اگر بلند بھی کی تو طویلےکے شورمیں طوطی کی آواز ثابت ھوی میں فکرپاکستان کو داد دیتا ھوں که اٹھاراں کروڑ کی نمائندگی کی هے حکومتیں عوام کے ت حفظ وفلا ح وبهبود کی ذمه دار ھوتی هیں اور عوام پر اطاعت لازمی ھوتی هے مگریهاں تو آواے کا آواه هی بگڑا ھوا هےاوپر سے نیچے اور نیچے سے اوپر اب تو کوی معجزه ھی ھم میں تبدیلی لا سکتا ھے ھم اپنے آپ کو خود تبدیل کرنے سے رهے

    • fikrepakistan نے کہا:

      محمد ایس چشتی صاحب، تحریر کی پسندیدگی کا بہت بہت شکریہ، افسوس کا مقام یہ ہے کہ اس معاشرے کے پڑھے لکھے لوگ بھی قوم کو جھوٹ پر ہی پالنا چاہتے ہیں تو انپڑھہ لوگوں سے گلہ ہی کیا، شکر ہے کسی تک تو پہنچی میری بات۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s