کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے. آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔


مضاربہ کیس، پانچ سالہ بچی کے ساتھہ پانچ درندوں کی درندگی کا کیس، اگلے ہی دن دس سالہ بچی کے ساتھہ زیادتی کا کیس، طالبان سے سمجھوتے کا کیس، شام پر امریکی اور سعودیہ عرب کے مشترکہ حملے کا کیس، ایک طرف سمجھوتہ اور دوسری طرف فوجیوں کی لاشیں اٹھانے کا کیس، شاہ زیب کے قاتلوں کو معافی کا کیس، امن کمیٹی کے دہشتگردوں کو قطر اور دبئی فرار کروانے کے بعد کراچی میں آپریشن کا کیس، الیکشن مہیم میں شریف برادران کے فرمودات کہ صدر زرداری چور ہے ڈاکو ہے لٹیرا ہے، علی بابا چالیس چور، سڑکوں پر گھسیٹیں گے، جیل میں ڈالیں گے، لوٹی ہوئی ایک ایک پائی وصول کریں گے، اور پھر دمِ رخصت یوں لگا کہ جیسی مجنوں اپنی لیلیٰ کو رخصت کر رہا ہے، فرہاد اپنی شیریں سے بچھڑ رہا ہے رہا ہے، رانجھا اپنی ہیر سے جداہورہا ہے، فرمایا میری دعا ہے کہ نو منتخب صدر ممنون حسین بھی ملک کی ایسے ہی خدمت کریں جیسی خدمت پانچ سال تک زرداری صاحب نے کی ہے، زرداری صاحب کی رخصتی کے وقت نواز شریف صاحب کے صرف آنسو نکلنا ہی باقی رہ گئے تھے دل تو ایسے ہی رو رہا تھا انکا کہ مجھے تو گماں گزرا ابھی زرداری صاحب کو سینے سے لگا کر کہیں گے کیا جانا اتنا ہی ضروری ہےِ؟ آپ میری خاطر اور پوری قوم کی بربادی کی خاطر مزید پانچ سال نہیں رک سکتے؟۔

اب کچھہ درج بالہ کیسز پر بات ہوجائے، مضاربہ کیس، یہ ایک نیشن والا کی طرح کی فراڈ انویسٹمنٹ کمپنی تھی، جو کہ ایک لاکھہ کے عوض چار سے پندرہ ہزار روپے تک ماہانہ منافع کی مد میں انویسٹر کو دیا کرتی تھی، جامع بنوریہ کے جلیل القدر عالم دین محترم جناب حضرت مفتی نعیم صاحب نے اپنے تمام چاہتنے والوں اور پیروکاروں کے لئیے فتویٰ دیا کہ یہ کام سو فیصد جائز اور حلال ہے آپ سب لوگ بے خوف و بے جھجک ہو کر اس کمپنی میں اپنا مال و متاع انویسٹ کریں، انشاءاللہ بہت نفع ہوگا، آخری جملہ محترم نے تکیہ کلام کی حثیت سے کہا لوگوں نے سچ مان لیا، اور تمام دیوبندی حضرات نے لائن لگا کر مفتی صاحب کی دی گئی ضمانت کے بعد دل کھول کر اس کمپنی میں اپنا مال و متاع انویسٹ کیا یہاں تک کہ اپنے بچوں کا مستقبل تک انویسٹ کر دیا، نتیجہ وہ ہی نکلا جو ایسے کاموں کا نکلتا ہے، نتئجے کے لئیے میری یہ تحریر ضرور پڑھیں، https://fikrepakistan.wordpress.com/2013/04/12/%D8%A8%D9%86%D8%AF%D8%B1-%D8%A7%D9%88%D8%B1-%D8%A7%D9%86%D8%B3%D8%A7%D9%86-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%DB%8C%DB%81-%D9%81%D8%B1%D9%82-%DB%81%D9%88%D8%AA%D8%A7-%DB%81%DB%92-%DA%A9%DB%81-%D8%A8%D9%86%D8%AF/

نیشن والا کمپنی کا فراڈ تو محض پانچ چھہ ارب روپے تک کا ہی تھا اور اسکی وجہ یہ ہی سمجھہ آتی ہے کہ نیشن والا کے مالک نے اپنے اس فراڈ اور ناجائز کاروبار کو جائز قرار دلوانے کے لئیے کسی معروف عالم دین کی مٹھی گرم نہیں کی یا اسے شراکت دار نہیں بنایا، وہ بھی اگر کسی معروف عالم دین سے فتویٰ دلوا دیتا تو آج پانچ چھہ ارب کے بجائے دوسو ارب کا مالک ہوتا، جی ہاں دو سو ارب، مضاربہ کیس میں اب تک کی یہ ہی فیگر سامنے آئی ہے، اب اس میں کون کون لوگ شامل ہیں کون کون بنا کروڑ پتی بلکے ارب پتی، اور کس کس کے پتی کنگال ہوئے یہ تو کبھی سامنے نہیں آ پائے گا، ظاہر ہے جس معاملے میں اتنے بڑے بڑے جلیل القدر لوگ ملوث ہونگے جس فراڈ کاروبار کو جائز قرار دلوانے کے لئیے اتنے معروف اور معتبر لوگوں سے فتوے دلوائے گئے ہوں ایسا کیس کیسے کبھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکتا ہے؟۔ یہاں ایک حدیث کا مفہوم یاد آرہا ہے مجھے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک زمانہ ایسا آئے گا کہ علماء شہد کی طرح میٹھا بولیں گے، لیکن درحقیقت وہ دین سے دنیا کما رہے ہونگے۔

پانچ سالا بچی کے ریپ کیس پر کوئی کیا کہہ سکتا ہے؟ اسکی کس الفاظ میں مذمت کی جائے؟ میرے پاس تو وہ الفاظ ہی نہیں ہیں جن سے اس گھناونے فعل کی مذمت کر سکوں، بس اربابِ اختیار سے اتنا ہی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ریپ شاہ زیب کے قاتل سکندر جتوئی کے بیٹے شاہ رخ نے نہیں کیا ہے، اسلئیے کم از کم انہیں تو پکڑ کر سزا دلوا دیں، مجھے پورا یقین ہے کہ ان لوگوں کو بچانے کے لئیے کوئی سکندر جتوئی آکر آپ لوگوں کو مشکل میں نہیں ڈالے گا، قوی امید ہے کہ ہماری عدالتیں ان درندوں کو ضرور سزا دیں گی اور اس بار پاکستان کے با شعور و غیور عوام پیسے کے لین دین تک بات نہیں پہنچنے دیں گے۔

سعودی حکمراں فرماتے ہیں کہ ہم شام میں عوام کے جمہوری حق کے لئیے انکے ساتھہ کھڑے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے یہ ہی حکمراں مصر میں ایک فوجی آمر کے ساتھہ کھڑے ہیں اور عوام کو انکے جمہوری حق سے محروم کرنے کے لئیے فوجی حکومت کا بھر پور ساتھہ دے رہے ہیں، یوں تو یہ خبر پڑوسی ملک کے میڈیا نے بریک کر دی تھی لیکن پاکستان میں کسی کو بھی یہ سچ کہنے کی جرت نہ ہوسکی دو دن پہلے ڈاکڑ طاہر القادری صاحب نے کسی حد تک جرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشارہ کر دیا کہ ڈیرہ اسمائیل خان جیل سے فرار کروائے ڈھائی سو طالبان یعنیٰ کرائے کے قاتل، امریکہ اور سعودیہ ایماں پر شام روانہ کر دئیے گئے ہیں تاکہ وہاں کی حکومت کے خلاف لڑ سکیں، کیا بات ہے ان کرائے کے قاتل طالبانوں کی ایک طرف امریکہ سے لڑتے ہیں اور دوسری طرف اس سے ڈالر لے کر اپنے ہی مسلمان ملک شام کے خلاف لڑنے پہنچ جاتے ہیں، اب بات سمجھہ آئی کہ، کے پی کے کی حکومت، پاکستانی فوج، پاکستان گورنمنٹ، ایجنسیز وغیرہ سب کیوں خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہے جس وقت تقریباً ڈیڑھہ سو طالبان اسلحے سے لیس ہو کر ایک سو ستاون کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے آئے چار گھنٹے تک درندگی کا ننگا ناچ  ناچنے کے بعد ڈھائی سو دہشتگرد طالبانوں یعنیٰ  کرائے کے قاتلوں کو چھڑوا کر لے گئے اور یہ سب صاحبِ اختیار لوگ خاموش تماشائی بنے کیوں بیٹھے رہے۔

کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے

آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

One Response to کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے. آرام بڑی چیز ہے منہ ڈھک کے سوئیے۔

  1. Sarwat AJ نے کہا:

    کس کس کا غم کھائیے کس کس کو روئیے . . .

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s