مرض سے علاج تک


حضرت آئن اسٹائن رحمت اللہ علیہ نے فرمایا تھا، انسان کے شعور کی جو سطح مسائل کے پنپنے کا سبب بنتی ہے، شعور کی وہی سطح مسائل کے خاتمے کے لئیے نا کافی ہوتی ہے، کیوں کے شعور کی جس سطح پر رہتے ہوئے آپ نے جن مسائل کو جنم دیا ہے، ان مسائل سے جان چھڑانے کے لئیے آپ پر لازم ہے کہ اپنے شعور کو بڑھاوا دیں، اپنے شعور کو چار سے نہیں تو کم از کم دو یا تین سے ضرب دینا پڑے گا، اگر آپ شعور کی اس ہی سطح پر رہتے ہوئے مسائل کا مقابلہ کرنے کی سعی کرتے رہیں گے تو یہ عمل عادتوں کی ورزش سے زیادہ کچھہ نہ ہوگا، آپ ایک ہی جگہ کھڑے کھڑے پانچ گھنٹے بھی دوڑتے رہیں تب بھی آپ محض دو کلو میٹر دور اپنی منزل تک رسائی نہیں پا سکتے، حضرت آئن اسٹائن رحمت اللہ علیہ کا ہی فرمان ہے کہ ایک ہی کام کو ایک ہی طریقے سے بار بار کرنے کے بعد مختلف نتیجے کی توقع رکھنا بیوقوفی ہے

مسلہ یہ ہے کہ انسان اپنے کمتر شعور سے پیدا کردہ مسائل سے نبرد آزما کیسے ہوسکتا ہے، شعور کی سطح کو کیسے بڑھایا جائے؟ وہ کیا محرکات ہیں جن پر عمل کر کے انسان اپنے شعور کو اس سطح پر لے آئے جہاں وہ مسائل کے انبار جو کہ کوہِ ہمالیہ کا منظر پیش کر رہے ہوتے ہیں ان سے نمٹ سکے؟

لوگوں کی اکثریت کا ماننا ہے کہ مرض کا علاج مرض کی تشخیص کے بعد شروع ہوتا ہے، یہ بلکل غلط نظریہ ہے، تشخیص سے پہلے بھی ایک مرحلہ ہوتا ہے درحقیقت یہ ہی مرحلہ آپ کو تشخیص تک لے کر جاتا ہے، مرض کے علاج کا پہلا مرحلہ ہوتا ہے کہ انسان اس حقیقت کو مانے کے مجھے کوئی مرض ہوچکا ہے، وہ ذہنی طور پر اس مغالطے سے باہر آجائے کہ میں مکمل صحت مند ہوں مجھے کسی علاج کی ضرورت نہیں ہے، اسے ماننا ہوگا کہ میرے اندر کہیں کوئی نہ کوئی مسلہ ضرور پرورش پا رہا ہے، جب انسان اس حقیقت کا ادراک کرے گا تب ہی وہ تشخیص کے مرحلے میں داخل ہوگا اور پھر ہی تشخیص کے بعد علاج شروع ہو پائے گا۔

ہمارے معاشرے میں فرد سے لے کر ریاست تک کا مسلہ ہی یہ ہے کہ ہم بہ حیثیت فرد اور بہ حیثیت قوم یہ ماننے کے لئیے تیار ہی نہیں ہیں کہ ہمارا جسم گل سڑ چکا ہے، دوہزار پانچ کے زلزلے کے بعد جب میں امدادی کاموں میں حصہ لینے بالا کوٹ میں تھا تب ہم نے ایک عمارت سے ایک آدمی کی تقریباََ بیس پچیس دن پرانی لاش نکالی تھی، ہم اسے اٹھانے کے لئیے جس جگہ سے بھی ہاتھہ رکھتے ہمارا ہاتھہ اسکے گوشت میں پیوست ہوجاتا، وہ محض بیس پچیس دن پرانی لاش تھی تو یہ حالت ہوگئی تھی اسکی، ہمارے معاشرے کی لاش تو عشروں پرانی ہے یہ کتنی گل سڑ چکی ہوگی اسکا اندازہ کرنا صاحبِ نظر کے لئیے زیادہ دشوار نہیں ہے۔

تو اگر آپ کو اپنے موجودہ شعور کے پیدا کردہ مسائل سے جان خلاصی مقصود ہے تو پھر آپکو اپنی انا کو سمندر برد کر کہ اس حقیقت کو ماننا ہوگا کہ ہاں میں غلط تھا، انسان اپنی غلطی سے منہ چھپانے کے لئیے مختلف قسم کی حیلے بہانے تلاشتہ رہتا ہے، وہ یہ حقیقت ماننے کے لئیے تیار ہی نہیں ہوتا کہ میرا عمل غلط تھا میرا فیصلہ غلط تھا، اسکے برعکس وہ حالات واقعات یا اور دوسرے عوامل کو زمہ دار ٹھرانے کی کوشش میں لگا رہتا ہے، جسکا سب سے بڑا نقصان خود اسکی اپنی ذات کو ہی ہوتا ہے کیوں کے وہ اپنی غلطی سے سیکھنے سے محروم رہتا ہے، اور دوبارہ کبھی وقت پڑنے کی صورت میں پھر وہ ہی غلطی دوہراتا ہے جو پہلے بھی اسکی تباہی کا سبب بن چکی ہوتی ہے، بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ میں نے اپنی ماضی کی غلطیوں سے بہت کچھہ سیکھا ہے بہت سبق سیکھا ہے، لیکن پھر جب کبھی زندگی میں کوئی مسلہ کوئی واقع کوئی فیصلے کی گھڑی اسکا امتحان لینے آ پہنچتی ہے تب وہ بہت سوچتا ہے تدبر کرتا ہے تفکر کرتا ہے ہر ہر زاویئے سے ناپتا تولتا ہے لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تب وہ اپنی خواہش، اپنی لالچ، اور اپنی فطری جہالت کے تابع کھڑا ہی نظر آتا ہے، اسے لگتا ہے کہ قدرت ہر بار میرے ساتھہ برا نہیں کرے گی، درحقیقت وہ قدرت کے قانون سے نا واقف ہوتا ہے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ انسان پر مصیبتیں اسکی خواہشوں کی وجہ سے آتی ہیں، تو انسان وہ سارا تدبر سارا تفکر ماضی کی غلطیوں سے سیکھا ہوا سارا سبق، فیصلے کے وقت محض اپنی خواہش پر قربان کر دیتا ہے، کیوں کے عمل ماضی والا ہی ہوتا ہے تو پھر نتیجہ کیسے مختلف نکل سکتا ہے؟۔

ہر مسلے کا ایک حل ہوتا ہے لیکن کچھہ لوگوں کے پاس ہر حل کے لئیے ایک مسلہ ہوتا ہے، کوشش کریں ایسے لوگوں سے دور رہیں، حقیقت کی دنیا میں جینے کی کوشش کریں، بل گیٹس فکشن موویز نہیں دیکھتا نہ ہی فکشن پڑھتا ہے بقول بل گیٹس فکشن انسان کو حقیقت سے دور کر دیتا ہے، کوئی بھی بڑا فیصلہ کرتے وقت جن عوامل کو مدنظر رکھنے کی آپ فہرست بنائیں ان میں سب سے آخر میں کہیں اپنی خواہش کو رکھیں، اپنے فیصلے میں سب سے پہلے حقیقت پسندی کو جگہ دیں، دماغ کا کام دل سے مت لیں اور دل کا کام دماغ سے مت لیں، جب درزی کا کام داعی سے اور داعی کا کام درزی سے لیا جائے گا تو نتیجتاَ وہ ہی حال ہوگا جو حال اس وقت پاکستان کا ہے۔

اپنے فیصلوں کو لچکدار بنائیں، میں نہ جو کہنا تھا کہہ دیا بس بات ختم، یہ جہالت پر مبنی رویہ ہے اس سے جتنی جلد ممکن ہوسکے جان چھڑا لیں، زندگی میں کوئی بھی حرف حرفِ آخر نہیں ہوتا، انسان اپنے تئیں جتنے تیر چلا لے جتنے پہاڑ سر کرلے، مگر آخری فیصلہ قدرت کا ہی ہوتا ہے، انجام طے کرتا ہے کہ آپ نے زندگی میں کیا غلط کیا اور کیا صحیح کیا، تو اگر آپ چاہتے ہیں کہ انجام آپکے حق میں گواہی دے تو پھر اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے عمل کو تیز کیجئیے، عین فیصلے کے وقت اپنی خواہش کے تابع ہونے کے بجائے حقیقت پسندی کو مد نظر رکھئیے، اکثر لوگ غلط فیصلہ بھی پوری نیک نیتی سے کر رہے ہوتے ہیں، باقائدہ کہتے ہیں کہ میں نے تو پوری نیک نیتی سے کیا تھا اب نتیجہ غلط نکل آیا تو میں کیا کرسکتا ہوں؟ انسان پوری نیک نیتی کے ساتھہ بسمہ اللہ پڑھہ کر اگر زہر کا پیالہ پے لے اور کہے کہ میں نے تو نیک نیتی سے پیا تھا مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ میری موت کا سبب بن جائے گا، تو خدارا اللہ پاک کا امتحان لینا بند کر دیں، اللہ نے عقل استعمال کے لئیے ہی دی ہے، مائنس ٹمپریچر میں اگر آپ برف بیچنے نکلیں گے تو برف نہ بکنے کا قصوروار آپکی قسمت نہیں آپ کی عقل ہوگی۔

پوچھتے ہو کیا حالت میرے کاروبار کی

آئینے بیچتا ہوں میں اندھوں کے شہر میں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

7 Responses to مرض سے علاج تک

  1. Azeem Javed نے کہا:

    اپنے فیصلوں کو لچکدار بنائیں
    خوب کہا . . . یعنی پرفیکشنزم سے پرہیز، اور واقعی پرفیکشن کے چکر میں بہت ٹینشن ہے۔ اس عادت پہ قابو پانا مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں

  2. MSChishti نے کہا:

    جناب فکرے پاکستان آپکی نئ تحریر*مرض سےعلاج تک*کے آغاز نےہی مریض بنادیا کہ ایک ملحدکافرکو رحمت اللہ علیہ لکھ کراپنے فکرے پاکستان کا رخ غلط سمت کر دیاآپ جیسے صاحب علم وفضل کے قلم سےایسےالفاظ پڑھکر افسوس ھوا آپ کوان الفاظ پررجوع کرنا چاھئے

    • fikrepakistan نے کہا:

      ایم ایس چشتی صاحب، کون کافر ہے کس کا کیا ایمان ہے یہ فیصلہ کرنا اللہ پاک کا کام ہے میرا یا آپکا نہیں، اور رحمت اللہ علیہ کا مطلب محض دعائیہ الفاظ ہیں اور دعا آپ کسی کے لئیے بھی کر سکتے ہیں انبیاء اکرام نے تو ایسا ہی کیا ہے، تو میں نے تو محض دعا دی ہے کیوں کے انسان کی زندگی آسان بنانے میں بہت بڑا کردار ہے آئن اسٹائن کا، تو میں نے اگر انہیں دعا دے دی ہے تو میرا نہیں خیال کہ ایسا کچھہ غلط کام کردیا ہے، دعا آپ کسی کے لئیے بھی کر سکتے ہیں۔

  3. محب پاکستان نے کہا:

    "It is not (proper) for the Prophet and those who believe to ask Allaah’s Forgiveness for the Mushrikeen (polytheists, idolaters, pagans, disbelievers in the Oneness of Allaah) even though they be of kin, after it has become clear to them that they are the dwellers of the Fire (because they died in a state of disbelief),” (9:113)

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s