آدابِ اختلاف


آدابِ اختلاف کی اصطلاح ہمارے معاشرے میں امن کی طرح ناپید ہے، بہت ہی دکھہ کا مقام ہے کہ ہمارے معاشرے میں لفظ پروٹوکول صرف سیاستدانوں کی حفاظت تک ہی محدود ہو کر رہ گیا ہے، کسی کی رائے کا احترام، آدابِ اختلاف، رشتوں کا پروٹوکول، بڑے چھوٹے کا احترام، آدابِ نشت و برخاست، صبر، تحمل، برداشت، آدابِ تنقید، یہاں تک کے معاف کیجئیے گا سے لے کر شکریہ جیسے الفاظ تک یہ سب کبھی ہماری تہذیب کے اثاثے ہوا کرتے تھے جو اب ہمارے معاشرے سے ہمارے ملک کے زرِ مبادلہ کے زخائر کی طرح ہوا میں کہیں تحلیل ہوچکے ہیں، بننے کے کچھہ اصول ضابطے پیمانے ہوا کرتے ہیں لیکن بگاڑ ان سب پابندیوں سے آزاد ہوتا ہے، تعمیر صدیاں لیتی ہے لیکن تخریب کے لئیے چند مہینے چند سال کافی ہوتے ہیں، ایک پل تعمیر ہونے میں کم از کم چار سے چھہ مہینے لیتا ہے لیکن گرنے پر آجائے تو چھہ منٹ بھی نہیں لگتے۔

کہتے ہیں دو چیزوں کا طریقے سے استعمال نسلوں میں آتا ہے، ایک پیسے کا صحیح استعمال، دوسرا تعلیم، یہ دونوں چیزیں کم از کم تین سے چار نسلیں گزرنے کے بعد اپنا صحیح مقام حاصل کر پاتی ہیں، پیسے کا استعمال تعلیم سے علم سے مشروط ہوتا ہے لیکن علم کا استعمال پیسے سے مشروط نہیں ہوتا، سیانے کہتے ہیں کہ اگر آپ اولاد کے لئیے مال و دولت چھوڑ کر نہیں گئے تو یہ کوئی مسلے کی بات نہیں ہے ہاں اگر آپ اسے تعلیم کے زیور سے نا آشنہ رکھہ کر گئے ہیں تو اس سے بڑے مسلے کی کوئی اور بات نہیں ہوسکتی، فرض کرلیں کہ دو والدین ہیں، ایک نے اپنی اولاد کے لئیے بے تحاشہ دولت چھوڑی ہے لیکن تعلیم سے محروم رکھا ہے، اور دوسرے نے بلکل بھی دولت نہیں چھوڑی لیکن اسکی اعلیٰ تعلیم و تربیت میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تو بہ مشکل تین سے پانچ سال کے بعد یہ منظر بدل جائے گا۔

میرا ایک دوست جو کہ تعلیم کے معاملے میں جمشید دستی تھا، کا ایک فلوک لگ گیا، باپ کے زمانے کا ایک عدد پلاٹ تھا جو کہ تقریباَ بیس لاکھہ کا بکا، پلاٹ بیچ کر اس نے کراچی کے پوش ایریا میں ایک عدد پراپرٹی ڈیلر کا آفس کھول لیا، گاتے گاتے گویا بن ہی جاتا ہے نوکری کے دوران وہ پراپرٹی کے کام کا خاصہ تجربہ لے چکا تھا یوں پرویز مشرف کے دور میں جو پراپرٹی میں بوم آیا تو اسکا کام تو کچھہ خاص نہ چل سکا لیکن اس آفس کی قیمت بیس لاکھہ سے تقریباَ پچپن لاکھہ تک پہنچ گئی، اس بوم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے پچپن لاکھہ میں وہ آفس بیچ دیا، یعنیٰ اب وہ پچپن لاکھہ روپے کا مالک بن چکا تھا، لیکن وہ ہی بات کہ پیسہ تو آگیا تھا لیکن تعلیم نہیں تھی شعور نہیں تھا کہ کیسے پیسے کو برتنا ہے؟

اوچھے کے گھر تیتر

باہر باندھوں کے بھیتر؟

آج تقریباَ پانچ سال بعد صورتِ حال یہ ہے کہ سارا پیسہ مختلف تجربوں کی نظر ہوچکا ہے موصوف ایک بار پھر وہیں نوکری کر رہے ہیں جہاں اپنا آفس کرنے سے پہلے کیا کرتے تھے، اسکے برعکس میرے ایک اور جاننے والے ہیں انہوں نے اپنا سب کچھہ اپنے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر خرچ کیا، دن رات محنت کر کے اسے اعلیٰ تعلیم دلوائی، آئی کیپ سے سی اے کروایا، جس وقت انکا بیٹا سی اے کر کے فارغ ہوا تب وہ خالی ہاتھہ تھا، اور آج محض پانچ سال بعد وہ برطانیہ میں پاونڈز میں تنخواہ لے رہا ہے اللہ نے دنیا کی ہر نعمت اسکے قدموں میں رکھہ دی ہے، آج اگر کوئی حادثہ ہوجائے اور اسکا سب کچھہ اس سے چھین بھی لیا جائے تب بھی محض چند سالوں میں وہ یہ سب کچھہ دوبارہ بھی حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن میرا وہ دوست اب ساری زندگی کسی نئے فلوک کی راہ ہی دیکھتا رہے گا، وہ سر کے بل بھی کھڑا ہوجائے تو دوبارہ اتنی رقم نہیں کما سکتا، یہ ہے فرق ورثہ میں تعلیم یا دولت کے چھوڑ کے جانے کا۔

بات چلی تھی ہماری قدروں سے جو اب معاشرے میں کہیں دیکھنے میں نہیں آتیں، آج اگر آپ کسی کے ساتھہ کوئی بھلائی کریں تو وہ اسے اپنا حق سمجھہ لیتا ہے، ٹیکن فار گرانٹڈ، محاورا عام ہے کہ دوستی میں شکریہ یا سوری نہیں چلتا، بہت ہی غلط سوچ ہے یہ، ارے دوستی ہی میں تو چلتا ہے یہ، راہ چلتے سے کہے گا انسان پھر کیا؟ بھلائی بدلے میں بھلے بھلائی نہ مانگے لیکن حوصلہ افزائی ضرور مانگتی ہے، یہ حوصلہ افزائی ہی ہوتی ہے جو انسان کو مزید بھلائی کی تلقین کرتی ہے لیکن افسوس آج ہم کسی کی اپنے ساتھہ کی ہوئی بھلائی کو اپنا حق سمجھہ کر رکھہ لیتے ہیں اور بدلے میں لفظ شکریہ بھی ادا نہیں کرتے، کسی غلط بات پر معافی مانگنے کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے۔

اختلافِ رائے کے لئیے لازم ہے کہ آپکی کوئی رائے ہو، یہاں لوگوں کو رائے قائم کرنے تک کی تمیز نہیں رہی تو وہ کیا جانیں کہ اختلافِ رائے کس چڑیا کا نام ہوتا ہےِ؟ مہذب معاشروں میں لوگ ایک چائے کے کپ کے ساتھہ بیٹھتے ہیں اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں پھر اپنی اس رائے کے حق میں دلائل دیتے ہیں جسکے دلائل زیادہ مظبوط ہوتے ہیں سامنے والا سرِ تسلیم خم کر دیتا ہے، اور اگر دونوں کے درمیان اتفاق نہ بھی ہو پائے تو بھی ایک دوسرے سے نفرت نہیں کرتے بلکہ چائے پینے کے بعد ہاتھہ ملا کر گلے ملنے کے بعد ایک دوسرے کی رائے کا احترام کرتے ہوئے رخصت ہوجاتے ہیں، وہاں کوئی اختلافِ رائے کے نام پر کسی کی جان کے درپے نہیں ہوجاتا، کوئی عداوت کوئی نسلی دشمنیاں قائم نہیں ہوتیں، ہمارے ہاں اختلافِ رائے کا مطلب سامنےوالے کو انسان ہونے کے حق سے ہی محروم کردینا ہوتا ہے، ہمارے ہاں اختلافِ رائے کا مطلب ایمان سے خارج کردینا ہوتا ہے اور پھر اگر بہت زیادہ رحم دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکی جان بخش دی گئی ہے تو کم از کم اس پر تجدیدِ ایمان اور تنسیخِ نکاح کا فتویٰ تو لازمی لگا دیا جاتا ہے۔

بد قسمتی سے ہمارے ملک میں کوئی تعلیمی ادارہ ایسا نہیں کوئی مدرسہ ایسا نہیں یا حکومتی سطح پہ کوئی ایسا کردار سازی کا ادارہ نہیں جو لوگوں کو صبر کی، تحمل کی، برداشت کی تعلیم دیتا ہو، جسکا کام ہی کردار سازی کرنا ہو، جو لوگوں کو اختلافِ رائے کے آداب سکھائے، نشت و برخاست کے آداب سکھائے، حسنِ اخلاق کی دین میں کیا اہمیت ہے اسے اجاگر کرے، کہاں معافی مانگنی ہے کہاں شکریہ ادا کرنا ہے یہ سب طور طریقے سکھائے، لیکن یہ سب کرے گا کون؟ اپنے دائرہِ اختیار میں رہتے ہوئے تو یقیناَ یہ زمہ داری ہر شخص کی ہے لیکن بنیادی طور پر یہ کام سیاسی رہنماوں کے ہیں، مذہبی رہنماوں کے ہیں اساتذہ کے ہیں، لیکن جن سیاسی رہنماوں کو طالبان درندوں کا قلع قمع کرنا تھا وہ ان سے مذاکرات کر رہے ہیں، انہیں دفتر کھول کر دینے کی باتیں کر رہے ہیں، دفاتر میں لکھا ہوتا ہے وقفہ برائے نماز، اب تصور کیجئیے کہ کیسا منظر ہوگا جب طالبان کے دفتر میں لکھا ہوگا وقفہ برائے خودکش حملہ۔

جن مذہبی رہنماوں کو قوم کی یہ سب تربیت کرنی تھی اختلافِ رائے کو موت کا درجہ ہی ان لوگوں نے دیا ہے، انہیں تو خود اختلافِ رائے کا مطلب نہیں پتہ، جو ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہیں وہ کیا قوم کو اختلافِ رائے کے آداب سکھائیں گے؟

ایک وقت تھا کہ غیر مسلم غرناطہ میں مسلمانوں سے تعلیم تربیت و تہذیب سیکھنے کے لئیے آیا کرتے تھے، آج معاملہ الٹ ہوگیا ہے بہتر یہ ہی ہے کہ اب قومی سطح پہ یہ اعلان کر دیا جائے کہ پاکستان کے ہر بچے پر لازم ہوگا کے وہ زندگی کے یہ سارے ادب و آداب سیکھنے کے لئیے کسی مہذب غیر مسلم کی صحبت میں کم از کم دو تین سال لازمی گزارے، لیکن اسکے لئیے مناسب یہ ہی ہوگا کے پاکستانیوں کو انکے ملک بھیجنے کے بجائے گورنمنٹ ایسے کسی ملک کے شہریوں کو اپنے خرچے پر پاکستان بلوائے، کیوں کے اگر انہیں وہاں تربیت کے لئیے بھیجا گیا تو انکے اندر کا بہکایا ہوا مسلمان جاگ جائے گا اور یہ وہاں جا کر پھٹنا شروع کر دیں گے، بھارتی اداکار سلمان خان کی پہلی فلم، میں نے پیار کیا، کا ایک سین ہے جب سلمان خان لڑکی کی محبت میں اپنے والدین کو چھوڑنے پر تیار ہوجاتا ہے سلمان خان کا باپ کہتا ہے تم بہت ہی نازوں میں پلے ہو تم زمانے کی سختیاں نہیں جھیل پاو گے، تم کیا کرو گے تہمیں تو کوئی کام بھی نہیں آتا؟ سلمان خان کہتا ہے وقت سب کچھہ سکھا دیتا ہے، جواب میں سلمان خان کا باپ کہتا ہے، بیٹا تہمیں تو سیکھنا بھی نہیں آتا۔

ہوا جو عشق میں ناکام تو کیا کروں گا؟

مجھے تو کوئی اور کام بھی نہیں آتا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

4 Responses to آدابِ اختلاف

  1. "مہذب غیر مسلم "؟؟؟؟
    ایک سوال پوچھوں اگر آپ برا نا مانیں؟
    آپ نے آج تک کتنے مہذب غیر مسلموں کے ساتھ کام کیا ہے؟ دوستی رہی ہے؟ یا کسی بھی قسم کا تعلق رہا ہے؟

    • fikrepakistan نے کہا:

      اچھے برے لگو ہر قوم ہر مذہب میں ہوتے ہیں، فیصلہ تناسب کرتا ہے، مہذب دنیا کے عمل کے مقابلے میں پاکستانیوں کے اعمال ساری دنیا کے سامنے ہیں مجھے تو نہیں لگتا کے آج کے دور میں یہ رائے قائم کرنے کے لئیے ابن انشاء بننا ضروری ہے، ویسے آپکی اطلاع کے لئیے عرض ہے کہ جتنے بھی غیر مسلمز کے ساتھہ کام کیا انہیں خود سے اور اپنے دوسرے ساتھیوں سے بہت بہتر ہی پایا، میں نے جن لوگوں کی طرف اشارہ کیا ہے ظاہر ہے ان میں انڈین یا نپالی وغیرہ نہیں ہوسکتے، آپ بھی بہتر سمجھتے ہیں کہ میرا اشارہ کن غیر مسلمز کی طرف ہے۔ مجھے یہ پتہ ہے کے آج تک میری کمپنی لاکھوں کی تعداد میں ان لوگوں کو شپمنٹس بھیج چکی ہے لیکن آج تک ایک ڈالر کا بھی گھپلہ نہیں ہوا، اسکے برعکس ایران کی ایک کمپنی سے پہلا ہی سودا ہوا تھا کے وہ ہماری بھیجی ہوئی ایڈوانس پیمنٹ کھا گئے اور منظر سے غائب ہوگئے، لیکن بحرحال یہ کوئی پیمانہ نہیں ہے کیوں کے آپ نے میری بابت پوچھا تو عرض کر دیا، مجھے یہ کہنے میں کوئی آر نہیں ہے کہ یورپینز کے ساتھہ کام کرنے کا جو تجربہ رہا وہ مثالیہ ہے، پاکستانی تاجروں کی اکثریت کا کیا حال ہے وہ آپ بھی جانتے ہیں میں بھی جانتا ہوں دنیا جانتی ہے۔

  2. اچھی تحریر ہے۔
    بحرحال میں تو یہی کیوں گا کہ آپ کا طنز اپنی جگہ ٹھیک ہے۔
    اور جواد بھائی کی بات بھی ٹھیک ہے۔
    وجہ یہ ہے ، غیرمسلم واقعی مہذب ہیں ، لیکن اپنی معاشرت کے مطابق۔
    فرض کریں کسی مخلوط پارٹی میں میاں بیوی جو کہ مسلم ہوں شرکت کریں۔
    اگر مشروب مغرب کا دور نہ بھی چل رہا ہو تو کوئی بھی مرداسطرح بیوی کی تعریف کردے گا کہ
    جو ناقابل برداشت ہوگی۔ جیسے آپ سیکسی لگ رہی ہیں ، بہت ہاٹ دکھائی دے رہی ہیں وغیرہ
    صفائی پسند ہیں جی یہ لوگ لیکن طہارت کا تصور بالکل مختلف ہے۔
    مہذب ہیں جی یہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن انداز ان کا اپنا ہے۔
    یہ اس مہذب معاشرے میں چلتا ہے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں نہیں چل سکتا۔
    عزت عصمت عفت اخلاق بے شک ان غیر مسلموں کے بہت بہت اچھے ہیں۔
    لیکن ان کے پیمانے اور ہمارے پیمانے میں فرق ہے۔ ان کے جام میں ان کا "پانی ” ہی پیا جا سکتا ہے۔”دوسرے ” کا نہیں۔
    میں نے جب سے شعور کی آنکھ کھولی ہے ان کے ساتھ زندگی بسر کر رہا ہوں۔
    اور یقین مانئے مجھے یہ بہت پسند بھی ہیں۔ایک خاموش معاہدے کے تحت ان کے احسانات نہ ماننا میرے لئے احسان فراموشی ہے۔
    لیکن رات بستر پر لیٹتے وقت ایک بار ضرور کانپ جاتا ہوں، کہ آج ایک مسلمان کی حثیت سے میرا دن کیسا گذرا!
    میرے لئے "ان "جیسا ہونا ناممکن ہے ، اور میں” اپنے” جیسوں میں رہنے کی ہمت نہیں پاتا۔۔
    مجبوریاں ہوچھی جائیں تو ہزار بتا سکتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن بات آپ کی ماننی پڑتی ہے کہ مسلمانوں کا یا ہمارے پاکستان کا معاشرہ غیر مہذب ہے۔
    اور ایک کثیر وقت ان غیر مسلم مہذب لوگوں کے ساتھ رہ کر اپنے” مسلمان مہذب” لوگوں ساتھ گذارہ مشکل ہے جی۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      یاسر بھائی اسلام و علیکم، آپکو اپنے بلاگ پر اتنے عرصے بعد دیکھہ کر بہھت خوشی ہوئی، میرا ایک دوست تقریباٰ بارہ سال امریکہ میں گزارنے کے بعد کچھہ دن کے لئیے پاکستان آیا، وہ بہت تذبذب کا شکار تھا، میں نے پوچھا تو کہنے گا یار تم لوگ مجھے کچھہ بھی کہو، میں جانتا ہوں کہ میں بھی اس ہی مٹی سے اٹھہ کر وہاں گیا ہوں میری پاکستان سے فطری محبت اپنی جگہ لیکن یہ سچ ھے کہ اب میں پاکستان میں نہیں رہ سکتا، میرا دم گھٹتا ہے، تم لوگ سوچ بھی نہیں سکتے کہ تم لوگ کس جہنم میں رہ رہے ہو، کہنے لگا میں نے اپنی فیملی سے بھی کہہ دیا ہے کہ میں آخری بار آیا ہوں اب واپس نہیں آوں گا، اس وقت شائد مجھے برا لگا ہو لیکن آج سوچتا ہوں تو اسکی کیفیت سمجھہ میں آتی ہے کہ وہ بھی اپنی جگہ درست تھا، وہ جس معاشرے میں بارہ سال گزار آیا ہے اسکے بعد اسے یہ پست معاشرہ کیسے قبول ہوسکتا ہے۔

      باقی آپکی بات درست ہے کہ اخلاقیات کے اپنے اپنے پیمانے ہیں، مجھے یاد ہے کہ میں پچپن میں مغرب کی نماز کے بعد گھر سے باہر نہیں نکل سکتا تھا محلے کا کوئی بھی بڑا اگر دیکھہ لیتا تو مارتا ہوا گھر چھوڑ کے جاتا تھا اور گھر والے اسکی تحسین کرتے تھے، یہ ہمارا کلچر تھا جو کہ اب تباہ ہوچکا ہے، انکے معاشرے میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے شخصی آزادی کے نام پر انکے ہاں بہت کچھہ بیہودگی پھیلی ہوئی ہے جسکا احساس بحرحال انہیں آج نہیں تو کل ضرور ہوجائے گا، لیکن پھر بھی اگر موازنہ کیا جائے تو انکو سدھارنے کے لئیے بہھت کم معاملات درپیش ہیں، جبکہ ہمارا تو پورا کا پورا بدن ہی گل سڑ چکا ہے جہاں ہاتھہ رکھو وہیں سے گوشت میں پیوست ہوجاتا ہے، دور بہھت دور کوئی موازنہ ہی نہیں بنتا اب ہمارا اور انکا، یہ ہی سچ ہے کڑوا ہے مگر یہ ہی سچ ہے۔

      ہم انکی بے حیائی کا بہت زیادہ چرچہ کرتے ہیں، میڈیا اور نیٹ کے آنے سے پہلے تک تو ایسا نقشہ کھینچ کر بتایا جاتا تھا کہ جیسے آپ کسی بھی یورپین کنٹری کے ائرپورٹ پر اتریں کے تو باہر نکلتے ہی برہنہ لڑکیاں آپکا استقبال کریں گی اور اپنا سب کچھہ آپ پر نچھاور کرنے کے لئیے بچھ جائیں گی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ انکے ہاں بھی زور زبردستی کا کوئی کونسپٹ نہیں ہے، باہمی رضامندی کے ساتھہ جو چاہئیں کر لیں لیکن زنردستی کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا، جو کرئے گا اسے ہر حال میں سزا بھگتنا ہی ہوگی، ہم جس حیاء کو اپنا خاصہ کہتے تھے وہ اب یہاں بھی ناپید ہی ہوچکی ہے، محض ڈھکوسلے رہ گئے ہیں ابھی زرا سی آزادی مل جائے پھر دیکھیں ہم کیسے یورپین کو پیچھے بلکے بہھت پیچھے چھوڑتے ہیں، بچیوں کے ساتھہ جنسی زیادتی کی جو اب ہوا چلی ہے اسکا تصور بھی ان معاشروں میں نہیں کیا جاسکتا، یہ بھی اب ہمارے جیسے معاشروں کا ہی خاصہ بن گیا ہے، ہمیں ڈرنا چاہئییے اس وقت سے جب وہ اپنی ان کمزوریوں پر قابو پا لیں گے تب ہمارا کیا بنے گا؟ کیا ہم ہیں اس پوزیشن میں کہ ہم اس انحطاط پر قابو پا سکیں؟۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s