سرکار میں نے آپکا نمک کھایا ہے، اب گولی کھا۔


مشہورِ زمانہ فلم شعلے کا بہت ہی مشہور ڈائلاگ ہے، گبر سنگ کا چیلا کہتا ہے سرکار میں نے آپکا نمک کھایا ہے، جواب میں گبر سنگ کہتا ہے، اب گولی کھا۔

میرا ایسا ماننا ہے کہ تقلید ہو یا وفاداری اندھی نہیں ہونی چاہئیے، لوگوں یا اداروں سے تو کیا اللہ سے بھی وفاداری اندھی نہیں ہونی چاہئیے، اندھی وفاداری کا نتیجہ اندھیرا ہی نکلتا ہے، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک صحابی کچھہ کلمات پڑھہ رہے ہیں جنکا مفہوم کچھہ یہ نکلتا ہے  اے اللہ تجھہ پر سلامتی ہو، حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سمجھایا کہ اللہ تو مجسم سلامتی ہیں انہیں اس دعا کی حاجت نہیں ہے یہ اللہ کے شایانِ شان نہیں ہے، تمہیں اگر اللہ کی تعریف ہی مقصود ہے تو یہ التحیات پڑھہ لیا کرو، اس واقعہ کے بعد ہی التحیات نماز میں شامل کی گئی۔

تقلید یا وفاداری اندھی ہو تو پھر نتائج بے ادبی کی صورت میں نکلتے ہیں یا انسان حد سے تجاوز کر جاتا ہے جو کہ خود اپنی زات میں ایک نا پسندیدہ عمل ہے۔

افواجِ پاکستان کی تعداد تقریباَ سات لاکھہ کے لگ بھگ ہے، یہ اچھی خاصی تعداد ہے دنیا میں ایسے بھی ممالک ہیں جنکی آرمی کی تعداد محض چند ہزار ہے، بہت کم ممالک ایسے ہیں جنکی افواج کی تعداد پانچ لاکھہ سے تجاوز کرتی ہو، دورِ حاضر میں ایسا شائد ہی کہیں دیکھنے میں آیا ہو کہ کسی ملک کی فوج نے خود لڑنے کے بجائے اپنے عام شہریوں کو اسلحہ تھما کر میدانِ جنگ کا ایندھن بننے کے لئیے بھیج دیا ہو۔

فوج کا ادارہ بنایا ہی اسلئیے جاتا ہے کہ ملک کی سرحدیں اور ان سرحدوں میں رہنے والے  لوگ محفوظ  رہ سکیں، قومیں اپنا پیٹ کاٹ کر اسلئیے ہی افواج کو پالتی ہیں تاکے عوام سکون سے زندگی کے دیگر معاملات ادا کر سکیں، رات بے خبری کی نیند لیتے ہوئے لوگوں کو یہ سکون ہوتا ہے کہ انکی افواج جاگ رہی ہیں، اسلئیے ہی کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے فوجی اپنا آج اپنے ملک و قوم کے آنے والے کل پر قربان کردیتے ہیں۔

پاکستان کا معاملہ بلکل عجیب ہے، پاکستان پر جب بھی برا وقت پڑا جب بھی پاکستان حالتِ جنگ میں آیا ہماری افواج نے عام شہریوں کو بھی ساتھہ ملا لیا، نہ صرف ساتھہ ملایا بلکہ متعدد مواقعوں پر عام شہریوں کو ہی آگے کر دیا، مثال کے طور پر اگر اس تاویل کو مان بھی لیا جائے کہ روسی افواج کا افغانستان کے بعد اگلا ہدف پاکستان تھا تو روسی افواج کو روکنے کی زمہ داری کس کی تھی؟ جماعتِ اسلامی کی؟ مدرسوں کے طلبہ کی؟ دینی جماعتوں کی؟ ہرگز نہیں، خالصتاَ یہ زمہ داری ہماری افواج کی تھی انہیں دیکھنا تھا کہ کیسے اس آنے والے طوفان سے نمٹنا ہے، عام لوگوں کے افغانستان بھیجنے کے بجائے ہمارے فوجی سادہ لباس میں لڑنے کے لئیے جاسکتے تھے، اگر یہ جنگ پاکستانی سر زمین پر ہورہی ہوتی اور افواج پاکستان کی تعداد کم پڑ رہی ہوتی تب ریاست اپنے عوام سے مدد لینے کے لئیے اعلانِ عام کر سکتی تھی یہ جائز بھی ہوتا لیکن یہ جنگ پاکستان تک تو آئی ہی نہیں اور اس سے نمٹنے کے لئیے عام معصوم لوگوں کے جذبہ شہادت کا فائدہ اٹھایا گیا، یہ کچھہ ہم نے کشمیر میں کیا، اور اب یہ ہی سب ہم شام میں بھی کر رہے ہیں۔

جب ہماری افواج سعودیہ کی حفاظت کے لئیے جا سکتی ہیں، جب ہماری افواج سری لنکا تامل ٹائیگرز کو ختم کرنے جاسکتی ہیں تو پھر دیگر جگاہوں پہ عام لوگوں کو چارا کیوں بنایا گیا؟ عام آدمی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی جماعت سے اندھی وفاداری نبھا رہا ہوتا ہے یہ جماعتیں جذبہ شہادت کو بنیاد بنا کر بہ آسانی راضی بھی کر لیتے ہیں لوگوں کو، دوسری طرف ان جماعتوں کو سستی شہرت چاہئیے ہوتی ہے، اسپیس چاہئیے ہوتا ہے، مال و دولت تو انڈراسٹوڈ ہے کہ ملنا ہی ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو کام افواج کا تھا وہ عام شہریوں سے کیوں لیا جاتا ہے؟ ابھی تک بھی یہ سلسلہ تھما نہیں ہے جاری و ساری ہے، طالبان کا مقابلہ کرنے کے لئیے سوات وغیرہ میں عام لوگوں کے ہاتھوں میں اسلحہ دے کر لشکر بنا دئیے گئے ہیں کل کو یہ لشکر بھی سرکشی پر اتر آئے تو دہشتگرد کہلائیں گے۔

جماعتِ اسلامی و دیگر نام نہاد جہادی جماعتیں کیوں اور کس بنیاد پر آج تک افواج پاکستان کے ساتھہ کھڑی رہیں؟ فوج کا تو کام ہی یہ ہی ہے اسے پوری قوم اپنا پیٹ کاٹ کر اسلئیے ہی پالتی ہے کہ کڑے وقت میں فوج انکی حفاظت کرے گی، اور جب کڑا وقت پڑے تو افواج ان ہی عوام کو لڑنے کے لئیے آگے کر دیں تو کیا مطلب نکلتا ہے اسکا؟ پھر ایک عام آدمی یہ سوال کرنے میں حق بہ جانب ہے کہ ہم کیوں پال رہے ہیں اس سات لاکھہ فوج کو؟ پھر اسرئیل کی طرح ہر شہری پر آرمی ٹریننگ لازمی قرار دی جائے اور ہر آدمی کو ہی فوجی کا رتبہ و مراعات عطاء کی جائیں، یہ کیا بات ہوئی کہ مراعات اور پروٹوکول تو افواج پاکستان لیں اور جب قربانی دینے کی باری آئے تو افواج کے ساتھہ ساتھہ عام آدمی کو آگے کر دیا جائے آج کی دنیا میں ایسا کہیں ہوتا نظر آتا ہے؟.

 بنیاد کا پہلا پتھر اگر ٹیڑھا رکھا جائے تو عمارت کیسے سیدھی تعمیر ہوسکتی ہے؟ عمارت ٹیڑھی ہی تعمیر ہوگی، منظر بدل رہا ہے، کل کے دوست آج دشمن بنتے نظر آرہے ہیں، کیوں کے وہ دراصل دوستی تھی ہی نہیں وہ ایک دوسرے سے جڑے مفادات تھے مفاد نہیں رہا تو دوستی بھی نہیں رہی، کل کے نمک خوار آج گولی خوار ہوگئے ہیں تو یہ تو ہونا ہی تھا بنیاد کا پہلا پتھر ہی غلط رکھا گیا تھا تو عمارت کیسے سیدھی رہ سکتی تھی، اب کسی کو کتا بھی شہید لگ رہا ہے اور کسی کو افواج پاکستان کا سپاہی بھی کتے کی موت مرتا دکھائی دے رہا ہے، کل تک شہادت کا رتبہ جن کے گھر کی لونڈی تھا مل بانٹ کر آپس میں تقسیم کیا جاتا تھا آج وہ ہی لوگ آپس میں دست و گریباں ہو رہے ہیں، سچ بات تو یہ ہے کہ جسکا کام اس ہی کو ساجے، درزی سے داعی کا کام لیا جائے گا تو نتیجہ کچھہ اسطرح کا ہی نکلے گا جیسا کہ آج کل پاکستان میں نکل رہا ہے کل تک امریکہ دوست تھا اتحادی تھا اہل کتاب تھا، آج امریکہ کی دوستی نہ رہی ڈالر نہ رہے، تو اہل کتاب سے کافر ہوگیا امریکہ۔

فیض صاحب نے بھی کیا خوب کہا تھا، مجھہ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ۔

مشہورِ زمانہ فلم شعلے کا بہت ہی مشہور ڈائلاگ ہے، گبر سنگ کا چیلا کہتا ہے سرکار میں نے آپکا نمک کھایا ہے، جواب میں گبر سنگ کہتا ہے، اب گولی کھا۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

3 Responses to سرکار میں نے آپکا نمک کھایا ہے، اب گولی کھا۔

  1. اگر مذہبی سیاسی و دینی جماعتوں کو رام گڑھ مان لیا جائے تو آپ کو بجا طور پر گبر سنگھ کہا جاسکتا ہے۔

  2. Abbas نے کہا:

    whole article based lies and false propaganda. don’t you think everyone is like you Jamaat e Islami’s God is not money and its not sell out.JI has always supported Jihad against occupation of Muslim countries no matter weather its against occupation of US or USSR in Afghanistan.India in occupied Kashmir or against Zionist jews in Palestine.Wikileaks has exposed all those who take dollars and JI is not one of them.from senator to Minister from Mayor to councilor there are no corruption charges on any JI member. those who take dollars live in big palaces and have properties worth billions. JI Amir Munawar Hasan lives in 2 room flat in Mansoora Lahore and only has 1 marla house in Karachi.people who sell themselves for dollars don’t have such financial status and live style…

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s