مشورہ


مجھے آپ سے ایک مشورہ مطلوب ہے یہ کہہ کر وہ میرے سامنے بیٹھہ گیا، دوست تو نہیں کہہ سکتا لیکن میری اس سے خاصی اچھی اور دیرینہ جان پہچان ضرور تھی، جو کہنا ہے کھل کر کہو مشورہ امانت ہوتی ہے مجھہ سے جو بہتر سے بہتر مشورہ ہوسکا وہ ہی تمہیں دونگا میں نے اسے یقین دلاتے ہوئے کہا۔

میری ایک بہن ہے اوسط شکل و صورت کی ہے پیسے کے لحاظ سے بھی میری حیثیت کچھہ اتنی خاص نہیں ہے کہ کوئی اچھے جہیز کی لالچ میں ہی رشتہ کرنے آجائے، عمر بھی نکلی جارہی ہے اسکی، بہت مشکلوں سے اللہ نے ایک رشتہ بھیجا ہے لیکن معاملا کچھہ ایسا ہے کہ لڑکے کے کردار سے میں مطمعین نہیں ہوں، دو تین بار میں نے اسے شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے، آپکو معلوم ہے کہ ہمارا گھرانہ خاصہ مذہبی ہے میری بہن صوم صلوات کی پابند ہے، پھر دین کا حکم بھی ہے کہ رشتہ کرتے وقت کردار اور مذہبی رجہان کا جائزہ لازمی لیا جائے، لڑکا برسرِ روزگار ہے اچھا کھاتا کماتا ہے باقی سب معاملات میں ٹھیک ہے، کسی اور سے سنا ہوتا تو الگ بات ہوتی شک کا فائدہ دے دیتا لیکن اسکو کیا کروں کے میں نے اپنی آنکھوں سے اسے شراب نوشی کرتے دیکھا ہے ایسے میں سمجھہ نہیں آرہا کہ کیا کروں؟

ہاں کرتا ہوں تو ڈرتا ہوں کہ کہیں بہن کی زندگی برباد نہ ہوجائے نہ کرتا ہوں تو یہ خوف کے پھر کوئی رشتہ آئے یا نہ آئے، گھر کے باقی افراد تو رشتے سے مطمعین ہیں سب خوش ہیں لیکن بڑا بھائی ہونے کے ناطے فیصلے کا اختیار میرے پاس ہے، شراب پینے والی بات گھر میں صرف مجھے ہی معلوم ہے میں بہت زیادہ الجھن کا شکار ہوں میں نے سنا تھا کہ آپ بھی اس لڑکے کو اچھی طرح جانتے ہیں اسلئیے آپ سے مشورہ کرنے چلا آیا یہ کہہ کر وہ خاموش ہوگیا۔

میں نے اسے اطمعنان دلاتے ہوئے کہا یہ بات درست ہے کہ میں اس لڑکے کو بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں نہ صرف اسے بلکے اسکے گھر کے باقی افراد سے بھی بہت اچھی طرح واقفیت ہے میری، میں اس لڑکے کے ماضی سے بھی واقف ہوں کہ کن حالات سے وہ گزرنے کے بعد آج اس مقام پہ پہنچا ہے، بہن تمہاری ہے تو آخری فیصلہ بحرحال تمہیں ہی لینا ہے تم نے مجھہ سے مشورہ طلب کیا ہے تو میں تمہیں اس معاملے میں وہ ہی مشورہ دونگا جو میں اپنی سگی بہن کے لئیے سوچتا یا کرتا۔

تم نے اسے محض دو یا تین بار شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے جبکہ میں یہ بات بہت اچھی طرح جانتا ہوں کے وہ ہر ویک اینڈ پر لازمی شراب پیتا ہے یعنی ایک مہینے میں کم از کم چار بار شراب نوشی کرتا ہے، اگر ایک عامیانہ نظر سے دیکھا جائے تو ظاہر ہے کوئی بھی انسان یہ جاننے کے بعد اپنی بہن بیٹی کا رشتہ ایسے انسان سے نہیں کرنا چاہے گا لیکن عامیانہ نظروں سے دیکھنے کے نتائج بھی عامیانہ ہی نکلتے ہیں، تمہیں کیا لگتا ہے جتنے بھی شادی شدہ لوگ ہوتے ہیں چاہے لڑکا ہو یا لڑکی وہ سب کے سب شادی سے پہلے ولی اللہ ہوتے ہیں؟ لیکن آنکھوں دیکھی مکھی تو کوئی بھی نہیں نگلتا نہ اس نے خاموشی توڑتے ہوئے کہا، میں نے کہا ٹھیک ہے آنکھوں دیکھی مکھی نگلنا آسان کام نہیں ہے لیکن دیکھنا پڑتا ہے کہ مکھی زخم پہ بیٹھنے والی ہے یا شہد کی مکھی ہے جو اگر کاٹتی ہے تو ساتھہ ساتھہ شہد بھی دیتی ہے۔

تمہاری  دو اور بہنوں کی شادی ہوچکی ہے جنکے شوہر بہت اچھے ہیں تمہاری بہنیں اور تمہاری پوری فیملی ان سے بہت مطمعین بھی ہیں، ان سے  تمہارے بھانجے بھانجیاں بھی ہیں جو آج تمہاری بہن کے اور  تمہارے گھر کی رونق ہیں، ایسا ہی ہےِ؟ میں نے اس سے سوالیہ انداز میں پوچھا جواب میں اس نے اثبات میں سر ہلایا، یقیناَ تم نے اپنی بہنوں کی شادی کرتے وقت ہر طرح سے چھان پھٹک بھی کی ہوگی انکے کردار سے اچھی طرح مطمعین ہونے کے بعد ہی تم نے اپنی بہنوں کی شادی ان سے کی ہوگی، تم کیا سمجھتے ہو اگرتمہاری  اس چھان پھٹک کے دوران انکے کردار میں کوئی قابلِ اعتراض بات سامنے نہیں آئی تو کیا واقعی وہ لوگ کردار کے غازی تھے؟ کیا انہوں نے شادی سے پہلے کوئی گناہ نہیں کیا ہوگا؟ ہوسکتا ہے شادی سے پہلے انکے کئی افئیرز رہے ہوں، یہ بھی ممکن ہے انہوں نے بھی کبھی نہ کبھی شراب، چرس یا اسطرح کا کوئی نشہ بھی کیا ہو، یا اور کسی غلط قسم کی سرگرمیوں میں مبتلا رہے ہوں، لیکن آج شادی ہوجانے کے بعد بچے ہوجانے کے بعد وہ اپنے ماضی سے نکل آئے ہونگے آج انہیں اپنے کئے پر شرمندگی ہوتی ہوگی، تم انکے ماضی کو نہیں جانتے مگر وہ خود تو اپنے ماضی سے واقف ہیں، اینڈ رزلٹ کیا نکلا وہ دیکھو، وقت نے حالات نے بیوی بچوں کے ساتھہ نے انہیں بدل دیا بھلے آج کوئی انکے ماضی سے واقف نہیں مگر انہیں کہیں نہ کہیں اپنے کئے پر پشیمانی ضرور ہوتی ہوگی۔

تم نے جس اسلامی اقدار کی بات کی ہے اپنے ایمان سے بتاو کیا ہمارے معاشرے میں وہ سب حدود لاگو ہوتی ہیں؟ تم نے اسے شراب پیتے ہوئے دیکھا تمہیں اسکی یہ برائی نا قابلِ معافی لگی، اس معاشرے میں نوئے پرسنٹ لوگ حرام کما رہے ہیں کرپشن انڈسٹری بن چکی ہیں ہمارے معاشرے میں لیکن اسے کوئی نا قابلِ معافی گناہ سمجھہ کر رشتوں سے انکار کیوں نہیں کرتا؟ ہر کاروبار کرنے والا کہیں نہ کہیں بے ایمانی کر رہا ہے ملاوٹ کر رہا ہے یا غیر معیاری چیز دھوکہ سے بیچ رہا ہے اسے کوئی نا قابلِ معافی جرم سمجھہ کر رشتے سے انکار کیوں نہیں کرتا؟ ہر ماں باپ کی خواہش ہے کہ ہمارا داماد پیسے والا ہو گھر گاڑی بینک بیلنس زندگی کی ہر آسائش ہو اسکے پاس، لیکن کبھی کسی نے رشتہ کرتے وقت یہ دیکھنے کی جرت کی ہے کہ اس نے یہ پیسہ کہاں سے اور کیسے کمایا ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ سرکاری ملازم ہے زیادہ سے زیادہ بیس پچس ہزار تنخواہ ہوگی ایسی معمولی سے تنخواہ سے کوئی کیسے اتنا کچھہ بنا سکتا ہے لیکن وہاں کیوں چشم پوشی کر لیتے ہیں ہم لوگ؟ وہاں دینی اقدر اور دین کے احکامات یاد کیوں نہیں آتے ہمیں؟۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کامیابی اور ناکامی کے معیارات ہی بہت پست اور گھٹیا ہیں، ہم میاں منشاء سے کم کے لیول کے انسان کو تو کامیاب ماننے کے لئیے تیار ہی نہیں ہیں، ہمارے ہاں کامیابی کا معیار صرف پیسہ ہے، یہ شرافت، دیانت، لیاقت، قابلیت، ہونے کے باوجود بھی اگر کوئی وقتی طور پر یا بہ ظاہر ناکام ہے تو ہم اسے عزت دینے کے لئیے تیار ہی نہیں ہوتے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں امیروں کی اولادیں بانجھہ ہوتی ہیں، کوئی ایک نام ایسا بتاو مجھے جو کسی امیر کی اولاد ہو اور اس نے پاکستان کے لئیے کوئی بڑا کارنامہ انجام دیا ہو، یہ ہمارے معاشرے کے نام نہاد کامیاب لوگوں کی اولادیں ہیں، جبکہ میں تمہیں  ایسے سینکڑوں نام گنوا سکتا ہوں جو ہمارے معاشرے کے پیمانے کے حساب سے ناکام لوگ تھے لیکن صرف انکی ہی اولادوں نے کچھہ ڈلیور کیا وطن کا نام بلند کیا۔

ڈاکٹر قدیر، ڈاکٹر ثمر مبارک، ایدھی صاحب، مرحوم بچی عارفہ، ملالا، میجر عزیز بھٹی سے لے کر راشد منہاس تک،   معین علی نوازش، اور سینکڑوں نام ہیں جنکا تعلق غریب گھرانوں سے تھا، لیکن ہم نے انکے کارناموں سے پہلے انکے والدین کو کبھی بھی کامیاب نہیں مانا۔ ااس تمہید کا مقصد تمہیں یہ سمجھانا تھا کے ہمارے ہاں انسان کو پرکھنے کے معیارات ہی درست نہیں ہیں، کسی بھی انسان کی شخصیت کے ایک پہلو کو دیکھہ کر اسکے پوری شخصیت کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا، ہمیں زاویہ نظر بدلنے کی ضرورت ہے اپنے معیارات بدلنے کی ضروت ہے، اگر کسی انسان نے مکمل طور پر ہی اپنی فطرت اپنے شخصیت مسخ کرلی ہے وہ انسانیت کے ہر معیار سے گر چکا ہے تو ایسے شخص سے رشتہ نہ کرنا سمجھہ آتا ہے۔

تم جس شخص کی بات کر رہے ہو آج وہ یقیناَ  ہفتے میں ایک بار شراب پینے کی برائی میں ملوث ہے لیکن وہ اس حد تک ملوث نہیں ہے کہ اس نے شراب کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا ہوا ہو، ایسا نہیں ہے کہ وہ صرف شراب پینے کے لئیے ہی زندہ ہے، وہ زندگی کے باقی شعبوں میں اچھا خاصہ کامیاب انسان ہے، اپنے کام سے مخلص ہے دن رات محنت بھی کرتا ہے، اپنے رشتوں سے مخلص ہے اپنے گھر کی تمام زمہ داریاں اٹھائے ہوئے ہے، احساسِ زمہ داری بھی ہے اسے اسکے اندر انسانیت بھی ہے یہ وہ ہی شخص ہے جسے دوہزار پانچ کے زلزلے میں، میں نے بالا کوٹ میں دن رات لوگوں کی خدمت کرتے دیکھا ہے، اسکے اندر اچھائی کی رمق موجود ہے اگر اسے ایک موقع دیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کے وہ اس برائی سے نکل آئے گا، وقت بڑے بڑوں کو سدھار دیتا ہے جب اپنی اولاد سامنے آتی ہے تو میں نے اچھے اچھوں کو بدلتے دیکھا ہے، میرا خیال ہےتمہیں اسے ایک موقع دینا چاہئیے، اگر ہر لڑکی کا بھائی یہ سوچ کر اسکا رشتہ مسترد کر دے گا کہ یہ تو شراب پیتا ہے تو جہاں وہ آج ہفتے میں ایک بار شراب پیتا ہے مسترد ہونے کا احساس اسے ہر روز شراب پینے پر مجبور کر دے گا، پھر وہ فطری تقاضے پورے کرنے کے لئیے ہر غلط راستہ اختیار کرے گااور پھر ہوتے ہوتے وہ اس مقام تک پہنچ جائے گا جہاں اسکے اندر اچھائی کی کوئی رمق باقی نہیں رہے گی، پھر ہم ہی لوگ ہونگے جو اسے انسانیت کے ہر درجے سے گرا ہوا قرار دے رہے ہونگے۔

اب آجاو اسلامی تقاضوں کی طرف، رشتہ کرتے وقت تم نے جو جو اسلامی تقاضے گنوائے ہیں وہ بلکل درست ہیں میں اتقاضوں سےمکمل اتفاق کرتا ہوں، لیکن لیکن لیکن یہ سب تقاضے ہمارے جیسے معاشروں پر لاگو نہیں ہوتے، وہ ماحول ہی الگ ہوتا ہے، وہ ریاست ہی الگ ہوتی ہے، اسلام کا پورا ایک پیکج ہے وہ  پیکج سو فیصد نہیں تو کم اس کم ستر فیصد تو نظر آتا ہو معاشرے میں، تب کوئی ان تقاضوں کی بات کرے تو سمجھہ آتی ہے،  ایسا ہرگز نہیں ہے کہ اسلام انسان کو ہاتھہ پاوں باندھہ کر کسی ہم جنس پرست کے سامنے ڈال دیتاہے، اسلام نے اگر حدود و قیود رکھی ہیں تو ساتھہ ہی سہولیات کا ایک مکمل پیکج بھی دیا ہے یہ حدود و قیود اور سہولیات مل کر ہی ایک جامع پیکج بنتا ہے، جس معاشرے میں ان دونوں میں سے ایک چیز بھی کم ہوگی وہ معاشرہ کبھی بھی اسلامی معاشرہ کہلا ہی نہیں سکتا، اگر معاشرہ میں سہولیات اسلامی نہیں ہیں تو پھر حدود و قیود اسلامی کیسے ہوسکتی ہیں؟ لیکن ہمارے جیسے معاشرے میں جہاں بھوک سے مائیں اپنے بچے مار رہی ہوں، شریف گھر کی لڑکیاں گھرانے کو پالنے کے لئیے اپنی عزت فروش کرنے پر مجبور ہوں، جہاں رشوت دئیے بغیر حج و عمرے پر جانا ممکن نہ ہو، جہاں ریاست کا سربراہ کھلے عام سود پر قرض دے کر لوگوں کو خوشحالی کے جھوٹے خواب دکھا رہا ہو، جہاں دین سے دنیا کمائی جا رہی ہو، جہاں چار پانچ سال کی بچیوں کے ساتھہ زیادتی کرنا عام سی بات ہو، جہاں قانون صرف غریبوں پہ لاگو ہوتا ہو،    جہاں عدالتوں میں انصاف کسی فحاشہ کی طرح بکتا ہو، جہاں جھوٹ،دھوکہ، فریب، ملاوٹ، لوٹ مار کا بازار سرگرم ہو، کوئی ایک اسلامی اقدار بتاو جس پر پاکستان میں عمل ہو رہا ہو؟ ایسے معاشرے کے لئیے اسلام نے یہ سب تقاضے نہیں رکھے ہیں وہ معاشرے الگ ہی ہوتے ہیں اب یہ ایک الگ بحث ہے کہ کسے کیا کرنا تھا ہر کس نے کیا نہیں کیا، موجودہ صورتِ حال جو ہے وہ ہی حقیقت ہے بہت کڑوی ہے مگر یہ ہی ہے ہماری حقیقت، اگر ان سب برائیوں کے ہوتے ہوئے کوئی اسلامی تقاضے پورے کرنے بیٹھہ گیا تو پھر پاکستان میں نوے فیصد لوگوں کی شادی ممکن ہی نہیں ہے، ہم دوسروں کو پرکھنے کے معاملے میں ولی اللہ سے کم پر اکتفا کرنے کے لئیے تیار نہیں ہوتے اور خود اپنے گریبان میں جھانکنے کی ہمیں توفیق نہیں ہوتی، تمہاری جگہ اگر میں ہوتا تو اس میں سدھرنے کی رمق دیکھنے کے بعد اس رشتے کے لئیے ہاں کہہ دیتا، لیکن تم لڑکی کے بھائی ہو فیصلہ کرنے کا حق بھی تمہارا ہی بتنا ہے، اسلئیے آخری فیصلہ بحرحال تمہیں ہی کرنا ہے۔

بیاباں کو ہی گھر کرلیا ہے

تم نے خود کو کھنڈر کرلیا ہے

مشورہ مانگ کر کیا کرو گے

فیصلہ ہی اگر کرلیا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

4 Responses to مشورہ

  1. آپکو مبارک ہو۔۔۔۔۔ آج آپ نے عقل و دانش کی معراج کو چھو لیا ہے۔

  2. ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے مشورہ ٹھیک دیا یا غلط۔ دیکھیں سب ایک طرح کے لوگ نہیں ہوتے۔ کچھ شرابی مہا شرابی بن جاتے ہیں۔ ہمارے ایک شرابی عزیز کی اسی طرح شادی ہوئی مگر وہ ٹھیک ہونے کی بجائے گھر بار اور بزنس سب کچھ شراب کی نظر کر کے اب کسمپرسی کی حالت میں اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہے ہیں۔ ہاں یہ مشورہ ضرور دیا جا سکتا ہے کہ اس لڑکے سے پہلے شراب پینے کی وجہ معلوم کی جائے پھر اسے شراب چھوڑنے کا کہا جائے۔ اگر وہ شراب چھوڑنے پر راضی ہو جائے تو ٹھیک وگرنہ سچ ہے کہ دیکھ کر کوئی زہر نہیں پئے گا۔
    شراب کی برائی کا موازنہ دوسری برائیوں سے ٹھیک ہے مگر شراب کو اس لیے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا کہ دوسری برائیاں بھی معاشرے میں موجود ہیں۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ سب لوگ ملک کو لوٹ رہے ہیں تو ہم بھی کیوں پیچھے رہیں۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      میرا پاکستان بھائی آپ نے شاید تحریر کو غور سے نہیں پڑھا میں نے عرض کیا ہے کہ یہ دیکھنا پڑے گا کے اسکے اندر اچھائی کی رمق باقی ہے یا نہیں؟ اگر تو اس نے شراب کو یا کسی اور برائی کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا ہے تو پھر ایسے شخص کو مسترد کرنا سمجھہ میں آتا ہے، اور میں نے تحریر میں شراب یا کسی اور برائی کے جائز ہونے کی بات ہرگز نہیں کی ہے میں نے تو ان عوامل کی نشاندہی کی ہے جنکی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کسی نہ کسی برائی کو اپنانے کے لئیے مجبور ہے، نفرت برے انسان سے نہیں اسکی برائی سے کرنی چاہئیے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s