بل کلنٹن مسجد اور امام بارگاہِ سرکوزی


شاپ کا نام، ماشاءاللہ برگر، یعنی اللہ کی شان، ٹماٹو کیچپ وہ استعمال کیا جاتا ہے جس میں سرئے سے ٹماٹر ہی شامل نہیں ہوتا، گندی سڑی ہوئی سبزیاں اور انکے چھلکوں میں اراروٹ، کلر اور فلیور ملا کر بنائی گئی غلیظ ترین چیز کا نام کیچپ رکھہ کر ماشاءاللہ برگر میں استعمال کیا جاتا ہے، قیمے کے کباب کے نام پر اوجڑی کھلائی جاتی ہے اور یہ ہی حال جعلی مائیونیز کا بھی ہوتا ہے، جس بیکری میں وہ بن یا برگر بنایا جاتا ہے وہاں بھی چوہے لوٹ رہے ہوتے ہیں، تو یہ ہے اللہ کی شان۔

نام بسمہ اللہ ملک شاپ، وہاں بسمہ اللہ ہی دودھہ جیسی نعمت میں پانی ملا کر کی جاتی ہے، پوری مارکیٹ کا نام ہی اللہ والا مارکیٹ رکھہ دیا، وہاں پاکستانی کپڑے پر جاپانی مہر لگا کر بیچا جاتا ہے، بینک کا نام، مسلم کمرشل بینک، سارا کام ہی سود پر ہورہا ہوتا ہے، کسی نے میزان تو کسی نے لفظ اسلامی جوڑا ہوا ہے بینک کے ساتھہ۔

شاید ہی کوئی دکان کوئی ادارہ کوئی فیکٹری کوئی کارخانہ ایسا ہو جس میں ہم نے قرآنی آیات نہ لکھی ہوئی ہوں احادیث نہ لکھی ہوئی ہوں یا اللہ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نہ استعمال کیا ہوا ہو، کہیں نورانی کباب ہیں تو کہیں محمدی بریانی تو کہیں غلیظ پانی آبِ کوثر کے نام سے بیچا جارہا ہے، کہیں مدنی بیکری ہے جہاں آٹا پیروں سے گوندھا جاتا ہے کہیں مکہ ریسٹورینٹ ہے جہاں جعلی اور غلیظ گھی میں نورانی پکوان تیار کر کے عوام الناس کو کھلائے جارہے ہوتے ہیں۔

ان تجارتی لوگوں سے گلہ ہی کیا جب اس ملک میں ستر فیصد مساجد چوری کی زمیں پر قبضہ کر کے بنائی جاتی ہیں اور پھر منبر سے فرقہ بندی کی غلاظت پھیلائی جاتی ہے گرومندر کے قریب گورنمنٹ کا ایک کھالی پلاٹ تھا جس پر ایک فرقے کے لوگوں نے قبضہ کر کے راتوں رات مسجد کی تعمیر کا کام شروع کروا دیا جس پر بہت جھگڑا بھی ہوا لیکن ہمیشہ کی طرح جیت ایسے معملات میں مذہب کا نام استعمال کرنے والوں کی ہی ہوئی ڈاکہ ڈال کر بنائی گئی مسجد کا نام اس وقت کے ہیرو اسامہ کے نام پر رکھا گیا تاکے دھاک بھی بیٹھی رہے لیکن جب اسامہ پر برا وقت آیا اور اس مخصوص فرقہ کو لگا کہ اب اسامہ سے لا تعلقی ہی بہتر ہے تو مسجد کا نام اسامہ مسجد سے بدل کر زکریا مسجد رکھہ دیا گیا۔

آج اس چوری کی زمین پر بنائی گئی مسجد میں لوگ اللہ کا زکر بھی کرتے ہیں نماز جیسا پاکیزہ فرض بھی ادا کرتے ہیں اور تبلیغ کے نام پر ایمان و یقین کی تلقین بھی کی جاتی ہے اور حیرت ہے کہ بہت ڈھٹائی کے ساتھہ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چوری کرنا ڈاکہ ڈالنا کسی کا حق تلف کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ اللہ کے بندوں جو غلاظت بیچنی ہے بیچو جو چوری جو ڈاکہ ڈالنا ہے ڈالو مگر اللہ کے واسطے ان سب غلاظتوں سے اللہ رسول کو تو دور رکھو کم از کم یہ غلاظتیں دین کے نام پر تو نہ کرو ایک گناہ تو یہ غلاظتیں بیچ کر کر رہے ہو فرقوں کا منافع بخش مال بیچ کر کر رہے ہو ساتھہ میں دوسرا بڑا گناہ دین فروشی بھی جوڑ لیتے ہو۔

کیوں کے یہ قوم مذہب کے نام پر اندھی ہوجاتی ہے اسلئیے یہ لوگ اپنی اپنی غلاظتیں بیچنے کے لئیے دین کا نام استعمال کرتے ہیں کیوں کے وہ جانتے ہیں کہ یہ اندھی قوم دین کے نام پر بڑی سے بڑی غلاظت بھی پورے ایمان اور یقین کے ساتھہ قبول کرلیتے ہیں، ایسے تمام غلاظت سے بھر پور کام کرنے والے لوگوں کے لئیے مفت مشورہ ہے کہ اپنے غلیظ کاروبار کا نام ان لوگوں کے نام پر رکھہ لیں جنکے بارے میں انکے فرقے کے مولوی صاحب نے انہیں بتا رکھا ہے کہ یہ لوگ تو کنفرم جہنم میں ہی جائیں گے، مثال کے طور پہ، جون سپر مارکیٹ، کرسٹینا برگر، بل کلنٹن مسجد، امام بارگاہِ سرکوزی وغیرہ وغیرہ، لیکن یہاں بھی ایک مسلہ پیدا ہوجاتا ہے کیا واقعی ایسا ہی ہے کہ جنت میں صرف مسلمان ہی جائیں گے؟

میں نے تو بہت ڈھونڈا کہیں کسی مستند جگہ لکھا ہوا مل جائے کے جنت پر صرف مسلمانوں کا ہی حق ہے باقی سب جہنم میں ہی جائیں گے یا تمام مسلمان اپنے اپنے حصے کی سزا پانے کے بعد لازمی جنت میں ہی جائیں گے، مگر مجھے ایسی ہدایت کہیں لکھی ہوئی نہیں ملی، چلیں قرآن سے پوچھتے ہیں، سورہ بقرہ آیات باسٹھہ، میں اللہ تعالیٰ تو یہ فرما رہے ہیں۔

بیشک ایمان والے، ( یعنی مسلمان) یہودی، نصاریٰ اور صائبین (حضرت یحییٰ کے ماننے والے) جو بھی خدا اور آخرت کے دن پر ایمان لائے اور عملِ صالح بجا لائے انکی جزا و اجر انکے پروردگار کے ہاں مسلم ہے اور انکے لئیے کسی قسم کا غم یا خوف نہیں ہے۔

لیکن کچھہ جرائم ایسے ہیں جن کا ارتکاب کرنے سے ابدی جہنم لازم ہوجاتی ہے جیسے کسی سچے نبی کے حق کا جان بوجھہ کر یعنیٰ پوری طرح سے حقانیت واضع ہونے کے بعد حق کے ظاہر ہونے کے بعد نبی کا انکار کرنا، اس پر ابدی جہنم ہے، سمجھنے میں غلطی لگ گئی، بات نہیں پہنچی، حق واضع نہیں ہوسکا، یہ ایک الگ معاملہ ہے اسکے فیصلے کا اختیاراللہ پاک کے ہاتھہ میں ہے، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لوگ تو اس سورہ میں دئیے گئے تینوں پیمانوں پر کافی حد تک پورا اترتے ہیں وہ لوگ توحید کے بھی قائل ہیں، روزِ آخرت پر ایمان بھی رکھتے ہیں اور عملِ صالح بھی کرتے ہیں، وہ پھنسیں گے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی ہونے کے حق کا انکار کرنے پر،اور ہمِ؟ جو نبی کے حق کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں لیکن نبی کی ایک نہیں سنتے، اگر سچے نبی کے حق کا انکار کرنے پر ابدی جہنم ہے تو ساتھہ ہی، کسی انسان کا خونِ نہ حق بہانے پر بھی ابدی جہنم ہے، جھوٹی گواہی دینے پر بھی ابدی جہنم ہے، یتیم کا مال کھانے پر بھی ابدی جہنم ہے، صبح سے لے کر رات تک گناہوں میں لت پت زندگی گزارنے یعنیٰ گناہوں کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنانے والوں کے لئیے بھی ابدی جہنم ہے، ملاوٹ کرنے والے کے لئیے بھی ابدی جہنم ہے، اور ایسے بے شمار گناہ اور جرائم ہیں جن پر ابدی جہنم ہے یہ سب وہ گناہ وہ جرائم ہیں جو ہم مسلمانوں میں آج عام ہیں، سب جانتے ہیں کہ حقوق اللہ تو اللہ پھر بھی معاف کر سکتا ہے لیکن حقوق العباد کو اللہ بھی معاف نہیں کرے گا، نظر آتی ہے پورے معاشرے میں کہیں حقوق العباد کی ادائیگی؟

وہ صرف ایک سچے نبی کے حق کے انکار کی وجہ سے پھنسیں گے اور ہم، ہم تو نہ جانے کس کس حق کے انکار کی وجہ سے پھنسیں گے، حقیقت یہ ہی ہے کہ جنت میں جو بھی جائے گا وہ صرف اللہ کی رحمت سے ہی جائے گا ورنہ اعمال تو ہمارے ایسے نہیں کے ہم یہ نام کے مسلمان ہوتے ہوئے بھی جنت کے مستحق ٹھریں۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to بل کلنٹن مسجد اور امام بارگاہِ سرکوزی

  1. جوانی پِٹّا نے کہا:

    مذہبی لوگوں سے یا لوگوں کی مذہبیت سے کافی بیزار لگتے ہیں آپ!!۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جوانیِ پٹا بھائی، جو کچھہ اس ملک میں مذہب کے نام پر بیچا جارہا ہے وہ سب جانتے ہیں کے نہ مذہب ہے نہ مذہبیت ہے، میں مذہب فروشی کے خلاف ہوں، جو درندگی کرنی ہے کرو مگر مذہب کے نام پر تو نہ کرو کم از کم۔

  2. خاور کھوکھر نے کہا:

    یہ جو اپ نے سورة بقرہ کی آیت کریمہ کا حوالہ دیا ہے ناں ۔
    اس آیت کا حوالہ دے کر میں کئی دفعہ یہاں اسلامک سرکل کے ارکان سے بے عزت ہو چکا ہوں ۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      خاور بھائی کسی کے کیچڑ اچھالنے سے کسی کا کچھہ بھی نہیں بگڑتا الٹا انسان خود حق سے محروم ھوجاتا ہے، یہ آیت سب کے سامنے ہے دلیل کا جواب دلیل سے دے دیا جائے تاکے سب کے علم میں اضافہ ہوسکے۔ باقی حق بات کہتے ہوئے تالی اور گالی کی پروا بلکل نہیں کرنی چاہئیے۔

  3. چور اگر داڑھی بڑھالے تو اس میں سنت رسولﷺ کا کیا قصور؟
    ویسے میں ذاتی طور پر داڑھی والے کاروباری حضرات سے خاص طور پر ہوشیار رہتا ہوں۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔

    • fikrepakistan نے کہا:

      جواد بھائی آپ نے مثال تو اچھی دی ہے لیکن میری تحریر میں مذہب پر تنقید کہیں نہیں کی گئی ہے میں نے تو ان حضرات پر تنقید کی ہے جو مذہب کو اپنے کاروبار کے لئیے استعمال کرتے ہیں۔ ویسے آپ بلکل درست ہشیار رہتے ہیں کیوں کے داڑھی تو سکھہ بھی رکھتے ہیں تو محض داڑھی کی بنیاد پر کسی کے کردار کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s