کیا قوم ہیں ہم نہ جیت میں وقار نہ ہار میں بردباری۔


قتل و غارت کے دوران، طالبان کے ہاتھوں ہر روز معصوم لوگوں کی شہادت کے دوران، تھر میں قحط سے سینکڑوں بچوں کی ہلاکت کے دوران آپکو اپنی خوشی منانے کا پورا حق حاصل ہے، لیکن کسی کو بھی کسی کے غم کا مذاق اڑا کر اپنی خوشی منانے کا حق ہرگز حاصل نہیں ہے، یہ خوشی   کی فطرت کے خلاف ہے کہ کسی کے ماتم کو بنیاد بنا کر اپنی خوشی کی بنیاد رکھی جائے، پاکستان کی ٹیم بنگلہ دیش سے جیتی اس پر خوش ہونا ہر پاکستانی کا حق بنتا ہے لیکن ہارے ہوئے لوگوں کے روتے ہوئے چہروں کو اخباروں میں شہہ سرخیوں کے ساتھ شائع کرنا کہ پاکستانی ٹیم نے بنگلہ دیشیوں کو سر پکڑنے پر مجبور کر دیا، بنگلہ دیشیوں کا رو رو کار برا حال، اور اس ہی طرح کی گھٹیا قسم کی شہہ سرخیاں لگائی گئیں جنکا اخلاقیات سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوسکتا، یہ ہی رویہ سوشل میڈیا پر بھی دیکھنے میں آیا۔

سری لنکا کی بیٹنگ شروع ہونے سے پہلے میں مجبور ہوگیا اپنے فیس بک وال پر یہ میسچ شیئر کرنے پر،

میں نہیں چاہتا کے پاکستان یہ میچ جیتے، کیوں کے اگر پاکستان میچ جیت گیا تو یہ جانور جنہیں خوشی منانے تک کا سلیقہ نہیں ہے یہ پھر سے ہوائی فائرنگ کریں گے اور پھر سے اسکی زد میں آکر کتنی ہی معصوم جانیں جائیں گی، اگر ایک میچ ہار کے ہم کچھہ معصوم جانیں بچا سکتے ہیں تو یہ بہت ہی سستا سودا ہوگا۔ جس قوم میں سمائی نہ ہو اس قوم کو خوشی منانے کا بھی کوئی حق نہیں ہوتا۔

اب زرا تصور کریں کہ اگر دنیا ہمارے غم پر ہنسنے پر آجائے تو کیا ہوگا؟ ہمیں تو دنیا کے غم پر ہنسنے کا موقع کبھی پانچ دس سال میں ایک دو بار ہی ملتا ہے، اگر دنیا بھی ہماری روش اپنا لے تو دنیا کو یہ مواقعے ہر روز بلکے ایک دن میں کئی کئی بار میسر آئیں گے، کہیں خودکش حملے، کہیں فائرنگ سے اموات، کہیں بھوک ننگ قحط سے اموات، کہیں نوزائیدہ بچی کے ساتھہ زنا، تو کہیں حج میں کرپشن، کہیں مسجد میں بم دھماکہ، کوئی ایک وجہ ملے گی دنیا کو ہم پر ہنسنے کی؟ اتنا ہنسے گی دنیا کہ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوجائیں گے لوگ، انکا اتنا خون بنے گا کے انکے بلڈ بینکوں پر تالے پڑ جائیں گے۔

میں نے آج سری لنکا کے تمام اخبارات سرچ کر ڈالے مگر کہیں ڈھونڈنے سے بھی کوئی ایک تصویر ایسی نہ مل سکی جس سے یہ تاثر بھی ملتا ہو کہ سری لنکن نے پاکستانی شائقین کے ہار کے غم کا جشن منایا ہے، انکے تمام اخبارات نے اپنی ٹیم کی جیت کی خبر انتہائی با وقار طریقے سے شائع کی، تمام اخبارات میں ایک جیسے ہی تصاویریں تھیں کہیں کسی اخبار میں ہارنے والے شائقین کی ماتم کرتی تصاویر کا شائبہ تک نظر نہیں آیا، یہ ہوتے ہیں انسان اور یہ ہوتا ہے خوشی کو با وقار طریقے سے منانے کا طریقہ۔

آج سمجھہ میں آیا کے کیسے سری لنکا نے تامل ٹائیگر جیسے عفریت کو اپنی قوم کے ساتھہ مل کر صفحہِ ہستی سے مٹا دیا، اور ہم پاکستانی کیوں آج مٹھی بھر طالبان دہشتگردوں کے آگے مذاکرات کی میز سجائے رحم کی بھیک مانگنے پر مجبور ہیں، مشہور محاورہ ہے، مارننگ شوز دی ڈے، ہمارے روئیے اگر اب بھی نہ بدلے تو وہ وقت دور نہیں جب دنیا کو ہم پر ہنسنے تک کی توفیق نہ ہوگی۔

اب آپ فرق دیکھہ لیجئیے یہ ہے وہ تصویر جو ایشیاء کپ جیتنے کے بعدتمام سری لنکن اخباروں میں آج شائع ہوئی ہے

CricketCHAMPS (1)

اور یہ ہیں وہ تصویریں جو بنگلہ دیش سے محض راونڈ کا میج جیتنے کے بعد پاکستانی اخباروں اور سوشل میڈیا پر شائع ہوئی ہیں، ان تصاویر کو دیکھہ کر مجھے ایک لطیفہ یاد آگیا، کڑکے چوھدری صاحب سڑک پر خوشی سے لڈیاں ڈال رہے تھے ناچ ناچ کار بے حال ہوئے جارہے تھے، کسی نے پوچھا خیریت ہے چوھدری صاحب آج پی لی ہے کیا؟ چوھدری صاحب لڈی ڈالتے ہوئے بولے نہیں ابھی تو منگوائی ہے۔

1102116201-1

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s