پاکستان یا پنجابستان؟


سوھنی دھرتی:-
ھمیں جس ملکِ یزداں میں رہنے کی سعادتِ سعید نصیب ہویؑ ہے اس بھشتِ بریں کا اسمِ تکلم پاکستان ہے۔ پاکستان کی چار اقسام ہیں:

1۔ نیا پاکستان (خیبر پختونخوا)
2۔ پرانا پاکستان (پنجاب)
3۔ مشکوک پاکستان (بلوچستان)
4۔ گیا پاکستان (سندھ)

پاکستان کو اقوامِ عالم میں دائمی مقبولیت حاصل ہے اور یہ حسین حادثہ محض ابھی رونما نہیں ہوا بلکہ کیؑ صدیوں سے ہم اس مسند پر نہایت کروفر سے اور مکمل اطمنعان سے براجمان ہیں۔ کرہِ ارض کے اس خطے کو محمد بن قاسم، محمود غزنوی،ابدالی،مغل،راجپوتوں اور شاہ سوریوں جیسے دیدہ ور نصیب ہوےؑ ہیں جنہوں نے اس سرزمینِ مسلمانان پر راجہ داہر جیسے کافر، بد قماش اور بد کردار لوگ اٹھا کر تاریخ کے کچرے میں پھینک دیے۔ اس خطہِ سرزمین کی لوگوں کے دلوں میں اتنی محبت ہے کہ لوگ عراق، یونان، اور قسطنطنیہ سے یہاں حج کرنے آتے ہیں۔
محمد بن قاسم بھی ایک ایسا ہی حاجی تھا جسے گائے کی کھال میں سی کار واپس عرب لے جایا گیا۔  مشہور حاجیوں میں محمود غزنوی کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ موصوف کو اس سرزمین کی دن میں پل پل یاد ستاتی تھی اور ان کی مضطرب اور بےچیین طبیعت کو تبھی چین آیا جب انہوں نے سوغات کے طور پر سومنات کے بت کی ناک کی بالی اتار کر اپنی پوشاک کی اندر والی جیب میں ڈال لی۔ ہندو ظالموں کے کام دیکھو، ایک بت کو سونے، چاندی کے چڑھاوے چڑھا کر سب ضایعؑ کرتے ہیں، بندہ کسی مسلمان کو ہی دے دیتا ہے۔ خیر ہندو بدھو لوگ ھوتے ہیں اور انکا یہی بدھوپن انہیں لے ڈوبے گا۔
پاکستان میں چار صوبوں کی عوام رہتی ہے جو فلاں ترتیب میں ہیں:-

1۔ پنجابی
2۔ پنجابی
3۔ پنجابی
4۔ پنجابی
پنجابی ایک بہت وسیع القلب قوم ہے جس نے اس ملک میں دوسری چھوٹی موٹی قوموں، جن میں سندھی،بلوچی اور پختون، سرایکی وغیرہ شامل ہیں، کو رہنے کی جگہ اور کھانے کو روٹی دے رکھی ہے۔ آج کے اس مادہ پرست دور میں ایسی فراخدِلی عنقا ہو چکی ہے۔ پنجابیوں کا ان بھوکے ننگے لوگوں پر یہ احسانِ عظیم تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھا جانا چاہیے۔ پنجابیوں نے ایک اور شودر ذات بنگالیوں کی تین لاکھ لڑکیوں کو بھی اپنی مہمان نوازی پیش کی تھی مگر بنگالی چونکہ تھوڑے کوڑھ مغز واقع ہوےؑ ہیں، اس لےؑ وہ ناراض ھو گےؑ، بھیؑ پیار ہی تو کیا تھا کونسا غلط کام کیا تھا؟ آج وہ پاگل بنگالی لادینیت کی طرف سرگرداں ہیں اور دین و آخرت کی تباہی اپنے نام کرا چکے ہیں۔ انکا (جی – ڈی – پی) گروتھ پاکستان سے کہیں زیادہ ہے مگر سیانے کہتے ہیں کہ یہ شعلے کا بجھنے سے پہلے آخری بار ٹمٹمانا ہے۔ صحیح ہی کہتے ہیں۔

اچھایؑ کے مخالف ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ ان پاگل بلوچوں کو ہی لے لیجےؑ۔ کھانے کو من و سلویٰ اور پینے کو جامِ کوثر مِلتا ہے مگر کتے کی دم ہے کہ ٹیڑھی ہی رہے گی۔ کہتے ہیں ہمیں آزادی چاہیے۔ کویؑ کرنے والی بات ہے یہ بھلا؟ بلوچوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ کسی بھی وقت رینجرز کی گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں، اب اس سے زیادہ کیا چاہتے ہیں وہ؟ فی امان الحفیظ ! یہی خلش ان کند مغز سندھیوں کو بھی ستا رہی ہے۔ یہ سب بنی اسراییلؑ کی طرح ہیں۔ اپنی حرکتوں کی وجہ سے رحمت و برکت سے دور صحرا میں بھٹکنا چاہتے ہیں۔ باولے ہیں سب۔

شکر ہے کہ ابھی کچھ اصحابِ عقل یہاں موجود ہیں۔ ان عظیم دانشوروں، تاریخ سازوں، عالموں، عاقبت اندیشوں اور بزرگانِ قوم میں علامہ اوریا مقبول جان، مفتی انصار عباسی، مولوی ہارون الرشید اور کمانڈر زید حامد شامِل ہیں۔ ان حضراتِ باکمال کی وجہ سے پاکستان پر اللہ کا قہر نازل ہونے سے رکا ہوا ہے اور ہم طوفانِ نوح جیسی کسی آفت سے بچے ہوےؑ ہیں۔ چند شریر لوگوں نے ان جیسا مرتبہ حاصل کرنے کی سعیِ ناتمام کی تھی۔ عبد السلام بھی ایک ایسا ہی دماغ سے پیدل شخص تھا جسے پتہ نہیں کس سرپِھرے نے نیوکلیایؑ طبیعات میں ڈِگری دے دی تھی۔ ہمت تو دیکھو اس کافر کی، کس بے باقی سے خود کو پاکستانی اور اس سے بڑھ کر ظلم، خود کو مسلمان کہتا تھا۔ صحیح ہوا اس نامعقول آدمی کے ساتھ اور اسکی قبر کے ساتھ ۔

اس قوم نے چند سر پھرے بھی پیدا کیے ہیں، جن میں جون ایلیا، منٹو جیسے لوگ بھی شامل ہیں۔ عجیب ہی لوگ تھے کہتے تھے ” ہم پچھلے ایک ہزار برس سے تاریخ کے دستر خوان پر حرام خوری کے سوِا کچھ بھی نہیں کر رہے. پاکستان یقیناَ ایک موجزہ ہے ایک ایسا موجزہ 1971 میں جسکے چاند کی طرح دو ٹکڑے کر دئیے گئے تھے، اسکو ہم سب ملکر گندہ کریں گے، اپنے سواء ہر کسی کہ کافر کہہ کر ماریں گے کرپشن اپنے عروج پر ہوگی، حکمراں کرپٹ ترین ہونگے ڈالر کی قیمت کم ہونے کے باواجود مہنگائی کا ننگا ناچ ہوگا، مگر پھر بھی شرم نہ کرنا دوستو: کیوں کے پاکستان کی جاہل عوام کے عظیم مفکر بابا اشفاق احمد فرما گئے ہیں کہ پاکستان قیامت تک قائم رہنے کے لئیے بنا ہے، تو کیا ہوا اگر یہ اپنی پیدائش کے محض چوبیس سال بعد ہی ٹوٹ گیا تو، بابا نے شاید باقی مانندہ پاکستان کے لئیے یہ ارشادِ عظیم فرمایا ہوگا، چلو جی جو کرنا ہے کرو، اسے تو تباہ ہونا نہیں ہے تو پھر ہم کیوں ہاتھہ ہولا رکھیں؟ لٹوتے پھٹو۔۔۔۔۔۔ جئے نواز شریف، جئے عمران خان، جئے بھٹو۔

1010131_296284940536912_86855483678538007_n

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

6 Responses to پاکستان یا پنجابستان؟

  1. عمران اقبال نے کہا:

    ہا ہا ہا۔۔۔ زبردست کم بیک۔۔۔ بہت اعلیٰ کاشف بھائی۔۔۔

  2. جوانی پِٹّا نے کہا:

    دوست۔ میں محض تعریفی کمنٹ نہیں کرنا چاھتا۔ مگر فی الحال دماغ جیب کی طرح خالی ہے۔
    جس معاملے پر آپ نے طنزیہ تیر برسائے ھیں، یہ اس صدی کا سب سے بڑا معمہ ہے۔ یعنی ملت کی بنیاد قومیت ہے یا مذھب۔
    یہ معمہ کبھی حل نہیں ھوسکتا۔

  3. حمزہ نیاز نے کہا:

    سب باتوں سے اتفاق تو خیر نہیں کروں گا مگر آپ کی تحریر میں جو کاٹ ہے اس کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہوگی۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s