بے غیرت کا غیرت سے کیا تعلق؟


حامد میر اور جیو کی پالیسی سے میں کبھی بھی متفق نہیں رہا، مگر اپنے مخالف کو موت کی نیند سلا دیا جائے؟ پھر ہم آج بھی اس ہی دور جہالت میں کھڑے ہیں جہاں اللہ کو اپنے آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوس کرنا پڑا۔

اسلام آباد میں حامد میر کا شکار زیادہ آسانی سے کیا جاسکتا تھا پھر اس خوبصورت سوچ کا اظہار کرنے کے لیئے کراچی کا انتخاب ہی کیوں کیا گیا؟ صاف ظاہر ہے ایک تیر سے کئی شکار مقصود تھے، حامد میر پہلے ہی اپنے خدشات کا اظہار تحریر کی صورت میں کر چکے تھے، حامد میر کے بھائی عامر میر اور جیو کی انتظامیہ نے جس طرف اشارہ کیا ہے وہ اتنا غلط بھی نہیں ہے، پوری پاکستانی قوم ہی گجنی کا عامر خان بنی ہوئی ہے،

ہم تو وہ ہیں جو خدا کو بھلا بیٹھے ہیں

میری جان تو کس گمان میں ہے؟

ذہنوں سے گرد ہٹے تو یاد آئے وقتی مفاد کے لئیے کیسے کیسے بت ان داروں نے تراشے ہیں اور پھر مطلب نکل جانے کے بعد کیسے ان بتوں کو اپنے ہی ہاتھوں سے گرایا بھی ہے، جماعت اسلامی ماضی قریب کی زندہ مثال ہے۔ یہ ہی وہ ادارے ہیں جو لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد سے اس ملک کی قسمت کے مالک بنے بیٹھے ہیں، لفظ بربادی کو جتنی توقیر ان داروں نے بخشی ہے شاید ہی دنیا میں کہیں اور بخشی گئی ہو، یہ ادارے اس کتیا کی طرح ہیں جو اپنی عزت کے سواء ہر چیز کی حفاظت کر لیتی ہے، یہ ادارے اس طوائف کی طرح ہیں جو ہر مشکل کا سامنا بند دماغ اور کھلے ازاربند سے کرتی ہے۔

امریکہ میں سی آئی اے کی جانب سے کی گئی زیادتیوں پر مبنی فلمیں بنائی جاتی ہیں جنرل پیٹریاس پر اسکینڈل کا الزام لگتا ہے تو وہ مستعفی ہو جاتے ہیں ابامہ ایک جنرل کو اس کے غیر زمہ دارانہ بیان پر اسکے عہدے سے برطرف کر دیتا ہے نہ کوئی امریکی ابامہ کو غدار کہتا ہے نہ امریکیوں کی ملی غیرت پہ کوئی آنچ آتی ہے کوئی قطرینہ برپا نہیں ہوتا، بھارت کے آرمی چیف دیپک کپور پر دو ہزار سات میں ممبئی کی ایک زمین کی غیر قانونی فروخت میں مورود الزام ٹھرایا جاتا ہے وزارتِ دفاع سی بی آئی کی مدد سے جانچ پڑتال کر کے جنرل کا احتساب کرتی ہے مگر کہیں کوئی شور نہیں مچتا، کہیں کوئی کسی کو غدار نہیں کہتا کسی سوشل میڈیا کے دل میں وطن کی محبت بیدار نہیں ہوتی کیونکے نہ وہاں ہارون رشید صاحب پائے جاتے ہیں نہ مبشر لقمان صاحب اور نہ ہی زید حامد پائے جاتے ہیں۔

پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جسکی سلامتی سترہ سالہ دوشیزہ کے کنوارے پن کی طرح ہر وقت خطرے میں رہتی ہے، یوں لگتا ہے ساری دنیا واہسنا کی پجاری ہے اور پاکستان سترہ سالہ دوشیزہ ہے جسکی نتھہ اترائی کے لئیے دنیا بڑھہ چڑھہ کر بولیاں لگارہی ہے، اتنا شور تو امریکی کتے کی جانب سے توہینِ رسالت پر نہیں مچایا گیا تھا جتنا شور توہینِ آئی ایس آئی پر مچایا جارہا ہے، مجھے تو گماں گزرا کے آئی ایس آئی کا سربراہ ظہیر السلام ہے یا امامِ کعبہ ہیں؟ یقیناً امامِ کعبہ پر بھی الزام لگنے پر اتنا شور بپا نہیں ہوتا جتنا کے ایک ایسے ادارے کے سربراہ پر الزام لگنے پر مچایا گیا ہے جسکے کارنامے ساری دنیا پر عیاں ہیں، اس وقت اس ادارے کی اور اس جاہل اور اندھی تقلید کرنے والی قوم کی قومی غیرت کہاں مر گئی تھی جب اسامہ پانچ سال کنٹومنٹ ایریا میں چھپا رہا؟ اس وقت قومی غیرت کہاں پکنک پر گئی ہوئی تھی جب امریکن ہیلی کاپڑز میں آکر ساری رات آپریشن کرتے رہے اسامہ کو مارا اور اسکی لاش بھی ساتھہ لے گئے؟ اس وقت غیرت بے غیرت کیوں ہوگئی تھی جب اس ہی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل پاشا نے ریمنڈیوس کو بچانے کے لئیے دیت کے نام پر ڈیل کروائی اور اس قاتل کو با حفاظت افغانستان تک پہنچایا؟ انکی بے غیرتی کی ایک نہیں ہزار مثالیں موجود ہیں۔

جو طالبان افواجِ پاکستان کو ملحد کہیں، کافر کہیں، واجب القتل کہیں اور نہ صرف کہیں بلکے اس پر عمل بھی کریں تو اس پر تو غیرت نہیں جاگتی نہ فوج کی نہ اس جاہل عوام کی، جماعتِ اسلامی والے ان درندوں کو اپنا بھائی کہیں فوجیوں کی شہادت کو شہادت ماننے سے انکاری ہوجائیں اس وقت بھی غیرت ستو پی کر سوئی رہتی ہے سب کی، ایک صحافی محض شک کا اظہار کرے جو کے ہر شہری کا حق ہے کہ اگر اس پر حملہ ہو تو وہ اپنے دشمن پر شک کا اظہار کر سکتا ہے ایسی صورت میں اگر حامد میر نے شک کا اظہار کیا تو کیا غلط کیا؟ یہ ادارے خود کو کافر کہنے والوں سے تو مزاکرات کرتے ہیں کیونکے خود کش حملوں سے جان نکلتی ہے انکی، لیکن نہتے صحافی پر اپنی مردانگی دکھاتے ہوئے زرا شرم نہیں آتی انہیں، علامہ اقبال نے کہا تھا کہ خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں، یہ ہی حال انکا ہے کہ اپنی وحشیانہ سوچ اور رویوں کو بدلنے کے بجائے جو حق بات کہے اسے بدل دو۔

حامد میر اور جیو حاجی پارسہ ہرگز نہیں ہیں یہ پورا ملک ہی ایک حمام ہے جس میں ہر طرف ننگے ہی ننگے گھوم رہے ہیں، یہ ہی حامد میر ہے جس نے لال مسجد کے معاملے پر مشرف سے کہا تھا کہ گورنمنٹ اپنی رٹ قائم کیوں نہیں کرتی انکے خلاف جلد سے جلد آپریشن کر کے نمٹایا جائے انہیں، اور جب مشرف نے آپریشن کیا تو یہ ہی حامد میر تھا جس نے مشرف کے خلاف لال مسجد کے معاملے میں سب سے زیادہ مغلاضات بکیں، یہ ہی جیو تھا یہ ہی حامد میر تھا جس نے افتخار چوھدری جیسے مکار فریبی جھوٹے اور دھوکے باز شخص کو پیغمبر بنا کے پیش کیا پوری تحریک چلائی، اس قوم کی جہالت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسے شخص کو بحال کروایا جسکی ذہنی سطح چپڑاسی سے زیادہ نہیں تھی، ہوگئی پاکستان کی دھرتی ماں جیسی؟ مل گیا ساری قوم کو انصاف؟ وہ پاکستان کو تو کیا سدھارتا وہ تو اپنے بکاو عدالتی نظام کو نہیں سدھار سکا، ایچ ایس بی سی سے لون لے کر ارب پتی بیٹے کی شادی کرنے والا آج پچس کروڑ کا گھر بنوا کر اس میں رہ رہا ہے اور اسے بحال کروانے والے عوام آج بھی عدالتوں میں اپنی بیٹیوں کے جہیز کی رقمیں تک لٹوا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جیو نے باقائدہ تحریک چلا کر انکی کرپشن کو اچھالا، عجب کرپشن کی غضب کہانی، بہت اچھا کیا مگر آج نواز شریف کی حکومت میں ملک کرپشن سے پاک ہوگیا کیا؟ آج ہر آدمی آبِ زم زم سے غسل کر رہا ہے؟ اب کہاں ہے وہ عجب کرپشن کی غضب کہانی؟۔

ایسے کہیں معاملات ہیں جو حامد میر اور جیو کے اکاونٹ پر ہیں جن پر جیو اور حامد میر کو عوام سے معافی مانگنی چاہئیے، میں کسی کی بھی اندھی تقلید کا قائل نہیں ہوں میں میٹر ٹو میٹر ڈیل کرنے کا قائل ہوں، جیو اور حامد میر سے ایک ہزار اختلافات کے باواجود میں اس وقت حامد میر اور جیو کے حق میں ہوں اور دعا گو ہوں کے آئی ایس آئی اس کیس میں ملوث نہ ہو، اگر تحقیقات کے بعد ثابت ہوجاتا ہے کہ یہ آئی ایس آئی نے ہی کیا ہے تو پھر جب بھٹو کو پھانسی لگ سکتی ہے تو آئی ایس آئی کے سربراہ کو کیوں نہیں لگ سکتی؟۔

ایسا نہیں ہے کہ ان اداروں نے ملک و قوم کی خدمت نہیں کی، یہ ہمارا نا شکرا پن ہے ورنہ ان اداروں نے عین عبادت سمجھہ کر بہت کچھہ دیا ہے ملک و قوم کو، طالبان، ہیروئن، کلاشنکوف، مدارس، فرقہ پرستی، قوم پرستی، لسانیت، استحصال، انگنت سیاسی تنظیمیں، مذہبی تنظیمیں، سب سے جدید اور قیمتی تحفہ عمران خان، یہ سب طوائف معاف کیجئیے گا تحائف، کم ہیں؟

حامد میر کا قصور یہ ہے کہ اس نے بلوچستان کے مظلوم لوگوں کے ساتھہ انکے لانگ مارچ میں شرکت کر کے اظہار یکجہتی کیا، انکے حق میں آواز اٹھائی، یہ امتیاز کسی اور صحافی کو حاصل نہیں ہے، ظالم کے سامنے کلمہِ حق کہنا بہت بڑا جہاد ہے، حامد میر میں لاکھہ برائیاں ہونگی مگر اس کلمہِ حق کہنے پر انہیں نہ سراہنا زیادتی ہوگی، ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمیں اسے پسند کرنا پڑتا ہے جو تسبتاَ کم برا ہو، ایسا کہاں سے لائیں اچھا کہیں جسے؟ کم از کم اس حق گوئی پر حامد میر میرے لئیے قابلِ احترام ہیں۔

پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں میں ایم کیو ایم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس نے ہمیشہ اپنی شرطوں پر ان اداروں سے معاملات کئے ہیں، اوپر عرض کیا ہے کہ کتنی بد نصیبی ہے ہماری کے ہمیں اسے پسند کرنا پڑتا ہے جو نسبتاً کم برا ہے، تو اس معاملے میں ایم کیو ایم کو سراہنا چاہئیے یہ واحد جماعت ہے جس نے ان اداروں کے جبڑے میں ہاتھہ ڈال کر اپنے حقوق نکالے ہیں، نواز شریف صاحب گو کے خود ان اداروں کی ہی پیداوار ہیں لیکن اب وہ ملک و قوم کو ان اداروں کے چنگل سے نکالنے کے لئیے مخلص نظر آتے ہیں، اسلئیے کم از کم اس معاملے میں نواز شریف صاحب قابلِ تعریف ہیں، پیپلز پارٹی والوں کا قبرستان بھر گیا ہے اسلئیے وہ لوگ منافقت کو ترجیح دیتے ہیں۔

ان سب سیاسی جماعتوں کی حرام زدگیاں اپنی جگہ ہیں لیکن اس وقت وہ موضوع زیرِ بحث نہیں ہے، اصولاً تو سارا کا سارا سیٹ اپ ہی بدلنے کی ضرورت ہے لیکن کہاں سے لایا جائے ایسے نیک و پارسہ لوگوں کو؟ اللہ ہی جانے کیا سوچ رکھا ہے اس نے اس ملک و قوم کے لئیے، لیکن یہ تو طے ہے اسطرح تو ایک گھر نہیں چلتا تو پورا ملک کیسے چل سکتا ہے؟ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو وہ دن اب دور نہیں ہے غلام ہونے کی خواہش یہ نام نہاد آذاد کریں گے۔

Advertisements
This entry was posted in میڈیا. Bookmark the permalink.

6 Responses to بے غیرت کا غیرت سے کیا تعلق؟

  1. وسیم رانا نے کہا:

    آپ نے ہی کہا تھا کہ بات نکلے گی تو دور تک جائے گی اور آج آپ نے یہ بھی ثابت کر دیا۔۔۔۔۔۔
    بس انتہائی اعلی ۔۔۔۔۔۔ لاجواب

    • fikrepakistan نے کہا:

      ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے بھی اپنی افواجِ پاکستان سے محبت ہے مگر میری محبت اندھی نہیں ہے، یہ لوگ خود بات کو یہاں تک لے کر آئے ہیں کے مجبوراً ہمیں زبان کھولنی پڑ رہی ہے، تحریر کی پسندیدگی کے لئیے بہت بہت شکریہ وسیم بھائی۔

  2. اسد حبیب نے کہا:

    جی بہتر ہے۔
    آپ کی تحریر پسند آئی۔

  3. اکرام نے کہا:

    حق گوئی اور حامد میر ۔ ھا ھا ← بے غیرت کا غیرت سے کیا تعلق؟ →
    حامد میر اور جیو حاجی پارسہ ہرگز نہیں ہیں یہ پورا ملک ہی ایک حمام ہے جس میں ہر طرف ننگے ہی ننگے گھوم رہے ہیں، یہ ہی حامد میر ہے جس نے لال مسجد کے معاملے پر مشرف سے کہا تھا کہ گورنمنٹ اپنی رٹ قائم کیوں نہیں کرتی انکے خلاف جلد سے جلد آپریشن کر کے نمٹایا جائے انہیں، اور جب مشرف نے آپریشن کیا تو یہ ہی حامد میر تھا جس نے مشرف کے خلاف لال مسجد کے معاملے میں سب سے زیادہ مغلاضات بکیں، یہ ہی جیو تھا یہ ہی حامد میر تھا جس نے افتخار چوھدری جیسے مکار فریبی جھوٹے اور دھوکے باز شخص کو پیغمبر بنا کے پیش کیا پوری تحریک چلائی، اس قوم کی جہالت کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ایسے شخص کو بحال کروایا جسکی ذہنی سطح چپڑاسی سے زیادہ نہیں تھی، ہوگئی پاکستان کی دھرتی ماں جیسی؟ مل گیا ساری قوم کو انصاف؟ وہ پاکستان کو تو کیا سدھارتا وہ تو اپنے بکاو عدالتی نظام کو نہیں سدھار سکا، ایچ ایس بی سی سے لون لے کر ارب پتی بیٹے کی شادی کرنے والا آج پچس کروڑ کا گھر بنوا کر اس میں رہ رہا ہے اور اسے بحال کروانے والے عوام آج بھی عدالتوں میں اپنی بیٹیوں کے جہیز کی رقمیں تک لٹوا رہے ہیں، پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران جیو نے باقائدہ تحریک چلا کر انکی کرپشن کو اچھالا، عجب کرپشن کی غضب کہانی، بہت اچھا کیا مگر آج نواز شریف کی حکومت میں ملک کرپشن سے پاک ہوگیا کیا؟ آج ہر آدمی آبِ زم زم سے غسل کر رہا ہے؟ اب کہاں ہے وہ عجب کرپشن کی غضب کہانی؟۔
    امن کی آشا کے نام پر نواز شریف کی انڈین شوگر ملوں کی چینی پاکستان لانے کا منصوبہ ہے- کشمیر پر انکھیں بند – بلوچوں میں علحیدگی کی تحریک کو ہوا دینا اور پاک فوج کے خلاف بولنا ۔ یہ سب کچھ اپنے انڈین بزنس کو بچانے کے لیے نہ ہے تو اور کیا ہے ؟
    حق گوئی اور حامد میر ۔ ھا ھا ← بے غیرت کا غیرت سے کیا تعلق؟ →

    • fikrepakistan نے کہا:

      میں آپ کے اختلاف کے حق کا احترام کرتا ہوں، میں نے تحریر میں جیو اور حامد میر سے متعلق اختلافی حوالے سے کافی کچھہ لکھا ہے جو یقیناََ کم ہے انکے جرائم انگنت ہیں، لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ آئی ایس آئی دودھہ سے دھلی ہوئی ہے تو اس سے مجھے شدید اختلاف ہوگا، جیسے جیو اور حامد میر کے جرائم انگنت ہیں ویسے ہی آئی ایس آئی کے جرائم بھی لا محدود ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s