نسلوں کا قرض


مقصد جتنا بڑا ہوگا مشکلات بھی اتنی ہی بڑی آئیں گی، آپ کم پر اکتفا کر کے دیکھہ لیں مشکلات کا حجم بھی گھٹ جائے گا، آپ کے گرد و پیش میں ایسے بیشتر لوگ ہونگے جو اپنی تعلیم اور قابلیت کے لحاظ سے اپنے مقام پر نہیں ہونگے اسکے برعکس ایسے لوگ بھی آپکے مشاہدے میں ہونگے جو بظاہر اس منصب کے اہل نظر نہیں آرہے ہوتے جس منصب اور مقام پر وہ ہوتے ہیں، ان دو طرح کے لوگوں کے درمیان وہ کیا چیز ہے جو ایک کو اسکے جائز مقام تک پہنچنے سے روکے رہتی ہے تو دوسرے کو وہ مقام تحفتاً عنایت کر دیتی ہے؟

انگریزی کا ایک محاورہ ہے، سکسیس از دی رِواڈ آف دی رسک، اس ہی محاورے کا ایک جڑواں بھائی ہے، ویئر دئیر از دا ول، دئیر از دا وے، میں جہاں تک سمجھہ پایا ہوں وہ چیز رسک لینے کی صلاحیت ہے، عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ فطرتاً بزدل ہوتے ہیں یا بہت زیادہ احتیاط پسند ہوتے ہیں، آپ انہیں آبِ حیات بھی دیں تو وہ اسے بھی ابال کر ہی پینا پسند کریں گے، اپنی تعلیم اور محنت کے بل پر وہ ایک آسودہ زندگی تو حاصل کر لیتے ہیں لیکن ترقی کی ایک خاص حد سے آگے نہیں بڑھہ پاتے، جو کچھہ انہوں نے پایا ہوتا ہے وہ اسے کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح سنبھال سنبھال کر رکھتے ہیں انتہائی محفوظ انوسٹمنٹ کریں گے جہاں سے رٹرن بھلے بہت کم ملے مگر انکی انویسٹمنٹ محفوظ رہے، جو کچھہ انہوں نے بچایا ہوتا ہے اسے کھونے کا ڈر انہیں کوئی بھی بڑا فیصلہ کرنے سے روکے رکھتا ہے یہ ہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ آپکو زیادہ تر نوکری پیشہ ملیں گے گھاٹے کے خوف سے وہ کاروبار کرنے کا رسک بھی نہیں لے پاتے۔

اسکے برعکس آپکو ایسے کئی مل اونرز ایسے ملیں گے جنکی تعلیم ایورج یا بِلو ایورج ہوگی مگر زندگی کی دوڑ میں وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں سے کہیں آگے دوڑ رہے ہوتے ہیں، حضرت علی سے منسوب ایک قول یاد آرہا ہے کہ، اللہ سے اچھی قسمت مانگو قابلیت نہیں، کہ میں نے کئی قابل لوگوں کو اچھی قسمت والوں کے پاس نوکری کرتے دیکھا ہے۔ قسمت بھی آپ پر تب ہی مہربان ہوتی ہے جب آپ قسمت کے دئیے گئے موقع سے فائدہ اٹھانا جانتے ہوں، کہتے ہیں خوش قسمتی انسان کے دروازے پر صرف ایک بار دستک دیتی ہے اور بد قسمتی اس وقت تک دستک دیتی رہتی ہے جب تک دروازہ کھل نہیں جاتا۔

کم رسک کم منافع اسے بزنس کہتے ہیں، بڑا رسک بڑا منافع اسے جواء کہتے ہیں لیکن کم رسک اور زبردست منافع اسے موقع کہتے ہیں، ایسا موقع شاید سب کی زندگی میں ایک بار ضرور آتا ہے کچھہ لوگ رسک نہ لینے کی عادت کی وجہ سے اس موقع کو گنوا دیتے ہیں اور رسک ٹیکر اس موقع کو کھینچ کر خوشحال زندگی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ ہی ایک فرق قابل اور جیئیس کے درمیان ہوتا ہے، قابل انسان حالات کے لحاظ سے خود کو بدل لیتا ہے جبکہ جینئیس انسان اپنے دماغ سے حالات کو بدل دیتا ہے۔

اگر ہم ماضی بعید میں چلے جائیں تو ہمارے دادا پر دادا کی ابتداء انتہائی تنگ دستی سے ہوئی ہوگی تعلیم بھی نہیں ہوگی انکے پاس نہ رہنے کو گھر نہ کوئی دیگر آسائش، پر دادا نے فیصلہ کیا ہوگا کہ میں تو نہیں پڑھہ سکا مگر اپنے بیٹے کو ضرور تعلیم کے زیور سے آراستہ کروں گا، رو پیٹ کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ساتھہ آٹھہ کلاسیں پڑھا دی ہونگی، پھر دادا نے سوچا ہوگا کہ میں تو ٹھیک سے پڑھہ نہیں سکا مگر میرے باپ نے پھر بھی مجھے مڈل پاس تو کروا ہی دیا مگر میں اپنے بچے کو اچھی سے اچھی تعلیم دلواوں گا یوں انہوں نے اس سوچ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے بیٹے کو انٹر یا گریجوئیشن کروا دیا ہوگا، ایک طرف تعلیم کا یہ سلسلہ آگے بڑھہ رہا ہے تو ساتھہ ہی خوشحالی بھی بتدریچ بڑھتی جارہی ہے، باپ کو دادا کی طرف سے ورثے میں کرائے کا مکان ملا تھا تو باپ نے اپنی تعلیم اور محنت کے بل بوتے پر کسی کچی آبادی میں اپنا اسی گز کا مکان بنا کر اس سلسلے کو آگے بڑھایا، یوں یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے ہم تک پہنچ گیا، آپ غور کریں تو معاملات بتدریچ ماضی کے حساب سے خوشحالی میں بدل رہے ہوتے ہیں، آپکے والد گریجوئیٹ تھے تو اب انکی پوری کوشش ہوگی کے وہ آپکو ماسٹرز کروا دیں، اور آپکی زمہ داری ہوگی کے آپ ماسٹرز کرنے کے بعد اس سلسلے کو مزید آگے بڑھائیں آپ اپنے بچے کو ایم بی اے، پی ایچ ڈی وغیرہ لیول کی تعلیم دلوائیں تاکہ ترقی کا جو سلسلہ آپکے اجداد سے شروع ہوا تھا وہ مرحلہ وار آگے کی طرف بڑھتا رہے، یہ ہر نسل پر اسکی پچھلی نسل کا قرض ہوتا ہے جسے ہر حال میں ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئیے ورنہ یہ سلسلہ رک جائے گا تو آپ اور آپکی آنے والی نسل ترقی و خوشحالی کی اس دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے.

اب آپ پر لازم ہے کہ آپ کچی آبادی والے اس اسی گز کے مکان سے نکل کر اپنی اولاد کو بھلے اسی گز کا ہی سہی مگر کسی اچھے اور معیاری علاقے میں گھر بنا کے دے کر جائیں، لیکن اگر آپ ایسا نہیں بھی کر پائے تو بھی گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے لیکن تعلیم پر کوئی کمپرومائز نہیں ہوسکتا، آپ گریجوئیٹ یا ماسڑز ہیں تو آپ پر لازم ہے کہ آپ اپنی اولاد کو موجودہ دور کی اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کروا جائیں آپ اگر اس کچی آبادی کے اسی گز کے مکان سے نہیں بھی نکل پائے تو آپکی اولاد با آسانی نکل جائے گی، ترقی کا یہ سفر کبھی بھی ختم نہیں ہوتا اچھے علاقے میں پہچنے کے بعد کسی اچھے ملک کا شہری بننے تک بھی جاتا ہے یہ سفر، آج جتنے بھی پاکستانی کینڈا، امریکہ، برطانیہ، ناروے وغیرہ میں سیٹل ہیں انکے اجداد کی ابتداء بھی کبھی نہ کبھی اس ہی طرح ہوئی ہوگی۔

اس ہی کو ارتقاء کہتے ہیں تو آپ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ میں زندگی میں کچھہ نہیں کر پایا کوئی بہت بڑا تیر نہیں مارا میں نے زندگی میں، تو اس میں مایوس ہونے کی ہرگز کوئی ضرورت نہیں ہے، آپ اپنی اولاد کو اپنے سے کچھہ نہ کچھہ قدم آگے بڑھا جائیے اس سلسلے کو رکنے نہ دیجئیے وقت آئے گا کہ آپکی نسلیں بھی انسانوں کی زندگی جئیں گی، انہیں وہ سب کچھہ ملے گا جس پر انکا جائز حق ہے، مشہور محاورہ ہے کہ پیسے کا استعمال اور تعلیم نسلوں میں آتے ہیں، آپکا کام صرف اتنا ہے کہ اس سلسلے کو رکنے نہ دیں اس میں کچھہ نہ کچھہ اضافہ کر کے اپنی نسل کو دے جائیں اس ہی حکمتِ عملی کو آپکی نسل اپنائے یوں ایک وقت آئے گا کہ آپ نہ سہی لیکن آپکی آنے والی نسلیں اس غربت کی غلاضت سے نجات پا لیں گی۔

آپ چاہتے ہیں کہ یہ سفر کی طوالت کو کسی طور کم کیا جائے تو پھر ان سب پیمانوں ساتھہ ساتھہ اپنے اندر اور اپنے بچوں کے اندر رسک لینے کی عادت پیدا کریں، اندھا رسک نہیں پوری دانش کے ساتھہ، اپنے بچوں کا حوصلہ بنیں کمزوری نہیں، انہیں یہ احساس دلائیں کہ اگر صحیح راستے پر چلتے ہوئے کہیں تم گر بھی گئے تو ہم کھڑے ہیں تمہارے پیچھے، عقیل کریم ڈھیڈی نے اپنی زندگی کا سب سے پہلا سودا انتہائی گھاٹے اور نقصان میں کیا تھا، گرتے ہیں شہہ سوار ہی میدانِ جنگ میں۔ وہ طفل کیا گرئے جو گٹھنوں کے بل چلے۔

یہ بات تو طے ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا، اور اگر اتفاق سے اسطرح کا کسی کا کوئی تکہ لگ بھی جائے تو بغیر تعلیم اور شعور اس تکے کے ثمرات زیادہ دیر تک آپکے ساتھہ نہیں رہ سکتے، جیسے آتا ہے ویسے ہی واپس بھی چلا جاتا ہے، کیونکہ تعلیم کی طرح پیسے کا صحیح استعمال بھی نسلوں میں آتا ہے۔

کم رسک کم منافع اسے بزنس کہتے ہیں، بڑا رسک بڑا منافع اسے جواء کہتے ہیں لیکن کم رسک اور زبردست منافع اسے موقع کہتے ہیں، ایسا موقع شاید سب کی زندگی میں ایک بار ضرور آتا ہے کچھہ لوگ رسک نہ لینے کی عادت کی وجہ سے اس موقع کو گنوا دیتے ہیں اور رسک ٹیکر اس موقع کو کھینچ کر خوشحال زندگی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ ہی ایک فرق قابل اور جیئیس کے درمیان ہوتا ہے، قابل انسان حالات کے لحاظ سے خود کو بدل لیتا ہے جبکہ جینئیس انسان اپنے دماغ سے حالات کو بدل دیتا ہے۔

Advertisements
This entry was posted in کچھ ہلکا پھلکا۔۔. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s