بے حسی کی انتہا


جانبدار تو جانبدار غیر جانبدار یہاں تک کے مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ لاہور کے علاقے ماڈل ٹاون میں ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے کارکنوں کے ساتھہ جو وحشیانہ سلوک کیا گیا وہ کسی طور بھی با ضمیر انسان کے لئیے قابلِ قبول نہیں ہو سکتا، مگر کچھہ لوگ اب بھی اس بات پر مضر ہیں کہ جو کچھہ ہوا وہ ٹھیک ہوا اور اگر غلط ہوا تو اس میں نواز شریف حکومت کا کوئی ہاتھہ نہیں ہے، نواز حکومت میں شامل تمام لوگ معصوم اور فرشتے ہیں وہ کسی طور بھی اس درندگی کے مرتکب ہو ہی نہیں سکتے۔

بلاگ پر بھانت بھانت کی بولیں بولی جا رہی ہیں، اصل معاملے پر بات کرنے کے بجائے طاہر القادری صاحب کی ذات میں کیڑے نکالے جا رہے ہیں، عقل کے اندھوں یہ کون کہہ رہا ہے کہ طاہر القادری صاحب کو اپنا سیاسی امام مان لو اور انکے پیچھے چل پڑو، آپ کو یہ حق حاصل ہے کہ آپ نواز لیگ، پی پی پی، پی ٹی آئی، ایم کیو ایم وغیرہ جس سے چاہیں اپنی سیاسی وابستگی رکھیں یہ آپکا حق ہے، لیکن غلط تو اگر امامِ کعبہ بھی کریں گے تو انکے خلاف بھی حق بولنا پڑے گا کہ یہ ہی انسانیت کا تقاضہ ہے انسان سے اور یہ ہی دین کا بھی تقاضہ ہے۔

متاثرین سے ہمدردی کرنے کے بجائے الٹا انہیں ہی دہشتگرد ثابت کرنے والوں کی اکثریت ان لوگوں کی ہے جو لال مسجد آپریشن پر برہنہ ہو کر سڑکوں پر آگئے تھے، آج بھی اس ہی بلاگ پر وہ تمام ریکارڈ موجود ہے جس میں انکی جانب سے قرآن اور احادیث پیش کی جاتی تھیں لال مسجد والوں کے حق میں کہ انکے ساتھہ ظلم ہوا ہے وہ نہتے تھے انکے خون سے ہولی کھیلی گئی اور پتہ نہیں کس کس طریقے سے انہیں معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی گئی، جبکہ دنیا جانتی ہے کہ لال مسجد والوں کے خلاف کاروائی کرنے کا تو پھر بھی جواز موجود تھا کہ انہوں نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی تھی، جسے چاہتے اٹھا کر لے آتے اور تشدد کرتے، مسجد جیسی جگہ کو اسحلہ خانے میں تبدیل کر کے رکھا ہوا تھا، دوہزار سات میں میرا اسلام آباد آنا ہوا تو میں خاص طور پر لال مسجد گیا ٹیکسی ڈرائیور خاصہ ڈرا ہوا تھا میں نے اسے دور کھڑا رہنے کے لئیے کہا اور اتر کا قریب گیا تو دیکھا کے چہرے پر ماسک چڑھائے ہوئے اسلحہ بردار مسجد کے گیٹ پر اور چھتوں پر چڑھے کسی قلعے کی طرح مسجد کی حفاظت کر رہے تھے کہ جیسے وہ لال مسجد نہیں بعیت المقدس ہو، ایدھی صاحب سے لے کر علماء اکرام اور امام کعبہ تک کو بلوا کر مذاکرات کروائے گئے مگر انہوں نے کسی کی ایک نہ سنی، پورا میڈیا ایک زبان تھا کے ان ریاست میں ریاست قائم کرنے والوں کے خلاف حکومتِ وقت اقدام کیوں نہیں کر رہی، میں آج بھی مانتا ہوں کے اگر حکومتِ وقت چاہتی ہو اتنا جانی نقصان نہ ہوتا، لوگوں کا خون بہائے بغیر بھی اندر موجود لوگوں کو باہر لایا جاسکتا تھا، مگر حکومت نے آپریشن کیا اور اتنے لوگوں کا خون بہہ گیا، لال مسجد والوں کی تمام دہشتگردی کے باواجود بھی میں آج بھی مانتا ہوں کے انسانیت کے ناطے ان لوگوں کے ساتھہ جو ہوا وہ غلط ہوا، بغیر خون بہائے بھی اس معاملے سے نمٹا جاسکتا تھا۔

ایک سال مذاکرات کے نام پر جو نواز حکومت کی طرف سے ڈرامہ رچایا گیا اور دہشتگرد طالبانوں کو منظم ہونے کے لئیے مزید جو وقت دیا گیا اس دوران دنیا نے دیکھہ لیا کے لال مسجد کے خطیب نے کس طرح اپنے چھپے ہوئے مذموم مقاصد کا کھلے عام اظہار کیا اور کیسے کھل کر طالبان کا ساتھہ دیا ان طالبان کا جنہیں ختم کرنے کے لئیے آج پاک فوج آپریشن کر رہی ہے اور جس آپریشن کو ایک آدھہ جماعت کو چھوڑ کر جنکے نزدیک قاتل دہشتگرد طالبان تو شہید ہیں مگر پاک فوج کا فوجی کتے کی موت مرتا ہے، ایسی ایک آدھہ جماعت کو چھوڑ کر پاکستان کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس وقت اس آپریشن کی حامی ہیں، وقت نے ثابت کر دیا کہ لال مسجد والے نہ صرف یہ کہ طالبان کے حامی تھے بلکے خود دراصل طالبان ہی تھے موقع ملنے پر کس طرح انہوں نے طالبان کا کھل کر ساتھہ دیا ہے وہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں ہے۔

اب واپس آتے ہیں ماڈل ٹاون واقعے کی طرف، ماڈل ٹاون میں کی گئی درندگی کو سپورٹ کرنے والوں کی اکثریت آج بھی ان لوگوں کی ہی ہے جنہوں نے لال مسجد واقع پر پورے پاکستان میں ادھم مچا کے رکھا، طالبان کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، طالبان کے حق میں بولتے بولتے انکے منہ سے جھاگ نکلنے لگتے تھے، اس ہی بلاگ پر کیسی کیسی تاویلیں پیش کر کے انہیں بے گناہ ثابت کرنے کی کوششیں کیں، یہ کیسا رویہ ہے یہ کیسی بیمار سوچ ہے کہ جسٹیفائیڈ دہشتگردوں کو مارا جائے سارا ملک سر پہ اٹھا لیا جاتا ہے انسانیت کی تذلیل نظر آنے لگتی ہے، اور یہ جو بیرئیر ہٹانے کے نام پر سینکڑوں لوگوں پر گولیاں برسائی گئیں تیرہ افراد کو جان سے مروا دیا گیا اور نا جانے کتنے ہی شدید زخمی ہیں جو موت زندگی کی کشمکش میں ہیں انکا خون، خون نہیں پانی تھا؟ کیا یہ نہیتے پر امن لوگ پاکستانی نہیں تھے؟ کیا یہ مسلمان کا خون نہیں بہایا گیا؟ کیا یہ انسانیت کا خون نہیں ہوا؟ دنیا کے کسی کونے میں بھی مسلمانوں کا نہ حق خون گرتا ہے تو یہ لوگ سڑکوں پر آجاتے ہیں، اگر یہ ہی کام نواز حکومت کی جگہ امریکی حکومت یا اسرئیلی حکومت نے کیا ہوتا ان لوگوں کو اسلام خطرے میں پڑتا نظر آجاتا اور یہ سارا پاکستان سر پر اٹھا لیتے، لیکن اپنے ہی ملک میں اپنے ہی شہر میں نہتے انسانوں کے خون کی اس تذلیل پر مذمت کے دو الفاظ تک انکے منہ سے نہیں نکل رہے، الٹا اس واقع سے لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئیے طاہر القادری صاحب کی ذات میں کیڑے نکالے جارہے ہیں، کیا وہ لوگ ریلی نکال رہے تھے؟ کیا وہ لوگ دھرنے پر تھے؟ کیا وہ لوگ اسلحہ لے کر اسمبلی پر قبضہ کرنے نکلے تھے؟

وہ جنہوں نے اپنے محلوں کے آگے میلوں تک کی زمین پر قبضہ کیا ہوا ہے عام آدمی کے لئیے نو گو ایریا بنایا ہوا ہے وہ لوگ بیرئیر ہٹانے کے بہانے نہتے لوگوں پر شب خون مارتے ہیں اور انکے حمایتی اس حیوانیت کے حق میں دلائل ڈھونڈتے پھر رہے ہیں، اب کہاں گئی انکی انسانیت؟ اب کیوں انہیں کسی مسلمان کا خون گرتا نظر نہیں آرہا؟ حیرت تو اس بات پر ہے کہ کچھہ لوگ جو کہ اس بلاگ پر اپنی پوسٹ میں اپنے الفاظ کم اور قرآنی آیات زیادہ لکھتے ہیں، احادیثِ مبارکہ سنا سنا کر دین کی حقانیت بیان کرتے ہیں افسوس صد افسوس کے ایسے لوگ حکمرانوں کی اس حیوانیت کو سپورٹ کر رہے ہیں کہتے ہیں کہ گلو بٹ طاہر القادری صاحب کا ہی آدمی تھا، پھر جعلی تصاویر پوسٹ کرتے ہیں جس سے یہ ثابت ہوسکے کہ گلوبٹ طاہر القادری صاحب کا ہی کارکن تھا، اندھے پن کی بھی کوئی انتہا ہوتی ہے یہ تو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسنے والی بات ہوگئی دنیا نے دیکھا کہ پولیس کو لیڈ ہی گلو بٹ کر رہا تھا، انکے کارکنوں پر تو پولیس گولیاں برسا رہی تھی عورتوں کے چہروں پر گولیاں ماری گئیں، لاشوں کو گھسیٹا گیا، قرآن کی بے حرمتی کی گئی، یہ پاکستان کی پولیس تھی یا اسرئیل کی پولیس تھی؟ جبکہ گلو بٹ کو گلے لگایا جا رہا تھا، وہ لوگوں کی گاڑیوں کو تباہ کر رہا تھا اور پولیس والے اسے شاباش دے رہے تھے، وہ دکانوں میں ڈکیتی ڈال کر لوٹ کر مشروبات لا رہا تھا اور پولیس والے مزے لے لے کر پی رہے تھے اور کچھہ لوگ یہ ثابت کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کر رہے ہیں کہ گلو بٹ تو دراصل طاہر القادری صاحب کا ہی آدمی تھا، شاباش ہے بھئی ایسے بے ضمیر لوگوں کی ڈھٹائی پہ۔

آپکی حق ہے کہ آپ اپنے اپنے لیڈر اپنی پسند کی سیاسی جماعت کے جائز مطالبات کی حمایت کریں پر امن طریقے سے اپنی بات دوسروں تک پہنچائیں، لیکن اپنے لیڈر کی اندھی محبت میں آپ اتنے بھی اندھے نہ ہوجائیں کے انسانیت کے ہی مجرم ٹھر جائیں، اگر آپ قاتلوں کی حمایت کرتے ہیں تو آپ کا شمار بھی قاتلوں میں ہی کیا جائے گا، ایک بار پھر عرض ہے کہ طاہر القادری صاحب کی ذاتیات میں یقیناً ایک ہزار کیڑے ہونگے ان سے اختلاف کیا جاسکتا ہے لیکن حکمرانوں کی یہ حیوانیت یہ درندگی کسی طور بھی جسٹیفائیڈ نہیں ہے، اگر آپ ان مظلوم لوگوں کے لئیے ہمدردی کے دو بول بھی نہیں بول سکتے تو پھر آپکو حقائق مسخ کر کے قاتلوں کی حمایت کرنے کا بھی کوئی حق نہیں ہے، حق گوئی سے خوف آتا ہے تو پھر خاموشی اختیار کر لیں مگر انکے زخموں پر نمک پاشی مت کریں کہ یہ پاکستان ہے یہاں کچھہ بھی ہوسکتا ہے یہ منظر کل بدل بھی سکتا ہے، کل ان نہتے لوگوں کی جگہ آپکے اپنے بال بچے بھی ہوسکتے ہیں، اور کچھہ نہیں تو خدا کا خوف ہی کر لیں کے کس منہ سے اس حیوانیت پر حکمرانوں کا دفاع کر رہے ہیں؟ کہ اللہ کے گھر میں یہ چار سو بیسی نہیں چلنے والی، یہ جعلی تصاویر یہ جعلی ویڈیوز اللہ کے گھر میں نہیں دکھائی جا سکیں گی، بہتر یہ ہی ہے کہ اس واقع کی دل سے مذمت کریں اور قصوروار کو قصوروار مانیں چاہے ہو آپکا من پسند لیڈر ہی کیوں نہ ہو، کہ یہ ہی انسانیت کا ہم سے تقاضہ ہے اور یہ ہی دین کا بھی تقاضہ ہے۔

ستمگر وقت کا طیور بدل جائے تو کیا ہوگا

میرا سر اور تیرا پھتر بدل جائے تو کیا ہوگا

امیروں کچھہ نہ دو تعنے تو نہ دو ان فقیروں کو

زرا سوچو اگر منظر بدل جائے تو کیا ہوگا؟

Advertisements
This entry was posted in ہمارا المیہ. Bookmark the permalink.

3 Responses to بے حسی کی انتہا

  1. noman نے کہا:

    ویسے مبارک ہو فکر پاکستان صاحب ،،،
    اجمل بھوپال جو دین اور الله رسول کے نام پر اپنا سیاسی ایجنڈا آگے بڑھا رہے ہیں مجھے اپنی ویب سائٹ سے بین کر دیا ہے …

    • fikrepakistan نے کہا:

      نعمان صاحب یہ ہی سلوک انہوں نے میرے ساتھہ بھی کیا ہے، اور انکا یہ سلوک ہی اس بات کی گواہی ہے کہ جب انسان کے پاس دلیل نہ رہے تو وہ ایسے ہی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے، بہتر ہوتا کہ افتخار صاحب دلیل کا جواب دلیل سے دیتے۔

  2. isupporttruth نے کہا:

    بہت عمدہ تجزیہ پیش کیا ہے آپ نے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s