چل اڑ جا رہے پنچھی کہ اب یہ دیس ہوا بیگانہ


صرف مردے اور مردود ہی اپنی رائے نہیں بدلتے، میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کے زندگی گزارنے کا بہترین اصول یہ ہے کہ میٹر ٹو میٹر ڈیل کیا جائے، کوئی بھی انسان نہ مکمل طور پر برا ہوتا ہے نہ مکمل طور پر اچھا، اسلئیے ہی ہمارے اسلاف نے تعلیم دی ہے کہ برے سے نہیں برائی سے نفرت کرو، طاہر القادری صاحب کے انقلاب کے حوالے سے میری رائے کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اس معاملے میں، میں ہمیشہ انکا حامی رہا ہوں، عمران خان صاحب نے جب طالبان کی حمایت کی اس وقت میں انکا بہت بڑا ناقد رہا، لیکن آج جس استقامت کے ساتھہ عمران خان اور طاہر القادری صاحب کھڑے ہوئے ہیں اور ڈٹے ہوئے ہیں اپنے اپنے موقف پر اسکی تعریف نہ کرنا بے انتہا زیادتی ہوگی، اس میں کیا شک ہے کہ جو مطالبات یہ دونوں حضرات لے کر اٹھے ہیں وہ پاکستان میں بسنے والے ہر انسان کے دل کی آواز ہے یہ الگ بات ہے کہ ہم ابھی تک بھی اپنی اپنی جماعت کے سربراہان کے اِزن کے منتظر ہیں، قائد کا ہو ایک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا۔

کوئی اپنے قائد کے اشارے کا منتظر ہے تو کوئی اپنے امیر کے اشارے کا تو کوئی اپنے فرقے کے عالم کے اشارے کا، سیاسی جماعتوں کے قائدین کے اشارے کی تو قوی امید ہے مگر جو حضرات اپنے فرقے کا علماء حضرات کے اشارے کے منتظر ہیں امید نہیں یقین ہے کہ وہ منتظر ہی رہ جائیں گے، کیونکہ آج تک بھی ہمارے اندر یہ شعور بیدار نہیں ہو سکا کہ یہ مت دیکھو کون کہہ رہا ہے یہ دیکھو کیا کہہ رہا ہے، یہ بہت ہی ظرف کی بات ہوتی ہے بہت شعور چاہئیے ہوتا ہے اسکے لئیے مگر جو لوگ نماز تک یہ دیکھہ کر پڑھتے ہوں کے مولوی اپنے فرقے کا ہے یا نہیں وہ لوگ اسطرح کے معاملات میں کیسے ظرف کا مظاہرہ کر سکتے ہیں؟

میری تحریریں پڑھنے والے بخوبی واقف ہیں کے دین کی تشریحات کے معاملے میں، میں جاوید احمد غامدی صاحب کی تشریحات کو زیادہ بہتر سمجھتا ہوں، لیکن اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ میں مولانا طارق جمیل صاحب سے نفرت کرتا ہوں یا ڈاکٹر صاحب سے نفرت کرتا ہوں، پڑھتا اور سنتا میں ان حضرات کو بھی ہوں اور انکی جو بات قرآن و سنت سے قریب لگتی ہے اسے من و عن اپنے ایمان کا حصہ بھی بناتا ہوں، میں نے مجرمانہ خاموشی کے نام سے ایک تحریر لکھی تھی جس میں تبلیغی جماعت سے یہ التجا کی تھی کہ صرف ایک بار اپنا سالانہ اجتماع رائےونڈ کے بجائے اسلام آباد میں منعقد کر لیں اور زیادہ کچھہ نہیں تو عام آدمی کے بنیادی حقوق کے مطالبات حکومتِ وقت کے سامنے رکھہ دیں کے انکے پورا ہونے تک ہم یہاں سے نہیں اٹھنے والے، گورنمنٹ کو گٹھنے ٹیکنے ہی پڑتے، طاہرالقادری صاحب اور عمران خان صاحب کے چاہنے والوں کی ملا کے بھی تعداد زیادہ سے زیادہ اس وقت ڈیڑھہ لاکھ سے زیادہ نہ ہوگی جو کہ اسلام آباد میں پوری استقامت اور حوصلے سے بیٹھے ہوئے ہیں، ان سب کی عظمت کو میرا سلام ہے، اندازہ کریں جب یہ محض ڈیڑھہ لاکھہ لوگ حکومت کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں تو پچاس لاکھہ لوگ کیا کچھہ نہیں کر سکتے تھے؟

تبلیغی جماعت والے کیونکہ مذہبی لوگ ہیں اسلئیے انکے بارے میں میرا یہ یقین تھا کہ یہ لوگ کسی قسم کی ڈیل نہیں کریں گے اور کم از کم آئین کے مطابق جو عام پاکستانی کے حقوق ہیں وہ لے کر ہی اٹھیں گے، عمران خان اور ڈاکٹر صاحب کیونکہ سیاسی لوگ ہیں انکے بارے میں پھر بھی کسی ڈیل وغیرہ کا گمان کیا جاسکتا تھا، لیکن ابھی تک کا عزم اور استقامت دیکھہ کر یقین کرنے کو دل کرتا ہے کہ یہ لوگ اب پیچھے ہٹنے والے نہیں، میر درد نے کہا تھا، کوچہِ یار چھٹا ہے نہ چھٹے کا کبھی، اب تو یہیں خاک میں مل کے دکھانا ہے ہمکو۔

میں تو پوری طرح سے کنوینس ہوں کہ نواز حکومت کا جانا ٹھر چکا ہے، نواز حکومت کی سیاسی موت ہوچکی ہے زرداری صاحب حکومت کے استحکام کے لئیے مصروفِ عمل نہیں ہیں وہ تدفین و تکفین کے عمل کو پایہِ تکمیل تک پہنچانے کے مشن پر ہیں، کہاں دفنانا ہےِ؟ کیسے دفنانا ہے؟ دفنانا بھی ہے کہ جلانا ہے؟ حاضری کا کھانا کون دے گا؟ سوئم کب ہونا ہے وغیرہ وغیرہ۔

امریکہ سے اپنے حق میں پیغام دلوا لیا، برطانیہ سے اپنے حق میں پیغام دلوا لیا، دلیل والوں کے بجائے غلیل والوں کے تلوے بھی چاٹ لئیے، وہ ایم کیو ایم جسکے بارے میں لندن اے پی سی میں نواز شریف صاحب نے سب کے ساتھہ مل کر اعلان کیا تھا کے انکے ساتھہ نہ کوئی بات کرے جا نہ کوئی اتحاد کرے گا ان سے بھی منتیں کروا کر دیکھہ لیا، نواز شریف کی آخری امید زرداری صاحب تھے، یہ وہ ہی زرداری صاحب ہیں جنھوں نے نواز شریف کے بھائی عباس شریف کے انتقال پر تعزیت کے لئیے جاتی عمرا آنے کی خواہش ظاہر کی تو نواز شریف نے یہ کہہ کر منع کر دیا کے آپ مت آئیے گا آپ کے آنے سے ہمارے ووٹ بینک پر فرق پڑے گا، یہ وہ ہی زرداری صاحب ہیں جنکے لئیے پیٹ بھر بھر کر دونوں بھائیوں نے گالیاں دیں، پیٹ پھاڑ کر پیسہ نکالیں گے، سڑکوں پر گھسیٹیں گے، الٹا ٹانگ دیں گے، آج ان ہی زرداری صاحب کی تواضع ستر قسم کے اعلیٰ اقسام کے کھانوں سے کی گئی جس میں ہرن کے گوشت کے کباب بھی شامل تھے، وہ ہرن جسکے شکار پر پاکستان میں پابندی ہے، زرداری صاحب محض آدھے گھنٹے میاں صاحبان کے مہمان رہے اس ہی آدھے گھنٹے میں کھانا بھی کھایا گیا، اندازہ کر سکتے ہیں کے اتنے مختصر سے وقت میں زرداری صاحب نے کیا مشورہ دیا ہوگا میاں صاحب کو، میاں صاحب تو سوچتے ہیں پیٹ سے ہیں کیونکہ انکا پیٹ ہمیشہ بھوک سے بھرا رہتا ہے، لیکن زرداری صاحب کا معاملا مختلف ہے وقت نے ثابت کیا کہ نواز شریف زرداری صاحب کے آگے طفلِ مکتب ہیں زرداری صاحب اپنی عیاری سے مکاری سے چلاکی سے جو بھی نام دے دیں مگر وہ بھر پور کامیابی کے ساتھہ پانچ سال پورے کرنے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ نواز شریف ماضی کی روایات برقرار رکھتے ہوئے سوا سال میں ہی آپے سے باہر ہوگئے، زرداری صاحب نواز شریف کی آخری امید تھے سو وہ بھی ہری جھنڈی کھا کر چلے گئے۔

ابھی تک یہ معاملا خون خرابے تک صرف اسلئیے نہیں گیا کہ دیگر سیاسی جماعتوں نے نواز شریف کو محبت سے یا دھمکا کر روک رکھا ہے، اگر معاملہ صرف نواز شریف کی دانائی پر چھوڑ دیا جاتا تو اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں کی تعداد میں لاشیں گر چکی ہوتیں، نواز شریف کا المیہ یہ ہے کہ یہ ہر معاملے کو بند ذہن اور کھلی تجوری سے حل کرنا چاہتے ہیں، انکے نزدیک ساری دنیا بکاو ہے انہوں نے عمران خان اور طاہرالقادری صاحب کو بھی افتخار چوھدری سمجھہ لیا، لیکن ان دونوں حضرات کی ایمانداری اور استقامت کے آگے نواز شریف صاحب کی تجوری چھوٹی پڑ گئی، میری کمپنی کے مالکان خود پنجابی ہیں اور ایک زمانے میں نواز شریف کا بہت ساتھہ بھی دیا ہے، کل ہی میرے ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ یہ اتنا بڑا گدھا ہے کہ اسے میں اپنے آفس میں پی اون کی نوکری پر بھی نہ رکھوں۔

گھنٹی بچ چکی ہے، آسمان پر لکھا نظر آرہا ہے کہ نواز شریف کو اب جانا ہی ہوگا، قفس کو لے کر اڑنا پڑ رہا ہے، مجھہ کو یہ سودا مہنگا پڑ رہا ہے۔ میری ہر اِک مسافت رائگاں تھی۔ مجھے تسلیم کرنا پڑ رہا ہے۔ آخری شعر زرداری نواز ملاقات کے تناظر میں، میں کن لوگوں سے ملنا چاہتا تھا؟ یہ کن لوگوں سے ملنا پڑ رہا ہے؟ نواز شریف صاحب کو خود بھی ادراک ہوچکا ہے کہ اب انہیں جانا ہی ہوگا انکے نزدیک اب معاملہ محض استعفیٰ کا نہیں ہے، ماڈل ٹاون میں جو ان دونوں بھائیوں نے درندگی مچائی ہے اپنے تئیں تو ان دونوں بھائیوں نے سو سے زائد لوگوں کی جان لینا چاہی تھی مگر اللہ کو ان میں سے نوے کی زندگی قبول تھی اسلئیے نوے لوگ انکے ملازموں کی گولیاں کھا کر بھی بچ گئے چودہ لوگ شہید ہوگئے، ان شہدا کی لاشیں گرانے کے بدلے میں جو ایف آئی آر کٹنی ہے اب معاملہ اس ایف آئی آر سے بچنے کا ہے، استعفیٰ تو اب انکے بڑے بھی دینگے خوف تو اب چودہ شہدا کے خون سے آرہا ہے انشاءاللہ یہ قاتل اب بچ نہیں پائیں گے۔

وقت قریب ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں نواز شریف کو اسکے حال پر چھوڑ کر دور بیٹھہ کر تماشہ دیکھیں گی اور جس دن بھی معاملہ صرف نواز شریف کی دانائی تک آگیا وہ دن آخری دن ہوگا نواز شریف کی حکومت کا بھی اور خود نواز شریف کا بھی، اسکے اپنے اندر اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ یہ اس کرائسیس سے نکل سکے، یہ عمران خان اور طاہرالقادری صاحب کی توقع پہ پورا اترنے کے لئیے بہت محنت کرے گا، اور کوئی نہ کوئی کام ایسا کر گزرے گا جو اسکے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا، ایک رکشہ چلانے والے کو بھی اتنا شعور ہوتا ہے کہ وہ اپنے رکشے کے پیچھے لکھتا ہے، ہمت ہے تو پاس کر ورنہ برداشت کر، نواز شریف کا شعور ایک رکشہ ڈرائیور سے بھی گیا گزرا ہے کہ اس کے اندر برداشت نام کی کوئی چیز نہیں پائی جاتی، اسکی تاریخ ہے کے اس نے اقتدار میں آتے ہیں سب کو اپنا غلام بنانا چاہا، کسی کو مال سے تو کسی کو ڈرا دھمکا کر، اسکی عقل پر ہنسی آتی ہے ننانوے میں جس وقت فوج نے ٹیک اوور کیا تو نواز شریف نے رانا مقبول کو جو کہ اس وقت پنجاب کا آئ جی تھا کو چڑھا کر مشرف کو گرفتار کرنے ائر پورٹ بھیج دیا سونے پہ سہاگہ یہ کے رانا مقبول چلا بھی گیا مشرف کو گرفتار کرنے، یہاں رانا مقبول نے ثابت کیا کہ نواز شریف اکیلا بے وقوف نہیں ہے، نتیجتاَ الٹا فوج نے رانا مقبول کو گرفتار کر لیا، پوری قوم منتظر ہے نواز شریف کے اس قدم کی جو اسکے اقتدار کے تابوت میں آخری کیل کا کام کرے گا، امید ہے نواز شریف ہماری امیدوں پر پورا اترنے کے لئیے تن من دھن سے محنت کریں گے، آج کسی نیوز چینل پر کسی نے نواز شریف کے لئیے کیا خوب جملہ کہا کہ، لوگ جب کسی سے ملتے ہیں تو رخصت لیتے وقت کہتے ہیں اپنی دعاوں میں مجھے یاد رکھئیے گا لیکن میں نواز شریف سے ملوں گا تو رخصت لیتے وقت کہوں گا اپنے گناہوں میں ہمیں بھی یاد رکھئیے گا۔

Advertisements
This entry was posted in سیاست. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s