آئیے ہم سب ملکر وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دیں


انسان اور جانور میں رشتہ تاریخ کا قدیم ترین اور انتہائی اہم رشتہ ہے، شکاری دور میں یہ جانور انسان کی غذائی ضروریات کو مکمل طور پر پورا کرتا تھا، جب انسان نے زراعتی زندگی اختیار کی تو شکار کے ساتھہ ساتھہ انسان نے جانوروں کو سدھانا اور پالنا بھی شروع کیا لیکن ہر جانور انسان کی خواہش کے مطابق نہ سدھایا جا سکا اور نہ ہو وہ اس سے مانوس ہوا۔

انسانی سوچ بھی کیا چیز ہے کہ وہ جانور جو اس سے مانوس ہوئے اور اسکے پالتو بنے، ان ہی کے ساتھہ حقارت کا سلوک کیا، مثلاً اونٹ، کتا، گائے، بھینس، گدھا، گھوڑا وغیرہ وہ جانور ہیں جنہوں نے مشقت کے کام سے لے کر غذاء کی فراہمی میں مدد دی۔

مگر کتے کی وفاداری کا یہ صلہ ملا کے اسے بطور گالی یاد کیا جاتا ہے، گائے کو سیدھا سادہ سمجھہ کر اسکا مذاق اڑایا جاتا ہے، بھینس کے آگے بین بجانے کا محاورہ اسکی حماقت کے لئیے ہے اور اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی، اسکی کوڑھ مغزی کے لئیے ہے، انسان کو جب کسی دوسرے انسان کو بے وقوف ثابت کرنا ہو تو بے چارے گدھے کو مثال بنا دیا جاتا ہے۔

مگر جن جانوروں نے انسان کی مزحمت کی اور اسکے پالتو نہیں بنے ایسے جانوروں کے لئیے انسان کے دل میں احترام ہے، مثلاً شیر کی بہادری، چیتے کی چالاکی، اور لومڑی کی عیاری وغیرہ، اب اس سوچ اس روئیے کو آپ کیا نام دینگے؟

مغربی دنیا اس معاملے میں مختلف رویہ رکھتی ہے مگر ہم جس خطے میں رہتے ہیں کم از کم یہاں لوگوں کی سوچ کا محور کچھہ اسطرح کے معاملات کے گرد ہی گھومتا ہے، بات صرف جانورں کی حد تک ہوتی تو بھی کسی حد تک قابلِ قبول تھی مگر یہاں انسانوں کے معاملے میں بھی اس ہی طرح کی سوچ پائی جاتی ہے، محاورہ مشہور ہے، غریب کی بیوی سب کی بھابھی ہوتی ہے، ہے کسی میں جرت جو اپنے سیٹھہ کی بیوی کو بھابھی کہہ سکے؟ اسکے لئیے بیگم صاحبہ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔

ہمارے دفتر میں کچھہ دن پہلے ہی ایک فوج سے ریٹائرڈ بریگیڈئیر کو ایڈمنسٹریٹر کے منصب پر فائز کیا گیا ہے، آفس میں نائب قاصد سے لے کر خود سیٹھہ صاحب تک سب ہی انکو انکے نام کے بجائے بریگیڈئیر صاحب کہہ کر پکارتے ہیں، میں نے ایک روز سب کے سامنے یہ اعتراض کر دیا کہ یہ کیا سوچ ہے کہ ہم انہیں انکے نام کے بجائے انکے ماضی کے عہدے سے پکارتے ہیں، اگر کسی کو نام کے بجائے عہدے سے پکارنا اتنا ہی ضروری ہے تو پھر صرف بریگیڈئیر صاحب ہی کیوں؟ پی اون صاحب کیوں نہیں؟ سوئیپر صاحب کیوں نہیں؟ یہ منصب آپکی نظر میں چھوٹے ہیں محض اسلئیے؟ جواب تو کسی سے کوئی نہ بن پڑا مگر نتیجہ یہ نکلا کے کچھہ لوگوں نے اپنی اصلاح کی اور اب وہ بریگیڈئیر صاحب کے بجائے انہیں انکے نام سے مخاطب کرنے لگے ہیں۔

اس ہی طرح کوئی اختیارات سے بھرپور ادارے کا کوئی افسر اگر خوش قسمتی سے شریف النفس اور زندہ احساس کا انسان نکل آئے تو اسکے لئیے ہم نے ٹچے کی اصطلاح رکھی ہوئی ہے، اور کوئی دو ٹکے کا پولیس افسر زبردستی کا رعب جھاڑے عرفِ عام میں جسے بھرم بازی کہا جاتا ہے تو ایسے افسر کو ہم دبنگ خان کا لقب دے دیتے ہیں اس سے مرعوب بھی ہوجاتے ہیں اور آتے جاتے اسے سلام ٹھوکنا فرضِ اولین سمجھتے ہیں۔

پچھلے ارسٹھہ سالوں سے ایک ہی طبقہ ہے جو ہمارا استحصال کرتا چلا آرہا ہے چہرے بدل رہے ہیں لیکن نسل خاندان ایک ہی ہے، مغربی دنیا کے جانوروں کو وہ حقوق حاصل ہیں جو انہوں نے یہاں کبھی انسانوں کو نہیں دئیے، روٹی نہیں دی، تعلیم نہیں دی، روزگار نہیں دیا، علاج نہیں دیا، چلو ان سب چیزوں پر تو پیسے لگتے ہیں، لیکن عزت؟ عزت دینے میں تو پیسے نہٰیں لگتے مگر ان لوگوں نے انہیں مفت میں دی جانے والی چیز عزت تک نہیں دی، پروٹوکول کے نام پر سڑی گرمی میں دو دو گھنٹے جانور بنا کر سگنلز پر کھڑا رکھتے ہیں کہ بادشاہ سلامت کی سواری گزر جائے تک ان جانورں کو گزرنے کی اجازت ملے گی۔

جماعتِ اسلامی سے لیکر فضل الرحمان تک سب کو معلوم ہے کہ اصلاً دین فروش ہیں مگر دین کے نام پر ہر بار ان سے ہی ڈسوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، نواز شریف سے لے کر زرداری تک سب کو معلوم ہے کہ یہ ہی ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں مگر پھر ان ہی کو اپنے گندھوں پر بٹھا کر اسمبلی تک چھوڑ کر آتے ہیں، جنہیں شمشان گھاٹ لے جانا تھا انہیں اسمبلی میں لے آتے ہیں۔

جب چنگیز خان حملہ آور ہورہا تھا تو حضرت امام تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ کو کسی نے آکر خبر دی اس وقت وہ لوگوں کو تبلیغ فرما رہے تھے، سنتے ہی کتابیں وغیرہ سمیٹنا شروع کردیں لوگوں نے دریافت کیا حضرت تبلیغ نہیں فرمائیں گے؟ فرمایا تبلیغ کا وقت ختم ہوگیا اب عمل کا وقت آگیا ہے ظالم کے سامنے کلمہ حق کہنے کا وقت آگیا ہے۔

ایک وہ دین کے رہنما تھے عالم تھے، ایک ہمارے دین کے رہنما ہیں عالم ہیں کہ، نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ بجلی کے ناجائز بلوں کی وجہ سے لوگ خودکشی کر رہے ہیں، ماں کو معلوم ہے کہ بیٹی اپنا جسم بیچ کر پیسے لا رہی ہے لیکن وہ خاموش نہ رہے تو اور کیا کرے؟ جانتی ہے اگر اسے ٹوکا تو گھر کے باقی افراد بھوکے مر جائیں گے، لا قانونیت عروج پر ہے، انصاف کی زندہ مثال یہ ہے کہ جس گلو بٹ کو ساری دنیا نے ٹی وی چیلنز پہ درندگی مچاتے ہوئے دیکھا اس گلو بٹ کو عدالت نے یہ کہہ کر رہا کردیا کہ گلو بٹ کے خلاف کوئی بھی قابلِ قبول شہادت نہ مل سکی، کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں تو جج اندھے ہیں، یہ سب کچھہ اس ہی معاشرے میں ہورہا ہے مگر شاباش ہے ہمارے دین کے نام نہاد رہنماوں کو کہ ایسے وقت میں کوئی وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دینے کے فرائض انجام دے رہا ہے تو کوئی چالیس دن کے چلے پر چلنے کے لئیے لوگوں پر محنت کر رہا ہے، اور امت ہے کہ اب بھی ایسے ہی لوگوں کو اپنا رہنماء بنائے اندھی تقلید کئیے ہوئے انکے ہی پیچھے چل رہی ہے۔

اس پورے سیاسی اور مذہبی سسٹم سے صرف دو لوگ ایسے نکلے جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پہ رکھہ کر ظالم حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جرت کی، عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادی صاحب کو میرا دونوں ہاتھوں سے سلام ہے، اور انکے ساتھہ پچھلے ڈیڑھہ مہینے سے ہر طرح کی مصیبتیں سہنے والے ان لوگوں کی عظمت کو سلام ہے جو میرے اور آپ کے حقوق کے لئیے اپنا سب کچھہ چھوڑ کر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہیں، جنہوں نے اپنا تن من دھن ہمارے سکون پر قربان کر دیا، ہم سے بڑا بے غیرت شاید ہی اس دنیا میں کسی ماں نے جنہ ہو جو ایسے نظریاتی لوگوں کے بارے میں بھی بکواس کرنے سے نہیں چوک رہے، فتح شکت تو مقدر سے ہے ولے اے میر۔ مقابلہ تو دلِ ناتواں نے خوب کیا۔

عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے اس چڑیا کی طرح اپنا حق ادا کر دیا جو آتش نمرود بجانے کے لئیے اپنی چونچ میں پانی لے کر جارہی تو کسی نے پوچھا تیری اس جونچ کے پانی سے کیا یہ آگ بجھہ جائے گی؟ چڑیا نے کہا بھلے نہ بجھے مگر جو میرے بس میں ہے میں اتنا تو کر ہی سکتی ہوں نہ، تو ان دونوں شخصیات نے اور انکا ساتھہ دینے والوں نے تو اپنا حق ادا کار دیا مگر افسوس کے لوگوں کی اکثریت آج بھی عمران خان میں اپنی قومیت اور ڈاکٹر صاحب میں اپنا مسلک ڈھونڈھنے میں لگی ہوئی ہے لعنت ہے لعنت ہے لعنت ہے ایسی سوچ پر اور ایسی قوم پر، میرا عمران خان اور ڈاکٹر صاحب کو مشورہ ہے کہ ان جانوروں کو انکے حال پر چھوڑ کر اس ملک سے کہیں دور چلے جائیں کہ یہ قوم سیاسی طور پر نواز شریف، زرداری، اور دینی طور پر ایسے ہی نام نہاد رہنماوں کی مستحق ہے جو ظالم حکمراں کے سامنے حق کی ازان دینے کے بجائے وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دینے کو ترجیح دیتے ہیں۔

Advertisements
This entry was posted in زمرے کے بغیر. Bookmark the permalink.

4 Responses to آئیے ہم سب ملکر وینا ملک کے بچے کے کام میں ازان دیں

  1. Ammar IbneZia نے کہا:

    بہت عمدہ۔ متفق۔

  2. نورمحمد نے کہا:

    شکریہ اس تحریر کا ۔ ۔

    مگر ایک بات یاد رکھیں ۔ ۔کہ
    جب یہ مولوی حضرات حق کی اذان دیں تو سب سے پہلے ان کے خلاف ہی دہشت گردی کا فتوی لگے گا

    شکریہ

    • fikrepakistan نے کہا:

      نور محمد بھائی اگر حق کی ازان طالبان کی طرح خود کش حملوں کی صورت میں دی جائے گی تو ظاہر ہے دہشتگرد ہی کہا جائے گا، اور اگر پر امن طریقے سے پڑھے لکھے مہذب طریقے سے اپنا حق حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی تو کون ساتھہ نہیں دے گا؟ مگر نظر حق نظر آنا چاہئیے، ایم ایم اے کی طرح نہیں کہ جو اسلام کے لئیے نہیں اسلام آباد کے لئیے ایک ھوئے تھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s