غریب کے بچوں کو جہاد کی تلقین کرنے والوں کی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں ؟


پاکستان کے معصوم اور بدقسمتی سے کم علم رکھنے والے پاکستانیوں کو جس طرح اس نام نہاد جہاد کے لئیے استعمال کیا گیا اس کے نتائج آج سب کے سامنے ہیں.
زرا ملاحظہ کیجئیے ان درندوں کی درندگی کہ غریبوں کو جہاد کا درس دینے والے دنیاوی تعلیم کو کفر قرار دینے والے لڑکیوں کے اسکول تباہ کرنے والوں کے ان حمایتیوں نے دولت اور اقتدار کی خاطر غریب کے بچوں کو تو خود کش بمبار بنا دیا جہاد کے نام پہ مروا دیا مگر انکی اپنی اولادوں کو اس نام نہاد پری پیڈ ( پری پیڈ اسلئیے کہا کے جنگ میں تو مال غنیمت جنگ ختم ھونے کہ بعد آتا ھے مگر یہ کیسا پری پیڈ جہاد ھے جس میں مال غنیمت یعنی ڈالر، ہتھیار، لینڈ کروزر، پراڈو، اور بے انتہا دولت پہلے ہی آجاتی ھے) جہاد کے پاس بھی نہیں پھٹکنے دیا، ملاحضہ کیجئیے انکی اپنی اولادیں کیا کررہی ہیں؟۔
مولانا فضل الرحمان تین بیٹوں اور چار بیٹیوں کے باپ ہیں، انکے ایک بیٹے اسد محمود خیر المدارس ملتان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں جبکہ ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا سلسلہ بھی جاری رکھا ھوا ہے، دوسرے بیٹے انس محمود ڈی آئی خان میں دینی تعلیم حاصل کررہے ہیں، جبکہ تیسرے بیٹے اسجد محمود حفظ قرآن میں مگن ہیں، لیکن ان میں سے کوئی ایک بھی نہ فدائی بنا نہ ہی کسی نے افغانستان میں امریکہ کے خلاف جہاد میں حصہ لیا اور نہ ہی کشمیر میں ہنود کے خلاف جہاد کا حصہ بنا۔ مولانا سمیع الحق یہ بھی غریبوں کے بچوں کو نام نہاد جہاد میں مروانے میں پیش پیش رہے ہیں اور ابھی تک ہیں، مولانا سمیع الحق نے دو شادیاں کی ہیں، ایک بیوی سے دو بیٹے اور ایک بیٹی ھے، ایک بیٹے کا نام مولانا حامد الحق حقانی ھے جو جامعہ حقانی سے تعلیم کے حصول کے ساتھھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے گریجویٹ ہیں، گذ شتہ اسمبلی میں ایم ایم اے کے ٹکٹ سے منتخب ھوئے اور قومی اسمبلی کے ممبر بنے، دوسرے بیٹے ارشاد الحق حقانی عالم دین ہیں اور حافظ قرآن ہیں یہ ماہنامہ الحق کے مدیر ہونے کے ساتھھ ساتھاپنے اپنے دارلعلوم میں درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں، یعنی ہر طرف سے مال بنا رہے ہیں مگر جہاد کے لئیے غریب کے بچوں کو بھیجتے ہیں۔
مولانا سمیع الحق کی دوسری بیوی سے بھی دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں مگر وہ ابھی کمسن ہیں مگر انہیں بھی جہاد پہ بھیجنے کا مولانا کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ جہاد اور امریکہ دشمنی کے بظاہر ایک اور علمبردار صاحبزادہ فضل کریم ہیں انکے ایک بیٹے حامد رضا نے ایم اے اسلامیات، ایم بی اے، اور لندن کی ایک یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ھے اور اپنا بزنس رن کر رہے ہیں، دوسرے بیٹے حسن رضا لاہور کے ایک کالچ میں زیر تعلیم ہیں، تیسرے بیٹے محمد حسین رضا دینی تعلیم کے ساتھھ ساتھھ جی سی یونیورسٹی سے دنیاوی تعلیم بھی حاصل کررہے ہیں، جبکہ چھوتھے بیٹے محمد محسن رضا کالچ سے دنیاوی تعلیم لینے میں مصروف ہیں، مولانا سمیع الحق صاحب کی کوئی اولاد بھی جہاد میں حصے دار نہیں ہے۔
دنیا جانتی ھے کہ ہمارے اس خطے میں جہادی سوچ کی بنیاد جماعت اسلامی نے رکھی اس جماعت نے آج تک ہزاروں معصوم غریب بچوں کو لوگ اس نام نہاد جہاد میں جھونک دیا اس جماعت کے امیر منور حسن صاحب ایک بیٹی اور ایک بیٹے کے والد ہیں انکے دونوں بچے کراچی میں معمول کی زندگی گزار رہے ہیں بیٹی کی شادی ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی کی ھے اور انکا بیٹا طلحہ کراچی یونیورسٹی سے ماسڑز کی ڈگری لئیے ہوے ھے اور اس وقت آئ ٹی اور پراپرٹی کے کاروبار میں مگن ھے مگر جہاد کیا ھوتا ھے میدان جنگ کسے کہتے ہیں اسکا دور کا بھی واسطہ نہیں ان سب سے۔
اس ہی جماعت کے سابق امیر قاضی حسین احمد جو کے سب سے بڑے زمے دار ہیں ہمارے معاشرے میں یہ جہاد کے نام پہ فساد پھیلانے میں سب سے زیادہ بچے اس ہی شحص نے مروائے ہیں انکے اپنے بچے کیا کر رہے ہیں ملاحضہ کیجئیے، انکے بڑے صاحبزادے آصف لقمان قاضی ہیں جو کے امریکہ ( کفر کی علامت ) سے بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لینے کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہونے کے ساتھھ ساتھھ اپنے بزنس میں مصروف ہیں، جبکہ دوسرے بیٹے ڈاکڑ انس قاضی پرائیویٹ میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کرنے کے بعد پشاور میں صحت کے شعبے میں کاروبار کررہے ہیں۔ایک اور صاحب ہیں پروفیسر ساجد میر، انکے بھی دو بیٹے ہیں ایک بیٹے احمد میر نے نائیجیریا سے میڑک کے بعد پشاور یونیورسٹی سے ڈگری لی اور اس وقت سیالکوٹ میں گڈز فارورڈنگ کا بزنس چلا رہے ہیں، دوسرے بیٹے عاقب میر نے بھی نائیجیریا سے میٹرک کرنے کے بعد الخیر یونیورسٹی لاہور سے ام سی ایس کیا ھے اور اس وقت کینڈا کی ایک کمپنی سے وابسطہ ہیں۔باقی بچے وہ فوجی جرنیل جنھوں نے بورے بھر بھر کے امریکہ سے ڈالر لئیے ہیں اس پری پیڈ جہاد کے لئیے تو ان میں سے بھی کسی ایک کی بھی اولاد نے اس جہاد میں عملی حصہ نہیں لیا سب کی اولادیں بیرون ملک پڑھی ہیں اور کتنے تو وہیں سیٹلڈ ھوگئیے ہیں، حمید گل نے ٹی پر خود اقرار کیا تھا کے امریکہ سے ڈالر آتے تھے اور جو ملا جتنے بچے لاتا تھا جہاد کے لئیے ہم اسے فی بچے کے حساب سے ڈالر دیا کرتے تھے۔ تو یہ ہیں ہمارے نام نہاد مذہبی رہنما جنکا کردار واضع ھے کہ دولت کی خاطر کیسے انہوں نے غریب کے بچوں کو مروایا اور اپنے بچوں کو بیرون ملکوں میں اعلی سے اعلی تعلیم دلوائی کاش انکا بھی احتساب ھو اور انکو بھی اس ہی طرح سر عام لٹکایا جائے جسطرح غریب کے بچے جہاد کے نام پر مار دئیے گئے۔

Advertisements
This entry was posted in زمرہ کے بغیر. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s