آنے والے دور کے انساں ہم سے جینا سیکھیں گے


اکستان میں ہر مہینے کا اپنا اپنا جھوٹ ہے جسے پاکستانی بہت کثرت سے بولتے ہیں، اگست کے مہینے کا سب سے بڑا جھوٹ ملی نغموں میں بولا جاتا ہے۔
یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اسکے
یہ چمن تمہارا ہے تم ہو نغمہ گاں اسکے


پولیس تھانوں میں چھترول کر رہی ہے، جج عدالتوں میں استحصال کر رہے ہیں، نسلوں بعد بھی انصاف نہیں ملتا، سیاستدان ہڈیوں سے چپکی ہوئی کھال تک اتار رہے ہیں، افواج ہاوسنگ سوسائٹیاں اور فیکڑیاں چلا رہی ہیں، پانی نہیں، گیس نہیں، بجلی نہیں، عام آدمی کے اختیار کا عالم یہ ہے کہ، آپکی شادی ہوگئی ہے اب آپ سہاگ رات منائیں گے یا سہاگ سویرا اسکا فیصلہ آپ نہیں واپڈا یا کے الیکڑک کریں گے، پھر بھی کیا کہا جاتا ہے، یہ وطن تمہارا ہے تم ہو پاسباں اسکے۔

ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں
ہم سبکی ہے پہچان ہم سبکا پاکستان

ابھی کل ہی خبر بریک ہوئی ہے اس قوم کے زندہ و جاوید ہونے کی تین سو بچوں کے ساتھہ بد فعلی اور پھر انکی ویڈیوز بنا کر بلیک میلنگ، اتنا سب ہونے کے باواجود بھی سرکار مجرموں کو تحفظ دے رہی ہے۔ واقعی ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں، ہم پردے اور فحاشی کا سب سے زیادہ پرچار کرنے والے وہ کچھہ کرتے ہیں جو ننگے سے ننگے معاشروں میں بھی نہیں ہوتا۔

اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں ہم ایک ہیں
سانجی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں ہم ایک ہیں

گھنٹہ ایک ہیں، پرچم ہی ایک نہیں ہے تو سائے تلے کہاں سے ایک ہوسکتے ہیں، سانجی اپنی خوشیاں اور غم ایک ہیں، سب سے بڑا جھوٹ ہے یہ، شعیہ مرتا ہے تو سنی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، سنی مرتا ہے تو شعیہ کے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا، فرقے کی غلاضت سے نکلو تو قوم پرستی کا اژدھا سر اٹھائے کھڑا ہوتا ہے جب تک اپنی نسل اپنی قوم کا بندہ نہ مرے کسی کو بھی فرق نہیں پڑتا۔

ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے ہاں جیتیں گے
آنے والے دور کے انساں ہم سے جینا سیکھیں گے

کوئی ایک میدان ایسا نہیں جس میں جیت ہمارا مقدر بنتی ہو، ہر جگہ زلیل ہو کر ہارتے ہیں، کرکٹ سے لے کر ہاکی تک، تجارت سے لے کر ملکی سلامتی تک ہر ہر جگہ ہار ہمارا مقدر بنتی ہے، آدھا ملک گنوا دیا، امریکہ ساری رات آپریشن کر کے لاشیں تک ساتھ لے جاتا ہے، اور ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ریڈار کا رخ بھارت کی طرف تھا ہمیں پتہ ہی نہیں چلا۔
سم فری اور روٹی دس روپے کی، غریب لڑکی کی عصمت کی قیمت محض پانچ ہزار روپے، قبروں سے مردے نکال کر انکے ساتھہ بد فعلی کرنے والے، گلی کے کتوں کے کانوں کو ایلفی سے کھڑا کر کے انہیں ایلسیشئین کہہ کر بیچنے والے، شادی ہالز کے قریب گٹر میں جم جانے والا آئل نکال کر بیچنے والے، مردہ جانوروں کا گوشت بیچنے والے، ایک دوسرے کا حق مارنے والے جھوٹ کے سوداگر، بلڈ بینک میں خون میں نمک والا پانی ملا کر بیچنے والے، جعلی دوائیاں بنانے والے، معصوم بچوں کی غذا دودھہ میں بال صاف کرنے والا پاوڈر ملانے والے، کہتے ہیں کہ، آنے والے دور کے انساں ہم سے جینا سیکھیں گے۔ آنے والے دور کے انساں ہمارے جینے پر صرف لعنتیں ہی دیں گے۔

Advertisements
This entry was posted in ہمارا معاشرہ. Bookmark the permalink.

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s